Hesham A Syed

January 9, 2009

Foggy vision and western attitude ?

Filed under: Pakistan,Social Issues — Hesham A Syed @ 1:19 pm
Tags: ,

Urdu Article : Nigaah aaloodah andaz e afrang : Hesham Syed

نگاہ آلودہ انداز ِ افرنگ

پاکستان میں لیڈروں کی سیاست کی بساط بچھنے لگی ہے۔ کوشش اس کی بھی جاری ہے کہ یہ بساط بچھنے ہی نہ دی جائے۔ اس کوشش میں وہ لوگ زیادہ مصروف ہیں جنہیں یہ بات صاف نظر آرہی ہے کہ عوام اب کے ان کے ہائے ہو کے جواب میں بھی ان کا ساتھ نہیں دیں گے۔ قومی خزانے کے ان لٹیروں کو شاید اب عوام پہچاننے لگے ہیں۔ ان کے پاس تولے دے کے ایک ہی فارمولا رہ گیا ہے کہ الیکشن کے سارے عمل کو سبوتاژ کیا جائے اور اس کا بائیکاٹ کیا جائے۔حالانکہ ان لوگوں کے غیر پاکستانی فائنانسرز تو اس کھیل میں خاصی دلچسپی لے رہے ہیں۔ کسی کو بلٹ پروف گاڑی اور ہیلی کاپٹر کا تحفہ دے کر بھیجا ہے تو کوئی شاہِ زمن کے وعدوں پہ اچھل رہا ہے۔ پاکستانی سیاست میں اقوامِ غیر کی عمومی دلچسپی اور کھُل کے کہیں تو امریکہ کی غیر معمولی دلچسپی کوئی ڈھکی چھپی اور نئی بات نہیں۔پاکستان ان لوگوں کے لئے ہمیشہ دعوتِ شیرازکا اہتمام کرتا رہا ہے۔ اس مُلک کے ضمیر فروش لیڈروں نے اقوامِ غیر کے ہاتھوں اس کی عزتِ نفس کوہمیشہ پامال کیا ہے۔ میڈیا کی آزادی کے بہانے ، جمہوریت اور عدلیہ کی آزادی کے فسانے اب ہر جگہ سنائی دیتے ہیں۔ یہ ساری بات وہی لوگ کرتے نظر آتے ہیں جو اپنے اپنے دور میں عدلیہ اور میڈیا پہ شدید پابندی اور ظلم کرتے رہے ہیں لیکن سیاست تو یہی ہے کہ وقت و حالات کے اعتبار سے بات وہ کرو صرف جس سے تمھارا اپنا فائدہ ہے۔ اصولی موقف وہ ہو جو تمھارے اپنے لئے سودمند ہو۔ حیرت تو یہ بھی ہے کہ عوام کا حافظہ بھی کتنا کمزور ہو گیا ہے کہ جو کچھ یہ انصاف پسند لیڈران اور انسانی حقوق کی اہمیت کا زبانی پرچار کرنے والے موقع پرست گروہ اپنے اپنے دور میں کرتے رہے ہیں اسے فراموش کئے بیٹھے ہیں۔ کیا واقعی ایسا ہی ہے یا عوام اب لیڈروں کوسبق پڑھانے کے لئے تیار ہے ؟ یہ ابھی کل کی بات تھی ، یہ ابھی کل کی بات ہے یہ سارے ٹھگ پاکستانی خزانے کو لوٹ کر پاکستان سے باہر دادِ عیش دیتے رہے ہیں ۔ اب قوم کے درد میں بد حال رونی صورت بنائے ہوئے دوبارہ قومی خزانے پر نظریں گاڑے پھر آدھمکے ہیں۔ظالم اب مظلوم بنے ہوئے ہیں۔نئی نئی شکلیں بنا کے آئے ہیں۔ کوئی فیس لفٹنگ  کرا کے آئیں تو کوئی سر پہ بال کی کاشت کروا آئے۔ اور کیوں نہ کریں آخر کو ایک ڈرامے اور فلم کے اداکاروں جیسا ہی تو ان کا کام ہے۔ کہیں دو تین گھنٹے کی تفریح میسر آتی ہے تو کہیں یہ ڈرامہ پورے پانچ سال چلتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں تو یہ کہانی جانے کتنے  سسپنس اور تھرل  پہ مبنی ہوتی ہے۔ یہ بات عوام کو پانچ سال کے بعد پتہ چلتی ہے کہ یہ کہانی پھر سسکیوں اور آہوں سے بھری ہوئی تھی یا قہقہوں کے درمیان ہی سب کچھ لوٹا جا چکاہے۔ اور اب رات گئے گھر جانے کو پاس میں پھوٹی کوڑی بھی نہیں۔امریکی سفیر ہو یا کوئی اور افسر پاکستانی سیاست کے اس کھیل ، ڈرامے یا فلم کے بنانے میں اور اس کی ہدایت میں نمایاں کردار ان کا بھی ہے ۔ کہانی نویس ، قلم کار ، ڈائیلاگ رائٹر ، سکرپٹ رائٹر یہ سب بھی تو واشنگٹن یا لندن میں موجود ہیں۔یہان تک کہ کیمرہ مین اور ایڈیٹر بھی وہیں سے آتے ہیں۔ تو پھر اس فلم کی پروموشن اور ڈسٹریبیوشن کا کام دیسیوں کے ہاتھ میں کیسے چھوڑا جا سکتا ہے؟ اس سے منافع بھی تو کمانا ہے!اس ہاتھ لے اُس ہاتھ دے۔اب ان ساری باتوں اور حالات کی ذمہ داری کس پہ جاتی ہے ؟   ؎

نگۂ  آلودۂ   اندازِ   افرنگ   :  طبیعت غزنوی ، قسمت  ایازی

          چلئے بات پھر قسمت ہی پہ ٹل گئی ۔ ہم میں تو ساری خوبیاں موجود ہیں لیکن اگر قسمت میں ہی غلامی لکھی ہے تو کیا کیا جائے ؟ زیادہ سے زیادہ ہم ایک ماتمی جلوس نکال سکتے ہیں ۔ اب اس کے لئے بھی لوگ اکھٹے نہیں ہوتے تا وقتیکہ ان کی مٹھی کو بہت سے سُرخ کاغذوں سے جس پہ قائدِاعظم کی تصویر چھپی ہوئی ہو گرم نہ کیا جائے۔ قائدِ اعظم سے تو اس قوم کو جو بے انتہا محبت و انسیت ہے ۔ جب ان کی تصویرسے بیعت ہوگئی تو پھر سر پہ خاک ڈالنے سے کون روک سکتا ہے۔   ؎

خدا سے  پھر  وہی  قلب  و  نظر مانگ 

 نہیں  ممکن   امیری   بے   فقیری

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: