Hesham A Syed

January 9, 2009

Our Home : Is the moral boundry safe & and secured ?

Filed under: Muslim world,Pakistan,Social Issues,Spiritual,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 7:50 am
Tags: ,

Urdu Article ; Kia hamarey  Ghar ki chahar diwaary mahfooz hai ? Hesham Syed

حشام احمد سید

کیا ہماری چہار دیواری محفوظ ہے ؟

دیر سے ہی سہی آپ سب کو شہر رمضان  کی مبارکباد ، اس سال بھی یہ مہینہ متنازع ہی ہے لیکن لوگوں کا خیال ہے ایک روزے کی زیادتی یا کمی سے کیا فرق پڑتا ہے ، اختلاف جاری رہنا چاہیے۔ اگر یہ نہ ہو تو زندگی کا مزہ ہی کہاں ہے ؟ آئیے اک بارہم سب پھر مل کر یہ دعا کریں کہ اللہ تبارک تعالیٰ اس مہینہ کو ہمارے لئے بابرکت بنادے ۔ ہمارے گناہوں اور کمزوریوں کو معاف فرمادے ۔مسلمانوں کو متحد کر دے۔ عقل ِسلیم عطا فرمائے ، اور امت مسلمہ کو اپنا فریضہ انسانی یاد دلا دے اور خلیفۃالارض ہونے کا احساس دلا دے۔( آمین )۔

          مملکت اسلامیہ کوئی بھی ہو یہ بات سننے میں آتی ہے کہ ہماری سرحدیں محفوظ ہیں اور اہالیانِ حکومت مطمئن ہیں۔مطمئن اس لئے ہیںکہ یہ مملکتیں اقوام ِ مغرب کو گروی رکھ دی گئی ہیں۔اس موضوع پہ تو ابلاغ عامہ میں کیا کچھ نہیں لکھا اور کہا جا رہا ہے سو ان باتوں کو کیا دہرانا۔ اس معاملے میںپہلے ہی لوگ بے جہتی ،فکر کی گمراہی اور بد کلامی کے ہیضہ کا شکار ہیں۔

  جو بات مجھے آج کرنی ہے وہ  یہ ہے کہ کیا ہماری چہاردیواری محفوظ ہے ؟

          زمین ساری اللہ کی ہے سرحدیں آدمیوں کے اختلافات کی نشاندہی کرتی ہیںاس تصور سے قطع نظر ہم میں سے اکثر ایک بہتر زندگی کی تلاش میں یورپ ، انگلینڈ، امریکہ ، کنیڈا ، آسٹریلیا اور جانے کہاں کہاں آبسے ہیں۔ جب یہاں آہی گئے ہیں تو ہمیں اپنی تہذیب و ثقافت بھی یاد آتی ہے ، ہمیں سابقہ وطن کی یاد بہت ستاتی ہے ، ہم  دوسرے ملک کے شہری ہو کر بھی اسی جامے میں رہنا چاہتے ہیں جس سے بھاگ کر ہم کہیں اور جا بسے ہیں۔ہم یہاں آکر بھی اسی ماحول کو اپنے اوپر طاری کئے رکھنا چاہتے ہیں اور سچ پوچھیں تو ہمارے آپس کے اختلافات  چاہے وہ سیاسی ہوں یا معاشرتی یا ثقافتی یہاں آکر بھی ان ہی وجوہات کی بنا ہیں جوسابقہ وطن میں ہیں۔لیکن ہم خوش ہیں کہ ڈالر و پاؤنڈ میں کمائیں اور روپے اور ریال و درہم کا گائیں۔ ہر قسم کے سیاسی ، تہذیبی ، مذہبی ،  ثقافتی ، معاشرتی اکھاڑوں کو ہم نے امپورٹ کر لیا ہے۔پان چبا کر ، حقہ گڑ گڑا کر ، محلے میں چارپائی بچھا کر ،  رنگین لاچہ اور شلوار پہن کر ، نہاری ،پائے، مغز،گردے ،کپورے ،تکے، شاورمہ ،تبولی اور چپلی کباب ،سبزی بھاجی ،گوبھی کے پراٹھے اور جلیبیاں وغیرہ کھا کر ، توب و عمامہ و شمائل و پگڑ باندھ کر ، مسجدوں ، مندروں ، امام باڑوں ، گردواروں کے لئے چندوں کا کاروبار سجا کر ، اپنے اپنے ملک کے بکے ہوئے سیاسی لیڈروں یا لٹیروں کی دکان چمکا کر ، میلے ٹھیلے ، بھنگڑا ،لڈی دھمال مچا کر ، مشاعرے کرا کے ، فلمیں ، ٹی وی کے ڈش انٹینا اور مختلف چینل پہ بالی ووڈ ، ہالی ووڈ ، لولی ووڈ ، اردو ،ہندی ،پنجابی،ملیالم،انگریزی ، فرانسیسی ، چینی ، جاپانی ، مصری ، لبنانی، ایرانی اخلاق باختہ گانے اور فلمیں یا پروگرام دیکھ کر۔ کرکٹ ، ہاکی ، فٹ بال ، باسکٹ بال دیکھ کر ہم خوش ہیں بلکہ بے حد خوش ہیں ۔ ہمیں غم ہے تو صرف اپنے وطن کا وہاں کی سیاست بازی کا ، لاہور کا بھاٹی گیٹ اور کراچی کا کلفٹن یا لالو کھیت ، دلی دربار اور بمبئی کا گیٹ آف انڈیا وغیرہ بہت یاد آتا ہے۔کیا کریں اپنی مٹی کی بو باس تو باقی رہتی ہی ہے ۔ باہر آکر کم سے کم ہم نے اپنے ملک کا بھلا اس طرح کیا کہ ملک کے بوجھ کوکچھ کم کیا۔ کچھ لوگ بہر حال یہ سمجھتے ہیں کہ ہماراملک اب بھی ہمارے ہی بھیجے ہوئے فارن کرنسی ایکسچینج کی وجہ سے چل رہا ہے ۔ یہ ایک لمبی بحث ہے کہ ملک چل رہا ہے یا ملک کے لیڈر چل رہے ہیں ، یہ چل چلاؤ کا زمانہ ہے سو اس بات کو یہیں رہنے دیں۔

          یہاں کی محفلوں کو سجانے کے لیے بھی اپنے اپنے ملک سے قلم کار ، شاعر و ادیب ، ناچنے اور گانے والوں اور دیگر ثقافتی ٹولوں کو بلایا جاتا ہے۔ لوگ پورے خاندان کے ساتھ ہزاروں ڈالر اور پاؤنڈ دھنا دھن دھن ، دھنا دھن دھن کے نظر کر دیتے ہیں ، خون کو بھی تو گرمانا ہے۔ ملک کی اقتصادیات البتہ آئی ایم ایف کے سامنے چیخ چیخ کر گارہی ہوتی ہے’’ آقا بھیک ملے ، مولا بھیک ملے ، ہم در سے خالی نہیں جائیں گے ، آہا آہا بھیک ملے ، بھیک ملے ‘‘۔ اگر یہ سب نہ ہو تو ملک میں پیدا ہونے والا ہر بچہ مقروض کیسے ہو ؟ یہاں ایک طرف تو یہ سب ہنگامے ہیں جس میں بوڑھے بچے حواس باختہ سبھی شریک ہیں اس کے علاوہ کچھ باتیں اور بھی جو مشاہدے اور علم میں آتی ہیں تو میں چونک اٹھتا ہوں  :

          ٭جب ہمارے ہی معاشرے اور شرم و حیا کی تصویر عورت اپنے شوہر جو دور بیٹھا ہے یا اس سے چھپ کر کسی آشنا کے ساتھ وقت گزار رہی ہوتی ہے۔ دسیوں یا بیسیوں سال کاساتھ اور رفاقت صرف پیسوں کی کمی یا بہتات کی خاطر ٹوٹ جاتی ہے۔ برابری کا زمانہ ہے ، یہ میری زندگی اور وہ تیری زندگی کا فلسفہ ہے۔ کثرت ازواج یا اس جیسے تعلقات کی سہولت صرف مردوں ہی کو کیوں ہو یہ تو سراسر نا انصافی ہے، کہا یہ جاتا ہے کہ مغربی ممالک کے قوانین عورتوں کی اقتصادی و معاشرتی آزادی اور بے راہ روی دونوں میں معاون ہیں۔ عورتیں اپنے شوہروں کے ظالمانہ رویہ سے چھٹکارا حاصل کر لیتی ہیں یا پھر دل تو ان کے بھی پاس ہے ، اگر مشرق میں صرف عورتوں کو اقتصادی آزادی حاصل ہو جائے تو وہاں بھی عورتوں کی ایک بڑی تعداد طلاق شدہ یا خلع یافتہ ہو ۔یہ اور بات ہے کہ تمام تر آزادی اور قانونی معاونت کے باوجود عورتوں کے ساتھ زیادتی یہاں بھی ہوتی ہے ۔یہاں بھی انہیں مارا پیٹا جاتا ، قتل کیا جاتا ، بے حرمت کیا جاتا ہے۔ آزادی کے نام پہ انہیں بازار اور منڈی میں سجا کر برہنہ بٹھا دیا جاتا ہے جہاں ایک کے بجائے لاکھوں بھوکی نظریں چہرہ و جسم کے ہر زاویے کا تعاقب کرتی ہیں۔ سنگل مدر اور بغیر شادی کے ہونے والے بچوں کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے ۔بعض ممالک میں تو یہ تعداد ۰۷ فی صد سے بھی زیادہ تجاوز کر گئی ہے۔ صرف معاشرتی اور اخلاقی بے راہ روی کا اپنا اپنا انداز ہے ۔ حیوانیت بنام انسانیت پنپ رہی ہے۔ ع     کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا ؟

٭ جب شوہر یا باپ اپنے بیوی بچوں کے مستقبل کے لئے اس ملک سے بھی دور کہیں جاکر پیسوں کا جگاڑ کر رہا ہوتا ہے تو اس کے بچے اور بیوی زندگی کے تعیش اور ضروریات میں ایسے پھنس چکے ہوتے ہیں کہ اس شوہر یا باپ کے گھر لوٹ آنے کا خیال بھی خوف زدہ کر دیتا ہے۔

٭جب یہاں بچوں کی شادیاں ہوتیں ہیں اور وہ چند مہینوں یا ایک دو سال کے اندر ہی معاملہ طلاق و خلع تک آجاتا ہے تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی کا سلسلہ جاری ہو جاتا لے۔ یہاںصرف یہی نہیں بلکہ غیر مذہب و ممنوع لوگوں سے شادی یا ساتھ رہنے کا عمل بھی جاری ہے ۔ ان کافلسفہ یہ ہے کہ انسانیت کی تقسیم نہیں ہونی چاہیے ، مذہب صرف اختلاف پیدا کرتا ہے جبکہ انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے ، ( چلئے صاحب! اس فلسفہ کے تحت انبیا و رسول کی تعلیمات کس کھاتے میں ڈالی جائیں گی ؟ حیرت ہے کہ انہیں یہ بات سمجھ نہیں آئی ! )

٭جب اپنے ہی معاشرے کے لڑکوں کو کانوں میں بندا پہنتے ، بدن کو گدواتے ، بالوں کو رنگواتے ، بالوں کو عجیب و غریب انداز میں کٹواتے یا چوٹی بنواتے ،  ٹیڑھی ٹوپی کبھی کان پر اور کبھی آگے کا پیچھے اور پیچھے کا آگے کر کے پہنتے ، قمیضوں پہ بے ہودہ تصویریں یا جملے یا آدھی تشریف پہ پتلون باندھے دیکھتا ہوں ،اور کانوں میں واک مین یا سی ڈی موسیقی کا تار سمویا رہتا ہے جس پر وہ اچھل اچھل کرتھرک تھرک کر چل رہے ہوتے ہیں ۔

٭جب اپنے ہی معاشرے کی لڑکیوں کو چہرہ گدواتے ، ہونٹوں ، ناک ، بھنوں ، زبان اور جسم کے اور بھی نازک حصوں کو چھیدواتے اور ان میں موتی یا چھلا پروتے، بالوں کو سرخ و ہرا رنگ کرواتے و ہوا میں لہراتے،  کپڑوں کو تنگ سے تنگ تر اور مختصر ہوتے دیکھتا ہوں، بلکہ بعض وقت تو ڈھونڈنا پڑتا ہے کہ بدن پہ کپڑہ کہاں ہے

٭جب زیادہ تر لڑکے لڑکیوں ، مرد عورتوں کے حواس پر ہالی ووڈ ، بالی ووڈ ، لالی ووڈ کے کردار و گایک و موسیقار  اور ایتھلیٹس کھلاڑیوں کی شکلیں ہی چھائی رہتی ہیں اور وہی ان کے آئیڈیل ہیں ۔سائنس داں ، استاد ، دانشور ، فلسفی وغیرہ ظاہر ہے کہ میڈیا کو بھاتے بھی نہیں ۔نہ ان کی فیشن پریڈ ہوتی ہے اور نہ وہ سٹیج پہ آکر کمر لچکا سکتے ہیں اور نہ سروں میں الاپ سکتے ہیں ، نہ ہی ان کے پاس کروڑوں کی جائداد ہوتی ہے۔یہ بے قوف و عجیب لوگ ہوتے ہیں۔

٭جب بچے اور بچیاں اپنے ماں باپ کو اولڈ مین اور اولڈ وومن کہہ کے مخاطب کرتے ہیں۔

٭ جب والدین کی موجودگی کا لحاظ کئے بغیربیٹے اور بیٹیاں اپنے ساتھیوں اور بیوی یا شوہروں سے معانقہ یا معاشقہ یا بوس و کنار کر رہے ہوتے ہیں۔جب اپنے ہی معاشرے کا لڑکاکسی لڑکے ہی کے ساتھ یا لڑکی کسی  لڑکی کے ہی ساتھ جنسی تعلق قائم کر لیتے ہیںاور والدین انہیں بھی اسی حالت میں تسلیم کرنے پر مجبور ہیں.بلکہ اب تو یہ روشن خیالی کی علامت سمجھا جانے لگا ہے۔

٭جب بچے باپ ماں کے سامنے ہر قسم کی بے حیائی کی باتیں کرتے ہیں۔ پیر پھیلا کر لیٹے رہتے ہیں ، ان کی روک ٹوک کو اپنی آزادی میں خلل سمجھتے ہیں۔ والدین صرف فرینڈز کہلائے جاتے ہیں اور والدین کے قربت کے نتیجے میں جو فرزند عالم وجود میں آتے ہیں اس کا وہ خمیازہ بھگتتے ہیں۔

٭جب بالغ لڑکے نیکر پہن کر اور تصویروں والی قمیض پہن کر مسجدوں میں نماز کے لئے آتے ہیں لیکن انہیں کوئی کچھ اس لئے نہیں کہتا کہ وہ برا نہ مان جائیں اور مسجد میں آنا ہی چھوڑ دیں ۔کم سے کم وہ مسجد میں آتے تو ہیں۔ یہی احسان اللہ پہ کیا کم ہے ؟

٭جب تعلیم اور پیشہ صرف اور صرف حصول زر کا راستہ سُجھائے۔ تربیت و اخلاق سے عاری انسان ایک دوسرے کو لوٹ کھسوٹ رہے ہوںاور موقع پرست بن گئے ہوں۔

٭جو لوگ ڈھلتی عمر میں داخل ہوگئے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ایک ایسی نسل سے ہیں کہ بچے تھے تو والدین سے ڈرتے رہے ، بڑے ہوئے تو بیوی یا شوہر سے ڈرنے لگے اور اب بوڑھے ہو رہے ہیں تو بچوں سے ڈرتے رہتے ہیں۔ ساری عمر ڈرتے ہی گزری۔ کچھ نے یہ بھی کہا کہ یہ ساری باتیں جو مشاہدات کی شکل میں ابھی بیان کی ہیں وہ سب کچھ تو اپنے وطن و ملک میں بھی ہورہا ہے تو بے وطنی کا غم کس لئے؟ موجودہ دور کی نشریات اور ذرائع ابلاغ نے ہر ملک میں گھروں میں گھس کر لوگوں سے شرم و حیا اور اچھے برے کی تمیز چھین لی ہے۔ پھر اس کی ساری ذمہ داری نئی نسل ہی پہ کیوں ڈالی جائےـ ہم سب اپنے گریباں میں جھانک کے دیکھیں چور تو وہاں بھی نظر آجائے گا ۔ زندگی کو کس معاشرے میں گزارا جائے اس کا فیصلہ تو اولاً والدین ہی کرتے ہیں۔ گھر کے ماحول کی درستگی بھی والدین ہی کی ذمہ داری ہے۔جب وہ برائیوں سے آنکھ موند لیں گے یا اس میں خود بھی شامل ہوجائیں گے تو پھر شکایت کیسی ؟ برائی اور اچھائی تو ایک تسلسل ہے ، جنریشن گیپ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔اگر بڑے زندگی میں صحیح  قدم اٹھاے ہیں تو بچے بھی اس راہ پر ہوتے ہیں ورنہ جیسی کرنی ویسی بھرنی۔

          ہدایات ِ رسول ؐ سے روگردانی کا نتیجہ تو سامنے آکر ہی رہتا ہے۔ یہ بات البتہ بعض اوقات صحیح ہے کہ ولی کے گھر شیطان اور شیطان کے گھر بھی ولی پیدا ہوجاتا ہے ۔ ایسا کیوں اور کیسے ہوتا ہے اس کا معاملہ کچھ جینیات  یعنی جینیٹکس سے ہے ۔ایک بات اور اہمیت کی حامل ہے کہ یہودیوں کی متشدد تنظیم جسے زا یو نسٹ کہا جاتا ہے اس کے بہت پرانے ایسے پلان کا پتہ چلا ہے جس میں دنیا بھر میں فحاشی کو پھیلانے کی تحریک سے متعلق باتیں ہیں۔ نظریہ ہے کہ فحاشی اور ننگے پن کو پھیلانے کی طرح طرح کی ترکیبیں نکالی جائیں اور لذات نفسانی کو اتنا عام کر دیا جائے کہ قومیں ذہنی طور پہ مفلوج ہو جائیں اور ان کے افراد کی ذہنی وجسمانی قوتیں سب کی سب سفلی اور نفسانی تقاضوں میں ہی خرچ ہو تی رہیں۔ یہ کاروبار بہت پھیلا ہوا ہے اور لوگ تعیش کے ایسے رسیا ہو گئے ہیں کہ دنیا میں جو کچھ کمایا وہ یہیں گنوایا والا معاملہ چل رہا ہے ۔ اس کا فائدہ شیطانی دھندے باز اٹھا رہے ہیں۔ قلبی اور ذہنی طہارت کی بات کی جائے تو لوگ اسے دقیانوسی بات کہتے ہیں اور ایسا شخص زاہد خشک گردانا جاتا ہے ۔ فا عتبرو یا اولی الابصار۔ لیکن ان باتوں کی ذمہ داری صرف قوم یہود ہی پہ کیوں ڈالی جائے کہ امت مسلمہ کی گمراہی ، دورِ تنزل یا قرب قیامت سے متعلق حضور سرور کائنات ؐ کے ا قوال کا مفہوم بھی یہ ہے کہ ایک وقت آئے گا جب شراب نوشی کی کثرت ہوگی ، بے حیائی اور موسیقی عام ہو جائے گی سود کا دھواں گھر گھر میں پہنچ جائے گا اور بہت سارے  معاملات میں ہماری مماثلت یہودیوں سے ایسے ہی ہوگی کہ سر مو فرق نہ ہوگا ۔ایسے میں صرف دعا کی جا سکتی ہے۔ یا اللہ قلب و ذہن کو روشن کر دے!

          یہ ساری باتیں سن کر دیکھ کر میں سوچتا رہتا ہوں کہ جس طرح ہم نے اپنی جغرافیائی سرحدوں کو اقوام غیر کے حوالے کر دیا یا گروی رکھ دیا ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے اپنا فکری ، دینی ، تہذیبی اثاثہ بھی گروی رکھ دیا ہو ؟  بتائیے کہ حقیقت کیا ہے ؟ کیا ہماری چہار دیواری محفوظ ہے ؟

صورتِ شمشیر  ہے  دستِ قضا  میں وہ  قوم  :  کرتی  ہے جو  ہر  زماں  اپنے عمل  کا  حساب

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: