Hesham A Syed

January 9, 2009

It is my life — is it ?

Filed under: Global,Social Issues,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 10:13 am
Tags:

Urdu Article : It is My life — is it ? Hesham Syed

حشام احمد سید                       اِٹ  ایز  مائ  لائیف ۔۔t is My Life  

یہ وبأ کوئ نئی بھی نہیں  ۔ نئی نسل ہو یا پرانی ان کے درمیان ہمیشہ سے ایک تناؤ کی کیفیت طاری رہتی ہے کہیں کم  تو کہیں زیادہ۔ پرانی نسل اپنے مشاہدات اور تجربات کی بنیاد پر زندگی کو ایک خاص اور محتاط ڈگر پہ چلانا چاہتی ہے تو نئی نسل زندگی میںاپنا تجربہ خود کر نا چاہتی ہے چاہے اس میں اس کی انگلیاں ہی کیوں نہ جلیں  ، اپنے بذرگوں کو اپنی ترقی میں مانع سمجھتی ہے اور یہ ہمیشہ سے ہی ہوتا چلا آرہا ہے ۔ اک زمانہ تھا کہ ہم اپنے سے زیادہ عمر کے ہر آدمی کو اپنا بذرگ ہی سمجھتے تھے اور یہ ہماری تربیت کا حصہ تھا کہ خطائے بذرگاں گرفتن خطا  است۔بچے اپنے والدین کے سامنے ہمیشہ مودب بچے ہی رہتے تھے چاہے وہ کتنے ہی تعلیم یافتہ یا معتبر یا صاحبِ ثروت یا صاحب ِ اقتدار کیوں نہ ہو جاتے۔ والدین ،  بذرگوں اور اپنی عمر سے بڑے ہر رشتہ دار یا ایک عام انسان کا بھی اک عجیب سا لحاظ رہتا اور ہم انہیں عزت کی نظروں سے دیکھتے۔ اپنی زندگی کے معاملات میں یا کوئ اہم فیصلہ کرتے ہوئے بذرگوں کی شمولیت یقینی سمجھی جاتی ، ان کے مشوروں کے حصول کی کوشش کی جاتی۔ ایک وقت تو وہ بھی تھا جب بچوں اور بڑوں کا اپنے والدین اور بذرگوں کے سامنے ننگے  سر جانا بھی بد تمیزی سمجھی جاتی ،  لڑکیوں کا بغیر اوڑھنی کے سر اور سینہ ڈھانکے بغیر  والدین و بذرگوں کے سامنے تو کجا اپنے بھائیوں کے سامنے بھی جانا معیوب سمجھا جاتا۔ اور یہی وہ تہذیب تھی جو اہل شرفأ میں ہونے کی دلیل تھی ۔لیکن اب صورتِ حال ہی مختلف ہے ،  شرفا کیا  سادات کیا سب ایک ہی رنگ میں  رنگے چلے جارہے ہیں۔ اور وہ ہے یہ تصور کہ  اِٹ اذ مائ لائیف۔۔۔ ساس یا ماں کو یہ سننا پڑتا ہے کہ  اِٹ از مائ وائیف ۔۔۔ چلیے صاحب سارا مسٔلے کا حل نکل آیا۔اب سے پہلے کی نسل کو یہ پتہ ہی نہیں چلا کہ ان کی بھی اپنی کوئ زندگی ہے، وہ جیے  تو والدین ، رشتہ دار ، عزیز و اقربأ ، دوست احباب اور اپنے شوہر ، بیوی و بچوں کے لیے جیے اور انہیں ہی اپنی زندگی کا اثاثہ سمجھا۔ کبھی آئینہ میں جھانک کے ناقدانہ انداز میں نہیں دیکھا کہ آخر ہماری اپنی بھی کوئ  زندگی ہے جو  ان سب سے الگ ہونی چاہیے۔ اور اگر کسی نے ایسا سوچا بھی  تو  اسے ایک نچلے درجے کی سوچ  یا کمینہ آدمی سمجھا گیا۔ والدین  و بذرگوںنے جو کہا وہ تعلیم حا صل کی ، جس حال میں رکھا اس میں خوش باش رہے، جس جگہ شادی کر دی وہیں بلا چوں چرا کیے ہوئے شادی کر لی ، گویا زندگی  ایک نتھی  میں جڑی ہوئ رہی۔ ہاں یہ بھی ہوتا تھا کہ اِکا دکا کوئ اپنی مرضی سے  یا اپنے والدین سے باغی ہوکر کہیں اور کچھ کرتا پھرتا لیکن ایسا شاذ ہوتا اور ایسے آدمی کو لوگ اچھا نہیں سمجھتے بلکہ اس سے ایک طرح کا معاشرتی مقاطعہ ہو جاتا۔ خاندان اور زبان کا بڑا مان تھا۔بہت زیادہ دولت کی فکر کرنے والے ، رشوت خور ، سودی کاروبار کرنے والے،  دولت کی اشتہار بازی  اور نمود و نمائیش کرنے والے  لوگوں کو اہل شرفا ناپسند فرماتے اور ان کے گھر سے سلسلہ جنباتی کبھی نہ کرتے بلکہ علیک سلیک سے بھی گریز کرتے۔ ہمارے بذرگ اگر عورتوں  یا لڑکیوں کا باہر جاکے غیر مردوں سے میک اپ کرانا یا بال کٹوانے کا  سُن لیں  تو  دوبارہ انتقال کرجائیں۔  شادی بیا ہ  یا کسی اور تقریب میں مخلوط رقص و موسیقی کا نظارہ ہو تو قیامت کا آنا انہیں زیادہ آسان لگے۔ لیکن اب کے زمانے میں  تمیز ہو  تو کیسے جبکہ سفید سر  اور  باریش حضرات ہی وہ سب کچھ کر رہے ہیں جس سے کم سے کم ان کی عمر میں ایسا کرنا بہت ہی برا سمجھا جاتا تھا۔لڈی ہو ، بھنگڑا ہو ، ڈسکو ہو  اور کیا نہ ہو ۔۔ ہر تان ہے دیپک ، ہر چہرہ ہے جگ  مگ جنہیں دیکھ کے ہے  دل دھک دھک۔ اور پھر یہ سب کچھ کیوںنہ ہوکہ سنیما کے برہنہ یا نیم برہنہ کرداروں  اور ٹیلیویژن   اور کیبل کے پروگرام  ، موسیقاروں اور گائیکوں کے ٹولیاں زندہ باد۔ کان ، آنکھ  کا  زنا  مبارک ہو  اورجس بیماری میں شائد اسوقت دنیا کی  ۹۹  فی صد آبادی مبتلا ہے۔کیا مرد اور کیا عورتیں سب کی اپنی  انفاچوئیشن   ہے، سب کے خواب میں یا چشم تصور میں شوہر و بیوی کے علاوہ کوئ اور بستا ہے۔

 یہاں پیر بھی آچکے ہیں جواں بھی  :  تنومند بیٹے بھی  ابا میاں بھی۔

شاعری میں جنس ادب میں جنس ، باتوں میں جنس ، مزاح میں پھنسکڑا پن نہ ہو  تو بزم  یاراں میں پذیرائ کیسے ہو۔

ہند کے شاعر و صورت گر و افسانہ نویس  :  آہ  بیچاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار

اب کوئ اصلاحی کام کرنے سے پہلے  یہاں تک کہ اپنے بچوں کو بھی کچھ کہنے سے پہلے یہ  سوچنا پڑتا ہے کہ کہیں یہ کسی کی اپنی ذاتی زندگی میں مداخلت تو نہیں ۔ کیونکہ اصلاحی کام کسی غیر اخلاقی  طریقے سے نہیں کیا جاتا جبکہ اخلاق کا معیار بھی  اب مختلف ہو۔  بچوں کی اپنی زندگی ہے تو والدین کی اپنی ۔ سننے میں تو یہ بھی آیا کہ والدین کے  رُتبے کے بارے میں بھی دوبارہ غور کرنا چاہیے کیونکہ اکثر پیدائیش تو حادثاتی ہوتے ہےں  سو اگر ماں اپنے فعل کو نو مہینے بھگتتی ہے تو اس میں بچے کا کیا قصور یا والد اگر اس کی پرورش کرتا ہے  تو اس کا ذمہ دار بھی تو وہی ہے اس میں بچہ تو بالکل معصوم ہے۔ وہ تو اس دنیا میں آیا ہی اس لیے ہے کہ اپنے ماں باپ کو اپنی غلطی کا احساس دلائے۔ اگر والدین اس آنے والے بچے کو اس دنیا میںآنے سے پہلے ہی ختم کردیتے اور یہ کہتے کہ اٹ از مائ لائیف تو پھر کیا ہوتا  ؟

 مذہب و دین بھی اب ایک ذاتی معاملہ ہے ، کیا چیز صحیح ہے کیا غلط یہ تو ہر آدمی کا اپنا  فیصلہ ہے، کوئ کسی کے معاملے میں دخیل ہی کیوں ہو ۔ پھر تو انبیأ کرام کا نزول ہی غلط ہوا ۔ سب کو صرف وہی کچھ کرنا چاہیے تھا جو اس کی مرضی ہو۔ نہ معیارِ اخلاق ہوتا ، نہ حرام وحلال کی تمیز باقی رہتی اور نہ ہی ضمیر کی خلش رہتی۔ یہ سارے کا سارا  جھگڑا ہی دین کی ہدائیت سے اُبھر کے سامنے آیا ہے۔ دنیا میں  البتہ ایسے گروہ و جماعت تشکیل پاچکے ہیں جو اس بات کا پرچار کر رہے ہیں کہ اپنے دل و دماغ کو  اللہ  یا خدا سے فارغ رکھو،  اس کے بعد انبیأ کی تعلیم و ہدائیت کی بھی ضرورت کیا ہے ۔ جو چاہو سو کرو ،  جو چاہو  سوچو ،  جو چاہے بکو ،  آخر آدمی ایک حیوانِ ناطق ہی  تو ہے ۔ جب ضمیر نام کی کوئ چیز ہی باقی نہیں رہے گی  تو خلش کیسی ۔ اپنی ذات کو افضل سمجھو کہ ہر چیز اس کے گرد ہی گھومتی ہے۔ اور اس طرح زندگی امن و آشتی کا گہوارہ  ہوجائے گی۔

معاشرے میں یگانگیت ، اخلاقی رچاؤ ،  وفا کیشی ،  شرم و حیا  و  لحاظ و  خیال کا  پرچار اب ہو بھی  تو کیسے  ؟

بیوی شوہر سے ، شوہر بیوی سے ، بچے والدین سے ، والدین بچوں سے ، ہر کوئ ایک دوسرے سے اب یہی کہتا نظر آتا ہے اِٹ از مائ لائیف۔

روح خوابیدہ اور بدن بیدار ہو جائے  تو پھر دل و دماغ  پہ نفس کا یہی  خمار  تو طاری  رہے گا کہ  اِکسکیوز می  !  اِٹ از مائ لائیف  !

Excuse me ! it is My Life — Is it  ?

حشام احمد سید

۔۔۔

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: