Hesham A Syed

January 9, 2009

New generation is wasting time – ?

Filed under: Canada,Muslim world,Pakistan — Hesham A Syed @ 7:25 am
Tags: ,

Urdu Article : Nayee Nasl waqt zaaiyaah kar rahee hai – Hesham Syed

نئی نسل وقت برباد کر رہی ہے

(نکات     Pointers)

۱۔       سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ زندگی کیا ہے اور اس کا مقصد کیا ہے ؟ خلیفہ الارض کی ذمہ داری

۲۔       قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے کائنات یا انسان کو یونہی بلا مقصد کھیل کود اور تماشہ کے لئے نہیں پیدا کیا ہے۔ یہ شعر کس حد تک صادق آتا ہے : 

آئینہ اطفال ہے دنیا مرے آگے  :  ہوتا ہے شب وروز تماشہ مرے آگے

۳۔       نئی نسل ہر دور میں پرانی نسل کو عقل میں اپنے آپ سے کم تر سمجھتی چلی آئی ہے ۔ کیا یہ غلط فہمی ہے ؟

۴۔       بچپن اور نوجوانی کے عالم میں آدمی یہ سمجھتا ہے کہ جو اس کے مشاہدے میںہے بس وہی دنیا ہے اور چونکہ اس کے سر پہ ذمہ داریوں کا بوجھ نہیں ہوتا تو وہ ایک عالم بے خبری میں ہوتا ہے اور اپنا زیادہ تر وقت کھیل تماشوں میں ہی گزارتا ہے یا گزارنا چاہتا ہے۔

۔     موجودہ دور کی ایجادات نے سونے پہ سہاگہ کا کام کر رکھاہے ۔ دنیا بھر کے ہنگامے اور تفریحات بچوں اور نوجوانوں کے در پہ گھر پہ اور ہاتھوں میں دستیاب ہیں۔ ہم کتنا وقت کرکٹ ، فٹ بال ، یا دوسرے کھیل میں صرف کرتے ہیں ، کیا اتنی ہی دلجمعی اور شوق سے ہم پڑھائی بھی کرتے ہیں ؟ ہر وقت موسیقی ، رایپ میوسک ،  ڈسکو گانے ، ریڈیو ، ٹیلی ویژن اور ویڈیو کے واہیات پروگرام ، فلمیں ، کلب ، یہاں تک کہ بے کار کی سیاست بازی ، سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ہلڑ بازی ، دوستوں کی محفلوں میں بے کار کی باتیں اور غپ شپ ، بسنت منانا ، پتنگیں اڑانا ، تاش اور جوا کھیلنا ، جوائے سٹک کے ساتھ گھنٹوں ٹیلی ویژن کے روبرو عجیب و غریب قسم کی گاڑیوں کی دوڑ ،کشتی یا باکسنگ ، یا ایک دوسرے کو قتل کرنے کی یا جگہ جگہ دھماکے کرنے کی نئی نئی ترکیبیں استعمال کرنا سیکھنا اور ان سے خوش ہونا ۔ یہ سب چیزیں ہمیں کہاں لے جا رہی ہیں ؟ کیمرہ ، فوٹو گرافی ، ویڈیو گرافی میں حد سے زیادہ مصروف رہنا ، سیکڑ وں ، ہزاروں تصاویر کھنچوا کر انہیںسجانا اور ہر دم دیکھتے رہنا ۔ یہ سب چیزیں نہ صرف وقت کا بلکہ پیسوں کا بھی زیاں ہیں۔ ایسی محفلوں میں جانا جہاں ناچ ، گانا ، بے ہنگم موسیقی ، اورا سٹیج پہ مسخروں اور اداکاروں سے محظوظ ہونا سب ہی صرف زندگی کو ضائع کرنے والی باتیں ہیں۔ لڑکیوں اور لڑکوں کا ایک دوسرے کوچھیڑنا ، فلمیں دیکھ کر ہیرو اور ہیروئین یا ولن کے انداز میں زندگی گزارنے کی خواہش رکھنا اور ویسی ہی زندگی گزارنا بے شرمی اور بے حیائی کی قبیل میں ہے ۔ بری صحبتوں میں بیٹھ کر شراب اور دوسرے نشے کی عادت میں گرفتار ہو جانا انسانی معاشرے کو کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے ؟ جن باتوں سے اللہ کے رسول  ؐ نے منع فرمایا ہے اسے ہی کرتے رہنے سے فرد کی توانائی تو ضائع ہو ہی رہی ہوتی ہے ، معاشرے میں بھی بگاڑ پیدا ہوتا ہے  اور تباہیاں مقدر ہوجاتی ہیں ۔

بات یہ سوچنے کی ہے کہ اگر ہمارے اسلاف ، آباو اجداد نے بھی صرف وہی سب کچھ کیا ہوتا جسکا کہ ذکر کیا گیاہے تو کیا ہم کبھی زندگی میں وہ کچھ حاصل کرپاتے جو ہمارے پاس ہے۔ہم نے جیسے ہی ان کی روش چھوڑی اور دنیا وی تفریحات اور لذات میں پھنس گئے تو دیکھئے ہمارا حشر کیا ہو رہا ہے ؟ کیا نوجوان نسل اس بات سے بالکل لا علم ہے کہ اسے اس زمین پہ خلیفتہ الارض کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔ کیا یہ ذمہ داری بس کھیل تماشے میں مگن رہنے سے پوری ہو جائے گی ؟یا میک اپ و فیشن ، بدن اور چہرے پہ ہر جگہ چھدوا کر بندے اور انگوٹھی پہننے،بدن گدوانے ،برگر میکڈانلڈ کنٹکی فرائیڈ فیملی بن جانے۔تیز موٹر سائیکل یا سپورٹس کار چلانے۔ پنک  Punk) (بن جانے، کمر سے نیچے آدھی تشریف پہ پتلون باندھنے سے کہ اب گری تب گری ، سر پہ سامنے چھتری والی امریکی ٹوپی الٹی طرف سے پہن کر ،سرمنڈوا کر ،سر اور چہرے پہ بے ہنگم بال بڑھا کر ، چڈا بنیان پہن کر ، قمیض کے اوپر بنیان پہن کر گھومنے ، ایسی برہنگی اورایسی ہیت کزائی ، امریکی و برطانوی انداز میں انگریزی بولنے سے سارے مسائل دور ہوجائیں گے ؟

 ہمارے قومی شاعر اور فلاسفر علامہ اقبال ؒ نے اسی بات کو بڑے دکھ سے اپنی ایک طویل نظم ’خطاب بہ جوانانِ اسلام ‘کے چند اشعارمیں کہا ہے :    ؎

کبھی  اے  نوجواں مسلم  تدبر بھی کیا  تو نے  :  وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

تجھے اس قوم نے پالا  ہے  آغوشِ  محبت  میں   : کچل ڈالا تھا جس نے  پاؤں میں تاجِ  سرِدارا

گدائی میں بھی وہ اللہ والے  تھے  غیور  اتنے   :  کہ منعم کو گد ا  کے  ڈر سے بخشش کا  نہ تھا  یارا

تجھے آباسے اپنے کوئی  نسبت  ہو  نہیں  سکتی  : کہ تو گفتار  وہ کردار ،  تو  ثابت  وہ  سیارا

یا ان  اشعار پہ غور فرمائیں    ؎

جوانوں  کو  مری  آہ  سحر  دے  :  پھر ان شاہین بچوں کو  بال  و  پرَ دے

خدایا  !  آرزو  میری  یہی  ہے  :  مرا  نور ِ  بصیرت  عام  کردے

ہوئی نہ  زاغ  میں  پیدا  بلند پروازی  :  خراب کر گئی شاہیں بچے کو صحبتِ زاغ

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی  :  خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ

خدا  تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے  :  کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب  نہں

ترا طریق امیری نہیں فقیری ہے  :  خودی نہ بیچ  غریبی میں نام پیدا کر

اٹھا  کر پھینک  دو  باہر گلی میں  :  نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے

مومن پہ گراں ہیں یہ شب  و  روز  :   دین  و  دولت ،  قمار بازی

ہمت  ہو  اگر  تو  ڈھونڈ  و ہ  فقر  : جس  فقر  کی اصل  ہے حجازی

مومن  کی  اسی میں  ہے  امیری  :  اللہ  سے  مانگ  یہ  فقیری

اللہ نئی نسل پہ رحم فرمائے۔ آمین

حشام احمد سی

 

Advertisements

2 Comments »

  1. SOOOOOOOOOOOOO TRUUUUE……………

    Comment by ASMA SHAFIQUE — March 19, 2011 @ 9:06 am | Reply


RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: