Hesham A Syed

January 9, 2009

Pakistan and Islamic Monument

Filed under: Pakistan — Hesham A Syed @ 5:17 am
Tags:

Urdu Article : Pakistani and Islamic Monument : Hesham Syed

پاکستانی اور اسلامی مانومنٹ

کیا ہمارے دن پورے ہو چکے ؟ 

        کیا دنیا ختم ہونے کے قریب آچکی ہے ؟ بڑھتی ہوئی آفات نے عمومی طور پہ ہر انسان کو متاثر کیا ہوا ہے ۔ ہر ذہن ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گیا ہے ؟ جس کی جو سمجھ میں آرہا ہے ان آفات کی توجیہہ کئے جا رہا ہے۔ علم کم اور عقل محدود ، قدرت کے نظام اور اس کی حکمت کا ادراک ہو تو کیسے ہو ؟ ہر مذہب والے اپنی اپنی کتاب سے کوئی نہ کوئی وجہ اور دلیل نکال رہے ہیں ، ویب سائٹ پہ ، اخباروں میں ، ریڈیو پہ ٹی وی پہ ، محفلوں میں ۔ منبر پہ ، درس و تدریس میں ۔ سوچ کی گہرائیوں میں ایک وحشت اور ایک انتشار پل رہا ہے۔نوجوانوں اور جوانوں کی اپنی فکر ہے ، بوڑھے اسے اور انداز میں دیکھ رہے ہیں ۔ جسے دیکھئے انگلیاں چبا رہا ہے ، سر کھجا رہا ہے۔ قلم کار نئے سرے سے اس نئے موضوع پرمضامین لکھ رہے ہیں ، شعر و نغمہ حزن کی ایک نئی فضا قائم ہو گئی ہے اور ایک نیا ماحول بن گیا ہے۔ ماتم و مرثیہ کی نئی جہت کھلی ہے۔ عمومی طور پہ اور زیادہ لوگ اسے عذاب الہٰی سے تعبیر کر رہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ جن علاقوں میں شرک ہو رہا تھا  ، ہم جنسیت پل رہی تھی ،  دوسرے گناہ ہو رہے تھے وہاں اللہ کا عذاب آگیا جبکہ صورتحال خاصی مختلف ہے ۔ جن ملکوں میں  ہم جنسیت کو حکومتی یا قانونی تحفظ حا صل ہے اور ایسے لاکھوں لوگوں کا پریڈ ہوتا رہتا ہے وہاں سب محفوظ ہیں ۔جہاں انتہائی قبیح گناہ کا ارتکاب ہو رہا ہے وہ بھی محفوظ ہیں ۔

          ظلم اور اللہ و رسول سے دشمنی کی ہر شکل چاہے وہ سود کی شکل میں ہو ، لا دینیت یا لا مذہبیت ہو ، ملحدانہ  ور مادیت پرستانہ رویہ ہو ، دوسرے ملکوں پہ غاصبانہ قبضہ کی تحریک و عمل جاری ہو وہ بھی محفوظ ہے۔ان سب کے ذمہ داراور سارے لیڈر و کارندے محفوظ  ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ انسان کی عقل خبط ہو کر رہ گئی ہے اور وہ خود ہی اٹکل پچو مارتا رہتا ہے۔ وہ جو اس سانحہ سے بچ رہے ہیں ان کے لئے یہ ایسا ہے جیسے کہ ہالی ووڈ کی فلم چل رہی تھی۔ کٹھور دل مبلغین کو مرحوم ہو جانے والوں اور درد سے کراہتے ہوئے معصومین کو بھی گناہ گار گرداننے میں دیر نہیں لگتی۔ کچھ اہلِ قلم اس کی تعبیر یوں کر رہے یا کر رہی ہیں کہ جو لوگ مارے گئے وہ شہید ہوگئے حق دارجنت ہو گئے اور اصل میں عذاب تو ان پہ آیا ہے جو اس دنیا میں ابھی جی رہے ہیں اور اسے برت رہے ہیں۔ سبحان اللہ ۔ چلئے صاحب یہ ایک نئی رومانویت سامنے آئی، کم سے کم یہ بات تو واضح ہو گئی کہ اب جو لوگ دنیا میںہیں وہ سب جہنمی ہیں۔ اگلا زلزلہ یا طوفان یا سیلاب آئے گا تو باقی جنتیوں کو سمیٹ لے جائے گا۔اللہ اسی طرح اپنی زمین سے اچھے لوگوں کو اٹھاتا رہے گا اور برے لوگوں کو ہر طرح کی عیاشی کے لیے دنیا میں چھوڑ دے گا۔ اب کر نے کو کیا رہ جاتا ہے ؟ سوائے کسی دوسری آفت کے انتظار کے۔ 

          امداد فراہم کرنے والوں میں غیر مسلمین بھی ہیں اور مسلمین بھی لیکن ابلاغ ِعام میں جانے کیوں اسلامی مملکتوں کا یا سعودی و خلیجی حکومتوں کا ذکر بحیثیت معاونین کے زیادہ نہیں ہے۔ کیا یہ سب ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت ہو رہا ہے یا ابھی بھی امت مسلمہ بے حسی کا شکار ہے ؟ یا انکساری سے کام لے رہی ہے ؟ واللہ عالم!

                    ان حالات میں خود پاکستان میں ہی بردہ فروشوں اور مادیت پرستانہ رجحان رکھنے والوں کا ٹولہ بھی سر اٹھا رہا ہے جو اس زلزلہ کو بھی ساہوکارانہ انداز میں دیکھ رہا ہے ۔ مال کمانے کا موقع ، لڑکوں اور لڑکیوں کو اغوا کرنے کا موقع، عورتوں کو بیچنے اور طوائفوں کی منڈی میں بٹھانے کا ایک اور موقع ۔۔ ہر جھٹکے پہ ایک اور موقع !  شک و شبہات بھی سر اٹھا رہے ہیں ، کوئی فوجیوں کوگالیاں دے رہا ہے تو کوئی فلاحی اداروں کے بارے میں شک پیدا کر رہا ہے۔ زلزلے کے جھٹکے ابھی تک آرہے ہیں اگرچہ ان کی قوت وہ نہیںتاہم اس سے بھی تباہی اور اموات ہو رہی ہیں اور مزید متوقع ہیں۔ یہ بھی ایک سوال گردش میں ہے کہ کیا ہمارے اعمال اس حد تک خراب ہو چکے ہیں کہ قدرت کی چھڑی بار بار گھومتی ہے ۔ نومبر و دسمبر مہینوں میں کراچی میں سونامی کا اندیشہ ہے اور دیگر علاقوں میں بھی زلزلوں کی پیشن گوئیاں ہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ یہ صرف افواہ ہے یا اس میں کوئی سچائی ہے۔ ہمارے پاس ایسے سائنسی آلات نہیں کہ ان باتوں کی تصدیق کر سکیں۔ ہمیں تو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ زلزلہ کی تباہی کس حد تک ہو چکی تھی تاوقتیکہ امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک نے اپنے آلات اور سیٹیلایٹ کے ذریعہ ہمیں نہ بتا یا۔ بہت سی جانیں ملبے کے نیچے سے اس لیے نکالی جا سکیں کہ مغربی اقوام اپنے الیکٹرونک آلات ساتھ لے کر آئیں جس سے ان کا بچنا ممکن ہو سکا ۔ہمیں صرف جذبات کی تاریکی راس آگئی ہے اور ہم اسی میں رہنا چاہتے ہیں۔

           ان حالات میں جب ساری قوم درد و اذیت میں مبتلا اور اندھیارے میں ٹٹول ٹٹول کے آگے بڑھ رہی ہے۔قام کو اس بات پہ فخر دلانا کہ کراچی ، لاہور یا اسلام آباد میں بڑے بڑے مانومنٹ اور فوارے بنائے جائیں گے۔ معروف فنکاروں چھیل چھبیلے خواتین وحضرات یا مرد نما اداکاروں کی سرپرستی میں ہر جگہ رقص و موسیقی و ثقافتی رنگ کو اجاگر کرنے کے لئے بڑی بڑی تنظیمیں اور کونسلیں بن رہی ہیں تا کہ پاکستانی قوم اپنے پاکستان پہ فخر کر سکے۔ ایسے ہی ہے جیسے سارا شہر جل رہا ہو اور نیرو اپنی بنسری بجا رہا ہو۔ ہر چیز اور ہر بات کا ایک موقع محل ہوتا ہے۔ اس وقت یہ سارے وسائل زلزلہ سے متاثر لوگوں کے لیے خرچ کر دینے چاہیں ۔قوم چند مہینے یا چند سال تو ناچ و رنگ سے توقف کر ہی سکتی ہے کہ نہیں ؟ اس سے زیادہ بے راہ روی اور کیا ہو سکتی ہے ؟ پاکستان کو ایک روشن اسلامی مملکت بنانے کے لئے بنیادی اسلام پسندی کا قلع قمع کیا جائے گا ( یہ کام تو ہو ہی رہا ہے اور بے شمار لاکھوں لوگ بھیڑ بکریوں کی طرح  مارے جا چکے یا جیلوں میں بند کئے جا چکے) ۔

           بھلا یہ نیم تعلیم یافتہ ، ناخواندہ ، قرآن اور حدیث کا ہر وقت درس دینے والا اور نعت پڑھنے والا مولوی اسلام کو کیا جانتا ہے۔ اسلامی کونسلیں بن رہی ہیں جن میں قومی اور بین القوامی علما کے گروہ اپنے ضمیر کا سودا کر کے ایک امریکی اسلام کو تشکیل دیں گے کیونکہ وقت کا یہی تقاضہ ہے۔ وہ اسلام ہی کیا جس میں امریکہ اور مغربی ممالک کے آگے سجدہ ریزی کا کوئی ذکر ہی نہ ہو۔ ہوٹل کے ایئر کنڈیشنڈ ماحول میں بیٹھے ہوئے سیکڑوں تجار، دانشور ، شاعر، وزراحضرات و خواتین اپنا سر اور منہ پیٹنے کے بجائے حاکمِ وقت کے سامنے اس کی ہر بات پہ تالیاں پیٹ رہے ہیں ۔اس کی ایک مسکراہٹ پہ قہقہہ لگا کر اس کی پزیرائی کر رہے ہیں ۔ ٹیلی ویژن پہ عالموں کی ایک نئی کھیپ آگئی ہے جو جھو م جھوم کے نعتِ ِرسول ؐ  تو پڑھ ہی رہے ہیں ساتھ ساتھ حاکمِ وقت کا قصیدہ بھی پڑھ رہے ہیں ۔

          اتحاد بین المسلمین بھی تو انتہائی دلچسپ موضوع ہے بلکہ یہ کہیے کہ اتحاد بین المسلمین و کافرین اس سے بھی زیادہ دلچسپ و اہم ہے۔ یہودی ، عیسائی ، ہندو ، مجوسی ، مسلمان یا کوئی اور ہوں سب کے پیغمبر و اوتار اپنے خدااور سب کے خداکو تسلیم کر کے سر بسجود ہو جایا جائے تو کیا حرج ہے ؟اب تک پیغمبر الگ الگ ہوتے تھے اب خدا بھی الگ الگ اس کا فائدہ یہ ہے کہ ایک جگہ دعا قبول نہیں ہوگی تو دوسری جگہ ہو سکتی ہے۔ کسی بھی موقع کو ہاتھ سے کیوں جانیں دیں ؟ جہاں درگا پوجا ہو رہی ہو ، دیوالی میں دولت کی دیوی کی پوجا ہو رہی ہو ، گرو گرنت سنگھ رکھا ہوا ہو وہیں قرآن بھی رکھا ہوا ہو ، بھجن گاتے ہوئے اسے بھی آنکھوں سے لگا لیجئے ۔ آپ بھی کم سے کم اتنا  تو مسلمانوں کے خدا پہ احسان کیجئے۔ ہند کے معروف مسلمان فلمی اداکار تو اپنی ذاتی زندگی میں یہی کرتے ہیں۔ اور اب وہی ہمارے ہیرو ہیں تو ان کی نقالی تو ہماری عادت کا حصہ ہو !

          ان حالات کو دیکھ کر ایک ہول سا اٹھتا ہے دل میں ۔یہ وقت تو واقعی توبہ استغفار کا ہے ، کیا ہمارے دن پورے ہو چکے ہیں ؟کہیں ایسا نہ ہو کہ دوسرے مانومنٹ اور فواروں کے ساتھ پاکستان اور اسلام کا مانومنٹ بننے لگے ! عیاذاََباللہ !  

اے اللہ! ہمارے حال پہ رحم فرما لیکن زلزلہ و سیلاب کی صورت میں نہیں !

حشام احمد سی

An old article

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: