Hesham A Syed

January 9, 2009

Red and White Blood !

Filed under: Pakistan — Hesham A Syed @ 1:34 pm
Tags:

Urdu Article : Surkh o Sufaid Khoon – Hesham Syed

سرخ و سفید خون

پاکستان میں وحشت و دحشت گردی ہنوز جاری ہے۔ حالیہ واقعہ جو بینظیر کی آمد پہ ہوا اس پہ تعجب کیسا ؟ یہ تو روز مرہ کی بات ہے ۔ میڈیا میں اور انجمنوں میں اندیشۂ بے باک یہ ہے کہ اس دھماکے کے پیچھے شاید ہندوستان کا ہاتھ ہو ، شاید پی پی کا اپنا ہی پلان ہو ، شاید القاعدہ ہو ، شاید اندرون خانہ متشدد مذہبی جماعتوں کا ہاتھ ہو ، شاید  افغانستان کا ہاتھ ہو ، شاید حکومت پاکستان خود ملوث ہو ، شاید ایم کیو ایم ہو ، شاید آئی سی آئی یا ا یجنسی ہو ، شاید امریکہ ہو ، شاید ،شاید ! سوچنے کو اور باتیں کرنے کو ایک اور موضوع ہاتھ لگا۔ پاکستان ہو ، افغانستان ہو ، کشمیر ہو ، عراق ہو ، ترکی ہو ، فلسطین ہو ، چیچنیا ہو ، بوسنیا ہو ، ہندوستان ہو ، یا کوئی اور ایشیائی ملک یہاں انسانی جانوں کی قدر ہی کیا ہے ، روزانہ سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں جانوروں کے ریوڑ کی طرح لوگ مار دئے جاتے ہیں چاہے وہ مذہبی جماعتوں کا جہاد ہو یا غیر مذہبی جماعتوں کی سیاست بازی ، اس سارے ہنگامے میں جو مرتا ہے وہ عام آدمی ہے جسے صرف خواب دکھا کر زندہ رکھا جاتا ہے اور ان کے مرنے پر انہیں شہید یا ایک ہیرو کہہ کر ہر سوالیہ ذہن کو دوبارہ سلا دیا جاتا ہے ، ہر بے چینی کا علاج کر دیا جاتا ہے۔ یتیم و بیوہ کوئی اور ہو ، عصمت وری کسی اور کی ہو ، گھر کسی اور کا اجڑے ، ہمارے پاس دلاسے کے لیے بڑے اچھے اچھے اشعار ہیں ، حکایتیں ہیں ،  آئیتیں ہیں ، فلسفیانہ موشگافیاں ہیں ، مرنے والے کے گھر والوں کی تشفی  کے لیے چند سکے ہیں ۔

          رہ گئے وہ لوگ جن کا کام ہی انتشار پھیلانا ہے اور لوگوں پہ اپنی حکومت کو غاصبانہ ہو یا شاطرانہ طور پہ قائم کرنا مقصود ہوتا ہے وہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں اور ان کے بلند بانگ قہقہے ہر طرف سنائی دیتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی کرسی اور کروفر کے لیے اپنے باپ کو مار دیں ، اپنے بھائی بہنوں کو ماردیں یا کسی اور کو انہیں سات خون کیا  سینکڑوں خون معاف ہیں ۔ یہ لوگ ملک اور عوام کی دولت لوٹ کر ملک سے باہر بھاگ جائیں یا ملک کو ہی اپنی گدی کے لیے غیر اقوام کے ہاتھوں گروی رکھ دیں ، لوٹ کے پھر وہی اور ان کی اولادیں اس ملک پہ قابض ہو جاتی ہیں ، اس لیے کہ گروہی اور ذاتی مفادات قومی مفادات سے بر تر ہیں۔ ساری دنیا صرف دو طبقوں میں بٹی ہوئی ہے ۔ ایک وہ جو دھوکہ دے سکتے ہیں اور دوسری وہ جو دھوکہ کھا  سکتے ہیں۔ ساری معاشرت ، ساری تجارت، سارے تعلقات ، سارے مفادات کو موجودہ دور میں دیکھئے تو اسی دائرے میں تیر رہے ہیں۔ جو دھوکہ دے سکتے ہیں وہ سر خرو ہیں اور جو دھوکہ کھا سکتے ہیں وہ اپنی نسل در نسل کی غلامی اور قربانی و حماقت کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ نہ ان کی نیندیں اپنی ہیں اور نہ ان کا جاگنا اصل میں جاگنا ہے۔ یہ بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ دھوکہ دینے والے دراصل خود بھی دھوکہ کھا رہے ہوتے ہیں ، کبھی کے دن بڑے تو کبھی کی راتیں۔

                    وحدانیت ایک تصور ہے ایک نظریہ ہے جو ہمارے اذہان میں پلتا رہتا ہے ، جس کی چاپ کبھی سنائی دیتی ہے تو ہم تھوڑے سے چوکنا ہو جاتے ہیں، ورنہ تو ہم اپنی ثقافت ، اپنے رنگ و نسل ، اپنی زبان ، اپنی تہذیب و تمدن کے ہی گرداب میں گھرے رہتے ہیں۔نفرتیں ہوں یا محبتیں سب کے پیچھے یہی محرکات کارفرما ہیں۔یہ ایک ایسی شراب  الست ہے جس کے کیف سے ہمیں چھٹکارا نہیں ملتا ، خون کا رنگ ایک ہو تو کیا وہی رنگ تو سارے جانداروں کا ہوتا ہے سو اسے ہم جب چاہیں کسی اور کے لیے سفید کر لیں۔ یہ صفت بھی ہم ہی کو عطا ہوئی ہے۔جسم و جان میں خون کی حرارت اور اس کی روانی کے لیے سفید ذرات کی بھی تو ضرورت ہوتی ہے!

زمین تنگ ہوجائے تو جائے قرار آدمی کے لیے آسمان ہی تو ہے ! اور کہاں جائے انسان ؟

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: