Hesham A Syed

January 9, 2009

Different path , just leave me alone

Filed under: Canada,Social Issues — Hesham A Syed @ 2:53 pm
Tags: ,

Urdu Article : Raah lag apnee  ya  Raah  alag apnee : Hesham Syed

راہ لگ اپنی  =  راہ اَلگ اپنی

میر تقی میرؔ صاحب کا ایک شعر ہے کہ :    ؎

نہ چھیڑ اے نکہتِ باد بہاری راہ لگ اپنی  :   تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں

اس شعر کا اطلاق ہر زمانے میں ہر بے زار پہ ہوتا رہا ہے البتہ آج کے دور میں پہلے مصرعہ کو راہ اَلگ اپنی پڑھا جانا چاہیے۔ چاہے مصرعہ بحر یا وزن میں رہے یا نہ رہے ۔حالات کون سے بحر و وزن میں ہیں ۔جسے دیکھئے عقل و خرد سے بے بہرہ ہے۔ یہ عجیب دور ہے کہ کسی شخص سے آپ مشفقانہ ، کریمانہ ، نا صحانہ گفتگو کیجئے وہ کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے۔ ان حالات میں کوئی کیسے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دے ۔شاید نیک کام کرنے والوں کے ساتھ لوگوں کا رد عمل اس جیسا ہمیشہ رہا ہے سو مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ کچھ بھی ہوتا یوں ہے کہ جو واعظ و نصیحت کو ہی اوڑھنا بچھونا بنا لیتے ہیں ، وہ اپنے آپ کو ہر معاملے میں عقل و تقویٰ کی بلندیوں پہ فائز سمجھتے ہیں۔اگر ان میں کبھی فدویانہ رنگ نظر آئے بھی تو وہ اس لئے کہ اپنی کسر نفسی کا بھی پرچار کرنا چاہتے ہیں، جبکہ اکثر کے ساتھ صورتِ حال ایسی ہی ہے کہ :    ؎

اتنی نہ بڑھا پاکیء داماں کی حکایت   :  دامن کو ذرا دیکھ،  ذرا  بندِ قبا دیکھ

          یہ بھی کہا جانے لگا ہے کہ کنیڈا میں ہر بات کی قانونی آزادی ہے یہاں تک کہ ہم جنسیت کی بھی ۔سو کوئی کسی کو نہ روکے نہ ٹوکے ، سلوگن  یہ ہو کہ’ کچھ نہ کہو ، جیو اور جینے دو‘۔اب تک تو اس فلسفہ کو ہم کسی حد تک تسلیم کر چکے تھے کہ خدا نے انسان کو آزاد پیدا کیا ہے ہر چند کہ یہ بات زیادہ دل کو لگتی ہے کہ :    ؎

ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا   :  یہاں مرنے کی پابندی وہاں جینے کی پابندی

z        مگر کسی حد تک تو آدمی کو فکری جدیدیت کا شکار ہونا ہی چاہیے۔سوچنا یہ ہے کہ کیا خدا نے انسان کو مادر پدر آزاد پیدا کیا ہے ؟ اس حقیقت کا اطلاق تو صرف حضرت آدم پہ ہی ہوتا ہے ، حضرت عیسیٰ بھی بغیر ماں کے پیدا نہیں ہوئے تھے ۔ اکثر یورپی مملکتوں یا مغربی ممالک میں سنگل مدر کی اصطلاح اپنا لی گئی ہے کیونکہ باپ کا پتہ ہی نہیں ہوتا تاوقتیکہ کوئی ڈی این اے کرا کے اس جنجال میں پھنس جائے ۔ بعض ممالک میں آدھی سے زیادہ آبادی اب بغیر نکاح کے ہی پیدا ہو رہی ہے جنہیں محترم اور معتبر بنانے کے لئے  لَو چائیلڈ کی اصطلاح بھی ایجاد کر لی گئی ہے ۔ جسمانی شجرہ نسب سے الگ یہ دور وہ دور ہے جس میں ہر آدمی فکری طور پہ مادر پدر آزاد نظر آتا ہے ۔ ذرا سی بات آپ نے اللہ اور رسول کے حوالے سے کی تو آپ فنڈامنٹلسٹ یا ٹیرا رسٹ قرار پائے۔ آزادئ افکار کے معنی یہ ہیں کہ اللہ اور رسول یا اﷲ کے دین کا جتنا ہو سکے مذاق اڑائیں، کم ہے ۔ یہ کام اپنے گروہ یا ادارہ کے نام کے ساتھ لفظ اسلام لگاکے کیا جائے تو زیادہ زود اثر ہے۔دشمنان ِدین فوری طور پہ آپ کو سراہیں گے اور آپ کو ٹیلیویژن پہ آکر ہر قسم کی خرافات بکنے کا موقع فراہم کریں گے ۔ہر طرح کی بے حیائی کے کام کو اچھے اچھے نام سے جاری کردیں اس لئے کہ آپ روشن خیال ہیں آپ کا دنیاوی کاروبار چمکنا چاہیے چاہے اس کے لئے آپ کو جسموں کی دلالی ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ اسٹیج و بازار سجاتے رہئے اور پیسے بٹورتے رہئے۔ہم جنسیت کا قانون بن جانے کے بعد تو اب ایک اور دروازہ کھل گیا ہے کاروبارِ ہوس پرستی کا۔ ہاں یہ ضرور کریں کہ یہ سب کام کرتے ہوئے اللہ کا نام لیتے رہیں لوگوں کے سامنے بھی اور خود کو بھی یہ باور کراتے رہیں کہ چاہے کسی شکل میںضمیر فروشی ہو یا جسم فروشی ۔رقص، ڈرامے ، فلم ، فیشن شو ، ملکۂ حسن کا مقابلہ  سب نعوذ باﷲ، اللہ ہی کی رحمت ہے اور اللہ آپ کے ساتھ ہے ۔

           طوائفوں یا طائفوں کی ٹولی کا خیال یہ ہے کہ یہ تو بہت قدیم کاروبار ہے ، اس میں کوئی برائی نہیں بلکہ جو لوگ اسے برا کہتے ہیں یا بری نظر سے دیکھتے ہیں وہ گندے ذہن کے لوگ ہیں۔ جو بے حیائی کے اس کاروبار میں شریک ہیں وہ دائم باوضو رہتے ہیں اور مطہر لوگ ہیں۔ انہیں کچھ نہ کہیں بلکہ ان سے عقیدت رکھیں۔اس کاروبار میں جو دولت کی ریل پیل ہے اسے نظر انداز کردینا کون سی عقل مندی ہے ۔ اس کام میں شریک سبھی ہیں ،وہ فن کار جو کوٹھا سجا رہے ہیں اور وہ تماشبین بھی جن سے کوٹھا سج رہا ہے ۔ مردوں کے ساتھ کچھ خواتین کا بھی خیال ہے کہ پاکستانی عورتوں کو مقابلہ حسن میں شامل ہونے کا آزادانہ ماحول بنانا چاہیے۔کیوں نہ ہو آخر ہم نے پاکستان اسی لئے تو بنایا تھا ، جانے کتنی عورتوں کی عصمت وری پاکستان بننے میں ہوئی اور جانے کتنی عورتوں نے عصمت وری سے بچنے کے لیے کنوئیں میں چھلانگ لگا کر جان دے دی ۔ اب اگر پاکستان کی عورت کھلے عام شرم و حیا اور عزت ساتھ ساتھ بیچتی رہے تو کیا مضائقہ ہے ؟ کچھ اور باقی رہے یا نہ رہے روشن خیالی باقی رہے ۔

           آپ دینی معاملات میں جتنے جاہل ہونگے اور جتنی ہزل سرائی کر سکیں گے اتنا ہی آپ کو پزیرائی نصیب ہوگی اور آپ عالموں اور متقیوں کی صف کو کہیں پیچھے چھوڑ جائیں گے ۔ ننگے دوڑنے میں کپڑوں اور شرم و حیا کا بوجھ تو نہیں ہوتا، سو لوگوں کی تالیوں کے درمیان آپ دوڑتے رہیے ، لوگ تو تماشائی ہیں انہیں اس ننگے تماشے میں بھی مزہ آتا ہے ، تالیاںپٹتی رہیں گی۔بلکہ شہرت کے ڈنکے بجیں گے !   ؎ 

اس قوم میں ہے شوخیء اندیشہ خطرناک   :  جس قوم  کے افراد ہوں ہر بند سے آزاد

گو فکر ِ خداداد  سے  ر وشن  ہے   زمانہ    :  آزادئ  افکار  ہے  ابلیس  کی  ایجاد

r        ایک صاحب جن کی داڑھی  سنٹا کلاز کی طرح کی ہے انہیں ایک تقریب میں لوگوں نے مولانا کہہ کے بلایا تو انہوں نے اچھی بات کی کہ آپ نے مجھے مولانا کہہ کے کیوں بلایا ؟ آپ نے مجھے انجینئر ، ڈاکٹر ، ایجوکیشنسٹ ، پروفیسر ، ریالٹر وغیرہ کہہ کے کیوں نہیں بلایا ، صرف داڑھی ہونے سے آپ نے یہ کیسے تسلیم کر لیا کہ میں مولانا کہلائے جانے  کے لائق ہوں ۔دینی معاملات میں یہی تو ہماری غلط فہمیاں یا غلط کاریاں ہیں کہ ہر آدمی جس کہ چہرے پہ داڑھی نظر آئے اسے ہم نے دینی علوم کا چیمپیئن قرار دے دیا ہے اور اس کا کہا ہوا ہر لفظ معتبر قرار پایا حالانکہ اس بارے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔

          دینی علوم عرق ریزی ، ریاضت، تزکیہ و تدبر و حکمت چاہتے ہیں۔یہ آزادئ افکار کا ہی تحفہ ہے کہ اب ہر چیز اور ہر شخص ہی ناقابل اعتبار ، کیا نبی و رسول ، صحابہ و محدثین و تابعین و تبع تابعین ، اولیا کرام ، علما ٔ و ذاکرین ۔ بس اب تو جو ہم نے سوچ لیا اور جو کہہ دیا وہ معتبر ہے ، ہر آدمی اپنی انا کے آگے سر بسجود ہے۔ ایک صاحب کا فون آیا کہ یہ سب کیا ہورہا ہے ، یہاں جسے دیکھے شیخ الاسلام بنا ہوا ہے ، اپنے نام کے ساتھ تصوف کے سلسلوں میں سے کسی ایک کا دم چھلاّ لگا رہا ہے تاکہ تقدس کا ایک ہالہ اس کے نام کے گرد کھنچا رہے اور اس پہ طرہ یہ کہ تصوف کے بارے میں تقریر بھی کر رہا ہے، چاہے اس بارے میں اسے دور کی بھی واقفیت نہ ہو اور نہ کوئی مقامات طے کئے ہوں ۔ کوئی اپنے ادارے کے ساتھ اسلام کا نام لگا کر ہر طرح کی غیر اسلامی باتیں اور حرکتیں کرتا رہتا ہے ، کوئی اپنے نام کے آگے پیچھے ایسے بڑے بڑے القابات سجائے پھرتا ہے کہ اس میں اس کا نام ہی چھُپ گیا ہے۔ اس کے جواب میں میں کیا کہوں :  ؎

ہر ا ک کی  ا پنی  ر ا  ئے  ہے  ہر اک  کا  ہے اسلا م  یہا ں

ہر کو ئی  فقیہہ  و  مفتی  ہے  کج  بحثی  صبح  و  شا م   یہا ں

                    باطل اب جتنا بھی روکنے ٹوکنے پہ برا منائے یا شیطانی تاویلیں پیش کرے حق کہنے سے ہمیں نہیں رکنا چاہیے ۔   ؎ہمیں ہے حکمِ اذاں  لا الہٰ الا للہ     یا   یہ کہ  :  صنم کدہ  ہے  جہاں لا الہ الا للہ

                    باطل دوئی پسند ہے لیکن حق لا شریک ہے۔ ’’ اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور سچی بات کو جان بوجھ کر نہ چھپاؤ ( سورہ البقرہ  ۲۴  )۔‘‘حدیث یہ بھی ہے کہ برے کام کو ہوتا دیکھ کر ہاتھ سے روک دو ، اگر یہ نہ ہو سکے تو زبان سے برا کہو اور یہ بھی نہ ہو سکے تو دل میں برا کہو اور یہ ایمان کا ضعیف ترین درجہ ہے ۔

کبھی ہم نے معاشرتی اور اقتصادی درجہ بندی سے ہٹ کر ایمان کی درجہ بندی پہ بھی غور کیا ہے  ؟

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: