Hesham A Syed

January 9, 2009

This is our own decision – isn’t it ?

Filed under: Muslim world,Pakistan,Social Issues — Hesham A Syed @ 7:02 am
Tags:

Urdu Article : Yeah faisla hamaraa hee tto hai – Hesham Syed

حشام احمد سید                                         یہ فیصلہ  ہمارا ہی تو ہے ۔۔۔۔!

معاشرے میں بے حیائ اور بے شرمی کا رجحان کچھ اس تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ  شرم و حیا کی  تمیز ہی باقی نہیں رہی۔ اپنی تہذیبی ثقافت کی تنزلی میں سب سے بڑا ہاتھ فلم اور ٹیلی ویژن کے پراگراموں کا ہے۔ غور کیجیے کوئ لمحہ ایسا نہیں کہ ذہن میںکسی نہ کسی پروگرام کی فلم نہ چل رہی ہو۔خیال و جذبات و احساسات میں کوئ نہ کوئ اداکار یا اداکارہ اپنی حشر سامانیوں کے ساتھ نہ جلوہ نما ہو۔زندگی کے گنے چنے قیمتی لمحوں کو  صرف اپنے سفلی جذبات کی تسکین کے لیے نہ استعمال کیا جا رہا ہو۔ اب ہمارے ہیرو اور ہیروئینوں میں ہالی وود اور بالی ووڈ کے اداکار اور اداکارائیں ہی رہ گئی ہیں۔ بہت ہی کم کبھی کوئ کسی  پیغمبر،  صحابی یا ولی یا مجاہد یا غازی یا عالم یا فلسفی یا مصنف یا سائینسداں یا مفکر  یا لیڈر و رہبر کی بات کرتا  نظر آتا ہے ۔ ہر محفل کی رونق یا تو اداکاروں  یا  بدنیت  و بدکردار سیاسی کارکنوں  یا فوجی جرنلوںکی گفتگو سے قائم ہے۔ شاذ ہی کوئی کسی کتاب یا کسی نظریہ  پہ بات کرتا ہے یا اپنی رائے دیتا ہے ، اس لیے کہ پڑھنے لکھنے کی بھی عادت جاتی رہی۔ علم اب سارے کا سارا یا تو ویب سائیٹ پہ ہے یا چند ڈائجسٹوں کا مرہونِ منت ہے۔سنسنی خیز مضامین اور واقعات کی ہی مانگ ہے اور اس کی کھپت ہے۔ فکری کتابیں الماریوں کی زینت بن گئی ہیں۔ایسے ہی رسالے کی فروخت زیادہ ہے جسے نیم یا مکمل برہنہ عورتوں یا مردوں کی تصویروں سے سجایا گیا ہو، جس میں فیشن و سنسنی خیز مواد کی بھرمار ہو،  ایسی ہی فلمیں یا ٹیلی ویژن کے پروگرام زیادہ مقبول ہیں جس میں جنسی فعل اور اسکو بھڑکانے یا ذہنی عیاشی کا سامان  یا لڑائ بھڑائ  زیادہ ہو۔ اگر فلم میں صرف بوس و کنار ہو  تو یہ یہ اپنے معیار سنسر سے پاس شدہ ہے اور  پورے خاندان اور بچوں کے ساتھ دیکھی جا سکتی ہے ،  بلکہ اگر کوئی خواب گاہ کا منظر بھی آجائے تو بھی کیا ہے ، ہاں کچھ لوگ اتنا لحاظ کر لیتے ہیں کہ بچے بیٹھے ہوں تو ریموٹ سے ایسے منظر کو  طوعاّ کرہاّ بڑھا دیتے ہیں یا پھر خود اٹھ کے وہاں سے اس لمحے کے لیے چلے جاتے ہیں تاکہ بچے اطمینان سے جوان ہو سکیں۔ بعض گھروں میں تو اتنی بھی رعائت نہیں کی جاتی اور اسے پارٹ آف لائیف کہہ کے ٹال دیا جاتا ہے۔یعنی ایک نہ ایک دن تو بچوںکو بھی وہی کرنا ہے جو ہم کرتے رہے ہیں۔ سو اس پردے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ بچے  تو پھر بچے ہیں  بالغ و شادی شدہ ،  عمر رسیدہ  مرد اور عورتوں کو اپنے من پسند ہیرو اور ہیروئینوں کے سکرین پہ آتے ہی سسکاریاں لیتے ہوئے سنا ہے ۔ ایک اصطلاح بھی بڑی عام ہوئ جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ  لڑکیوں، عورتوں، لڑکوں ، مردوں ،  یہانتک کہ  بچوں ، نوجوانوں اور والدین کو بھی یہ کہتے سنا کہ میرا کرش  crush  فلاں پہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور ایک مسکراہٹ ، ایک قہقہہ پہ بات ختم ہوجاتی ہے۔عورتیں چاہے اپنے شوہر کے ساتھ ہی کیوں نہ بیٹھی ہوں ان کے من پسندفلمی ہیرو  کے سکرین پر آتے ہی چہرے پہ ایسا نکھار آتا ہے اور آنکھوں میں وہ تراوٹ اتر آتی ہے کہ کیا کہنے  اور ٹھیک ایسا ہی معاملہ مردوں کا اپنی من پسند ہیروئینوں اور خصوصاّ برہنہ یا نیم برہنہ  اداکاروں کے ساتھ ہوتا ہے۔ وہ حمیت و غیرت جانے کس کونے کھدرے میں جا چھپی ہے کہ یہ سب کچھ برداشت کر لیا جاتا ہے۔محرم کیا ہوتے ہیں اور غیر محرم کیا  اس کی بھی تمیز کہاں رہی۔پہلے زمانے میں  مرد حضرات کسی  طوائف  یا رقاصہ کے کوٹھے پہ جاکر اپنے جذبات کی تسکین کر لیا کرتے تھے اور ایسے  افراد کو اچھا  اور اہل شرفأ میں نہیں گردانا جاتا تھا  سو  خاندانی شرافت و عزت کا بڑامان تھا۔ اب بفضلہ شیطان ٹیلی ویژن ، ویڈیو ،  ہوم تھیٹر کے سبب یہ کوٹھا اہل شرفأ کے گھر میں اُٹھ کے آگیا ہے جس سے کیا مرد ، کیا عورتیں ، دادا ،  نانا ،  والدین ، اولاد ، سبھی اکھٹے مستفیذ ہوتے رہتے ہیں۔  اور اس پر طرہ یہ کہ چینل بدلتے جائیں اور کوٹھے بھی بدلتے رہتے ہیں۔ چند لمحے میں آپ کئی کوٹھوں کی سیر کر لیا کرتے ہیں۔ اب اگر کوئی ان آلات کو شیطانی آلہ کہے تو  ظاہر ہے کہ وہ نہایت بودہ اور کنسرویٹو شخص ہی کہلائے گا،  روشن خیالی کا زمانہ ہے ۔ بے شرمی اور بے حیائ کے مفاہیم بدل

۲

چکے ہیں۔ زمانے کے ساتھ ہی تو چلنا ہے۔زمانے کو بدل دینے کی بات پرانی ہوچکی اور اگر بدلاؤ  لانا بھی ہے تو آج سے زیادہ بے ہودگی اور فحاشی کو  ہی رائج کر کے ہی ایک نیا روشن باب کھولا جا سکتا ہے۔ دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو  والی بات تو نہیں ہوسکتی۔ اور وہ جو  احادیث کے ذخائیر ہیں قرانی احکامات ہیں  . صحابیات اور صحابہ کرام کی عملی زندگی کے نمونے ہیں وہ تاریخ کا  صرف ایک حصہ ہی تو ہیں، اب اس زمانے میں نہ تو ٹیلی ویژن تھا اور نہ فلم بنی تھی  تو ان کی مثال کیسے دی جاسکتی ہے اور ایسی باتوں پہ اصرار کیسے کیا جا سکتا ہے جو چودہ سو سال پرانے معاشرے کا حصہ رہا ہے۔ اور جو حضور  ؐ  نے فرمایا  جس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کی   قوت  خمسہ میں آنکھوں کا زنا فحش اور برائ کا دیکھنا ہے ، کانوں کا  زنا بری باتوں  غیبت اور شیطانی  غنا  اور موسیقی کا سننا ہے ،  اور ایسی ساری باتیں گناہ کی قبیل میں آتی ہیں۔ یہ سب محرکات ہیں اس سے بڑی برائ اور عمل گناہ کے ارتکاب کا۔ انسان کا دل و دماغ ایک کمپیوٹر ہی تو ہے  جیسا ڈیٹا     ہوگا ویسی ہی اس کا نتیجہ برآمد ہوگا ، یعنی  گاربیج اِن ,    گاربیج آؤٹ۔  

اور صرف یہی نہیں کہ یہ صرف ایک انٹرٹینمنٹ ہے بلکہ اس کے برے اثرات ہمارے طرز معاشرت اور روز مرہ کی زندگی پہ بھی پڑتے ہیں۔ ہمارا رہن سہن اور انداز فکر بھی رفتہ رفتہ ویسا ہی ہوتا چلا جاتا ہے ، خانگی زندگی میں توقعات و اخراجات بڑھتے چلے جاتے ہیں۔

Yپردہ غیر محرموں سے  ہونا چاہیے لیکن  جو لوگ  یعنی اداکار اور اداکارائیں سکرین کے راستے گھر میں آجائیں وہ تو پھر محرم ہی ہوئے نا ۔  انہیں تو اپنے دل میں بسا لینا چاہیے۔  اور اگر یہ گناہ ہے بھی تو صاحب ہمیں تو اللہ کی رحمانیت پہ بھروسہ ہے ، وہ سب کچھ معاف کردے گا ، آپ کو یقین ہو یا نہ ہو۔ہم جیسا یقین پیدا کر لیں اور اطمینان سے وہ سب کچھ کرتے رہیں جس کو  اللہ اور اس کے رسول  ؐ  نے  منع  کیا ہے ۔ اگر آدمی گناہ نہ کرے تو پھر اللہ کی اپنی آزمائیش کیسے ہوگی  ؟ ویسے بھی دیکھیے نا  ہمارے ہی شاعر نے کہا ہے کہ اک فرصت گناہ ملی وہ بھی چار دن  ۔۔ دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے ،  اسے آپ گستاخانہ شعر نہ کہیے بلکہ  وہی اللہ کی رحمانیت  کا  احساس ہی ایسا شعر کہلواتا ہے ۔ اور پھر ہم نماز بھی پڑھ ہی لیتے ہیں اور دوسری عبادات کا بھی  خیال رہتا ہی ہے  سو اللہ کے لیے یہ ہی کافی نہیں ہے کیا ؟ کہ ہم ہر قسم کی انٹرٹینمنٹ سے ہاتھ دھو بیٹھیں ۔ پھر ہم دنیا میں آئے ہی کیوں ہیں ؟  دیکھا  آپ نے شیطان کیسے کیسے  روشن خیال  نکتے اٹھا کے لاتا ہے، کیسی کج بحثی کرواتا ہے  ہم اور آپ کو  اعمال شیطانی میں مبتلا رکھنے کے لیے۔ یہ ہم  اور آپ ہیں  جن کی رگوں میں شیطان خون بن کے بہتا ہے۔ ا ور جو یہ کہا گیا کہ اللہ کے بندے یہ جانتے ہوئے کہ وہ بے انتہا رحیم ہے اور رحمان ہے اس سے ڈرتے رہتے ہیں اور ان کے سامنے جب اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ روتے روتے سجدوں میں گر جاتے ہیں۔ اور اللہ کے مقبول بندے تو متقین ہی ہیں۔ اب یہ فیصلہ ہمارا اور آپ کا ہے کہ اپنے آپ کو کس صف میں شمار کرتے ہیں وہ جو اللہ کے محبوبین ہیں یا وہ جن کی  منزل اسفل السافلین کی ہے  ؟  اس سے پہلے کہ زندگی کا چراغ گُل ہوجائے یہ فیصلہ جلد کر لینا چاہیے   ورنہ آنکھ بند ہونے کے بعد تو کوئ شنوائ نہیں۔ اللہ بس باقی  ہوس  !

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: