Hesham A Syed

January 9, 2009

Trouble in our families !

Filed under: Muslim world,Pakistan,Social Issues,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 7:37 am
Tags:

Urdu Article : Hamaarey toot-tey hooiey ghar aur bigarrhty muaashrat – Hesham Syed

ہمارے ٹوٹتے گھر بگڑتی معاشرت

 محفلوں میں ٹھنڈی سانس لے کر تاسف کے ساتھ یہ بات کی جاتی ہے کہ آج کل شوہر و بیوی کی علیحدگی و طلاق و خلع کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے ۔ اس کی شرح میں اضافہ ہوتا ہی جا رہا ہے والدین اور بچوں میں عزت و احترام و شفقت و محبت کی فضا قائم نہیں رہی۔ شوہروں اور بیویوں میں ایک دوسرے کا لحاظ باقی نہیں رہا۔اللہ اللہ کیا زمانہ آگیا ہے۔

          لیجئے صاحب اس کی ذمہ داری بھی زمانے پہ ڈال دی گئی اور آخر میں یہ بات کہہ کے جان چھڑا لی گئی کہ پتہ نہیں اللہ کی کیا مرضی ہے۔ پتہ نہیں دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی ؟ یعنی ہم آپ سب اتنے معصوم ہیں کہ ہمیں کچھ پتہ ہی نہیں ہے کہ یہ سب کیوں اور کیسے ہو رہا ہے ؟ ہمیں تو اس کی بھی خبر نہیں کہ  :

٭        سنیما گھر اور کلب تو دور کی بات ہے ہم نے ماشا اللہ اپنے گھر میں ٹی وی اور سیٹیلایٹ اور ویڈیو و سی ڈی اور کیسیٹ کی شکل میں طوائفوں اور بھانڈوں کا کو ٹھا کھول رکھا ہے۔ جس کے رنگا رنگ کے بے شرمی و بے حیائی و برہنگی کے پروگرام و موسیقی و سٹیج شو و ڈرامے یا فلمیں یا ٹاک شو سے ہم اور ہمارے گھر والے دن و رات محظوظ ہوتے اور اپنے گھر کو غیر محفوظ کرتے رہتے ہیں۔ موجودہ ایجادات کا فائدہ یہ ہے کہ پہلے کسی ایک کوٹھے کا انتخاب کرنا پڑتا تھا ، کسی ایک چھمیا بائی سے دل لگانے کی رسم تھی لیکن اب جہاں کی چھمیا چاہیں ایک جنبش ریموٹ پہ آپ کے دسترخوانِ شہوت پہ دستیاب ہے ، جس عمر کی لڑکیاں و عورتیں یا لڑکے و مرد چاہیں آپ کے ذوق کے مطابق آپ کے سامنے تنا تن تن، جھناجھن جھن ۔ پھر اس کا فائدہ یہ بھی ہے کہ منہ چھپا کے رات گئے گھر لوٹنے کی بھی ضرورت نہیں رہی ۔ ان سب کا لطف اپنے ہونہار فرزندوں اور بہو بیٹیوں کے ساتھ اٹھا یا جا سکتا ہے۔  یہاں پیر بھی آچکے ہیں جواں بھی ، تنومند بیٹے بھی ابا میاں بھی ، ’ثنا خوانِ تقدیس مشرق کہاں ہیں ‘؟  جواز یہ ہے کہ ہم کیا کریں صاحب زندگی میں اتنی دکھ و مصائب ہیں ، انھیں جھیلنے کے لئے دن و رات کی مصروفیت ہے تو کم سے کم گھڑی دو گھڑی کچھ تفریح تو ہو جاتی ہے۔ جس سے اعصابی تناؤ میں کمی آجاتی ہے اور جینا آسان ہو جاتا ہے۔

٭        ہر طرف ایک انجمن آرائی ہے ، کہیں بے ہنگم موسیقی کااسٹیج شو ہے ، تو کہیں رقص بے ہودہ مذاق کا ہے۔اب اگر اس میں ہم شریک نہ ہوں تو فلاحی اداروں کو چندہ کیسے ملے۔لوگوں کے مسائل کیسے حل ہوں گے ؟ جواز وہی ہے کہ ہم کیا کریں صاحب زندگی میں اتنے دکھ و مصائب ہیں ، اسے جھیلنے کے لئے دن و رات کی مصروفیت ہے تو کم سے کم گھڑی دو گھڑی کچھ انٹر ٹینمنٹ تو ہو جاتی ہے۔ جس سے اعصابی تناؤ میں کمی آجاتی ہے اور جینا آسان ہو جاتا ہے۔ ویسے بھی فن اور فنکار کی پزیرائی نہ کی جائے تو یہ کیسے فروغ پائے گا ؟ آخر ہماری زندگی کا کوئی مقصد تو ہونا ہی چاہیے۔ کیا ہوا اگر یہ فنکار اور فنکارہ برہنہ ہی ہو کر ، اپنے بدن کے مختلف زاویوں کو اجاگر کر کے ، بے ہنگم موسیقی کے شور میں اپنے گلے کا جادو جگا کر یا سمع خراشی کر کے محفل کو گرما رہے ہیں پرکام تو فلاحی کر رہے ہیں۔ ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ یہ کام تو دو آتشہ ہے ایک تو لوگوں کو خوش کرتے ہیں جو کہ بہت نیک کام ہے ، ان کے اندر عشق و محبت کی شراب انڈیل دیتے ہیں اور دوسری طرف فلاہی کاموں کے لئے دیئے گئے پیسوں سے اپنی کفالت کے ساتھ اوروں کی بھی کفالت کرتے ہیں۔ تب ہی تو بعض ملکوں میں اور بہت سارے افراد کے لئے ان لوگوں کی حیثیت ایک اوتار یا دیوتا کی ہوتی ہے۔ آپ کہیں بھی بیٹھے ہوں بات ان ہی لوگوں کی ہوتی ہے۔ بھانڈوں اور طوائفوں کی یہی ٹولیاں اب ہمارے ہیرو ، ہیروئنیں ہیں ۔ وہ دور گیا جب کوئی مجاہد و مجاہدہ ، اہل بیت اطہار کے مرد و خواتین ، صحابہ کرام و صحابیات و دانشور و فلسفی و داعی و مفکر و غیرہ ہمارے ہیرو اور ہیروینیں  ہوا کرتے تھے ۔ تاریخ کے ورق بدلتے جا رہے ہیں ،  ہم دن رات ظاہر ہے جو دیکھیں گے اور جن محفلوں میں شریک رہیں گے وہی تو ہمارے حواس پہ چھا جائیں گے۔ انسانی ذہن بھی تو ایک کمپیوٹر ہے جو ڈیٹا اس میں فیڈ ہو گا اسی کا ملغوبہ یا  آؤٹ پُٹ کسی نہ کسی شکل میں باہر آئے گا ۔    ؎

خدا کرے کہ محبت میں وہ مقام آئے   :  کسی کا نام لوں لب پہ تمہارا نام آئے

          واہ واہ صاحب! وفا کیشی اسی کو تو کہتے ہیں۔

٭        ہم اپنی بیوی کے ساتھ مخلوط محفلوں میں شریک ہوں ، ڈسکو جائیں یا کسی کے گھر کو ہی ڈسکو بنائیں ۔ خود بھی غیر عورتوں کے ساتھ ان کی کمر یا گلے میں بانہیں ڈال کر ناچیں اورہماری بیوی بھی اوروں کے ساتھ ناچے۔بیوی کی تصویریں غیر محرموں کے ساتھ خود کھینچیں اور اس کی تشہیر کریں تو کیا حرج ہے ؟ سب اپنے دوست ہی تو ہیں اور ایک ہی انسانی برادری سے جڑے ہوئے ہیں۔ اب اگر کوئی لُچا یا ٹُچا دوسروں کی بیوی کو ورغلائے اور ساتھ لے اڑے ، بیوی گئے رات کسی بہانے کسی اور کے ساتھ وقت گزارنے لگے تو اسے بھی تو انٹرٹینمنٹ کا حق ہے ،  وہ بھی تویکسانیت اور یک رنگی سے تنگ آئی ہوئی ہے۔ ویسے بھی یہ زمانہ عورتوں مردوں کی برابری کا ہے۔ عورتیں ہی حجاب کیوں کریں مردوں کی نظر وں کے حجاب کو کیا ہوا ؟  جتنی ننگی نظریں ہوں گی اتنی ہی ننگی مستورات ہوں گی۔ عورتوں کو گھر میں بند کر کے صرف مرد ہی اِدھر اُدھر کیوں منہ مارتے پھریں ۔ عورتوں کو بھی تو آنکھ مٹکا کا موقع ملنا چاہیے بلکہ اس سے بھی کچھ اور زیادہ ! اپنا شوہر جن عورتوں کے ساتھ اپنی کمر لچکاتا ہے یا پیار و محبت جتاتا ہے ، جام لنڈھاتا ہے وہ بھی تو کسی کی بیوی ، بہن یابیٹی ہوتی ہے۔

A٭     اگر کی  key) (کلب قائم کر لیاگیا ہے جس میں بیویوں اور شوہروں کا تبادلہ بھی ہوتا ہے تو کیا حرج ہے ، اگر آپس کی رضامندی سے کچھ منہ کا ذائقہ بدل جائے تو اس سے بھی تو اعصابی تناؤ میں کمی آجاتی ہے۔ خیر اس حد تک کہ آزاد منش لوگوں کو کم سے کم اس اعصابی تناؤ سے توبچے ہوئے ہیں کہ بیوی یا شوہر اگر کسی اور کے ساتھ رات دن گزارے تو انہیں پرواہ نہیں ہوتی کیونکہ دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کو یقین دلاتے رہتے ہیں کہ ہم کہیں جائیں کچھ بھی کریں مری جان محبت تومجھے تم سے ہی ہے اور دل میں خیال ہوتا ہے کہ تم سے زیادہ بے وقوف مجھے دنیا میں اور کون ملے گا ؟

٭        گھر پہ گم راہ عورت کا راج ہو اور الرجال قوام النسا کا مفہوم صرف یہ ہو کہ مرد عورت کی رہنمائی نہ کر سکے بلکہ صرف کفالتِ نفس کرے تو پھر وہی ہونا ہے جو ہو رہا ہے۔ باپ بیٹی اور بیٹوں کے بڑھتے ہوئے فیشن اور خود نمائی کے رویہ ، تنگ و برہنہ لباس پہ بجائے کچھ کہنے کہ اگر اس کا ضمیر و اخلاق زندہ ہے صرف کڑھتا رہے یا خود اسے تحریک دے ، ایسے ہی ماں یا بیوی اگر اس کا ضمیر و اخلاق زندہ ہے اپنے شوہر یا بیٹے بیٹیوںکے ہم پیشہ یا دوسرے لیڈی یا بوائے فرینڈ کے بارے میں کڑھتی رہے ۔ اپنے گھر کے اجڑ جانے کا  ، بچوں سے تعلقات کی خرابی کے ڈر سے انہیں انٹر ٹین کرتی رہے پھر خود اسے تحریک دے تو ایسا گھر تو بالآخراُجڑ کے ہی رہتا ہے۔

&

٭          شوہر و بیوی خود ایسے ماحول میں شریک ہو رہے ہوں ۔ ایسے ہی جیسے دوست بنا رکھے ہوں۔ ہر وقت پارٹی اور ہنگامہ آرائی ہی زندگی ہو ، بے خبری کا یہ عالم ہو کہ نہ شوہر کو پتہ ہو کہ بیوی کتنے سالوں سے کسی اور کے ساتھ بھی کسی نہ کسی بہانے وقت گزار آتی ہے۔جس محفل میں یہ دونوں شریک ہوتے ہیں وہیں ان دونوں کے اپنے اپنے عاشق موجود ہوتے ہیں جو دونوں کی بے خبری کا خود ان کے سامنے فائدہ اٹھا رہے ہوتے ہیں یا سیل فون پہ ہر وقت خاتون دوست نہیں ہوتی بلکہ اس کے نئے عاشق صاحب ہو تے ہیں ، اور نہ بیوی کو پتہ ہو کہ شوہر صاحب باہر کیا گل کھلا رہے ہیں۔ جب پتہ چلے تو سر سے پانی گزر چکا ہو تو بھائیں بھائیں  روتے ہوئے اور سر پیٹ کے ہر اک سے کہتے پھریں کہ ہم نے تو اس پہ ۰۰۲ فی صد بھروسہ کیا ہوا تھا …تو اس بے خبری اور ایسے خطرناک ماحول کو اپنے اطراف میں زندہ رکھنے کی سزا تو ملے گی ! ایسے لوگ جب اپنی ہی کمزوریوں اور غلطیوں کو تسلیم نہیں کر پاتے تو دوسروں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں! ہر جگہ سے اپنے لئے ہمدردیاں سمیٹتے پھرتے ہیں۔ کیا دھرا سب ان کے خود کا ہوتا ہے لیکن ان کی عقل میں یہ بات نہیں آتی اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہر دوسرے آدمی نے ان کے پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا ۔ پھر وہ اپنے پاگل پن میں ہر کسی کو گالی دیتے پھرتے ہیں ۔ ساری دنیا انہیں بے وفا نظر آتی ہے ۔ یہ اس وقت بھی سوتے رہے خراٹے بھرتے رہے جب جاگتے رہنا چاہیے تھا تو انہیں ایسے حادثہ کے بعد بھی سو تے ہی رہنا چاہتے ہیں۔ ! سچ کا زہر کڑوا ہوتا ہے ! کیسے پئیں ؟

٭         بات صرف تفریحات تک ہی محدود نہیں رہی ہے بلکہ موجودہ دور میں عورتوں اور مردوں کے لیے مخلوط ملازمتوں کے ماحول میں بھی یہ مواقع میسر ہیں کہ اپنی گھریلو زندگی کی الجھنیں عزت و وقار کے ساتھ اپنے ہی گھر میں سلجھانے کے بجائے کسی اور عورت یا کسی اور مرد کے کندھے پر سر رکھ کے رویا جائے اور پھر بغیر بچوں کی یا خاندان کے عزت و ناموس کی پروا کئے بغیر طلاق کا ایک منصوبہ بنا کر دھماکہ کر دیا جائے۔ آخر جیو اور جینے دو ،  اِٹ اِز مائی لائیف  اور تو نہیں اورسہی اور نہیں اور سہی کا فلسفہ اس وقت کے کام نہیں آئے گا تو کب کام آئے گا؟

٭        مخالف جنس کے دوست تو بڑی بات ہے ۔ خود  شوہروں کے بھائی یا دیور یا بیوی کی بہن یعنی سالی و بہنوئی سے یا دوسرے غیر محرم رشتہ داروں سے بھی محتاط رہنے کی اللہ کے رسول ؐ نے سخت نصیحت کی ہے ۔ بے شمار گھرانے  اس بے احتیاطی اور غلط فہمی کے سبب اجڑتے ہیں۔ سب سے زیاد ہ بد احتیاطی ایسے ہی لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ سالی ، سالے ، بہنوئی ، دیور و بھابھی کے درمیان ہماری معاشرت میں خاصہ بے تکلفانہ رویہ اور مذاق ہوتا ہے۔شروع شروع میں تو یہ بہت اچھا لگتا ہے اور اپنائیت سی محسوس ہوتی ہے ۔یہ اگر حد سے تجاوز کر جائے تو غلط فہمیوں کی بنیاد بن جاتی ہے جس سے گھر کا سکون تباہ ہو جاتا ہے۔ جانے انجانے میں کوئی ایسی بات ہو جاتی ہے جسے کوئی بھی شخص کچھ اور سمجھنے لگتا ہے یا خود بھی غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں ۔اسی لئے ایسے رویے سے پرہیز کرنا چاہیے جس سے فساد کا خطرہ ہو۔ یہ منظر بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ شوہر کے ملنے والے اور دوست یا بیوی کے ہی غیر محرم رشتہ دار بغیر کسی عمر کی تمیز کے بڑے آرام سے ایک دوسرے سے ملتے ہوئے گلے مل لیتے ہیں ۔ ایک دوسرے کے گالوں کو چوم لیتے ہیں ۔ یہ نہ ہو تو روشن خیالی نہ ہو اور تعلقات کشیدہ رہیں۔کیا کریں یہ بھی تو ان کی مجبوری ہے ! اسلام کا دیا ہوا سبق اپنی جگہ درست لیکن رسم دنیا و دستور کا بھی تو خیال رکھنا پڑتا ہے۔

`٭      گھر کے ٹوٹنے کے اسباب تو خیر بہت سارے ہیں لیکن ان میں دو سبب سب سے بڑے ہیں:  ایک تو پیسوں کی تنگی عموماً شوہر اور بیوی کے درمیان ناچاقی کا سبب بنتی ہے۔ دوسرے یہ کہ ایک دوسرے کی عزت و احترام میں کمی آجائے تو معاملہ بہت نازک ہوجاتا۔ ایک دوسرے کے احترام میں ایک دوسرے کے خاندان کے افراد کا بھی احترام شامل ہے ۔ ہر وقت طعن و تشنیع یا گالی گلوچ یا غصہ و شعلہ انگیزی سے نہ صرف گھر کا ماحول خراب ہوتا ہے بلکہ بچے بھی اثرانداز ہو تے ہیں۔ ان کے اندر بھی وہی جذبہ جنم لیتا ہے جو وہ دیکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس گھر سے اللہ کے دیئے ہوئے رزق میں برکت بھی ختم ہو جاتی ہے!

          مندرجہ بالا باتوں کا تجزیہ اور خلاصہ کیا جائے تو ہمارے گھر کے ٹوٹنے اور ہماری بے سکونی کا سبب ہماری طرز معاشرت کا بگڑنا ہے ۔بے حیائی و بے شرمی کے ماحول یا اس کے ذرائع کا فروغ ہے ۔ تقویٰ اور اسلامی اقدار  سے گریز کرنا ہے ۔ ایسے حادثات و سانحے سے دوچار زیادہ تر وہ مرد و عورتیں ہوتیں ہیں جن میں دنیاوی تمنائیں، خود نمائی ، فیشن پرستی کا جذبہ زیادہ بھرا ہوتا ہے۔ انہیں گھر سے باہر ایسے دوست میسر آجاتے ہیں جو اپنا گھر تو توڑ کے بیٹھے ہی ہوتے ہیںان کے مشورے دوسروں کو بھی اسی راہ پہ ڈال دیتے ہیں۔ گھر پہ شوہر و بیوی کے مزاج کی تلخی اور پیسوں کی کثرت یا کمی ، اقتصادی آزادی و مالی انحصار کا متبادل موقعہ یہ سب با لآخرکسی اور کی تلاش پہ منتج ہوتا ہے اور گھر میں زلزلہ آجاتا ہے ۔

          لیجیے صاحب !  پھر کسی نے وہی گرودت کی فلم پیاسا کا گانا لگا دیا۔ وہی ساحر کا گیت :  

ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں ؟

ثنا خوان تقدیس مشرق کو لاؤ!

 یہ کوچے یہ گلیاں  یہ منظر دکھاؤ ! 

          ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں ہو سکتے ہیں ۔ رمضان میںروزے کی حالت میں وہ بھی کہیں کسی ٹی وی کے رنگا رنگ پروگرام کے سامنے بیٹھے ہونگے ، اعضا کی شاعری ہو رہی ہو  ڈولا و  ڈولا  تن ڈولا  من ڈولا  گاتے ہوئے پردہ سیمیں پہ زمینی حوریں ڈول رہی ہوں تو اس کے سامنے اصلاحی کلا م و شاعری کس کام کی!

چھوڑ یورپ کے لیے  رقصِ بدن کے خم و پیچ  :  روح  کے  رقص میں ہے  ضربِ کلیم  اﷲ ہی

صلہ  اُس  رقص کا  ہے تشنگئ  کام  و  دہن  :  صلہ  اِ س  رقص  کا  درویشی   و  شہنشاہی

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: