Hesham A Syed

January 9, 2009

Watching the friends show !

Filed under: Pakistan,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 1:25 pm
Tags:

Urdu Article : Tamashaaiey Ahley Karam deikhtey haiN : Hesham Syed

تماشہ  اہلِ کرم دیکھتے ہیں

انتشار و وحشت تو قبل از تقسیم ہندوستان پہلے ہی پاکستان کی تقدیر میں لکھا گیا تھا ، تقسیم کے بعد اس میں شامل بربریت بھی ہوگئی ہے۔ صاحب بہادر کی غلامی میں اور کیا ہو سکتا ہے۔ جمہوریت کے چیمپین اور ساری انسانیت کا آخر ٹھیکا جو لے رکھا ہے۔ واقعات کا تسلسل اور ملکوں شہروں اور قوموں کی تباہی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں کہ یہ جمہوریت ہے یا عفریت ، یہ انسانیت ہے کہ شیطانیت ۔ ہر وہ چہرہ جو باریش ہو ، ہر وہ پیشانی جس پر سجدے کا نشان ہو وہ ناقابل برداشت ہے۔ معیار اب یہ ہے کہ ہر وہ آدمی جس کی زبان پنجابی ، اردو ، پشتو ، فارسی ، عربی ہو وہ تعلیمی اعتبار سے ناقص ہے عقلی اعتبار سے مشکوک ہے اور اسے ذہنی اعتبار سے کسی عدم توازن کا شکار ہونا چاہیے ۔ پاکستان کو پتھروں کے دور میں واپس نہیں لے جانا جو تھا ، ایک دھمکی نے کردیا قصہ تمام۔ پتھروں کے دور میں نہ سہی دور جاہلیہ میں تو ہم چلے ہی گئے۔ قتل و غارت کا ایک بازار گرم ہے ۔ بلا امتیاز ، بلا گناہ و قصور بھی لوگ قتل کیے جارہے ہیں اور قتل ہو رہے ہیں ، ہر مرنے والا بغیر امتیاز مذہب و دین کے شہید کہلایا جارہا ہے ، ہر مارنے والا غازی اور مجاہد سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔جنت کا بٹوارا اب دنیا میں ہی ہو رہا ہے ، ہر شخص کسے باشد خدائی فوجدار بنا دوسروں کے بارے میں فیصلہ الہٰی کر رہا ہے کہ کسے جنت میں جانا ہے اور کسے دوزخ میں، اپنے بارے کوئی رائے نہیں کہ اسے خود تو مرنا ہی نہیں۔ میڈیا چاہے وہ الیکٹرانک ہو یا پرنٹ کا ہر معاملے کو سلجھانے کے بجائے الجھانے میں لگا ہے۔ سنسنی جس خبر سے زیادہ پھیلے وہ چینل بھی تو زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ لگتا ہے کہ لوگ واقعتا قتل و تباہ برباد نہیں کیے جارہے بلکہ کوئی ہالی ووڈ کی مووی چل رہی ہو ، آج یہاں دھماکہ کل وہاں دھماکہ ، آج جہادیوں ، دھشت گردوں کا دھماکہ تو کل امن و آشتی کے پیغامبروں کا دھماکہ ، نہلے پہ دھلا ، دھشت گرد جہادی ایک ماریں تو امن و آشتی کے فوجی دس کیا سو ماریں ، بات انصاف کی کب رہی ہے ، سب کا سب قوت بازو پہ ہی رہا ہے ، جس کے پاس جتنا مہلک ہتھیار ہے وہ سب سے بڑا غازی ہے۔ اللہ اللہ خیرسلا۔ میڈیا گرگٹ کی طرح اپنا رنگ بدلتا رہتا ہے ، اسے بھی تو اپنا بچاؤ کرنا ہے۔ جس کا پلّا بھاری دیکھا اس کے پلّے ہو کر رہ گئے ، اس کی قصیدہ خوانی میں لگ گئے۔ کبھی لال مسجد کی شدت پسندی کے خلاف اور حکومت کی خوں ریزی کی تعریف و توصیف تو کبھی اسی لال مسجد کی خون آشامیوں پہ مرثیہ ۔ ایک عام آدمی اسی الجھن میں مبتلا رہتا ہے کہ کیا غلط ہے اور کیا صحیح ؟ کربلہ کس طرف تھا لال مسجد کے اندر یا باہر ؟ جرم ان کا کیا تھا یہی نہ کہ وہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی فحاشی کے خلاف کھڑے ہو گئے ؟ تو یہ سٹیٹ در سٹیٹ بن گیا ، اس کی سزا یہ تھی کہ  ہزاروں بچوں ، بچیاں ، لڑکے ، لڑکیاں عورتوں اور مردوں کو بم مار کر جلا کر مار دیا جائے  اس لیے کہ صاحب بہادر کی خوشی میں ہی ہماری خوشی ہے ، ان کی رضا مندی ہو تو اگلے پانچ سال کی حکومت پکی اور وہ جو اسلامی سٹیٹ میں مجرے اور ہر طرح کی رنگ رلیاں منا رہے ہیں وہ اسلامی اور اللہ و رسولؐ  کے بتائے ہوئے قوانین اور احکامات سے انحراف کریں ان پہ کوئی تعذیر اور قدغن نہیں۔ ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات ۔ علما اور مولوی صاحبان کے بھی نقطہ نظر میں تبدیلی نظر آئی ، اک ترے جانے سے پہلے  ،  اک ترے جانے کے بعد ۔ یہ طبقہ بھی موقع پرست ہی بنا رہا ہے ۔ دین و مذہب و قومیت و زبان و رنگ و طرز زندگی و طرز سیاست کے نام پر ہی قتل و خون ریزی ۔ انسان بڑا جھگڑالو ہے یہی کچھ تو فرشتوں نے بھی کہا تھا ۔دنیا میں شاید چند ہی مخلوق ہو جو اپنی ہی جنس کو کھا جانے اور تباہ و برباد کرنے پہ تلی ہو جیسا کہ انسان۔ اور اس پر طریٰ یہ کہ ہم اشرف المخلوقات ہیں۔ اب تو حالات ایسے ہیں کہ کیا روشن خیال ، کیا مولوی و علما کی کھیپ، کیا جہادی و کاروباری لوگ کیا شہری اور کیا فوجی سب کے سب ایک ہی حمام میں ننگے ہیں۔ ساٹھ سال کے بعد ایک چیف جسٹس کے ریفرنس کو بھی سیاسی اکھاڑا بنا دیا گیا ، لطف تو یہ ہے کہ وہ بھی بولنے لگے جن کے دور میں سپریم کورٹ پہ ہلہ بولا گیا اور وہ بھی جن پہ کئی بار توہین عدالت کا مقدمہ دائر کیا گیا ، اور کیوں نہ بولیں ؟ بھان متی کا ٹولہ جو ہوا ۔ وہ بھی وردی اور پتلون اتارنے پہ تلے ہوئے ہیں جو نہ جانے کتنی بار اپنی پتلون بیشتر شب عروسی منانے کو خود اتار چکے ہیں۔ چیف جسٹس کے دوبارہ بحال ہوجانے پہ لیجئے عدلیہ بھی آزاد ہو گیا ۔

                    شادیانے بجنے لگے ، مٹھایاں تقسیم ہونے لگیں بلکہ کچھ نے تو یہ بھی کہہ ڈالا کہ یہ خوشی وہ ہے کہ جیسے پاکستان بننے پہ خوشی ہوئی تھی ۔ یہ بات بھی تو سمجھنے کی ہے کہ اس سارے معاملے میں حکومت وقت اور فوجی جنرل نے کوئی دخل اندازی نہیں کی اور سپریم کورٹ کو پوری آزادی کے ساتھ اپنا فیصلہ کرنے دیا ۔ اگرچیف جسٹس پہ لگائے الزامات صحیح بھی ہیں تو سپریم کورٹ کا تو یہ گھر کا معاملہ تھا ، جب کوئی دباؤ نہیں تھا تو وہ کیوں نہ اپنے گھر کو بچاتے تاکہ دوسرے بھی کھُل کھیلیں۔ بات صرف انصاف ہی کی تو نہیں اپنے بچاؤ کی بھی تو ہے۔اگر اس حکومت نے انصاف میں دخل اندازی نہیں کی تو کیا ضروری ہے کہ آئندہ بھی نہ ہو جبکہ اس حکومت سے پہلے تین جسٹس اسی ریفرنس کے تحت فارغ کیے جا چکے ہیں اور اسوقت سیاسی ادارے کی بھی حکومت تھی کسی فوجی آمر کی نہیں۔ اب جو عدلیہ آزاد ہے یا میڈیا اس حکومت اور اس کے صدر و وزیر اعظم و دوسرے وزرا کی توہیں کرتی پھر رہی ہے تو اس جیسی آزادی کا کریڈٹ بھی تو اس حکومت ہی کو جاتا ہے۔ وکلا ہوں یا سیاسی مخالفین یا میڈیا سبھوں کو وہ سب کچھ کرنے کی اجازت بھی تو اسی حکومت نے دی ، اب یہ کیسی بیچارگی ہے اور ذہنی آوارگی ہے کہ سب اپناٍ دف بجاتے پھر رہے ہیں اور حکومت کے سامنے بغلیں بجاتے ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس اور چارۂ کار بھی کیا تھا یا ہے کہ اس فیصلے کو تسلیم کر لے گویا کہ حکومت کے کارندوں کو عدلیہ اور انصاف سے کوئی تعلق ہی نہیں اور وہ صرف اس لیے کہ ان میں سے ایک شخص فوجی وردی میں ملبوس رہتا ہے۔ ڈکٹیٹر ہو نے کے لیے کسی کا صرف فوجی لباس میں ہی ہونا ضروری تو نہیں ، لوگ ماضی کو بہت جلد بھول جاتے ہیں جس میں شہری سیاسی پارٹی کے بر سر اقتدار آنے  والے حکمرانوں نے شیروانی اور شلوار کوٹی میں ہی ڈکٹیٹرشپ اور ملک کے لوٹنے کی بدترین مثال قائم کی ہوئی ہے۔ لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو۔لباس سے کیا اندر کا  انسان بدل جاتا ہے ؟  ٹھگ تو جیسا بھی لباس پہن لے یا جیسی بھی شکل بنا لے ٹھگ ہی رہتا ہے۔ اب دیکھتے جائیے کہ آگے کیا ہوتا ہے۔ یہ قوم تو تماشہ دکھانے والوں سے بھی بھری پڑی ہے اور تماشہ دیکھنے والوں سے بھی۔

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: