Hesham A Syed

January 9, 2009

Who is next ?

Filed under: Pakistan — Hesham A Syed @ 1:29 pm
Tags:

Urdu Article : Ttoo Kaun  aur pher kaun ? Hesham Syed

تو کون ؟ اب اور پھر کون؟

ہماری ساٹھ سالہ تاریخ کوئی اتنی پرانی تو نہیں جسے بھلا دیا جائے۔ اور ابھی تو ہم سیاست و ادارت و حکومت میں طفل مکتب ہی ہیں۔ پاکستان بنا تو شور و غوغہ پاکستان کا مطلب کیا  لا الہ اللہ کا ہوا ،اور سنتے ہیں کہ مسلم لیگ کے  اسی نعرے نے لوگوں کو اکسا کر اور جنت نظیر کا خواب دکھا کر پاکستان بنا ڈالا۔ اور پھر جیسے ہی مملکت خداداد پاکستان وجود میں آیا تو وہ اسلامی جماعتیں جو اصولی طور پہ پاکستان کے موقف کے خلاف تھیں، اسے اپنی میراث سمجھ کے اپنا جھنڈا گاڑنے پاکستان آپہنچیں اس لیے کہ پاکستان کے اسلامی تشخص کو مستحکم کرنا تھا یا پھر اپنے آپ کو منوانا تھا ۔ لیکن لطف یہ ہے کہ پاکستان بننے کے فوراََبعد ہی پاکستان کے انداز حکومت و سیاست  کے بارے میں سیکولرزم کا انداز و بیان اپنایا جانے لگا۔ یہ ایک ایسی بحث ہے جس کا کہ دوسرا سرا نظر نہیں آتا اور یہ میڈیا یا ہماری سجی سجائی محفلوں کے لیے یا یہ کہیے کہ تضیح اوقات کے لیے ایک دلچسپ موضوع بن گیا ہے۔آخر ہماری زندگی کا کوئی مقصد تو ہونا ہی چاہیے ، عمل نہ صحیح تو کم سے کم باتیں ہی صحیح۔ لاکھوںلوگ جو اس ملک کے بنانے میں قتل اور تباہ برباد ہوگئے ، جن کی نسلیں آج بھی اس ملک کے لیے قربان ہو رہی ہیں ، ان سے ہمیں کیا سروکار ، ان کے پاس کوئی سیاسی پلیٹ فارم تو ہے نہیں اور نا ہی وہ لوگ کسی ایسے ادارے سے منسوب ہیں جن کے ہاتھ میں نادیدہ یا دیدہ قوت ہو۔ وہ لوگ تو اپنے اخلاص و نیک نیتی کا شکار ہوگئے ، وہ لوگ تو اپنے سنہرے خواب کا شکار ہوگئے۔آنکھیں کھلی ہوتیں تو دنیا اور دنیا والوں کا اصل چہرہ دیکھ پاتے۔ بس یوں سمجھے کہ وہ اس دنیا کے مخلوق ہی نہیں تھے ، وہ پیدا ہی اس لیے کیے گئے تھے کہ ایک جلوس کی شکل میں بے نام و نشان مر جائیں۔

                    پاکستان بنا تو حکومت پہ قبضہ کرنے کی جدوجہد اور دوڑ شروع ہو گئی۔ بانئ پاکستان کو زیارت میں نظر بند کر دیا گیا اور پھر ان کا انتقال سڑک کے کنارے کھڑی ایک وین میں ہو گیا جہاں ان کی بہن ان کے چہرے سے مکھیاں اڑانے کے لیے اخبار کا صفحہ ہلاتی رہیں۔ یہ وہی شخص تھا جس سے انگریز گورنر اور برٹش لارڈ بھی بات کرتے گھبراتے تھے ، اپنی بے تحاشہ جائیداد ، مال و دولت سے صرف نظر کر کے اس خطۂ زمین پر مسلمانوں کا وکیل بن کر بغیر کسی اجرت کے ایک ملک کے بنانے کا کیس لڑتا رہا اور کامیاب ہوا ، زندگی وفا کب تک کرتی ، اس نحیف و ناذار بدن میں ٹی بی کے سبب اب حلاوت ہی کہاں تھی ؟ ٹی بی کا مرض تو چلو پرانا تھا اور اسے سہنے کی عادت سی ہوگئی تھی ، لیکن جو زخم کاری پاکستان بننے کے بعد اس کے دورنگی دوستوں نے اس کے روح پہ لگایا تھا اس سے تو بچنا محال ہی تھا ۔ پاکستان کی عوام اس بن بلائے سانحے سے دوچار ہوئی اور سوال اٹھا کہ اب کون ؟ لیکن پھر لوگوں کی امید بندھی کہ ایک نواب زادہ نے جس نے اپنا سب کچھ پاکستان پہ نچھاور کر دیا تھا وہ ہوا میں مکا لہراتا ہوا آپہنچا ، قوم کی جان میں تو جان آئی لیکن چند لمحے ہی گزر پائے تھے کہ کسی فرزندِ پاکستان نے کسی سازش کے تحت اس مُکے والے کی جان لے لی اور وہ اپنی بند مٹھی کے ساتھ جس میں بلند ارادوں کی لکیر چھپی ہوئی تھی سیاسی سٹیج پر دھڑام سے آگرا اور پاکستان کو اللہ کی حفاظت میں دیتا ہوا دار فانی سے کوچ کر گیا۔ اسے منوں مٹی تلے دفن کر دیا گیا ، وہ بھی بھلا دیا گیا اور وہ سازش بھی دفن کر دی گئی۔ اب پھر عوام کے سامنے یہ سوال اٹھا کہ اب کون ؟ لیکن پاکستان کی تقدیر میں ابھی تماشے کی کمی نہیں تھی ۔ ایک سے ایک سیاسی لیڈر اور فوجی جنرل  اپنی اپنی بولی بولتے ہوئے آتے رہے اور جاتے رہے اور ہر آنے والا یا آنے والی اپنے سے پہلے والے کو یہ کہتا ہواآیا کہ تو کون ؟ اور پاکستانی عوام کو یہ باور کرایا جاتا رہا کہ ہم سے اچھا کون ہے ؟ عوام قوم کی دولت کو لوٹنے والے اور اس کی حمیت و تشخص کی بولی لگانے والے کی چرب زبانی کا شکار سالہا سال سے ہوتی رہی ۔ کوئی جمہوریت کے بہانے ، کوئی فوجی آمریت کے راستے ، کوئی معاشی اصلاح کے بہانے ، کوئی اسلام و انسانیت کا پرچار کرتا ہوا ، کوئی عصبیت و زبان کا ہنگامہ کھڑاکر کے پاکستان کو لوٹنے اور پاکستان سے باہر اپنی جائیداد و محل  بنانے میں جٹا رہا ۔ اپنے خاندان اور نسل کو پاکستان سے باہر ان ممالک میں قوم کی دولت سمیت منتقل کرتا رہا  جن میں ان کی جڑیں پیوست تھیں یا جن کے سائے میں ہی انہیں دوام عارضی میسر تھی اور ہے ۔پاکستانی عوام ہر آنے والے کے آگے اُمید کا چراغ روشن کیے نمودِ سَحر کا انتظار کرتی رہی  لیکن تاریکی ہے کہ چھَٹنے کا نام نہیں لیتی۔پاکستان کی افادیت اور بقا سے زیادہ ایک رات میں امیر ترین بن جانے کے فارمولے ایجاد ہوتے رہے، سٹیج ، منبر پہ بولی  یو ں تو بے کس و بے یارو مددگار عوام کی ہو لیکن پسِ پردہ عمل سارا قیام و طعام کا ہو۔ہر شعبہ عمل و زندگی میں اپنا اپنا دیکھ بھائی ، اپنا اپنا دیکھ کا ہی رویہ کام کرتا رہا ۔ قوم نظریاتی طور پر ، جغرافیائی طور پر بٹتی رہی اور قبیلہ پرستی کا شکار ہوتی رہی ۔ اب تک کی پوری تاریخ دیکھ لیں عوام ابھی تک اسی دو سوال کے زیر اثر ہے ؟  تو کون ؟ اب اور پھر کون ؟ کیا کسی کے پاس اس کا جواب ہے ؟

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: