Hesham A Syed

January 10, 2009

I am Sorry !

Filed under: Social Issues,Spiritual,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 10:11 am
Tags: ,

Urdu Article : I am Sorry  ! Hesham Syed

آئی ایم سوری I am Sorry !)  (

ایک جملہ آئی لو یو  یا  وی  لو  یو  کا کہنا کتنا مشکل ہے اور یہ کہہ کے ساری زندگی کا روگ بھلا کون پالے۔ اس کے مقابلے میں کیسا جادو بھرا یہ جملہ ہے ’آئی ایم سوری ‘انفرادی طور پہ اور’ وی آر سوری‘ قومی یا اجتماعی طور پر استعمال ایک ایسا معجزہ ہے جو اس جملہ میں چھپاہے ۔ یہ جملہ آئی ایم سوری ان کے لئے جو یہ کہنے کے عادی ہوتے ہیں بلکہ یوں کہیں کہ جن کا یہ تکیہ کلام ہوتا ہے کتنا سہل ہوتا ہے ۔ کوئی ضروری نہیں ہے کہ جو یہ کہے وہ واقعی پُر افسوس بھی ہو یا یہ کہ معنوی طور پہ یا اصل میں شرمندہ اور معذرت خواہ بھی ہو۔ آپ نے کسی کو محفل میں گالی دے دی یا کسی کی تضحیک کی، پھر اس خیال سے کہ لوگ خود آپ کے بارے میں کیا کہیں گے آئی ایم سوری کہہ دیا ۔

          چلیے صاحب آپ کے یہ کہہ دینے سے آپ کے تو ساتوں خون معاف ہو گئے ، جسے گالی دی گئی اس پہ کیا گزر رہی ہے اس سے آپ کو یا کسی اور کو کیا مطلب ! آپ نے کسی کو کوئی وقت دیا اور اس کی پروا کئے بغیر اپنے مشاغل میں مصروف رہے ، پھر تاخیر سے پہنچے یا نہ پہنچے لیکن اپنی اخلاقی برتری کا بھرم بھی تو رکھنا ہے سو کبھی فون پہ یا کبھی سرِ راہ مل گئے یا پھر کتنی بھی تاخیر سے کیوں نہ ملے یہ جادوئی جملہ آئی ایم سوری کہا اور بات یہ جا وہ جا ۔ دوسری طرف کیا پریشانیان لاحق ہوئیں وہ جس نے بھگتا وہ جانے ، لیکن ادب کا تقاضہ یہ ہے کہ آپ کا مظلوم آپ کے سوری کہنے پہ خندہ پیشانی سے آپ کی دانستہ یا نا دنستہ بد تہذیبی کو قبول کر لے اور آپ سے مسکرا کر خود معذرت کرے کہ ، نو مینشن یا مینشن ناٹ ، یا یہ کہ وہ خود شرمندہ ہو کر آپ سے یہ کہے کہ ارے ارے کیوں شرمندہ کرتے ہیں مجھے ، (اجی قبلہ یہ توآپ کا فطری حق ہے کہ قصور آپ کا تو نہیں ، آپ کے والدین کا ہے جو آپ کے عالم وجود میں آنے کا سبب بنے اور اگر یہ غلظی ہو ہی گئی ان سے تو کم سے کم آپ کی  تربیت تو ٹھیک کی ہوتی )۔

          آج کے دور میں یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ جوان یا نو جوان والدین ، سنگل مدر یا فادر اپنے بچوں کو اس بات کی تربیت دیتے ہیں کہ ہر شرارت یا بد تمیزی کے بعد آئی ایم سوری کہنے کی عادت پڑ جائے ۔ ٹھیک ایسے ہی جیسے کسی کی برتھ ڈے پر تالیاں پیٹ پیٹ کر ہیپی برتھ ڈے ٹو یو ، ہیپی برتھ ڈے ٹو یو، کا گانا کورس کے ساتھ گایا جاتا ہے یا بچوں کی رائیم با با بلیک شیپ کی گونج بڑھاپے تک ذہنوں میں گونج رہی ہوتی ہے ۔ اس جملہ کی اثرات یوںبھی دیکھیں کہ آپ نے محبت کا چکر کسی اور سے چلایا ، عرف عام میں ڈیٹنگ کسی اور سے کی ،مہینوں یا برسوں ـ شادی کسی اور سے کی اور اپنے محبوب سے صرف یہ کہہ کے مک مکا کر لیا کہ آئی  ایم سوری ، کیا کروں والدین نہیں مانتے یا یہ کہ جس سے میں شادی کر رہا ہوں وہ تم سے زیادہ خوبصورت ہے یا مالدار ہے۔

                    یو  نیڈ  ناٹ  بی  سوری  بٹ  آئی  ایم سوری     ۔ شوہروں کے لئے البتہ اپنی بیویوں سے یہ جملہ کہنا آسان نہیں ۔ ہاں اگر رفاقت و قربت کا نتیجہ ہزار احتیاط کے بعد بھی سامنے آجائے تو اس وقت شوہر یہ کہتا ہوا پایا گیا ہے کہ آئی ایم سوری یا اگر رنگے ہاتھوں کبھی بیوی نے کسی اور کے ساتھ پکڑ لیا تو یہ جادوئی نسخہ تیر بہدف ہے۔ آئی ایم سوری کہہ کے اپنی خانگی زندگی کو پھر سے مستحکم کر لیا اور پھر کسی دوسرے شکار کی تلاش شروع کر دی ۔ایسا آزمودہ نسخہ ہاتھ آئے تو کون اس سے فائدہ نہ  اٹھائے ؟  دیکھئے نا اب تو سرکاری سطح پر بھی ہمارے عالمی( عرف عام میں امریکی ) صدر نے بھی اس کا فائدہ اٹھایا ہوا ہے۔ واٹر گیٹ کا اسکینڈل کھڑا ہو یا مونیزا لیو یسکی کا اسکینڈل ہو سارے کا سارا گناہ یا جرم صرف ایک جملہ دھو ڈالتا ہے ۔ دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ ۔اسی کو کہتے ہیں ۔رند کے رند رہے ہاتھ سے بیوی نہ گئی ۔ صرف یہی نہیں کبھی کبھی تو یہ جملہ سیاسی مقاصد کے لیے غلام ملک میں بھی استعمال ہوتا ہے، اپنے آقا امریکہ کی ناراضگی کا اندیشہ ہو تو کسی بھی قومی ہیرو یا سائینسداں سے یہ کہلوا دیا ’’آئی ایم سوری‘‘ ، چلئے صاحب کچھ عرصے کے لیے ہی سہی بلا تو ٹلی …ورنہ صاحب بہادر کو ناراض کر کے دنیا میں معتوب ہی ٹھہرائے جائیں گے ۔جنت کا کیا بھروسہ ملے نہ ملے ۔ خدا نہ ملے  تو  ناخدا  ہی ملے جائے ! اس معذرت خواہانہ رویے اور جملے سے کتنی بلائیں ٹلتی ہیں ۔

          وی آر سوری کہ ہم مسلمان ہیں۔ ہم صرف ہولی فادر  کو جانتے ہیں ان کے بیٹے ہولی  سَنکو  نہیں پہچانتے یا مانتے اور بھوت  گھوسٹ سے توہم ایسے بھی بھاگتے ہیں چاہے وہ ہولی ہو یا اَنہولی  ہو ۔ ہم اپنی شناخت کو منوانے پہ تلے ہوئے ہیں ، کہ ہم بھی اپنی دفاع میں نیوکلیئر ہتھیار بنا رہے تھے  اب نہیں بنائیں گے بلکہ ہم اسے امن پسند مقاصد کے لیے بھی استعمال نہیں کریں گے۔ اب دیکھئے نا سوچنے کی بات ہے کہ امن کیسے قائم ہوگا جب آپ ہی ناراض ہوں ، اے میرے آقا !بس آپ ناراض نہ ہوں ، ڈالر و دینار و درہم زندہ باد ۔ وی آر سوری کہ ہم نے اپنے بارے میں کچھ سوچا ، بڑی غلطی ہوگئی کہ ہم نے آپ کے بھی چند ایک فوجی ، رد عمل میں مار ڈالے جبکہ یہ اختیار تو صرف آپ کو ہے کہ ہمارے لاکھوں کیا کروڑوں لوگوں کو تہہ تیغ کر دیں ۔یہ دنیا تو بنی ہی صرف آپ کے لئے ہے ہماری حیثیت تو آپ کے کھلونے کی ہے، جب بھی چاہے جیسے کھیلیں دل بھر جائے تو توڑ ڈالیں ۔ فطرت کی صنعت گری توجاری ہے۔ہمارے گھر در و دیوار ہماری مائیں، بہنیں ، بچے ،نو جوان ،پیر و بزرگ سب آپ کے لئے ہیں ۔حکم کریں ان سب کو کس خدمت پہ مامور کیا جائے ؟

          ہم سب اب روشن خیال ہو چکے ہیں پروگریسو بن گئے ہیں ۔ وی آر سوری کہ ہم نے اتنا عرصہ اجالے میں گزارا ، اللہ کے آخری رسول کو چراغ منیر سمجھا ۔ اب ہم شیطانیت کے اندھیرے پن میں آپ کے ساتھ ہیں ۔ اب ہم اپنی خودی کو اس اندھیرے میں تلاش نہیں کریں گے۔ ہم آپ کے حکم کے مطابق قرآن سے جسے اب تک اللہ کی آخری کتاب سمجھتے رہے ایسی آیات حذف کر دیں گے جس میں آپ لوگوں کی تاریخی بد دیانتی اور بد نیتی یا بد عہدی کا ثبوت ملتا ہے اور اللہ نے ہمیں آپ سے ہوشیار رہنے کو کہا ہے۔

          وی آر ویری ویری سوری  (We are very very sorry)۔ کہ اب تک ہم یہ سب کچھ نہ کر سکے تبھی تو یہ دنیا ہم پہ تنگ ہوتی جا رہی ہے۔

کیا گیا ہے غلامی میں مبتلا تجھ کو   :  کہ تجھ سے ہو نہ سکی فقر کی نگہبانی

اور یہ بھی ہے کہ انفرادی طور پہ آپ کسی فرد کا یاقوم کا مال لوٹ لیں ۔کسی فرد کی عزت لوٹ لیں ۔کسی کی جان لے لیں ۔ آج کل کی قانونی چارہ سازی ایسی ہے کہ آئی ایم سوری کہا اور آپ کی اخلاقیات کا ثبوت مل گیا جس کے بعد یا تو آپ معاف کر دئے جاتے ہیں یا شک و شبہات کی بنیاد پہ آپ کی سزا میں تخفیف ہو جاتی ہے یا سرکاری خرچے پہ چند مہینے یا سال آپ نے سرکاری مہمان خانے میں جہاں ہر قسم کی مراعات آپ کو میسر ہوتی ہیںگزار لیتے ہیں۔ اگر آپ نے سیاسی طور پہ قوم کو گمراہ کیا اور ان کو لوٹ کھایا تو بھی یہی نسخہ آپ کے کام آتا ہے۔ قوم یا عوام تو سیاسی گماشتوں کے سوری کہنے سے پہلے ہی ان کے سامنے لیٹ جاتی ہے۔

           کوئی جلسہ ہو سیمینار ہو ، مقرروں میں علامہ ہوں کہ سیاستداں یہ ممکن ہی نہیں کہ وقت پہ پروگرام شروع ہو ، وقت کی اہمیت کو ثابت کرنے کے لیے اللہ نے خود وقت اور زمانے کی قسم کھائی ہے ، تو کیا ہوا ہم اس بات کو کیوں سمجھیں ،ہمارے پاس اس کا علاج بھی ہے ۔ہوئی تاخیر توکچھ باعثِ تاخیر بھی تھا۔ زیادہ سے زیادہ جن لوگوں کو اس سے زحمت ہوئی اور جنہیں اپنے وقت کا احساس خوا ہ مخواہ ہے انہیں آئی  ایم سوری ۔ صاحب! یہ بات صرف مرد حضرات کے لئے ہی نہیں بلکہ خواتین بھی اس جملے کے کار آمد ہونے کا اعتراف کرتیں ہیں۔ یہ دو دھاری تلوار ہے جس سے مرد اور عورت دونوں کا سر قلم کیا جا سکتا ہے۔مشرق میں تو عورت یہ ظاہراً کہتی ہوئی نظر نہیں آتی کیونکہ وہ عادتا ً رہتی ہی سوری ( غمگین ) ہے ، لیکن مغرب میں یا مغرب زدہ عورتوں نے اپنے غمگین (سوری )  ہونے کا علاج دریافت کر لیا ہے اور وہ یہ ہے کہ مردوں ہی کی طرح سوری سہا نہ جائے بلکہ کہا جائے۔ اقتصادی آزادی کا زمانہ ہے ، شعور و آگہی کی آزادی ۔افکار و اظہار کی آزادی ۔ایسے میں عورت کیوں مرد سے پیچھے رہے یا وہ کچھ نہ کرے جس کے عادی مرد حضرات عمومی طور پہ ہوتے ہیں۔ شوہر کا اگر انشورنس کوریج اچھا ہے تو اسے مروایا بھی جا سکتا ہے ہٹ مین  دستیاب ہیں ۔بے وفائی کا بھی حل آئی ایم سوری !رسوائی کا بھی حل آئی ایم سوری !    ؎

 اہل نظر ہیں یورپ سے نومید  :  ان امتوں کے باطن نہیں پاک

          یہ بات بھی اپنی جگہ صحیح ہے کہ بعض افراد میں تو تکبر اتنا ہوتا ہے کہ ہر قسم کی زیادتی کے بعد بھی سوری نہیں کہتے ۔ کم سے کم جو لوگ عادتاً ایسا کہتے ہیں وہ ان سے تو بہتر ہیں لیکن قارئین کرام یہ بھی سوچیں کہ ہم نے اس جملہ کو تکیہ کلام بنایا ہوا ہے یا اوڑھنا بچھونا ۔ اگر ہم اللہ سے فوری طور پہ نہیں کہتے کہ اے اللہ آئی ایم سوری تو دیر ہوجائے گی اور ہم جو کچھ بھی کر رہے ہیں اور جس طرح بھی جی رہے ہیں کہیں رسول اللہ  ؐ شافع محشر نے یومِ حشر نفسا نفسی کے عالم میں ہماری   دنیا میں بد عقیدگی اور بد اعمالیوں ، منافقانہ رویہ کے سبب ہمیں یہ کہہ دیا کہ آئی  ایم  سوری اور  اللہ نے کہیں کہہ  دیا کہ  آئی ایم  آلسو  سوری  تو پھر کیا ہوگا ؟ 

 یہ زائرانِ حریمِ مغرب ہزار رہبر بنیں ہمارے  :  ہمیں بھلا ان سے واسطہ کیا جو تجھ سے نا آشنا رہے ہیں

غضب ہیں یہ مرشدانِ خود بیں خدا تری قوم کو بچائے  :  بگاڑ کر تیرے مسلموں کو یہ اپنی عزت بنا رہے ہیں

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: