Hesham A Syed

January 10, 2009

Intellectual !

Filed under: Social Issues,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 10:58 am
Tags:

Urdu Article : Anshaiya / Comic Script : Intellectual : Hesham Syed

انٹلکچوئیل

کیا یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ معاشرے کے بنانے یا بگاڑنے میں انٹلکچوئیل یعنی دانشور کا ہاتھ ہوتا ہے ؟    ؎

آدمی خود  خدا  نہیں  ہوتا    :  ہوش جب تک جدا نہیںہوتا

          انٹلکچوئیل کی اصطلاح عام فہم ہے لیکن غور سے دیکھئے تو اس سے بھی بر تر قبیلہ سوڈو ۔انٹلکچوئیل  کا ہے۔ہماری قومی یا نیم قومی زبان میں یہ دونوں اصطلاحات دانشور اورنیم دانشور سے موسوم ہیں۔انگریزی زبان کا فائدہ یہ ہے کہ بات ذرا جلداور آسانی سے سمجھ میں آتی ہے خصوصاً تارکینِ وطن کو یا ان ساکنینِ وطن کوجو فکری جلا وطنی کا شکار ہیں۔ سرکاری اور قومی زبان میں اتنا تو فرق ہونا ہی چاہیے۔سرکاری زبان میں تعریف و مدح سرائی کے علاوہ گالی بھی روانی اور بے تکلفی سے دی جا سکتی ہے۔بلکہ اکثر تعریف یا بے تکلفی بہ شکل گالی کے مبالغہ کے صیغہ کے طور پہ استعمال کی جاتی ہے۔ کئی ادق مثالیں اہلِ ذوق کے نظر کی جا سکتی تھیں ۔ مگر ادب حائل ہے۔ 

          بات دانشور کے قبیلہ کی ہو رہی تھی۔اس قبیلے میں شمولیت کی شرائط کچھ اتنی سخت بھی نہیں ہیں۔ بس ذہنی بے راہ روی ہونا شرط ہے۔ سب سے پہلے توآپ ہر چیز کے منکر ہو جائیے۔ اس بات کا اشتہار کیجئے کہ آپ تقلید کے قائل نہیں اور دنیا کو بس اپنی نظر سے دیکھنا چاہتے ہیں۔   ؎

 یہ  توہّم  کا  کارخانہ  ہے    :   یاں  وہی ہے  جو  اعتبار  کیا

          آپ نے اتنا کر لیا تو سمجھئے کہ آپ کے فکری سفر کا آغاز ہو چکا ۔اب کامیابی ہی کامیابی ہے ۔ اپنی تقریر و تحریر میں جتنا الجھاؤ پیدا کریں گے اس قبیلے میں آپ کی اتنی ہی پزیرائی ہوگی ۔مثلاََ اپنے تخلیقی عمل میں بوتل کو عورت اور عورت کو شراب ثابت کر سکیں تو آپ کا شمار صفِ اول کے دانشوروں میں ہوگا اور آپ اہلِ دانش کے علم برداروں میں ہوں گے۔ دین و دنیا کے ہر موضوع  پہ طبع آزمائی ضرور کریں. اس قبیلے میں پہچان کے لیے پہلے تو اپنے آپ کو  داہنے ہاتھ والے  رائیٹسٹ کہلوائیں اور پھر فکر و تدبر کی فضا کو زیادہ معتبر بنانے کے لئے بائیں ہاتھ والے  لیفٹسٹ کہلوائیں۔ ذہنی ارتقائے بھی تو ایک تدریجی عمل ہے۔ اسی لئے برسوں کے عمل کے بعد دائیں رائیٹسٹ  اور بائیں لیفٹسٹ کا ملغوبہ تیار کر لیں۔ اس سے آپ کا ظاہر و باطن یکجان ہو جائے گا۔ جواس بات کے مصداق ہوگا کہ:  ع

 رند کے رند رہے  ہاتھ سے جنت نہ گئی

          دین کے معاملات میں موضوع احادیث ذہن نشین کر لیں، ہر کسی کے بھی قول کو انبیاؑ کرام ، اہلِ بیت اطہار ؑ و صحابہ کرامؑ، اولیا کرام ؓوغیرہ سے منسوب کریں اور اعتماد کلی سے اس کی ترویج کریں ۔ اختلافی مسائل کو خوب ہوا دیں بلکہ فرسودہ اور بے ہودہ روایات کے لیے اپنا ہی پیراء اظہار ایجاد کریں ۔ ہر قسم کے اخلاقی اور روحانی علم و تربیت کے پہلوؤں کو سیاسی رنگ ضرور دیں۔دین کا نام سیاست اور سیاست کا نام دین رکھ دیں۔ مولوی اور ملاّ کو بے نطق سنائیں، اس سے آپ کی دکان چمکتی رہے گی۔ لوگ آپ کو روشن خیال سمجھیں گے۔ہو سکے تو خدا کے وجود کو ہی مشکوک بنا دیں ۔ آج کل ویسے بھی ملحدوں اور اشتراکیوں کا دور دورہ ہے ۔ پھر دادِ تحسین کے کیا کہنے ۔ لوگ سبحان اللہ، سبحان اللہ کہتے نہیں تھکیںگے ! اپنے بیانات کو قوت استدلال اور عقلی یا منطقی دلیل سے سجانے کے بجائے چند معروف دانشوروں کے نام کا کندھا استعمال کریں ۔ جیسے برٹرنڈ رسل ، میرؔ، اقبال ، غالبؔ ، کیٹس ؔ، شیلےؔ ، مارکس ؔ، ڈارون ، سعدی ؔ، حافظ ؔشیرازی ، ہیوگو ؔ، فری ؔمین ،  نٹشے ؔوغیرہ ان کے قولات اور منقولات کو جا بجا ، محل بے محل ، ڈھٹائی سے کام میں لائیں ۔ لوگ مرعوب ہو جائیں گے، اور اگر آپ نے کسی کی بات کسی اور کے سر منڈھ بھی دی تو محفل میں کون آپ کے سر ہونے کی جسارت کرے گا ؟ ان ناموں کے آگے ہر ذہن سجدہ ریز رہے گا اور آپ گفتار کے غازی بن کر لوگوں کے اذہان و قلوب کو فتح کرتے چلے جائیں گے۔ ! وقتاََ فوقتاََ دنیا کی بے ثباتی کا بھی رونا اس طرح روئیں کہ اگر آپ کو آبِ حیات میسر آ جاتا تو دنیا آپ کوجنت نظیر بنا ڈالتے ۔شعر گنگناتے رہیں ۔ اک فرصت گناہ ملی وہ بھی چار دن ۔ پروردگار کے حوصلے کا کیا کہنا ؟ بس اپنے حوصلے جوان رکھیں کیونکہ آپ کا مقصد زندگی توصرف بابر بہ عیش کوش ہے ۔ قہوہ خانے میں یا ایئر کنڈیشنڈ ڈرائنگ روم میں دوستوں اور احباب و معتقدین کے درمیان مشروب و طعام کا لطف اٹھاتے ہوئے دنیا بھر میں پھیلی ہوئی غربت و افلاس کا ذکر بھی کریں اوران کی حالت پر کبھی کبھی اک آدہ لکیر بھی کھینچیں ۔ لوگ آپ کے جذبۂ حبِ انسانی اور رقت قلبی پہ عش عش کر اٹھیں گے۔ ایک گرم آہ کی تو ہزاروں کے گھر جلے ۔ آپ ایک درد مند دل رکھتے ہیں جان لیجیے کہ لوگوں کے نامساعد حالات کے پیچھے قدرت کی ستم ظریفی ہے کوئی دوسرا انسان یا کسی کی شیطانی چالیں نہیں۔ آپ کے بس میں ہو تو ہر کسی کو ابلے ہوئے چاول یا خشک روٹی کے بجائے کیک پیسٹری یا چاکلیٹ کھلائیں لیکن آپ کی بھی اپنی مجبوریاںآڑے آتی ہیں۔ آپ کا تو بس صرف اپنے آپ پہ ہی چلتا ہے سو اس سارے ہجوم یاس میں کم سے کم آپ کو تو لقمہ تر میسر ہے ورنہ ایک اور بھوکے کا اضافہ ہوتا آخر:   ؎

 سب کے لئے خور و خواب کہاں سے لائیں   :   آرام  کے اسباب  کہاں سے  لائیں ؟

          آزادی نسواں بھی آپ کے لئے ایک دلچسپ اور سحر انگیز موضوع ہے ۔اسکی ہر تحریک میں معاون ہو جائیں۔ گھر کی دیواری گرتی ہو تو گرے اگر نصف انسانی آبادی آپ کے ساتھ متحرک ہے تو آپ کے وارے نیارے ہوجائیںگے۔ ہر محفل میں، ہر انجمن ، دفتر ، دکان پہ ، ہر شوکیس میں حیا ئے نسوانی کی قیمت لگا کے کلیرنس سیل کے لئے سجا ڈالیں ۔ معاشرے کے ردوبدل میں اس سے زیادہ فعال جماعت آپ کو میسر نہیں آئے گی۔معقولہ مشہور ہے کہ ہر مرد کی کامیابی  یا ناکامیابی کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے سو آپ کے لیے اسٹیج تیار ہے ۔ ہدایت کار آپ ہیں اورپردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ! اپنی شاعری میں ، تحریر و تقریر میں ، تجارت میں ، عورت کی بے بسی کو استعمال کریں اور ان پہ مرثیہ بھی آپ ہی پڑھیںاورماتم کناں بھی آپ ہی رہیں ۔گھر گھر آپ کا بول بالا ہوگا۔وہ فلسفہ کچھ اور تھا کہ :    ؎

 نے پردہ ،  نہ تعلیم ،  نئی  ہو کہ  پرانی    :  نسوانیتِ زن  کا  نگہباں  ہے  فقط  مرد 

          جس  قوم نے  اس زندہ  حقیقت کو  نہ پایا  :   ا س قوم  کا  خورشید بہت جلد  ہوا زرد

          یہ تو صرف کہنے کی بات ہے کہ آزادیِ افکار ہے ابلیس کی ایجاد ۔ بیچارہ ابلیس  انسان کی ذہنی رفعتوں کو کہاں پہنچ پائے گا ۔ ہم نے تو سنا ہے کہ اس نے ایک آدم کے سجدے سے انکار کیا تھا لیکن آج کل وہ ہر انٹلکچول کے آگے سجدہ ریز ہے۔اسے بھی کیسی سزا اپنی دانشوری کی ملی ۔کیسی رسوائی ہوئی شیطان کی !فرقہ پرستی ، سرمایہ داری ، چور بازاری ، شیطانی سیاست ، طبقاتی کشمکش کی طرف بھی توجہ فرمائیے کہ شعر و سخن کے لئے یہ بھی اچھے موضوعات ہیں ۔ بات منافقت کی اگر ہے تو ہوا کرے ۔ آج کل تو ان ہی دانشوروں کا ڈنکا بج رہا ہے جو ان موضوعات پہ خطابت اور لکھت کا جوہر دکھا رہے ہیں۔اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔    ؎

 ہیں کواکب کچھ نظر آتے  ہیں  کچھ   :   دیتے  ہیں  دھوکہ  یہ  بازی گر  کھلا

ایک شاعر قلندر نے کہا کہ :   ع

 جو  شے کی  حقیقت کو  نہ سمجھے  وہ  نظر کیا

لیکن اس المیے کو کیا کیجیے کہ دانشوروں میں ان کا بھی شمار ہے جو ملحدانہ انداز فکر رکھتے ہیں۔

          مدعیانِ علم و ہنر و فکر و نظر ایسے نیم دانشوروں کی محافل سجاتے پھرتے ہیں ، ان کی پزیرائی میں پیش پیش ہیں جنہیں نہ ہی اپنے خالق کی حقیقت کا احساس اور نا ہی محسن کائنات کے بے تحاشہ انعامات کے لئے اظہارشکر کا جذبہ موجود ہے ۔ مزاج اگر شرعی نہیں تو کیا ہوا ،سارے عیوب تو شرعی ہیں۔   ؎

زمانہ  اپنے  حوادث چھپا  نہیں سکتا      ترا حجاب ہے قلب  و  نظر کی  ناپاکی

جسم کا جہنم پکار رہا ہے ،  ہل مِن مَن مزید۔ دانشور اس شیش محل کے بوسیدہ و شکستہ آئینے میں اپنے وجود کا جشن منا رہے ہیں اور ہمارے سامنے یہ حکایت کھلی ہے کہ :  شریعت کا پیمانہ دا نشوری نہیں بلکہ دا نشوری کا پیمانہ  شریعت ہے :

ایک یہ دل ہے کہ بار بار مولانا روم ؒ  کا شعر دہراتا ہے :    ؎

   دست را  اندر  احد  و احمد  بزن     :    اے  برادر  وارہ  از  بو جہل  تن  

(  احد  و  احمد سے تعلق پیدا کر  ۔  اے بھائی جسم کے بوجہل سے چھٹکارا  پا )

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: