Hesham A Syed

January 10, 2009

Social & Economical Justice & Islam !

Filed under: Economics & Finance,Islam,Muslim world,Social Issues — Hesham A Syed @ 10:51 am
Tags:

Urdu Article : Muaashraty va Iqtasady adl  aur Islam : Hesham Syed

معاشرتی و اقتصادی عدل اور اسلام

سارے عالم میں عموماََاور اسلامی مملکتوں میں خصوصاََ، جس طرف بھی نگاہ اٹھائیے ایک عجیب خلفشار ، بے یقینی ، وحشت و بربریت کا ماحول بپا ہے۔معاشرتی و اخلاقی بے راہ روی اور اقتصادی بدحالی نے جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ کبھی حالات کی شکایت ہم یوں کرتے تھے کہ :   ؎

سوچو تو سلوٹوں سے بھری ہے تمام روح  :  دیکھو تو اک شکن بھی نہیں ہے لباس پر

 اب تو لباس بھی دریدہ ہے ، بے اَمانی کی کیفیت ہے۔

وقت نازک بہت ہے میرؔ صاحب    :   دونوں ہاتھوں  سے  تھامے  دستار

 دستار تو بڑی بات ہے سر ڈھانکنے کو چادر بھی میسر نہیں۔جسم ہوسناک نظروں کا شکار یا پھر بکنے کو تیار۔ عزت سادات کی اصطلاح بھی سمجھ میں نہیں آتی۔ نہ مکان سلامت نہ مکین سلامت۔ نشیمن کو بجلیوں کا ڈر نہیں کیونکہ اپنے ہی گھر کے چراغ گھر کو آگ لگا رہے ہیں۔

                    دیکھنے میں تو مسجدیں بھی چندے کے زور پر یا تیل کی دولت کے بل بوتے پرایک سے ایک خوبصورت و انتہائی آرام دہ بن رہی ہیں جن کے قالینوں میں ڈوب کر منافقوں کے چہرے اور بھی چمک اٹھتے ہیں۔ نمازیوں کی تعداد میںبھی اوی طرح اضافہ ہورہا ہے جس طرح آبادیوں میں ۔اس کے علاوہ قال اﷲتعالیٰ اور قال رسول اللہ کا بھی اتنا ہی شور اور ہنگامہ ہے جتنا کہ دوسرے مذاہبِ عالم کے کاروباری گماشتے اپنی دکان چمکاکر کر رہے ہیں۔یہ بات کوئی نئی بھی نہیں، جیسے جیسے دنیا وسیع ہو رہی ہے اور دنیا میں دولت کے وسائل بڑھتے جارہے ہیں اتنے ہی انسان کے مسائل بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں وہ ؐ کامل انسان بلکہ اکمل ترین انسان  ؐ کی درختوں کی چھالوں اور مٹی کے گاروں سے بنی ہوئی مسجد اور رہائش گاہ یاد آتے ہیں کہ جب وہؐ  سر بسجود ہوتے اُن کی پیشانی پہ کنکر اور مٹی کے ذرات  چپک جاتے ہیں اور جب وہ ؐ آرام کے لئے لیٹتے تو اُن کی پُشت اور بازو پر کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی چٹائی کے نشان نمایاں ہو جاتے۔بھوک سے بیتاب ہوتے تو پیٹ پرپتھر باندھ لیا کرتے۔ جنؐ کا اک اک لمحہ ایک تحریک سے وابستہ ، جن کی دنیاوی زندگی جہدِ مسلسل کا نمونہ ۔ جنؐ کا ظاہر و باطن یکساں اور تمام عالم کی درس گاہ۔ہاں یہ اسی کی امت کے افراد ہیں جنہوں نے اُنؐ  کی سیرت اور آفاقی پیغام کو چھوڑ کر مادیت پرستی کے مذہب کو اپنا لیا۔

          بجائے اطاعت و اتباع و محبت کے اُن کے پیغام کو اپنی نفسانی خواہشوں کے تابع کر لیاگیا۔پھر کیا ہوا ایک سے ایک تاویلیں ، نت نئے مذہبی گروہ ، رنگا رنگ تفسیریں ۔ منبر و مجالس سجنے لگے ، فتاوے بکنے لگے۔ موضوع روایات کی بھر مار ، نرم روی کی بجائے سختی ، احساسِ ندامت کی بجائے شقاوت و منافقت ، وحدانیت کے بہانے روحِ محمدی ؐ  کو دین سے نکالنے کی سازشیں ۔ حُبِّ رسولؐ کو بدعت گردانا گیا ، افراط و تفریط بڑھ گئی ، دین میں خوف و ہراس کو بہت زیادہ داخل کیا گیا ۔ غریب و لاچار لوگوں کو دنیا و آخرت میں صرف جہنم کے شعلے دکھائی دینے لگے جس سے ایک منفی اندازِ فکر کا سلسلہ بڑھا ۔ اللہ کے تصور کو بجائے رحمت و محبت کے محض قہر و غضب سے تعبیر کیا جانے لگا۔استغفراللہ۔

R       اسلام دین جو امن و آشتی کا پیغام ہے تمام عالم کی رحمت ہے وہ وحشت و دہشت گردی کا شکار ہو کر رہ گیا۔ یہ کسی عمل کا ردِ عمل ہے ، یا صدیوں سے پنپتی سوچ کا ٹیڑھا پن ؟ پیغامِ اسلام جس کا آغاز حضرت آدم ؑ سے ہوا   صدیوں کے بعد ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کے مراحل سے گزرتا ہوا حضرت محمدؐ سے پایۂ تکمیل کو پہنچا اور جس کی اصل خالق کُل اور انسانی حقوق و ذمہ داری کی محافظت تھی وہ کہیں کھو سا گیا۔ حقیقتِ محمدی اور حقیقتِ الہٰی دونوں ہی عام آدمی تو کجا زہد و علم کے دعویداروں سے بھی اوجھل ہوگیا۔ جو رہ گیا وہ چند رسوم کا ملغوبہ ہے۔ روزانہ کی ایک مشق ہے ، پوجا پاٹ ہے ، اٹھک بیٹھک ہے ، اپنے آپ کو دھوکہ میں رکھنے کی سعی ہے ۔ اگر کوئی فلسفہ یا نظریہ فروغ پا رہا ہے ۔ مادیت پرستی کی مسموم طوفانی ہوا ہر گلی میں دندناتی ، گھروں کے دروازوں کو دھکیلتی ، روشندانوں سے ہوتی ہوئی ہر گھر کے فکری چراغوں کو بجھاتی پھر رہی ہے۔ پوری انسانی آبادی کے حساب سے فیصد میں تو کم لیکن اک انبوہِ کثیر دن و رات اس کوشش میں مصروف کہ اس دنیا میں وہ سب کچھ حاصل ہو جائے جو د وسروں کو حاصل نہیں۔یہاں کوششیں اس لئے نہیں کی جارہی کہ ہمیں اس کی ضرورت ہے بلکہ محنت اس بات کی ہے میں دوسروں سے مادی اعتبار سے برتر نظر آؤں۔اس کے لئے جو طریقہ بھی اپنایا جائے اسے ایک فن اور پیشے کی حیثیت حا صل ہو گئی ہے۔ دھوکہ دہی ، فریب ، جھوٹ ، مکاری ، عیاری ، چالاکی ، بدعنوانی ، دورنگی  سب جائز ہے جب تک کہ اس کا فائدہ ہم خود اٹھا رہے ہیںتاہم یہ ناجائز اگر اس سے دوسروں کو فائدہ ہو رہا ہو۔جو جتنا عیار ہے اتنا ہی کامیاب ہے۔ درس گاہوں، کالجوں، یونیورسٹیوں ، میں بھی جو پیشہ ورانہ و تاجرانہ تعلیم و تربیت دی جارہی ہے اس کا سرا بھی کسی نہ کسی طور پر زیادہ سے زیادہ کی ہوس سے جڑا ہوا ہے۔وہ جو کبھی ہمارے سوچ کا حصہ تھا کہ :    ؎

علم و حکمت آید  از نانِ حلال   :  عشق رقت آید از نانِ حلال

          وہ کسی اندھیرے طاق پر اس طرح پڑا ہے جیسے کہ جزودان میں لپٹا ہوا حکمت و علم و ہدایت کا سرچشمہ قران رکھا ہوتا ہے۔ الھاکم التکاثر حتیٰ زر تم المقابر۔لیکن یہ سوچنے کا  وقت کس کے پاس ہے ؟ زندگی تو ایک بار ہی ملی ہے لوٹ مار کا موقع دوبارہ ملے نہ ملے۔ لہو و لعب کی دنیا آباد ہونے لگی اور اس میںہر روز اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ دوزخ کی بازگشت کوئی سُن سکے تو سنے ، ہل من من مزید، ہل من من مزید!

          مذہب کے رسم و رواج و عبادات کے قائم کرنے میں ہم جتنی بھی شدت اختیار کر لیں ، اپنی دعاؤں میں ہم چاہے جتنی بھی مصنوعی گریہ و زاری داخل کر لیں ، ان سب کا نتیجہ صفر ہی ہے۔ الفاظ و معنی میں مماثلت نہیں مُلّا کی اذاں اور مجاہد کی اذاں اور …!

          وہ پیغام جو معاشرے مین انقلاب برپاکر دیتا تھا وہ اب اتنا بے کس و لاچار کیوں نظر آتا ہے۔ وہ جو دین کے تابع تھے اب دوسروں کے تابع کیوں نظر آتے ہیں ؟ کیا ہم اسلام کی حقیقت کو ہی کھو بیٹھے ہیں ؟ لگتا تو یونہی ہے ! پوری انسانی اور اسلامی تاریخ کا مطالعہ کریں تو جو حقیقت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ جس پیغام و نظریے اور اس کے نظم و ضبط نے معاشرے میں انسانی برادری ، مساوات ، عدل و انصاف عملاّ قائم نہیں کیا وہ متروک ہوگئی اور وہ معاشرہ زوال پذیر ہوگیا۔ایک یہ دور بھی تھا کہ اقوامِ غیر مسلمانوں کو خود اس بات کی دعوت دیتے تھے کہ ان پر آکر حکومت کریں تاکہ انہیں عدل و انصاف میسر آئے اور سکون و آشتی کی فضا قائم ہو لیکن اب حال یہ ہے کہ ہر اسلامی ملک کے مسائل کے حل کے لئے اقوامِ غیر آتے ہیں بلکہ ہم ہمہ وقت ان کے سامنے سرنگوں رہتے ہیں۔ہمیں سانس لینے کے لئے بھی اب ان کی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے کہ: ع

 غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر!

کہاں وہ دور کہ زد پہ تھی کائنات تمام   : کہاں یہ دور کہ اپنی  کوئی خبر ہی نہیں

          حیرت ہے کہ ہماری آنکھ نہیں کھلتی جبکہ بات صاف نظر آتی ہے کہ جتنی بھی اقوام اس وقت ترقی پذیر ہیں ان کے نظام میں اس بات کی بڑی اہمیت ہے کہ ایک عام آدمی کو بھی بغیرکسی تردد کے عدل و انصاف اور زندگی کی بنیادی ضرورتیں میسر آئیں۔ جس پیغام کی تکمیل میں یہ بات بڑی واضح کر دی گئی کہ کسی انسان کو کسی اور پہ کسی درجہ میں فوقیت نہیں اور نہ اللہ کے یہاں کسی اور وجہ سے اس کی کوئی اہمیت ہے سوائے اس کے کہ وہ تقویٰ میں بڑھا ہوا ہو، یعنی اسے احکامِ الہیٰ کا ادراک ہو ، اسکا اسے پاس ہو اور خوش دلی سے اس کا تابع و پابند ہو۔ لیکن ہم نے تقویٰ کو بھی ڈر کے مفہوم میں پابند کر کے خوف کے کوزے میں بند کر دیا ہے۔ جس پیغام میں ہر اس بات پہ جرح کی گئی ، اسے ناجائز قرار دیا اور سزا مختص کی ، اسے گناہ اور قابل تعذیر جرم قرار دیا جس عمل سے کسی اور انسان کی تحقیر ہوتی ہو ، اس کی عزتِ نفس پہ حرف آتا ہواور جس عمل سے کوئی شخص کسی دوسرے کی مجبوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھائے ۔ذخیرہ اندوزی ، ارتکازِ دولت ، سود و رشوت خوری ، دھوکہ دہی ، عیاری ، دورنگی ، خود پرستی ، مدہوشی یا بے ہوشی ، کبر و عناد ، قبیلہ پرستی ، نسلی و لسانی تعصب کے سارے محرکات پہ پابندی لگادی اور اسے انتہائی درجہ کا غیر اخلاقی انداز فکر و عمل قرار دیا۔ اسی پیغام کے ماننے والے دعویداروں کے یہاں وہ ساری بیماریاں موجود ہیں اور صدیوں سے ان کی تنزلی کے اسباب بھی معاشرتی اور اقتصادی ناہمواریاں اور ذاتی اغراض کی آتشِ اندوہناک ہی ہیں۔    ؎

سبب کچھ  اور ہے ،  تو جس کو خود سمجھتا ہے

زوال  بندۂ مومن کا بے  زری  سے نہیں

          اس کا علاج صرف اور صرف ایک اور وہی ہے جوپیغام ِ اصل ہے کہ ہر ایسی بات کی تحریک و ترویج جس سے معاشرے میں عدل و انصاف قائم ہو۔ذاتی مفاد پر قومی اور انسانی مفاد کو ترجیح دینا۔ ایثار کی سر شاری شب گزاری کے لطف سے کئی درجہ بڑھی ہوئی ہے۔   ؎

ہے سلسلہ  احوال کا  ہر  لحظہ  دگرگوں

اے سالکِ رہ  !  فکر نہ کر سود و زیاں کا

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: