Hesham A Syed

January 10, 2009

Vow , to the simplicity !

Filed under: Social Issues,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 10:41 am
Tags:

Urdu Article :  Iss sadgee pey kaun na mar jaaiey Aiey Khuda : Hesham Syed

حشام احمد سید

 اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا

حال ہی میں ہمارے طالب علمی اور آغازِ ملازمت کے ساتھی شاہد حمیداپنے وطن ثانی جاپان سے کوئی ۴۳ سال کے بعد کنیڈا تشریف لائے تو ملاقات ہوئی ۔ یہ ملاقات بھی بڑی مختصر رہی ۔یہاں وہ اپنے عزیزوں اور دوسرے رفقا کے درمیان بھی گھرے رہے۔باتوں کے دوران وہ اور ان کی جاپانی نژاد بیگم عائشہ خاتون یہاں اور پاکستان کے متمول طبقے کے رہن سہن اور طرز معاشرت سے متعلق حیرت کا اظہار کرتے رہے اور جاپان سے اس کا موازنہ کرتے رہے۔ انہوں نے یہ بات بتائی کہ جاپان میں کس قدر سادگی ہے اور عموماََوہاں کا اچھا خاصہ کھاتا پیتا گھرانہ کیا وہاں کے رؤسا بھی اپنے گھر کو بڑا سادہ رکھتے ہیں۔شاندار فرنیچر ، الیکٹرانک سامان اور ڈیکوریشن پیس سے گھر بھرا نہیں ہوتا۔ وہاں کے لوگ تعلیم اور دوسرے مسائل پہ زیادہ توجہ دیتے ہیں اور زندگی کو مفید بنانے کی جستجو میں لگے رہتے ہیں چہ جائکہ اپنی نمود و نمائش کی دوڑ میں شریک ہوں۔ البتہ نئی نسل کچھ یورپی اور امریکی اقوام کا اثر قبول کر رہی ہیں اور مادیّت پرستی کی طرف مائل ہوتی جارہی ہے لیکن ابھی بھی صورت حال اوروں کے مقابلے میں بہتر ہے ۔ یہ ساری بات میرے لئے حیرت انگیز نہیں تھی کہ جاپان ، کوریا اور دوسرے مشرق  بعید کے ممالک میں جاکر اس ماحول کو میں بھی دیکھ اور برت آیا ہوں۔ شاہد حمید کی بات سے ذہن کے بہت سارے دریچے کھُلے۔

P       یہ زیادہ عرصہ کی بات نہیں تھی جب سادگی اور زندگی کا معیار اس کی قدریں ہمارے یہاں بھی تھیں ۔ پچھلے ۰۵ سالوں میں خارجی اثرات نے ہمیں متاثر ضرور کیا ہے اور بے جا نمود و نمائش نے دولت کے حصول کے ہر جائز و ناجائز راستے کھول دیئے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ آج سے تقریباً ۰۳ سال پہلے ملنے والوں میں ایک کمشنر صاحب جو ریٹائرڈ ہو چکے تھے ذکر کر رہے تھے کہ بڑی بڑی کرسیوں پہ براجمان حکومت کے نمائندے اور فوجیوں کے گھر بھی سادہ ہوا کرتے تھے اور ان کے بیٹھک میں چند بید کی کرسیاں پڑی ہوتی تھیں یا تخت پہ چاندنی بچھی ہوتی تھی اور کسی کو اس بات میں شرم محسوس نہیں ہوتی تھی کہ ان کے گھر کی سجاوٹ کیسی ہے۔ لیکن آج کل دیکھئے کہ کوئی افسر لگا یا کیپٹن بنا اور اس کے پاس جانے کہاں سے اتنا دنیاوی ساز و سامان آجاتا ہے جو ان کے دور میں بڑے بڑے افسروں کے پاس نہیں ہوتا تھا ؟ لوگ سائیکل پہ دفتر جاتے تھے اورنوکری کے دوران سائیکل پہ ہی سفر کرتے ریٹائرہو جاتے تھے لیکن اب یہ حال ہے کہ نیا نیا افسر بھی چمکیلی گاڑی لے کر دندناتا پھرتا ہے ۔ لوگ آپس میں ملتے تھے تو ایک دوسرے سے خلوص سے ملتے ، تعلقات اور رشتہ داری کا معیار پیسہ نہیں تھا بلکہ شرافت تھی ، تہذیب تھی ، دین داری تھی ۔ لوگ فخر کرتے تو کسی کی دین داری یا خاندانی شرافت اور علم پہ کرتے تھے۔ ساہوکاروں اور مادیت پرستوں کو ، دنیا کے حریصوں کو کڑی نگاہ سے دیکھتے ۔ تقوے کا حال یہ تھا کہ اگر یہ پتہ چل جاتا کہ کوئی سود لیتا ہے ، رشوت لیتا ہے تو اس کے گھر کھانا پینا چھوڑ دیتے کہ حرام سے کمایا ہوا لقمہ ان کے ایمان کو غارت نہ کردے۔ اب حال یہ ہے کہ دنیا جیسے چاہے لے لوٹو۔ عزت کا معیار چمکتا ہوا کاروبار ، گھر یا گاڑی ہے ۔

           آخرت کے معاملہ کا یہ حال ہے کہ حرام ذریعہ سے کمائی دولت میں یہ صلاحیت بھی ہوتی ہے کہ جتنی بار چاہے عمرہ کر آئیں ، حج کر آئیں ، زیارت کر آئیں ، پیر صاحب کے مزارات پہ چادر یںچڑھا آئیں ۔گویا اللہ تعالیٰ کو بھی رشوت دے کر راضی کیا جا سکتا ہے ( نعو ذباللہ)۔ میں نے اپنے مشاہدات میں لکھا تھا کہ بے شمار سمگلر ، ڈرگ ڈیلر ، شرابی ، عصمت و ضمیر فروش ، سیاسی اور حکومتی عہدوں پہ فائز قوم اور عوام کی دولت کے لٹیرے عمرہ اور زیارت اور مقبروں پہ چادر چڑھانے میں پیش پیش رہتے ہیں ۔ رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی۔ مجھے اکثر یہ بات تکلیف دیتی ہے کہ لوگوں نے اللہ کو کعبۃ اللہ میں کیوں مقید کر دیا ہے۔ حج فرض تو ایک بار ہے وہ بھی اگر آپ صاحب حیثیت ہوں حضرمیں اور سفر کے لئے گنجائش ہو ورنہ اللہ تو ہر جگہ اور ہر لمحہ ہر کے ساتھ موجود ہے ، اک ذرا گردن جھکا ئی دیکھ لی۔ پھر حرام سے کمائی ہوئی دولت کو اس کے مستحقین کو لوٹادینے کے بجائے لوگ یاترا پہ کیوں جاتے ہیں ؟ یہی نا کہ کچھ تجارت ہو جاتی ہے  اور ایک روحانی سیاحت ہو جاتی ہے اور ایسے لوگ اپنے پچھلے گناہوں کا سلیٹ صاف کر کے وہاں سے آکرنئے سرے سے اپنی شیطانی زندگی میں مصروف ہوجاتے ہیں ۔ اللہ بڑا بخشنے والا توبہ قبول کرنے والا ہے۔ وہ سمندر کے جھاگ سے زیادہ گناہوں کو بھی بخش دیتا ہے۔ایک قوم نے تو اللہ کے بیٹے کو سولی پہ لٹکا کر ہر عملِ ِگناہ کا جواز ڈھونڈ لیا تو دوسری قوم ہر روز ہی اپنے نامۂ اعمال کی سیاہی سے اللہ کے یہاں سفارشی خطوط کا ڈھیر لگا رہی ہے۔ بات اگر لوگوں کے طبع نازک پہ گراں نہ گزرے تو میں کہوں کہ جس طرح سب نے اللہ کو اپنی بے جا خواہشات کے حصول کے لئے استعمال کیا ہوا ہے مجھے اللہ تعالیٰ کی ذات سے کی گئی زیادتیوں پہ افسوس ہوتا ہے۔ کوئی سود یا رشوت نہ لے اور نہ دے اور سفارش نہ کرے یا کروائے ، دنیا دار لوگوں کا درباری بننے سے انکار کرے تو اس کا موجودہ طرز معاشرت میں جینا ہی دوبھر ہوجائے۔بہرحال اللہ کے ایسے بندے اس دنیا میں موجود ہیں جو جہدِ مسلسل میں لگے ہوئے ہیں اور ان کی حالت وہی کی وہی ہے۔ اللہ کے رسول  ؐ نے فرمایا ہے کہ یہ دنیا مومن کے لئے     سِجن ( قید خانہ ) ہے۔مالِ حلال پہ زندگی گزارنے کے لئے آدمی کو خود ذبح ہونا پڑتا ہے۔ سکون و اطمینان افراد کی زندگی میں کیسے آئے ؟ اس کے لئے تو اجتماعی طور پہ معاشرتی عدل کا قیام ضروری ہے۔ اللہ کے بتائے ہوئے قوانین کا مضحکہ اڑانے کے بجائے اتباع رسول  ؐ لازم ہے۔ اپنے معاشرے کے بگاڑ کا ذمہ دار اگر سچ پوچھیں تو وہی طبقہ ہے جو دنیا لوٹ کر اپنے آپ کو طبقہ اشرفیہ اور علما میں گرداننے لگا۔ ہر بوالہوس نے شعار وفا پرستی اختیار نہیں کی بلکہ اس کا لبادہ اوڑھ لیا۔ علم و تدبر و نفس کشی و تقوی کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی ۔

          بات طرزِ حیات کی نکلی تو ساری کائنات کے لئے اللہ نے اپنے رسول  ؐ کو ہی ایک نمونہ بنادیا ۔ انؐ  کی سیرت پہ عمل کرنے کے بجائے ہم اس پہ غور خوض ، کانفرنسیز زیادہ کرتے ہیں ، محفلیں سجاتے ہیں ، نعتیہ کلام کہتے ہیں اور جھوم جھوم کے پڑھتے ہیں ۔    ؎

 عمل کم کم ہے تقریریں بہت ہیں   :  تری سنت کی تشہیریں بہت ہیں

قدم اٹھے  ترے رستے میں کیسے ؟  :  سگِ دنیا ہوں زنجیریں بہت ہیں

           اللہ کے آخری رسول  ؐکی زندگی کی سادگی اور انؐ  کی منکسرالمزاجی سے متعلق کئی سال پہلے ایک سہ روزہ کانفرنس کویت میں ہوئی تھی جس میں علما و مفکرین کے قیام و طعام پہ لاکھوں ڈالر خرچ کئے گئے۔وہ اپنے آقا دنیا کے سب سے بڑے انسان کو خراج تحسین پیش کر رہے تھے ، جس کے گھر میں متواتر ایک ہفتہ میں ہر روز چولہا گرم نہیں ہوتا تھا اور کبھی فاقہ کبھی جو کی روٹی اور کھجور ، اور کبھی خشک گوشت کھا کے اللہ کے کام میں مصروف ہوجاتے تھے۔ جس نے اس دنیا کو صرف دو یا تین جوڑے کپڑے میں ایسے چھوڑا کہ گھر کی ہر چیز تقسیم کر دی ، آخر وہ قاسم بھی تو ہیں ۔ بعینہ یہ صورتحال ہر جگہ ہے کہ ہم صرف قال قال ہو کر رہ گئے ،اعمال کہیں غائب ہو گئے۔ ہمارے اطراف میں لوگ بھوک اور عسرت کا شکار ہیں لیکن ہمیں اللہ اور اس کے رسول  ؐ کی افسانہ نویسی سے فرصت نہیں۔ ہزاروں اور لاکھوں ڈالر و دینار و ریال و روپے ہم اس بات پہ صرف کرتے ہیں کہ حضور  ؐ اور انکے اہل بیت اطہار و اصحاب کرامؓ کی سادہ زندگی کا پرچار کیا جائے اور اپنے تن و توش کی فربہی کو نعمت الہٰی سمجھا جائے کہ یہ سب رسول ؐ سے محبت کا صدقہ ہے ۔ حیاتِ طیبہ کی سادگی بھی قران کی طرح اپنے خیال کے جزدانوں میں لپیٹ کر اپنی اپنی الماریوں میں بند کر دی گئی ۔ کہ کبھی دل چاہا تو اسے اتار کر چوم لیا اور پاک و مطہر ہوگئے ! بجائے اس کے کہ ہم انؐ کے قدموں کے نشان کو رہ روِ منزل بنائیں،ہم نے انؐ کے نقش پا کی تصویر اپنے گھروں کی دیواروں پہ قران ہی کی طرح فریم کر کے لگا لی۔ چلئے صاحب طاعت ِ الہٰی و اتباعِ رسول ؐ  مکمل ہوئی! ( سنتے ہیں کہ اس سے کاروبار و آمدنی میں بڑی برکت ہوتی ہے )۔  ع

اس  سادگی  پہ  کون  نہ  مر جائے  اے  خد

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: