Hesham A Syed

January 11, 2009

A few memories

Filed under: Literature + Poetic sessions,Social Issues — Hesham A Syed @ 8:07 am
Tags: ,

Urdu Article : Kuch YaadeiyN  Kuch BaateiyN : Hesham Syed

کچھ یادیں اور کچھ باتیں

 ( ایک خطاب از سید حشام احمد ۔  برائے تقریبِ نثری ادب ۔ بمقام : ریاض  سعودی عربیہ ۔ ۲۹۹۱ م)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم  ،نحمدہُ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم 

خواتین و حضرات ۔ السلام علیکم ورحمۃاللہ و برکاتہ

«  یہ محفل اور ہمارا یہاں مل کے بیٹھنا ہی سب وارداتِ قلبی ہے۔کئی دنوں ، ہفتوں اور مہینوں کی تگ و دو اور زندگی کی یکسانیت سے گریز ۔۔۔، فکرو نظر کے تنوع کی طلب ، سالک کی جستجو ، مقامِ ِفکرِ مقالات اور مقامِ ذکرِ کمالات ہے۔ رمز و ایما اس زمانے کے لیے موزوں نہیں اور آتا بھی نہیں مجھ کو سخن سازی کا فن۔ ایسی محفلیں جب منعقد ہوتی ہیں تو صاحب فکر حضرات اپنے فکری جوہر کو گویائی اور قلم کاری کی لڑی میں پروکر رونق افروز ہوتے ہیں۔۔کچھ تو طلب داد و تحسین کے بہانے اور کچھ ولولہ حق کے نمود کے لئے۔نیتوں کے فرق نے ہی انسانی درجات میں بلندی و پستی کی تمیز روا رکھی ہے۔ جو لوگ کہ تخلیقی صلاحیتوں کے حامل ہیں ان کے لئے تو پیغام یہی ہے کہ :

جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود  :  کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

عموماً تو یہ بات نظر آتی ہے کہ :

ہند کے شاعرو صورت گر و افسانہ نویس   :  آہ بیچاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار

ہمیں کوشش یہ کرنی چاہیے کہ کشتِ خیال سر سبزو شاداب رہے لیکن فلسفٔہ روباہی نہ ہو بلکہ حقیقتِ کلیم الہیٰ ہو۔ ہماری تحریر اور اشعار صرف طربناک و دل آویز ہی نہ ہوں بلکہ شمشیر خودی کی تیزی ان کا ہدف ہو۔

« کسی نے کہا ہے کہ علم کیا علم کی حقیقت کیا ، جو بھی جس کے گمان میں آئے۔ لیکن معلومات اگر صرف سرمایہ دماغ ہیں اور متاعِ جاں نہیں تو اصلاح اور فلاح کا راستہ نہیں کھلتا ۔ علم دو طرح کے ہوتے ہیں ۔ ایک وہ جو دل میں ہو یہ علم نافع ہے اور دوسرا جو صرف زبان پر ہو ، یہ عمل پہ اثر انداز نہیں ہوتا۔

زندگی کچھ اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے   :   زندگی  سوز ِ جگر ہے  علم ہے  سوزِ دماغ

 علم سے دولت بھی ہے قدرت بھی ہے لذت بھی ہے :  ایک مشکل ہے  کہ ہاتھ  آتا نہیں  اپنا سراغ

قرآن ( ۲۲۶۴ ) کہتا ہے کہ : آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں کے اندر ہیں۔ غرض کہ علم وہی علم ہے جس کا مصدر قلب ہے ،روشنی وہی روشنی ہے جس کا منبع قلب ہے۔

 دل ِ بینا بھی کر خدا سے طلب   :  آنکھ کا  نور دل  کا نور  نہیں۔

V       ہم مادی وجود کے اساسی تقاضوں کو جبلت کہہ لیتے ہیں اور ہر جبلت انسان کی جوہری قوت ہے، اس کے بغیر کوئی کمال پیدا نہیں ہوتا لیکن ہر ایک جبلت اپنی تسکین چاہتا ہے ، اگر اس پہ عقل و ضمیرکا تازیانہ ٔتادیب اثر انداز نہ ہو تو تو ازن قائم نہیں رہتا اور اعتدال کی صورت پیدا نہیں ہوتی۔ نتیجتاً آدمی کا وجود ہوس کا محشرستان بن جاتا ہے اور وہ روحانی وقار کھو بیٹھتا ہے۔ علمیت یعنی ذخیرۂ معلومات ایک الگ شعبہ ہے اور انسانیت ایک الگ شعبہ ہے۔ ہاں صاحب ِ علم نے اگر تربیتِ ذات بھی کر رکھی ہو تو اس میں بلند ہوجانے کی صلاحیت کم علم یا کم ذہن آدمی کے مقابل زیادہ ہوتی ہے۔

 سینہ روشن ہو تو ہے سوزِ سخن عینِ حیات  :   نہ ہو  روشن  تو سخن مرگِ دوام اے ساقی

          حقیقت یہ ہے کہ آدمیت تک پہنچنے کے لیے بہت سی وحشتوں کو قربان کرنا پڑتا ہے اور محض علم و فن و ہنر کے بل بوتے پر آدمی آدمی نہیں بن جاتا۔ وحی کی روشنی سے محروم علم و تدبر احترام آدمیت کا درس نہیں دیتے اور انسان کو حیوانی سطح سے بلند نہیں کرتے۔عمل علم کے پیچھے نہیں بلکہ یقین کے پیچھے چلتا ہے۔ یقین نہ ہو تو اندرونی انقلاب رونما نہیں ہوتا۔ علم اس وقت علم بنتا ہے جب یقین کے درجے کو پہنچتا ہے گویا بیرونی اور اندرونی حقیقت یکجان ہوجاتی ہے۔ زندگی کے حقائق سے دور سیر فلک کرتے رہنے والے اور ستاروں یا سیاروں کے تعاقب میں محو پرواز رہنے والے سے کیا فائدہ حاصل ہوگا۔وہ فکر جو بادل کے کسی ٹکڑے کی طرح آسمان کی وسعتوں میں بے مقصد رواں دواں ہو۔

          اگر عظمت ِآدم کا احساس کسی یقین کی طرح دلوں کو گرماتا رہتا تو معاملات مختلف ہوتے۔ اپنے اندر جھانک کے دیکھنا اور آدم کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری کو قبول کرنا ، حالات کا غلام بننے کے بجائے حالات کا فرمانروا ہونا ایک مشقت طلب بات ہے۔ جو لوگ تمیز ِ خیر و شر سے عاری ہوجاتے ہیں ان کی حالت یہ ہے کہ حواس قائم ہیں، ذہانت سوئی ہوئ نہیں بلکہ کھوئی ہوئی ہے۔ ذوقِ تجلّی کی مستوری نے آدمی کو روحانی رفعتوں سے محروم کردیا ہے اور جب روحِ لطیف دب کر بے جان رہ گئی تو بدن بھی ملبۂ بدن بن گیا یا مشین۔

          روح کی تسکین ۔۔قرآن کا  علاج ۔ الا بزکراللہ تطمٔ الن القلوب۔ دلوں کو اطمینان اللہ کے ذکر سے ہی ملتا ہے۔

 « معلم کے اخلاص کی اہمیت اپنی جگہ ہے جو بھی ناپید ہے آج کل۔ہمارے ملت کے اکابرین کا وصف یہ تھا کہ وہ علم کے ساتھ تہذیب و کردار و اخلاق کا فریضہ بھی ادا کرتے تھے۔حضور  ؐ کا وصف بھی اللہ گنے بیان کیا ہے کہ وہ قلوب کو آلائشوں سے پاک و صاف کرتے ہیں پھر اس میں علم و حکمت کی شمعیں سجادیتے ہیں۔  یزکیہم  و یعلمھم الکتاب و الحکمہمعلمی بلند نظر اور پاک نفس لوگوں کا شیوہ تھا۔ انھوں نے اسے صرف کمائی کا ذریعہ نہیں بنایا۔ ان کا مزاج بے نیازی اور درویشی لئے ہوئے تھا۔ اگر نیت میں خیر گستری ہوتی ہے تو آنکھوں میں تاثیر کی شعاعیں پھوٹتی ہیں۔ کسی نے کہا ہے کہ جس کی نگاہ تجھے فائدہ نہ دے اس کے الفاظ بھی تجھے نفع نہیں دیتے۔   ؎

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ  اور نہیں   :   ترا علاج نظر کے  سوا کچھ  اور  نہیں

فقط نگاہ سے ہوتا ہے  فیصلہ  دل کا   :    نہ ہو نگاہ میں شوخی  تو دلبری کیا ہ ے

« والدین کا منفی کردار ، قول و فعل میں تضاد نئی پود کی شخصیت کی تعمیر میں مانع ہے ۔ اگر یہ فیضانِ نظر گھر سے نہ چلے تو مکتب کی کرامت بھی جلوہ گر نہیں ہوتی۔

وہ فیضان نظر تھا  یا مکتب کی  کرامت تھی   :  سکھائے کس نے  اسماعیل  کو آدابِ  فرزندی

« معاشرے پہ اثر انداز ہونے والے تین اہم طبقے ہیں ؛  امرا ( حکام ) ؛  علمأ ؛  اور فقرأ ۔ امرا بگڑ جائیں تو رعیت کی معاشی حالت خراب ہوجاتی ہے ۔۔ علمأ بگڑ جائیں تو عبادات اور شریعت کے طریق بگڑ جاتے ہیں ۔۔ فقرأ بگڑ جائیں تو لوگوں کی عادتیں بگڑ جاتی ہیں۔

          امرأ کا بگاڑ ظلم کے باعث ہے۔ علمأ کا بگاڑ طمع کے باعث ہے ۔ فقرأ کا بگاڑ ریا نمود و نمائش کے باعث ہے۔ مادیت پرستی نے دین کے ضابطے کو برقرار نہ رکھا ۔ مومن پہلے خدا سے ڈرتا تھا اب موت سے ڈرتا ہے۔ حب جاہ اور حب مال مطمع نظر ہے۔

          آج کے انسانی معاشرے میں بے پایاں دانش و علم ، مشاہدہ و تجربہ تو میسر ہے مگر حسنِ اخلاق و معاملات ، دلسوزی و ہمدردی کے جوہر کم ملتے ہیں۔ اس لئے ایک ہی شخص میں علمی و عقلی بلندی اور اخلاقی پستی ایک دوسرے کے متوازی چلتے رہتے ہیں۔ اس تصادم کو ہی دور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے شخصیت میں توحید جلوہ گر ہوگی اور اسے قیام و استحکام میسر آئے گا۔

اسی سرور میں پوشیدہ موت بھی ہے تری   :   ترے بدن میں اگر سوزِ  لا اﷲ  نہیں

فی زمانہ قحط ا لرجال کی کیفیت ہے ۔ جناب مختار مسعود کہتے ہیں کہ  ’’  قحط میں موت ارزاں ہوتی ہے اور قحط الرجال میں زندگی ‘‘ ۔  ’’  زندگی کے تعاقب میں رہنے والے قحط سے زیادہ قحط الرجال کا غم کھاتے ہیں ‘‘۔

اس مسئلہ کا حل کیا ہے ؟ بندۂ صاحب ِ نظر کی تلاش اور اس کی صحبت کا اختیار کرنا !

ہوتا ہے کوہ و دشت میں پیدا کبھی کبھی   :   وہ مرد جس کا فقر  خزف کو  کرے نگیں

شکریہ و السلام !

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: