Hesham A Syed

January 11, 2009

Between the Stars and it’s seeker !

Filed under: Islam,Religion,Science &Tech — Hesham A Syed @ 9:53 am
Tags: ,

Urdu Article : Kawakib aur Moakkil key darmeyaan ; Hesham Syed :

کواکب و موکل کے درمیاں

دنیا مشاہدات ،تجربات و توہمات پہ مبنی ہے۔ فطرتِ مشتاق ہر لمحہ آدمی کو بے چین کئے رکھتی ہے۔اسی جذبہ کے تحت حال ہی میںمیری ملاقات تجمل فاروق بانی صاحب ماہرِعلمِ نجوم و دست شناسی سے ہوئی۔ میںپہلی ملاقات ہی میں تقریباً ۶ گھنٹے سے زیادہ میں ان کی زندگی کے بے شمار دلچسپ مشاہدات کو سنتا رہا۔ وہ بولتے ہیں تو بولتے چلے جاتے ہیں اور میں توہمیشہ سے سننے کا عادی زیادہ ہوں ۔ سچ تو یہ ہے کہ اس سے پہلے میں کبھی بھی کسی ایسے شخص سے نہیں ملا جو کواکب کے درمیان رہ کر بھی اسلام اور اللہ کے دین کی باتیں کرے۔ وقت کیسے گزرگیا پتہ ہی نہ چلا اور رات کے ڈھائی بجے اگر میں معذرت کر کے اجازت طلب نہ کرتا تو تاریخ کے بدلنے کا اظہار صرف کلینڈر سے ہی نہ ہوتا بلکہ صبح نمودار ہوجاتی۔ ان کا تعارف ویسے تو خود ان کی تحریریں ہیں ۔ رسمی تعارف تو اور بھی کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں۔ ظاہر ہے کہ ملاقاتیں بھی جاری رہیں گی۔ ایک ہی ملاقات میں بانی صاحب نے اپنی اتنی ساری اسناد دکھا دیں اور خصوصیات و تجربات گنوادیں کہ انہیں کو سمیٹنا مشکل ہو رہا ہے۔وہ صرف علم ِجوتش کے ماہر ہی نہیں بلکہ شاعر و کالم نگار ہیں ۔ ادبی رسالوں کے ایڈیٹر رہ چکے ہیں ، تیس سال سے کنیڈا میں پاکستانی و ہندوستانی معاشرت کے لیے رنگارنگ پروگرام کرتے رہے ہیں۔ فنِ موسیقی سے شغف ہے ، گانا بھی خوب گاتے ہیں ۔ان ساری باتوں کے باوجود نہ سگریٹ پی اور نا شراب کبھی چکھی ۔حلال و حرام کے بارے میں خاصے محتاط ہیں ۔ہمارے ہی معاشرے میں ان کے پیشہ سے متعلق لوگ ہی نہیں علامہ اور زاہد و شیخ بھی کسی نہ کسی دورمیں تمباکو ، شراب نوشی و عورت کے رسیا رہے ہیں۔ اوربارہا توبہ کو توڑ تاڑ کے پیتے پلاتے رہے ہیں۔ یا پھر اپنی باطنی کیفیت کا اظہار بھی یوں کرتے رہے ہیں کہ آئے پہلے شراب آئے بعد اس کے عذاب آئے۔   ؎

 محتسب نہ پھینک ارے محتسب نہ پھینک  :  ظالم شراب ہے ارے ظالم شراب ہے

یا کہ ہم آگ جو پی جاتے ہیں پانی کر کے ۔ اُم الخبائث کا احترام تو ہمارے معاشرے میں عرب ہو کہ عجم ،روشن خیال طبقہ یا صاحب ثروت حضرات و شاعر و ادیب و صحافی مردو زن سبھی کرتے رہے ہیں۔چاہے وہ دور قدیم کے لوگ ہوں ہو یا جدید کے۔ سنتے ہیں کہ اس کی تاثیر زمانے کے ساتھ بھی نہیں بدلی۔خیر اس بات کو یہیں چھوڑئیے ورنہ ہم سب بغیر پئے بہک جائیں گے۔بہت ہی اچھی بات یہ بھی ہے کہ بانی صاحب حلال رزق کی جدوجہد میں بھی مصروف ہیں اور روزگار کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں ، ان کا گزارہ صرف نذرانوں پہ نہیں۔  بانی صاحب کا کہنا یہ ہے کہ صرف وہ ہی نہیں بلکہ ان کی بیگم و بچے بھی علمی و تخلیقی کام میں مصروف ہیں، شریعت کے پابند ہیں اور اسلامی تقاضوں ہی کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔

          ہر چند کہ میں جب ان سے ملا تو ان کے پاس اسلامی عدسی شیشہ لے کر نہیں گیا تھا اور نا ہی میں ان کے اندر کوئی غیر اسلامی جرثومہ تلاش کر رہا تھا ۔ یہ صرف دو انسانوں کی ملاقات تھی ۔ اللہ کے دوبندوں کے درمیان تبادلہ خیال تھا ، لیکن پتہ نہیں کیوں میری شکل ہی ایسی ہے کہ مجھے دیکھ کر مردو زن اسلام کے متعلقات پہ ہی گفتگو کرتے ہیں۔ بہرحال اللہ بانی صاحب کو علم روحانیات کے کام کے ذریعے انسان کی کسی نقصان کے بغیربھلائی کی مزید توفیق بخشے اور انہیں اجر خیر عطا کرے۔ بانی صاحب کی ایک بات سن کر ایسا لگا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے اور وہ یہ ہے کہ دانا خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے۔ بہت سارے مشاہیرِ عالم کے اسناد اور ان کے تعریفی سرٹیفیکیٹ بھی بانی صاحب نے مجھے دکھائے جو ان کے اس کام کے متعلق ہیں جو ان کی وجہ شہرت بنے ہوئے ہیں !

          بانی صاحب کو یہ بھی احساس ہے کہ وہ جو کام کررہے ہیں اس پہ بہت سارے اعتراضات ہو رہے ہیں حالانکہ وہ اس کام کے توسط سے غیر مسلمین کو اسلام سے بھی متعارف کر رہے ہیں ۔ ان کے سارے وظائف قرآن و احادیث و اولیا کرام کے ملفوظات کے حوالے سے ہیں جن کا ورد کر کے لوگوں کے مسائل حل کرتے ہیں۔ بہت سے غیر مسلمین انہیں بھگوان بنانا چاہتے ہیں لیکن وہ اس کا انکار کرتے ہیں اور ان لوگوں کو بھی یہی کہتے ہیں کہ اپنا یقین خدا پہ رکھو ۔! میرا خیال بھی یہی ہے اور یہی سچ ہے کہ خدا کسی بھی مخلوق سے اپنا کام کروا دیتا ہے۔ اس میں مخلوق کا کوئی کمال نہیں ۔ مخلوق تو ایک وسیلہ ہے یا پھر حجاب ہے۔ رہ گیا لوگوں کے برا کہنے کا معاملہ تو ایسا کہاںسے لائیں سبھی اچھا کہیںجسے ؟ انہیں میرا مشورہ ہے کہ وہ لوگوں کا خوف نہ کریں ۔ اللہ اور اس کے رسولؐ  کی ہدایت کو ہر دم  پیشِ نظر رکھیں ۔ بانی صاحب کے نظر دو شعر فی البدیہہ ہوگئے۔

لوگ کہتے ہیں کہ کافر ہے وہ ساحر بانی  :  ایسے لوگوں کی بھی کرتے رہو خاطربانی

اتنا آسان نہیں انسان کی  خدمت کرنا  :   تم چھُپو گے بھی تو ہو جاؤ گے ظاہربانی

          ان کی تحریریں پڑھ کر لوگ انہیں شکل و صورت میں کوئی بابا سمجھتے ہیں ، لیکن ان کو جاننے یا سمجھنے کے لئے ان کے ساتھ بیٹھنا پڑتا ہے۔ پھر جس طرح پیاز کی تہیں اترتی ہیں بانی صاحب کے اندر کا بابا باہر نکلنے لگتا ہے ۔ ستاروں کے حوالے سے بانی صاحب کے متعلق جو ایک مصرعہ ذہن میں آتا ہے وہ ہے کہ ’  ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ ۔کبھی ان پہ یہ بھی صادق آتا ہے کہ :    ؎

زاہدِ تنگ نظر نے مجھے کافر سمجھا  :  اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلماں ہوں میں

U                 جوتش اور ستاروں کا علم کیا ہے ؟  اسٹرالوجی   اور اسٹرانومی میں کیا فرق ہے ؟ یہ علم دست شناسی ،  چہرہ شناسی ، جبیں شناسی ، تلوا شناسی وغیرہ کیا ہے ؟آسمانوں یا کائنات میں پھیلے ہوئے بے شمار سیارے اور ستارے کیا انسان کی زندگی پہ اثر انداز ہو تے ہیں ؟ علمِ اعداد کیا ہے ؟ علم غیب کیا ہے ؟ علمِ روحانیت کیا ہے ؟  کیا عالمِ برزخ سے ارواح زمین پہ آتی ہیں یا بلائی جا سکتی ہیں ؟ موکل کیا ہوتے ہیں ؟ چلہ کشی کی حقیقت کیا ہے؟ دوسرے مذاہب میں ایسی باتوں کو کیا سمجھا جاتا ہے اور ان سارے علوم کو اسلامی ہدایت کی روشنی میں کیسے دیکھا جا سکتا ہے ؟ کیا ان کا علم حاصل کرنا کفر ہے یا یہ بھی تسخیر کائنات کے فریضے میں معاون کی حیثیت رکھتے ہیں ؟ کیا یہ سب توہمات پہ مبنی ہےں اور ان کی کوئی حقیقت نہیں یا ان سارے علوم کا وسیلہ بھی دوسرے علوم کا مروجہ طریقہ   حصول ہے ؟ کیا ان علوم کا جاننے والا اسے اپنی آمدنی کا ذریعہ بنا سکتا ہے ؟ اس طرح کے بہت سارے  سوالات ہیں جو انسانی افکار بلکہ اسلامی دنیا کے افکار کا حصہ بنے ہوئے ہیں ۔ان ہی موضوعات پہ میرے مضامین چھپ رہے ہیں بعنوان  ’’ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند ‘‘ ۔ اخباروں میں جگہ کی تنگی کے سبب میں کوشش کررہا ہوں کہ وہ سہل اور مختصر ہوں اور عام آدمی تک اس سلسلے میں مختلف نظریات پہنچ جائیں۔پھر فیصلہ قارئین کے ہاتھ میں ہو ! ہر چند کہ میں یہ جانتا ہوں کہ :   ؎

بر سماعِ راست ہر کس چیز نیست   :  طُمعۂ ہر مُرغکے انجیر نیست

(  سچی بات سننے پہ ہر شخص قادر نہیں ہے  ۔  انجیر ہر حقیر پرندے کی خوراک نہیں ہے )

حشام احمد سی

this article was written in Canada on the meeting of Mr Bani

hesham syed

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: