Hesham A Syed

January 11, 2009

Blind Hearts – 1st portion

Filed under: Islam,Muslim world,Religion,Social Issues — Hesham A Syed @ 7:05 am
Tags:

Urdu Article : Dil key Andhey : Andhey ko andheirey meiN barrhee door ki soojhi – Hesham Syed : 1st portion

دل کے اندھے
اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی !
یہ حادثات،واقعات واصطلاحات کا زمانہ ہے اور لادینی گروہ کے پاس سب سے بڑا ہتھیار ہی ایسی اصطلاحات ہیںجنہیں سن کر آدمی کے عقل کی بتی گُل ہوجاتی ہے ۔ ہر جگہ ہر ملک میں  پروگریسو یا روشن خیال مفکرین نے اسلام کو ایک نیا خول پہنانا شروع کیا ہوا ہے ۔ صرف اسلام کہنے سے بات تو بنتی نہیں اور خارج الاسلام ہونے سے بھی مطلب نہیں نکلتا ہے توکیوں نہ مسلمان جیسا نام رکھ کے ہی ایسی فتنہ پروری کی جائے کہ شیطانوں کے چیلوں میں زیادہ نہ صحیح چند ایک کا ہی اضافہ ہو کچھ تو بگڑے ورنہ جہنم کی فرنچائز تو ان کے ہاتھوں سے چھن جائے گی اگر ان کے کلائنٹ یا کسٹمرClient/Customer) نہ بنے ۔ جدید اسلام کی اصطلاح بھی جدید ہے۔ اس دور کے روشن خیالوں کے بارے میں آپ جو چاہیں کہیں لیکن ان لوگوں کو اسلام سے  ہمدردی بہت زیادہ ہے ۔ یہ دن رات اسلام سے متعلق کس قدرسوچتے رہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی بتائی ہوئی باتوں میں جو کوتاہیاں ہیں ان کو درست کرنے کی فکر انہیں دن رات کھائے جا رہی ہے۔ آخر یہ انسانیت کے علمبردار جو ٹھہرے۔ کائنات اور خود انسان کا جو خالق ہے اسے کیا پتہ کہ انسانیت کیا ہوتی ہے ؟ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے بہت سارے شاعروں کو اس کے تخلیق فن یعنی اسی کے شعر کے مختلف پہلووں سے قارئین اور صاحب حال روشناس کرواتے ہیں ورنہ شاعر کی بساط ہی کیا ہے ؟ سچ تو یہ ہے کہ یہ ایک شیطانی گروہ ہے جو ہر دور میں برساتی مینڈک کی طرح ٹرٹراتا رہتا ہے اور وہ اسی قسم کا دعویٰ اپنے روشن خیال یا پروگریسو ہونے کاکرتا ہے۔ رہ گیا ابلاغ عامہ کا حال سو اسے تو چٹ پٹی ،سنسنی خیز خبروں سے ہی غرض ہے ، بلا کسی امتیاز کے یا قطع نظر اس بات کے کہ اس کا اثرمعاشرے پہ کیا پڑتا ہے یہ ہر قسم کی غلاظت کو افکار آزادی کے حوالے سے نشر کر دیتے ہیں۔ ساتھ ہی وہ ایسے بیہودہ خیال لوگوں کو دانشور گردانتے ہیں جس سے عوام الناس میں ان کا معتبر ہونا ثابت ہو جائے ۔ یہ دانشوروں کی ذلت و رسوائی ہے ، تف ہے ایسی دانشوری پر!
 اگر اللہ اور اس کے رسولوں اور ان سے متعلقات کا مضحکہ اڑانا ہی دانشوری ہے تو بے شعوری ، گستاخی، بیہودگی اور فسق و فجور کیا ہے ؟ کیا ذہنی مفلوک الحالی اس درجہ پر ہے کہ علم و جہالت ، روشنی اور تاریکی کی تمیز بھی اٹھ گئی ہے ؟
اگر ان نام نہاد دانشوروں کے بارے میں تفتیش کی جائے تو یہ علم و تربیت سے بے بہرہ دکھائی دیں گے یا پھر ان کی زندگی میں کسی نہ کسی ایسے واقعہ کا پتہ چلے گا جوان کی ذہنی حالت میں انتشار اور قلب میں فساد پیدا کر گیا ۔ یا وہ کسی سازش کے آلہ کار ہوتے ہیں یا پھر انہیں اپنے نام و نمود کی خواہش یا پیسوں کی فراوانی کا اظہاران ہی راستوں پہ چلنے میںنظر آتاہے ۔ یہ اپنی ٹیڑھی سوچ کو جلا دینے کے لئے گمراہی کے راستوں پہ چلتے ہیں بالکل ایسے ہی جیسے ’ پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں ‘ ۔ جن کتابوں کا یہ مطالعہ کرتے ہیں یا جن ذرائع سے وہ اپنی معلومات کا خزانہ اکھٹا کرتے ہیں وہ سب کی سب سلسلہ ابلیسیت سے ہی متعلق ہوتی ہیں۔
 ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جانوروں میں کچھ کی غذا فضلہ اور غلاظت ہوتی ہے اور وہ اسے کھا کر ہی زندہ رہتے ہیں جبکہ دوسرے اسے کھائیںتو ان کے لیے وہ زہر ہے جسے کھا کر وہ مر جائیں، اسی طرح انسان جو ایک باشعور جانور ہے اس میں کچھ کی غذا ہی بے شعوری اور غلیظ باتیں ہیں اور وہ اسی فضا میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ لیکن اپنی انا میں یا اپنے صحیفہ ٔ ادراک میں اپنے آپ کو عاقل و قابل سمجھتے ہیں وہ بھی اس حد تک کہ انہیں اپنے نزدیک اللہ کا علم بھی حقیر نظر آنے لگتا ہے ۔ ان ہی میں وہ افراد بھی جنم لیتے ہیں جو اللہ کے وجود کا ہی انکار کر بیٹھتے ہیں۔ ساری پابندی کی جڑ بھی تو اللہ کا ہونا ہے۔ کیا اچھا ہے کیا برا اس سے آدمی آزاد ہوجائے اور ایک جانور کی طرح زندگی گزار کر چل بسے۔ اسے کوئی جلا دے ، پانی میں بہا دے ، یا کسی گڑھے میں دفن کر دے کیا فرق پڑتا ہے ؟
لائی حیات آئے  قضا لے چلی چلے 
 اپنی  خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے
 ہم جب ایسے معاشرے میں سانس لیتے ہیں جہاں ماحول میں جرثومے بھی ہوتے ہیں جس سے اس بات امکان رہتا ہے کہ اگر جسم میں دفاعی قوت نہیں تو جسم بیمار ہوجاتا ہے اسی طرح غلط خیالات اور افکار بھی ہمارے قلب و ذہن کو بیمار کردیتے ہیں تا وقتیکہ اس کا علاج نہ کیا جائے۔ جب شیطانی باتوں کی ترویج ہونے لگے تو علاج فوری کرنا چاہئے ورنہ تو مشاہدے میں یہ بات آتی ہے کہ ہزاروں کیا لاکھوں افراد فرزندانِ ابلیس بن کر ایک صاف ستھرے روشن راستے کو چھوڑ کر تاریک راستوں پہ اندھا دھند چلنے لگتے ہیں اور بالآخر تباہ و برباد ہی ہوجاتے ہیں۔ ایک صحتمند معاشرے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا فریضہ جاری و ساری رہنا چاہیے ۔ 
و تواصو ابالحق و توا صوا بالصبر کے  پیشِ نظر آئیے ایسے بہ زعم خود روشن مگرتاریک ذہنوں کی چند بنیادی تجاویز کو دیکھیں کہ ان کی حقیقت کیا ہے ؟
s تجویز نمبر۱:  اسلام کے بجائے انسانیت کا پرچار کیا جائے اورہر انسان کو برابر سمجھا جائے :    انسانیت ہی کا پرچار کرنے تو اسلام آیا ہے پھر اس میں اسلام کے حوالے کو ہٹانے کی تجویز کیوں ؟ کیا یہ اسلام کے معنی و مفہوم سے ہی ناواقف ہیں ؟ اسلام کا مفہوم ہی سلامتی کا ہے ،  سیدھے رستے کا ہے ، اللہ کے حکم کے تابع ہوجانے کے ہیں ۔ حضرت آدم  ؑسے لے کر نبی آخر الزماں محمد ؐ  تک اسلام ہی آیا اور انسانیت ہی کی بات ہوئی تو اب تکلیف کیا ہے ؟ انسانیت کیا ہے، اس کا فیصلہ ہم از خود کریں گے یا ہمارے خالق نے جو کیا ہوا ہے اسے تسلیم کریں گے ؟ ان عقل کے اندھوں کو کیا محسنِ انسانیت میں ، ان  ؐ کی تعلیم و تربیت میں انسانیت کی کوئی بات نظر نہیں آئی یا اس میں کوئی کمی نظر آتی ہے ؟ اور اگر یہ ایسے لوگوں کو دیکھ کر کہ وہ انسانیت پہ کاربند نہیں ہیں یہ بات اٹھاتے ہیں تو وہی لوگ انسانیت کو نہیں سمجھتے جو اسلام پہ کاربند نہیں ، اللہ کے دین پہ کاربند نہیں ، تابعِ رسول ؐ  نہیں ۔ ان روشن خیالوں کو اسلام میں کمی نظر آتی ہے ؟تو انہیںکس نے روکا ہے کہ یہ محسنِ انسانیتؐ کے تابع ہوجائیں اور ایسے گمراہ لوگوں کو تبلیغ اور ان کی تربیت کریں چہ جائیکہ اسے ایک بہانہ بنا کر اسلام اور اس کی تعلیمات کی ہی بیخ کنی کریں۔ بے عمل لوگوں کا علاج یہ تو نہیں کہ معیار انسانیت ہی میں کمی یا تبدیلی کر دی جائے۔ یہ تو الٹی گنگا  بہانے کے مترادف ہے ۔
j ان روشن خیالوں نے کبھی قرآن کا خود مطالعہ کیا ہوتا تو انہیں یہ آیات بھی نظر آتیں جنکا مفہوم ہے کہ اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے ، جس نے کسی اور دین کو اختیار کیا وہ قابلِ قبول نہیں ، محمد ؐآخر رسول الی الناس بنا کر بھیجے گئے، وہ  ؐ تمام انسانوں کے لیے بہترین نمونہ ہیں ، وہؐ اخلاق کی سب سے بلند چوٹی پہ فائز ہیں ، انؐ کی اتباع ہی اللہ کی محبت کی ضمانت ہے اور انؐ  کی اطاعت ہی اللہ کی اطاعت ہے۔ان کی رسالت پہ ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ سارے رسولوں کی رسالت پہ ایمان لے آئے ۔قرآن ساری آسمانی کتابوں پر محیط ہے، محافظ ، رسولؐ سارے رسولوں ، آسمانی کتابوں اور ان کی امتوں پہ شاہدہیں۔ کیا کبھی تاریخ ِ انسانیت یا سیرت رسول ؐ پہ بھی مستند کتابوں کے مطالعہ کی توفیق نصیب ہوئی یا صرف ویب سائیٹ پہ لچر و بیہودہ اور اسلام و رسولؐ  دشمن افکار کو ہی دن رات پڑھا ہے ؟ کیا پوری انسانی تاریخ میں کوئی دوسری مثال ہے جو انسانی اخلاق و ہمدردی و فضائل کے حوالے سے انؐ کی برابری کرتی ہو ؟ کیا چارٹر آف ہیومن رائٹس، رسولؐ اور ان کے صحابہ سے قبل کسی نے مدون کیے تھے ؟ آج بھی اس کی تفصیلات میں حضور ؐکے ہی اقوال و اعمال کا سہارا لیا جاتا ہے۔ مستشرقین کے ریسرچ سکالرز تو حضورؐ  کو پوری انسانی تاریخ کا سب سے بلند انسان اور فہرست میں اول ہونے کا اعلان کریں اور ہمارے درمیان کی کالی بھیڑیں جو نام کے مسلمان بھی ہیں ان کے دلوں پہ اسلام اور پیغمبر اسلام کے پیغامات پہ سانپ لوٹیں۔ چہ بو العجبی است ! سراج المنیر کا تصور تو ہو ، سورج سے پیٹھ موڑیں تو سایہ سیاہ اور طویل ہی نظر آتا ہے اور سورج سر پہ ہو تو سیاہی قدموں تلے ہوتی ہے ۔ اس تمثیل پہ غور کریں شاید بات سمجھ میں آجائے !
$ انسان اور انسانیت کا معیار تو عملی طور پہ متعّین ہو چکا ، یہ کہنا کہ سب انسان برابر ہیں ،  یقیناّعمومی طور پہ اپنے حقوق میں معاشرتی عدل میں سب برابر ہیں لیکن اللہ نے اس کی بھی وضاحت کر دی ہے اور وہ یہ ہے کہ متقین کو ہی فضیلت حاصل ہے ، جو لوگ محبان و فدایانِ الہٰی اور رسولؐ ہیں ان کی ہی اہمیت ہے ۔صرف بات حق کی نہیں بلکہ ساری بات احساسِ ذمہ داری کی ہے۔اس لئے ہر آدمی ایک درجہ میں نہیں ، باشعور اور بے شعور میں ، روشنی اور تاریکی میں فرق ہے۔ ان ساری تمثیلات اور حقائق سے صرفِ نظر صرف ایک بینا اور چشم و عقل سے کوراہی کر سکتا ہے۔
تجویز نمبر۲:  شراب کی حرمت ختم کی جائے ۔کھانے میں حلال و حرام کی تمیز اٹھا دی جائے اور طرز معاشرت میں بھی۔احساس گناہ ختم کر دیا جائے اور مسلمانوں کو کھل کر رقص و موسیقی اور دیگر فنون میں حصہ لینا چاہیے :
قارئین آپ نے دیکھا کہ اصل مقصد ان لوگوں کا انسانیت نہیںبلکہ فسق وفجور اور معاشرے میں ہر قسم کی بے حیائی کا فروغ ہے۔ یہ لوگ انسانیت کے پردے میں کرنا کچھ اور چاہتے ہیں کہتے کچھ اور ہیں۔ ظاہر ہے ان کا معیار انسانیت اور ہے اللہ کی تعریف ِانسانیت اور ہے۔ اب میل ہو تو کیسے ہو ؟
  یہ صرف چند گمراہ مسلمانوںکوبہانہ بنا کروہ کچھ کر گزرنا چاہتے ہیںجو سارے معاشرے کو ہی روحانی اور اخلاقی پاکیزگی سے الگ کر دے۔ یہ فسق و فجور کے راستے کو ہی  دنیاوی کامیابی کے حصول کا ذریعہ سمجھتے ہیں ، ان کی تجاویز ات کو پڑھ کے کیا ان کی ذہنی حالت اور اس کی صحت پہ شبہ نہیں ہوتا ؟کیا مسلمانوں نے اب تک فن ِ لطیف میں کمال نہیں پیدا کیا ہے ؟ کیایہ اسلامی پینٹنگز، تعمیراتی نمونے، آلات ِموسیقی کی ایجادات ، اور دوسرے کھیل کودیا  دوسرے امور ِسائنس و ادب میں مسلمانوں کی شمولیت سے اتنے ہی ناواقف ہیں ؟ ہر چند کہ میں خود یہ سمجھتا ہوں کہ ان اصناف کا اسلام سے بس اتنا تعلق ہے کہ کوئی اپنی حد سے اتنا آگے نہ بڑھ جائے کہ شیطانیت اور بے حیائی یا خود فراموشی کے درجہ میں داخل ہوجائے۔ بس اس چیز سے روکا ہے اسلامی تعلیمات نے ورنہ تو پوری آزادی ہے فکر کی بھی اور تسخیر کائنات کی بھی بلکہ علم و عقل اور ہنر کو حاصل کرنے اور اسے فلاح و بہبود میں کام لانے کی تو ترغیب دی گئی ہے اور ہمت افزائی کی گئی ہے۔ اسلاف کی قربانیاں اور ان کے انتظامی امور ، سائنس کے ہر شعبہ میں ان کا مستند علم ،  ان لوگوں کی حکمت عملی ، ان کی اخلاقی اور روحانی برتری ، ان کی عسکری پیش بندی اور ستاروں پہ کمند ڈالنے والی مشاقی جو ساری دنیا پہ چھائی ہوئی تھی کیا اسی بات کا انتظار کررہی تھی کہ کب یہ جدید ماڈریٹ لبرل مسلمان پیدا ہونگے اور ان کی رہنمائی فرمائیں گے ؟
تجویز نمبر۳ :  جہاد کو یکلخت ختم کر دیا جائے اور اجتہاد کیا جائے :
  یہ تجویز بہ ظاہر سننے میں  بڑی اچھی معلوم ہوتی ہے ، جہادبہ معنی دہشت گردی تو ہے نہیں۔اس سے بھی ان روشن خیال حضرات واقف نہیں کہ ایک جہاد بالنفس ہے اور دوسرا جہاد بالسیف ہے ۔ جہاد بالنفس سے انہیں کیا سروکار اس لئے کہ یہ تو پہلے ہی مادیت پرستی اور ہر قسم کی نفسانی و ہیجانی و شہوانی خوہشات کی تکمیل کے لیے راہ ڈھونڈ رہے ہیں ۔سو یہ جہاد بالنفس جسے جہاد اکبر کہا گیا ہے کا مفہوم کیا سمجھیں گے ۔جس میں جہاد باالسان ہے ، جہاد بالمال ہے ، جہاد بالقلم ہے ۔ سارا جہاد یہ ہے کہ ایثار و قربانی کے جذبات اپنے اندر پیدا کیے جائیں اور اللہ کی عطا کی ہوئی ساری نعمتوں اور رزق کو  اللہ کی راہ میں انسانوں اور دیگر مخلوق کے لیے وقف کر دیا جائے۔ تفصیلات کا یہ کالم متحمل نہیں ہوسکتا اس لئے یہ کسی اور وقت پہ اٹھا رکھتے ہیں ۔ جہاد بالسیف کسی پہ غاصبانہ قبضہ اور جابرانہ  حکومت کرنے کے لیے نہیں بلکہ دشمنانِ دین سے ہوشیار رہنے اور ان کے حملے یا ان کی نقصان دہ چالوں کی مزاحمت اور دفاع کے لئے ہے اور اس بات کے لئے بھی ہے کہ اگر اندیشہ یقین بن جائے کہ دشمن کی نیت خراب ہے تو وقت سے پہلے ماہرانہ چالوں سے صورت حال پہ قابو پایا جائے۔ بعض وقت آفنس اِز دی بیسٹ ڈیفنس  ہی کار آمد ہوتا ہے ۔ یہ اگر ختم کر دیا جائے تو سوائے غلامی کے باقی کیا بچے گا ؟ جنہیں قانونِ قدرت کا ادراک نہیں کہ ’ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات ‘ وہ ان باتوں کو نہیں سمجھ پائیںگے اور اپنی رومانوی یا افسانوی سوچ میں ہی ڈوبے رہیں گے ۔
 رہ گیا معاملہ اجتہاد کا تو اس کے اصول اور قاعدے بھی متعین ہیں ۔ عام طور پہ جو لوگ اجتہاد کی بات کرتے ہیں ان میں زیادہ وہ ہیں جو ہر رسم و قیدسے آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔کسی طرح عبادات میں کمی ہوجائے یا اسے ختم ہی کر دیا جائے ۔ مذہب بس اپنا اپنا ذاتی معاملہ کر دیا جائے ، جو جیسے چاہے اپنا مذہب ایجاد کر لے۔ سنت اور حدیث سے چھوٹ حاصل کر لی جائے ۔ سود کو بسم اللہ کہہ کے جائز قرار دے دیا جائے وغیرہ ۔ میں نہیں سمجھتا کہ اجتہاد کا عمل رک گیا ہے ہاں یہ ضرور ہوا ہے کہ اس عمل کو بے لگام بنا کر بے شمار فتنے کھڑے کردئے گئے ہیں۔کئی ایک خود ساختہ مذاہب نے جنم لے لیا ہے جن کے ماننے والے ایک دوسرے پہ لعن طعن کرتے رہتے ہیں۔ اگر یہی اجتہاد ہے تو ایک اور اجتہاد کی ضرورت ہے اور وہ یہ ہے کہ اصل سے فرار نہ اختیار کرو بلکہ اس کی طرف لوٹ جاؤ۔
  بقیہ صفحہ ۷ سے ۳۱ تک دیکھیں۔۔ دوسری قسط میں
حشام احمد سید

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: