Hesham A Syed

January 11, 2009

Blind Hearts – 2nd portion – pls connect with 1st

Filed under: Islam,Muslim world,Social Issues,Spiritual — Hesham A Syed @ 6:57 am
Tags:

Urdu Article : Andhey ko andheirey meiN barrhi door ki soojhee : Hesham Syed :  2nd portion- pls connect with 1st.

دل کے اندھے  : اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی
گذشتہ سے پیوستہ  صفحہ ۷
تجویز نمبر ۴:  عورتوں کو مردوں کے مساوی حقوق دیئے جائیں اور ان کی امامت کو جائزقرار دیا جائے۔ مردوں کی ایک سے زیادہ شادی کو ممنوع قرار دیا جائے :
7یہ روشن خیال طبقہ ان باتوں کو صرف اس لیے اٹھاتا ہے کہ اس سے یہ تاثر قائم ہو کہ اسلام میں عورتوں کی کوئی اہمیت نہیں حالانکہ اسلام نے عورتوں کو مساوی ہی کیا ایک خاص مقام عطا کیا ہے شرف و عزت کا ۔اگر مساوی حقوق سے مراد ان پروگریسو مسلم خواتین نمائندوں کی ہرطرح کی بے حیائی اور زنا کاری کی اجازت ہے ؟  تو یہ اجازت مردوں کو اور عورتوں کو کبھی نصیب نہیں ہو سکتی ۔ جن ممالک میں اس قسم کی روشن خیالی ہے وہاں کا حشر بھی سب کی نظر کے سامنے ہے ، یہ ضرور ہے کہ اس بارے میں بھی خصوصاّ ملک عرب میں اور بعض ایسے علاقوں میں جہاں تعلیم و تربیت کا فقدان ہے عورتوں کے ساتھ زیادتی اور ظلم روا ہے لیکن یہ روش صرف مشرقی ممالک نہیںبلکہ مغربی ممالک میں بھی یہ بات کثرت سے پائی جاتی ہے۔ عورتوں کو کوٹھری میں بند رکھنا ہی نہیں بلکہ کوٹھے پہ بٹھا دینا ، بازار اور محفل کی زینت بنا دینا بھی تو ظلم ہی ہے۔اس معاملے میں شدت پسندی ہر جگہ ہے اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ طرز معاشرت سے ہے ۔ اسلام  ہمیشہ سے مساویانہ سلوک ہی نہیں بلکہ عورتوں سے ہمدردانہ اور شریفانہ سلوک کرنے کا خواہاں ہے۔ تاریخ اس بات کی بھی شاہد ہے کہ اسلام کے آخری پیغمبر ہی نے آ کر عورتوں کے حقوق و ذمہ داری کی وضاحت کی اور انہیں وہ مقام دلوایا جس کا وہ حق رکھتی تھیں۔ اسلام سے قبل نہ انہیں وراثت نصیب تھی اور نہ ہی کوئی مساویانہ سلوک روا رکھا گیا تھا ۔ انہیں فقط اپنے تعیش کا سامان سمجھا جاتا رہا تھا یا پھر صرف نسل کی فروغ کا کام لیا جاتا تھا ۔ یہ صورت حال ان ممالک میں تھی جہاں اسلام کی روشنی نہیں پہنچی تھی وہی جاہلانہ طرز اور ظلم آج بھی جاری  ہے چاہے وہ مملکت عرب ہو یا عجم، شرقی ہو کہ غربی ۔ صرف رنگِ مذاق بدل گیا ہے۔یہ فخر موجودات کی ہی رحمت للعالمینی تھی کہ بلا نسل و جنس امتیاز کے انسان کو انسان بننا سکھایا۔
 جہاں تک عورتوں کی امامت کا تعلق ہے کسی نے کہا کہ اب تک یہ مردوں کی حجامت کیا کرتی تھیں اب امامت بھی کریں گی ، خیر یہ مذاق اپنی جگہ لیکن اس بارے میں ابھی حال ہی میں یہ عقدہ کھُلاکہ اسرا نعمانی وہ عورت جس نے افریقی النسل امریکی خاتون ودود میں امامت کرنے کی تحریک پیدا کی وہ حضرت شبلی نعمانیؒ کی پوتی ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ ملعون  رشدی کی بھی رشتہ دار ہے ( یہ وہی شبلی نعمانی ؒ ہیں جنہوں نے سید سلیمان ندوی کے ساتھ مل کر سیرت النبیؐ  جیسی ایک ایسی کتاب لکھی جو اردو زبان میں سیرت ؐپہ سب سے مستند کتاب مانی جاتی ہے ۔  پتہ چلا کہ یہ شبلی نعمانی ؒ کی رشتہ داری کی خبر غلط ہے ) ۔ موصوفہ طلاق شدہ تو ہیں ہی اپنے زنا کرنے کا بھی خوب اشتہار کرتی ہیں اور اس فعل حرام سے جو بچہ ہوا ہے اس کو دکھا کہ یہ کہتی ہیں کہ یہ نیا دور ہے ، اب عورت بھی مردوں کی طرح زنا کر سکتی ہے اور اسے سنگسار نہیں کیا جا سکتا۔ بہر حال عورت کی اس امامت کی تحریک میں ماشااللہ بے شمار روشن خیال مرد حضرات جو مسلمان کہلاتے ہیں ان کا فکری اور عملی و مالی تعاون بھی حاصل رہا۔  ایسی ہی ایک دو کیا بہت ساری مثالیں ہمارے سامنے ہیں ، کس کس کا ذکر کیا جائے ؟
(  اہلِ صوف کے یہاں توستار العیوب کے تصور کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور ہر انسان کی عزت نفس کا لحاظ رکھنا چاہیے، چاہے وہ کتنا ہی برا کیوں نہ ہو اور میں بھی حضرت عیسیٰ ؑ کے اس قول کا قائل ہوں کہ سنگسار صرف وہ کرے جس نے کبھی خود کوئی گناہ نہ کیا ہو لیکن فتویٰ یہ ہے کہ معروف لوگوں یا مشاہیر کی غلطیوں کی نشاندہی کر دینی چاہئے تاکہ دوسرے بھی ان کی کمزوریوں اور بد اعمالیوں یا بد اعتقادیوں سے متاثر ہو کر گمراہ نہ ہو جائیں۔ زخم کا علاج مرہم ہی ہے لیکن جب زخم گل سڑ جائے اور بدن میں زہر سرایت کرنے لگے تو اس عضو کو کاٹ ہی دینا پڑتا ہے تاکہ جان بچ جائے۔یہاں یہ بات بھی کہتا چلوں کہ عورت کی امامت کے سلسلے میں میری تحقیق صرف اپنی ہی کتابوں تک محدود نہیں بلکہ مذاہبِ عالم کا بھی میں نے مطالعہ کیا اور ان کے مذہبی رہنماؤں سے بھی تبادلہ خیال  و تحریر کیا جس میں یہودی ، عیسائی ، ہندو ، سکھ ، بدھ مذاہب ہیں تو یہ بات کھُل کے سامنے آئی کہ کسی مذہب میں عورت کو امامت کی اجازت نہیں ۔البتہ بدھ مذہب میں کچھ حالیہ تبدیلی آئی ہے جس میں بعض موقع پر عورت کی امامت کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ اسلام نے بھی مخصوص حالات میں جبکہ کوئی بالغ مرد قران کی آیات سے یا نماز پڑھانے کے طریقوں سے واقف ہی نہ ہو اس کی اجازت دی ہے یا پھر عورتوں بچوں کی اجتماعی نماز ہو رہی ہو چاہے وہ گھر کے افراد ہوں یا باہر کے۔
  کسی اور مذہب میں یہ ہنگامہ آرائی کبھی بھی نہ ہوئی او ر نہ ہی عورت کی آزادی کے حوالے سے یہ فتنہ کھڑا کیا گیا ، پھر یہ اسلام ہی کے حوالے سے یہ باتیں اور بدعتیں کیوں سامنے آتی ہیں ؟ جو لوگ اس مسئلہ کو کھڑا کرنے کے ذمہ دار ہیں ان کا اصلی چہرہ اور افسوسناک کردار بھی لوگوں کے سامنے ہے ۔ چلئے اس بات کو یہیں چھوڑتے ہیں کہ اس موضوع پہ بھی بہت کچھ کہا یا لکھا جا چکا ہے ، ان باتوں میں الجھ کر اب وقت ہی برباد کرنا ہے۔ عورت کے ہی حوالے سے کام کرنے کے اور بہت ہیں ۔ جو ظلم مشرقی یا مغربی ممالک میں روا ہے چاہے وہ  برائے نام مملکت اسلامیہ ہو یا غیر اسلامی میں ہو ، ظلم تو پھر ظلم ہے چاہے کسی کے ساتھ ہو اسلام اسے مٹانے ہی آیا ہے !
  مردوں کی کثرت ازدواج بہت سارے لوگوں کو اس لئے بھی نہیں بھاتی کہ وہ خود اس سے محروم ہیں۔آج کے دور میں تو ایک ہی بیوی بہت بھاری ہے۔ ازواج کی کثرت کا بھی تعلق اسلام سے قطعاًنہیں بلکہ علاقے کی تہذیب و ثقافت سے ہے۔یہ رسم حضور ؐ کے بعثت سے پہلے بھی مروج تھی بلکہ اپنی انتہائی کریہہ شکل میں موجود تھی کہ ایک شخص کی ساٹھ ساٹھ بیویاں ہوتی تھیں ۔ اس لعنت کو حضورؐ نے ہی ختم کیا اور زیادہ سے زیادہ چار کی اجازت دی وہ بھی سخت شرائط کے ساتھ ۔بقیہ ساری خواتین کو طلاق دلوا کر دوسرے مردوں سے جوبیوی سے محروم تھے یا جو ان خواتین کا بہتر خیال رکھ سکتے تھے ان سے نکاح کی ترغیب دی۔ اس زمانے میں خود نکاح کی بھی کئی شکلیں مروج تھیں، عرف عام میں وہ زنا کاری ہی تھی، اسے ختم کیا اور نکاح کو ایک شرعی حیثیت دے کر مردوں اور عورتوں کو اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کا پابند کیا۔ قرآن میں سورہ النسا ء کی ایک ہی آیت ہے جس سے لوگ کثرت نکاح کا جواز نکالتے ہیں لیکن اس آیت پہ غور کریں تو یہ آیت مرد کو اس کی ذمہ داری اور حساب دہی کا احساس دلاتی ہے نہ کہ یہ کھلی چھوٹ دیتی ہے کہ جہاں چاہے جب چاہے منہ مارتا پھرے۔ اگر عرب میں یا ایسے قدامت پرست طبقے میں یہ رسم مروج ہے یا صرف نفسانی اغراض کے لیے عورتوں کو حرم میں داخل کیا جاتا ہے تو یہ فعل یقیناً غیر اسلامی ہے ۔
  کوئی عمل بھی اس لئے اسلامی نہیں ہوجاتا کہ کوئی  نام کا مسلمان یہ کام کر رہا ہے۔ صرف اپنی عیاشیوں کے لئے کوئی شخص بھی اپنے مال و دولت کی کثرت کی وجہ سے اپنے گھر میں حرم آباد کر لے تو اسے اسلام کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ البتہ بہت ساری ایسی وجوہات ہوتی ہیں جس کے بناء ایک سے زیادہ شادی یا نکاح کی ضرورت پیش آتی ہے چاہے وہ وجہ انفرادی ہو یا معاشرتی ، اللہ کے قانون میں اس کی گنجائش اس لیے رکھی گئی ہے کہ انسانوں کو ایسے وقت میں یا ان حالات میں رہنمائی مل سکے ۔ یہ موضوع تفصیل طلب ہے اس لئے کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھتے ہیں۔ لیکن ایک بات یہ بھی علم میں ہونی چاہیے کہ کثرت ازواج یا بہت ساری عورتوں سے نکاح یا انہیں لونڈی بنا کے رکھنے کا عمل تو سارے مذاہب سے متعلقہ لوگوں میں جاری تھا بلکہ بعض مذاہب میں جس میں عیسائیت کی بھی شاخیں ہیں عورتوں سے کثرت سے نکاح توکیا بغیر نکاح کے تعلق کو بھی جائزہی نہیں بلکہ ضرورت قرار دیا جاتا ہے ۔صرف یہی نہیں بلکہ کسی رشتہ کی بھی قید نہیں اور انسیسٹ  کا عمل بھی جاری ہے یعنی ایسی عورتوں اور مردوں سے بھی جنسی تعلق جن کی حرمت قرآن میں ہے۔ حیرت ہے کہ ان روشن خیال لوگوں کی نگاہ اس طرف نہیں جاتی اور اسلام جس میں ہر قسم کی حرمت ہے، پاکیزگی ہے ، احساس ذمہ داری ہے، ان کے لئے وہی اعتراض کے قابل ہے ۔ اگر سچ پوچھیں تو انہیں اعتراض کثرت ازواج پہ ہے یعنی شادی پہ جس کی وجہ کسی بھی مرد پہ اسلامی قوانین کے مطابق ذمہ داری کا بوجھ پڑ جاتا ہے ۔ الرجال قوامون علی النسا ء۔ ورنہ یہ لوگ تو پہلے ہی آزادانہ اختلاط اور جنس پرستی کے مبلغ ہیں ، اس میں ان کو کوئی شرم و حیا محسوس نہیں ہوتی ۔جو لوگ شادی کی ذمہ داریوں سے بخوبی واقف ہیں وہ کہاں ایک سے زیادہ کی سوچ سکتے ہیں تا و قتیکہ کوئی مجبوری نہ ہو ۔ آج پورے مسلمانوں کی آبادی جو ایک اعشاریہ چار بلین ہے اس میں کتنے ہونگے جو ایک سے زیادہ شادی کئے ہوئے ہونگے۔ سو یہ مسئلہ کوئی ایسا نہیں ہے جس سے بہت بڑی جماعت متاثر ہو رہی ہو لیکن ان ہی ساری فضول باتوں کے کرنے سے تو ان روشن خیا لوںکا کام نکلے گا ۔ مغربی ممالک میںجہاں سے ان روشن خیالوں کو فکری مواد اور مال و متاع میسر آتا ہے وہاں کتنے مرد یا عورتیںایسے ہیں جو ایک سے زیادہ کے ساتھ اختلاط یا شب بسری نہ کر چکے ہوں چاہے وہ شادی شدہ یا غیر شادی شدہ کی کوئی تفریق نہیں ہے۔ کتنی مملکتیں مغرب کی اب ایسی ہیں جہاں کی ۰۷ فیصد تک کی آبادی بغیر کسی شرعی نکاح کے پیدا ہوئی ہے اور پل رہی ہے ۔ اور یہی نہیں بلکہ ہم جنس پرستی اور انسیسٹ کو بھی جائز سمجھا جانے لگا ہے اور اسے قانونی تحفظ دے دیا گیا ہے۔ کوئی اب عقل کا اندھا ہی ان باتوں کو اچھا سمجھ کے اپنے روشن خیال ہونے کا ثبوت دے گا۔
 حضور ؐ کی تعلیمات میں ہے کہ ’ حیا نصف ایمان ہے ‘ لیکن اس تعلیم پر ان تاریک ذہنوں کی نظر نہیں جاتی۔ افسوس صد افسوس !
تجویز نمبر ۵ :  موجودہ دور کے سارے دانشور اور پڑھے لکھے لوگوں اور فلسفیوں کو رسولوں اور نبیوں کا مقام حاصل ہو اور ان ہی کے مشوروں سے معاشرہ چلے : 
  ماشا اللہ یہ خاصی دلچسپ تجویز ہے ۔ نہ جانے اللہ میاں کو کیا ہوا کہ صرف ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر ہی بھیجے اور محمد ؐ پہ اختتام نبوت و رسالت کر دی ۔ کتنی مشکل پیش آرہی ہے اپنی پہچان کروانے میں ان لوگوں کو جو مدعیان نبوت و رسالت حضور  ؐ کے بعد ہوئے اور ہو رہے ہیں۔پورے چودہ سو سال میں اب تک مدعیان نبوت و رسالت تقریباّ  ۵۲ سے ۰۳ تک ہیں کیونکہ اس کی جسارت کرنے کے لیے حوصلہ چاہئے اور وہ ابلیس کے خاص چیلوں میں ہی ہو سکتا ہے۔ البتہ امام مہدی اور عیسیٰ مسیح کے بھی مدعی کئی ہوئے اور ان کی تعداد تقریباً۵۵ کے لگ بھگ ہے۔ واللہ اعلم۔
 اس تجویز سے کتنوں کا کام آسان ہو جائے گا ، ہر دوسرے گھر میںبہ شکل فلسفی ، دانشور ، صاحبِ علم ، پروفیسر ، ڈاکٹر ، انجینئر، قانون داں وغیرہ ۔کوئی نبی یا رسول بیٹھا ہوگا ، پتہ نہیں رئیل اسٹیٹ کے لوگ یا مارٹ گیج کے لوگ یا کسی اور پیشہ ور کو بھی اعلان نبوت و رسالت کی اجازت ہو گی یا نہیں ۔جو لوگ صحافی ہیں انہیں تو ملائکہ ہی بننا پڑے گا ۔جیسے جبرائیل وغیرہ ، خبر رسانی جو کرنی ہے ۔ پھر ابھی اس بات کی بھی وضاحت نہیں ہوئی کہ عورتوں میں یہ سیٹ کتنوں کو جائے گی ، قرون اولیٰ ہی سے اگر کوئی روایت لانی ہے تو ایک خاتون نے تو خود حضورؐ کی حیات ارضی میں ہی دعوئ نبوت کیا تھا اور مسلمہ بن کذاب جھوٹے نبی سے نکاح بھی کر لیا تھا ، بعد میں وہ تائب ہو کر حضور سے معافی کی خواستگار ہوئی ۔ سو اس روایت کو دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے ، کیوں نہیں اللہ نے مردوں اور عورتوں کو یکساں حقوق دیئے ہیں ۔ اگر اب تک کوئی نبیا  نہیں آئی تو اب تو آسکتی ہے ، اس زمانے میں اس کی زیادہ ضرورت ہے ۔  وومن لِب  کا زمانہ ہے ۔ خیر یہ اتنی بھی مشکل بات نہیں ہے روشن خیالوں کی کوئی کیبنٹ تو بنے گی ہی سو وہاں جاکے بل پاس کرا لیں گے۔ اللہ اللہ خیر صلاّح!  نبیوں کا انتخاب بھی اب تک اللہ نے خود اکیلے ہی کر لیا تھا اب جب کہ ڈیموکریسی کا زمانہ ہے یہ کام پارلیمنٹ میں ممبران کے چناؤ کے بعد ہونا چاہیے۔ سیلیکشن کو الیکشن سے بدلنا  ہی چاہیے۔ ڈیموکریسی سے بہتر کوئی اور دین یا نظام کیسے ہو سکتا ہے ۔ دنیا کی آبادی آخر اتنی بڑھ گئی ہے اور بڑھتی چلی جارہی ہے ۔ اللہ نے جو تخمینہ لگایا تھا اس سے شاید کہیں زیادہ جیومیٹرک پروگریشن میں بڑھ رہی ہے تو ایسے میں اچانک یہ سلسلہ نبوت و رسالت ختم کر دینے کے کیا معنی ؟ یہ جو حضورؐ  کہہ گئے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں بلکہ مجددین آئیں گے جو اللہ کے دین میں جب بگاڑ کا دھواں پھیلے گا تو اسے دوبارہ صاف وزندہ کریں گے تو شاید اللہ کے رسولؐ نے مذاق کیا ہوگا ، اس لئے کہ جب ہم کسی حدیث ہی کو نہیں مانتے تو یہ کیوں مانیں ۔ پھر جب گھر گھر رسولوں اور نبیوں کی بہتات ہوگی تو حضرت امام مہدی کیوں ظاہر ہوںگے اور حضرت عیسیٰ ؑ دوبارہ نزول کیوں کریں گے اور ایسی صورت میں کیا صحابہ کرام ،کیا اہل بیت اطہار، کیا تابعین، کیا تبع تابعین،کیا محدث اور کیا امام اور کیا اولیا ئے کرام وغیرہ ۔ ان سب کو کیا پتہ کہ اسلام کو روشن خیالوں نے ہائی جیک کر لیا ہے۔ بلکہ اب کرنا تو یہ چاہئے کہ روشن خیال حضرات  ایک نوٹیفیکیشن جاری کر دیں اور آج کل نظام سٹیلائٹ سے یہ پیغام اللہ کو بھیج دیں ایک کاپی سارے فرشتوں اور انبیاؑ و اولیا ء  ؒ کو بھی کہ اسلام اب جدید اسلام بن چکا ہے۔ اب ہمیں قدامت پرستی ذرا نہیں بھاتی ۔ یہ جو ہمارے اسلاف اور پرانے امام اس بات پہ جرح کرتے رہے کہ اللہ قدیم ہے اور قرآن قدیم ہے تو ہماری جدت پسندی کے سبب اس طرف رجوع نہ کیا جائے ! ہم ایک جدید اسلام کی تشکیل میں مصروف ہیں ، قرآن اور اسلامی نصاب کو بدلنے کی بھی کوششیں جاری ہیںاور اس سلسلے میں ہمارے آقا امریکہ بہادر اور رستم زماں اسرائیل سے بڑی مدد مل رہی ہے۔ یورپی مملکتوں کا بھی تعاون ہمیں حاصل ہے ۔
 ہم جلد ہی ایک ایسا اسلام  منظر عام پہ لانے والے ہیں جس کے بارے میں تفصیل اللہ کو بھی پہنچا دی جائے گی اگر وہ  انٹرسٹڈ ہوئے! ورنہ  ہمارے لئے ہمارا اپنا اسلام کافی ہے ۔ہم سب خیریت سے ہیں اور آپ سب کی خیریت و عافیت نیک چاہتے ہیں ! اب جبکہ ہم صلح پسند روشن خیال لوگ  ٹربل وتھ اسلام ،  ماڈرن اسلام  ,جینوئین اسلام ٹرو فرقان  جیسی کتابوں کی اور ویب سائیٹ کی تشکیل دے رہے ہیں تو یہ بنیاد پرست ہمیں یہ کہتے ہیں کہ اس آئت کا نزول ہمارے ہی جیسے لوگوں کے لیے ہوا ہے کہ :  ’’لوگوں میں بعض ایسے ہیں جو بیہودہ باتیں اور حکایتیں خریدتے ہیں ( یا اس کا سہارا لیتے ہیں) تا کہ یہ بے علم اور بے سمجھے اللہ کے رستے سے گمراہ کرے اور ان حکایتوں سے ( اپنی قلم کاری سے اللہ اور اسکے رسول ؐ کے ساتھ) استہزا کریں ، یہی لوگ ہیں جن کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا  ( سورہ لقمان  ۶ ) ‘‘[ ، پتہ نہیں یہ  ریڈیکل  فنڈا منٹلسٹ  ایسا کیوں کہتے ہیں ؟
٭  قارئین کرام روشن خیال  یا پروگریسو مسلمانوں کے گروہ کا کہنا یہ ہے کہ یہ مولوی حضرات یا مذہب پسند لوگ ہمیں ۰۰۴۱ سو سال قبل لے جانا چاہتے ہیں۔چلئے یہ بات ہم مان لیں تو اس سے اچھی کیا بات ہو سکتی ہے کہ وہی تو وہ دور تھا جسے عالمِ انسانیت میں تابناکی حاصل تھی ۔مسلمانوں کو شرف و عزت میسر تھی ۔جاں نثارانِ رسول ؐ ساری دنیا کے اتالیق بنے ہؤے تھے اور وہ تہذیب جو آج ترقی یافتہ کہلاتی ہے وہ اپنے تاریک ترین دور میں تھی۔اسے بھی روشنی اسی بحرِ نور سے مل رہی تھی جس سے وہ اپنا چراغ جلاتے چلے  گئے جب کہ اس کے مقابلے میں یہ روشن خیال لوگ وہ سب کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں جومعاشرے میں دورِ جاہلیہ کی علامت تھی  اُسی غیر انسانی تہذیب کو مٹانے وہ ھادئ برحق حرا سے اتر کر سوئے قوم آیا اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا۔ اب آپ خود ہی فیصلہ کر لیں کہ ان کے دعویٰ روشن خیالی میں کتنی تاریکی پنہاں ہے۔ انہیں کیا پتہ کہ ان کی تہذیبِ نو سے چندھیائی ہوئی آنکھیں بصارت سے محروم ہیں۔ علاج کی تو ان جیسے لوگوں کو ضرورت ہے۔ ! اللہ ان پہ بھی رحم فرمائے اور انہیں ہدایت دے ۔ آمین  !  قرآن کہتا ہے کہ صرف آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل بھی اندھے ہوجاتے ہیں ۔       ؎
دلِ  بینا بھی کر  خدا  سے  طلب  
 آنکھ  کا  نور ،  دل  کا  نو ر  نہیں
حشام احمد سید

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: