Hesham A Syed

January 11, 2009

Establishing of Home or Destruction

Filed under: Muslim world,Pakistan,Social Issues — Hesham A Syed @ 8:17 am
Tags:

Urdu Article : Khaana  Abaadi ya Khaana barbaadi – Hesham Syed     

خانہ آبادی یا خانہ بربادی

یہ بات دیکھنے میں آرہی ہے کہ مسی ساگا ، ٹورونٹو اور کنیڈا کے دوسرے شہروںمیں بھی شادی اور دیگر تقریبات  کے اخراجات میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ جو خاندان ہجرت کر کے یہاں بس گئے ہیں اب ان کے بچے اور بچیاں ماشااللہ شادی کے قابل ہو چکے ہیں جبکہ بیشتر والدین ابھی تک معاش کی فکر میں ہی مبتلا ہیں اور اس معاملے میں انہیں استحکام نصیب نہیں ہوا ہے۔ ماحول یہاں اب پاکستان و ہندوستان کے بڑے شہروں جیسا ہی ہوگیاہے ۔ شادی کی تقریبات ایک کے اوپر ایک لدی جارہی ہیں ۔مہمانوں کی ایک ہی دن میں دو اور تین دعوتیںبھگتانی ہوتی ہیں۔حال یہ ہے کہ سٹارٹر کہیں کھایا ،مین کورس  کہیں اور اور ڈیسرٹ   پھر کہیں اور ، بینکٹ ہال اور کیٹرنگ سروس کے ساتھ اب شادی کی تقریبات کی مینجمنٹ کی بہت سی کمپنیاں کھل گئی ہیں ۔ ایک اندازہ کے مطابق اوسطاً ۰۰۴ سے ۰۰۷ افراد مدعو ہوتے ہیں اور صرف کھانے کے اخراجات ہی ۰۳ سے ۵۴ ڈالر فی کس کے حساب سے عموماََ ۰۰۰،۲۱  سے لیکر ۰۰۰،۰۳ ڈالر تک ہوتے ہیں جبکہ بینکٹ ہال کا کرایہ ، ڈیکوریشن اور دوسرے لوازمات پہ خرچے الگ ہیں۔  تقریبات میں نمود و نمائش کی دوڑ اتنی بڑھ گئی ہے کہ بعض لوگ صرف کھانے اور ایک وقت کی تقریب پہ ایک لاکھ ڈالر تک یا اس سے بھی زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ یہ تو صرف ایک تقریب یعنی بارات یا ولیمہ کا تخمینہ ہے ، رسومات بھی طرح طرح کی ایجاد ہو چکی ہیں ۔ اللہ سلامت رکھے بالی ووڈ ، ہالی ووڈ کو اور ثقافت کا پرچار کرنے والوں کو کم سے کم پانچ رسمیں کسی بھی شادی کا حصہ بن گئی ہیں، منگنی ، ڈھولکی ، مہندی ، بارات اور ولیمہ کسی بھی شادی کے لوازمات ہیں ہر تقریب کے اپنے الگ اخراجات ہیں ۔جہیز و بری اور اس درمیان میں یا اس کے بعد تعلقات کو استوار کرنے اور رکھنے کے لیے تحفہ و تحائف و دیگر دعو توں کا سلسلہ الگ ہے۔ اس دوڑ میں صاحب ثروت افراد ہی نہیں ہیں بلکہ وہ افراد بھی ہیں جن پہ قرضوں کا بار چڑھا ہوا ہوتا ہے ۔ گھر قرض پہ ، گاڑی قرض پہ ،  بچوں کی تعلیم قرض پہ لیکن بے شعوری اور بے حسی کا عالم طاری ہے اور دما دم مست قلندر جاری ہے۔ دیکھا جائے تو وبا کی صورت پیدا ہوگئی ہے ، وہ جن کے پاس حرام کا پیسہ ہے ان کے تو کیا کہنے ، ان کا تو کام ہی یہی ہے کہ وہ معاشرے میں ایسی رَوِش کو فروغ دیں کہ ایک عام آدمی کا جینا دوبھر ہوجائے اور وہ ساری عمر ایک نفسیاتی خلجان کا شکار رہے۔لڑھکتا ،سسکتا ، تکان سے چور ، حواس باختہ اس دوڑ میں شریک رہے ۔اکثر ایسے لوگوں کا معاملہ وہ ہے کہ کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھول گیا ۔

           ایک خیال یہ ہے کہ کوئی اگر اسلامی طرز اور مالِ حلال میںزندگی گزارنا چاہے تو وہ انتہائی امیر یعنی  ڈرٹی رچ  بن ہی نہیں سکتا ۔ پیسہ صرف انہی لوگوں کے پاس ہوتا ہے جو یا تو چوری ، غبن ، رشوت ، ڈرگ یا دوسرے غیر اخلاقی کاروبار میں مشغول ہوتے ہیں یا لوگوں کو طرح طرح سے دھوکہ دیتے ، ٹیکس کی چوری کرتے، ضرورتمندوں میں دولت کی تقسیم کے بجائے ارتکاز دولت کا رویہ اختیار کرتے ہیں ۔ورنہ حلال طریقے اور محنت کی کمائی آپ کوگزر بسر کا سامان اور ضمیر کو اطمینان تو بخشتی ہے ،فضول اخراجات اور تعیش و نمود نمائش کے لئے سرمایہ فراہم نہیں کرتی ۔ آپ معاشرے پہ نظر ڈالیں تو ایسی تقریبات میں یا ایسی ہی کسی دوسری تقریبات میں عموماً پیسے صرف ان لوگوں پہ خرچ کئے جاتے ہیں جو پہلے ہی دولتمند ہوتے ہیں ، جو اعزایا جاننے والے بیچارے مفلوک الحال ان کی پذیرائی لوگ ایسے کرتے ہیں جیسے کہ ان پہ احسان کیا جا رہا ہو۔ ہم میں سے چند نہ چاہتے ہوئے اس لئے بھی یہ سب کچھ کرتے ہیں کہ یہ رسم دنیا بھی ہے دستور بھی ہے۔ ڈر ہے کہ لوگ کیا کہیں گے ؟ رشتہ دار کیا کہیں گے ، گھر ہی پہ بیوی اور بچے کیا کہیں گے ؟ سوچا جائے تو یہ ’ ’ کیا کہیں گے ‘‘ کا سلسلہ اتنا دراز ہے اور اسکی نفسیات ایسی ہے کہ اس کا کوئی علاج ہے ہی نہیں۔ تاوقتیکہ آدمی اپنے اندر اتنی ہمت و جسارت پیدا کرے کہ معاشرے میں اس مرض کا علاج ہو سکے۔ والدین میں سے دونوں ہی آج کل دن رات اپنے بچوں کو پالنے کے لیے محنت کر رہے ہوتے ہیں تو بچوں کو بھی یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ وہ محنت سے کمائے ہوئے  پیسے کی قدر کرنا سیکھیں اور والدین کی جدوجہد میں شریک ہوں بجائے اس کے کہ دوستوں اور رشتہ داروں کے اصراف کو دیکھ کر خود بھی متاثر ہوں اور والدین پہ بھی بالواسطہ اور بلا واسطہ اثر انداز ہوں۔ خاتون خانہ اس سلسلے میں زیادہ اثر انداز ہوتیں ہیں اور گھر کے مرد کو اس طرح جذباتی یرغمال بنا لیا جاتا ہے یا یہ کہہ لیجئے کہ  ایموشنل بلیک میل  کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس اور کوئی صورت رہتی نہیں سوائے اس کے کہ وہ کہے ’چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی‘۔

           ایسے افراد کے لئے مسئلہ اور زیادہ گمبھیر ہوجاتا ہے جن کے ایک دو نہیں بلکہ، چار ، پانچ بچے ہوں ۔ ایک بحث جو سامنے آتی ہے کہ بچے اور ان کی مائیں یہ کہتی ہیں کہ کیا ہوا شادی زندگی میں ایک بار ہی ہوتی ہے سو اس میں آدمی ہاتھ کیوں روکے؟ پھر دیکھئے فلاں کے فلاں نے کیسی تقریب کی ، یا تو آپ بھی وہی اہتمام کریں یا پھر ایسی تقریب میں جانا چھوڑ دیں ورنہ سوائے شرمندگی کے کیا حاصل ہوگا ۔ بات ہاتھ روکنے کی نہیں بلکہ اپنے حالات کو دیکھنے کی ہے۔ یہ کون سی عقلمندی ہے کہ خود آدمی قرض میں ڈوبا ہوا ہو اور شادی کی ہنگاموں کے لیے مزید قرض لے لے۔ سادہ سی تقریب کر کے اخراجات کو کم کر کے جو پیسے بچیں اس کو بچوں کے تعلیمی قرضوں کی ادائیگی یا ان  کے گھر کے قرضوں کی ادائیگی پہ خرچ کرنا زیادہ سود مند ہے نا کہ اپنی ساری نسل کو مقروض بنا کے

 ہا ہا ہو ہو میں مصروف رہے ۔لوگوں کا کیا ہے آج آپ کے پاس دکھانے کو پیسہ ہے تو بے شمار لوگ آپ کا طواف کرتے ہوئے نظر آئیں گے ۔ کتنوں کو آپ کے اندرونی مسائل سے دلچسپی ہوتی ہے ؟ ملنے والوں میں تالی پیٹنے والے اور واہ  واہ کرنے والے جتنے چاہیں جب چاہیں اکٹھا کرلیں وہی آپ کو ذرا سی دشواری میں دیکھ کر منہ پھیر کر ایسے گزر جائیں گے جیسے کوئی واسطہ ہی نہ رہا ہو۔ یہ دنیا مقام عبرت ہے ۔

          رہ گیایہ سوال کہ شادی ایک بار ہی ہوتی ہے تو یہ بھی کوئی ضروری نہیں ہےـ اور چلئے کسی حد تک اسے مان بھی لیا جائے تو ایسی بہت سی باتیں زندگی میں ایک بار ہی ہوتی ہیں جیسے آدمی کو زندگی بھی ایک بار ہی عطا ہوتی ہے۔ آدمی مرتا بھی ایک بار ہی ہے۔ سو ایسا کام آدمی کیوں کرے کہ وہ روز جئے ا ور روز مرے یا روز مر مر کے جئے ؟ فرض کریں کہ قرض نہیں بھی ہے توعقلمندی یہی ہے کہ پیسوں کو جائز مد میں اور تعمیری کاموں میں خرچ کریں ۔صرف کسی تقریب میں سالوں کی محنت سے کمائے ہوئے پیسوں کو جلا کے پھینک دینا کونسی عقلمندی ہے ؟ غور کریں تو ایسی تقریب میں بہت زیادہ اخراجات ایسے بھی ہوتے ہیں جو قطعاً غیر شرعی ہیں جیسے کہ موسیقاروں اور گانے والوں یا رقص کرنے والے طائفوں کا انتظام ۔ ضرورت سے زیادہ سجاوٹ اور بناوٹ وغیرہ۔ اللہ اور اس کے رسول ؐ  کی ہدایت ہمارے پاس موجود ہے ، اللہ کو بخل ناپسند ہے تو اصراف و نمود و نمائش بھی ناپسند ہے۔ یعنی یہ خود اپنے پیسے خرچ کر کے اللہ کی ناپسندیدگی خریدنے والی بات ہوئی ۔ بات صرف یہ نہیں کہ آدمی یہ دیکھے کہ وہ یہ سب چیزیں کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں بلکہ انسان کو یہ دیکھنا چاہیے کہ ایسے شور و ہنگامے کا دوسروں پہ کیا اثر ہوگا ؟ دوسروں کی صلاحیت کیا ہے ؟ انسان کو دنیا میں ایسے نہیں جینا چاہیے کہ وہ خود کیسے جینا چاہتا ہے بلکہ ایسے جینا چاہیے کہ اس کے کسی عمل سے دوسروں کی زندگی کا توازن خراب نہ ہو اور وہ کسی پریشانی میں نہ مبتلا ہوں۔ حرص و ہوس و خواہشات و تمناؤں کی تو کوئی حد نہیں۔ شادی کا مقصد ایک پاکیزہ و خوشحال گھرانے کے قیام کا ہے۔اگر یہ بات کثرت کی بنیاد بھر ثبوت کو پہنچی ہوتی کہ شادی کی تقریب پہ جس نے جتنا زیادہ خرچ کیا وہ اتنا خوش ہے اور اس کی خانگی زندگی زیادہ مطمئن ہے تو اصراف کاکوئی جواز بنتا ہے۔ لیکن یہ بات مشاہدے میں ہے کہ شادی کی کامیابی صحیح عقل و سمجھ اور کفو پہ ہے ورنہ بہت بڑی تقریب کے باوجود چند ماہ یا سال میں ہی علیحدگی اور طلاق بھی آئے دن ہوتی رہتی ہے۔ سارے اخراجات اور شان و شوکت پہ پانی پھر جاتا ہے۔ خانہ آبادی کے بجائے خانہ بربادی  ہو  جاتی ہے ۔

          موجودہ حالات میں کوئی صحیح فکر رکھتا بھی ہو تو وہ معاشرے اور گھر والوں کے دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے ، اس میں بڑے بڑے مبلغین  اور داعیِ اسلام بھی ہیں لیکن ہمارے ہی درمیان ایسے جرات مند بھی ہیں جو اقتصادی صلاحیت رکھنے کے باوجود اللہ ، اسکے رسول ؐ اور معاشرے کی اصلاح کا خیال رکھتے ہوئے ساری فضول باتوں ، رسوم اور اخراجات سے پرہیز کرتے ہیں اور اپنے پیسوں کو مفید کام میں لگاتے ہیں جس سے ان کی زندگی میں بھی اور ان کے بچوں کی زندگی میں بھی توازن و استحکام پیدا ہوتا ہے۔ کیا ہم اور آپ کا شمار ایسے لوگوں میں نہیں ہوسکتا۔ اپنی جھوٹی خواہشات کو قربان کر کے، اپنی تقریبات سے رقم بچا کر حالات کے مارے ہوئے دوسرے لوگوں کے مسائل کو حل کرنا تو بہت ہی بڑی بات ہے…کم سے کم اپنے ہی مسائل اور دشواریوںکا حل اور علاج کر لیا جائے تا کہ کسی کا دست نگر نہ ہونا پڑے اور یہ سب اپنے ہی ہاتھ میں تو ہے ۔ صرف سمجھ بوجھ ارادہ کی مضبوطی اور اس پہ عمل ہی کی تو ضرورت ہے !

ناپید  ہے  بندۂ  عمل  مست  :   باقی  ہے  فقط  نفس  درازی

ّ ( یہ باتیں صرف پاکستان یا کنیڈا تک ہی محدود نہیں بلکہ ان کا اطلاق ہر ملک اور ہر جگہ یکساں ہوتا ہے )

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: