Hesham A Syed

January 11, 2009

Internal Disease !

Filed under: Global,Muslim world,Religion,Spiritual — Hesham A Syed @ 4:30 am
Tags:

Urdu Article : Baateny BimaariaaN : Hesham Syed :

باطنی بیماریاں   

حیرت ہے کہ ہم میں سے اکثر سور کا گوشت (لحم خنزیر) اور شراب ( اُمُّ الخبائث) کا سن کر ہی ایک کراہت سی محسوس کرتے ہیں ۔کھانا اور پینا تو دور کی بات ہے ۔لیکن اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاتے ہوئے  ذرا بھی کراہت محسوس نہیں کرتے۔

« اے اہل ایمان !  بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ بعض گمان گناہ ہیں اور ایک دوسرے کے حال کا تجسس نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے ۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے ؟ اس سے تو تم ضرور نفرت کروگے !  القرآن : ۹۴۲۱ ۔

( تو غیبت  و چغل خوری نہ کرو )  اور اللہ سے ڈرو ۔بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔

ٓ« احادیث ِ رسول ؐ :٭ حضرت ابو ہریرہؓ  کی روایات کا مفہوم ہے کہ آپؐ نے فرمایا ؛ کسی کے عیب کے بارے میں اس کے پیچھے وہ بات کہنا جو اس کے سامنے کہی جائے تو اسے بری معلوم ہو تو یہ غیبت ہے اور اگر وہ عیب اس شخص میں موجود ہی نہ ہو تو وہ بہتان ہے۔ کتب ابوداودؒ  و ترمذیؒ۔

٭ حضرت عائشہ ؓ کی روایت کا مفہوم ہے کہ کسی کو پستہ قد استہزا سے کہنابھی غیبت ہے۔

٭ حضرت معاذ بن انسؓ کی روایت کا مفہوم ہے کہ کسی نے بچایا اگر کسی مومن کو منافق سے تو اللہ بچائیں گے اسے دوذخ کی آگ سے اور جو کسی کی توہین و بہتان کا مرتکب ہوا اس کی سزا پوری ہوگی جہنم میں۔

٭حضرت سعید بن زید ؓ کی روایت کا مفہوم ہے کہ زبان کی دست درازی  بغیر حق کے سب سے بڑھ کے ہے۔

٭حضرت مستوردؓ کی روایت کا مفہوم ہے کہ جو کسی مسلمان کا عیب لوگوں میں مشہور کرے اللہ کے یہاں قیامت میں وہ ستایا جائے گا۔

٭  حضرت انس  ؓ کی روایت کا مفہوم ہے کہ معراج کی شب حضورؐ نے ایسے افراد دیکھے جو اپنے منہ کو ناخن سے چھیلتے تھے ، حضرت جبریل نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو دوسروں کی آبرو کے پیچھے پڑے رہتے تھے اور غیبت و عیب جوئی کرتے تھے۔

٭حضرت جابرؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ  کی روایات کا مفہوم ہے کہ فاسق ( جو گناہ کھلے عام اور بہ تکرار کرے ) اور فاجر ( جو پوشیدہ گناہ کو ظاہر کرے )  ایسے لوگوں کا ذکر دوسروں کو صرف ہوشیار کرنے یا کسی نقصان سے بچانے کی غرض سے جائز ہے اور یہ غیبت نہیں۔

٭حضرت ابن مسعودؓ کی روایت کا مفہوم ہے کہ آپ ؐ نے فرمایا کہ کوئی مجھ سے کسی دوسرے کی صحابی ؓ کی شکایت نہ کرے کہ میں اپنا سینہ ہر قسم کے بغض و کینہ سے صاف رکھنا چاہتا ہوں۔

٭ آپ  ؐ عظیم اخلاق کے مالک ہیں ، آپ ؐ  کی اطاعت اللہگ  کی اطاعت ہے ، اللہ کے محبوب بننے کے لیے آپ ؐ  کی  اطاعت و اتباع شرط ہے ، آپ  ؐ کی سیرت مسلمانوں کے لیے بہترین نمونہ ہے۔القرآن : ۸۶۴ ، ۴۰۸ ، ۳۳۱۲ ، ۳ ۱۳  و ۲۳ ۔

          اب ذرا ہم سب اپنا محاسبہ کریں اور اپنی شکل آ ئینہ احکام ِ الہٰی و فرموداتِ رسول ؐ میں دیکھیں تو نظر آنے لگے گا کہ ہماری موجودہ محفلوں کا رنگ کیا ہے ؟

          ہم میں سے اکثر اپنی تحریروں میں تقریروں میں ، انفرادی طور پہ یا اجتماعی محفلوں میں اس بیماری میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ یا تو کسی ایک شخص کی برائی کر رہے ہوتے ہیں یا حالات کی ، کسی طبقے کی ، نسل کی ، فرقہ کی ، قبیلہ کی ،  معاشرے کی یاملک کی گویا جس کے جی میں جو آتا ہے لطف اٹھانے کو رنگا رنگ داستان بیان کررہا ہوتاہے بلکہ اکثر و بیشتر تخلیق کر رہا ہوتا ہے! اور اگر تھوڑا سا تجزیہ کریں تو باتیں جو بڑے وثوق سے کہی جارہی ہوتی ہیں ان کا کوئی سر پیر بھی نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کی کوئی علمی یا تحقیقی سند ہوتی ہے ۔عیب جوئی کی اس عادت ِقبیح کے پیچھے بھی اکثر اس کے خوگر کی اپنی اناکی تسکین ہوتی ہے ۔ کسی کی برائی یا استہزا کر کے اپنی بڑائی یا اچھائی کا بیان مقصود  ہوتا ہے۔ مشہور معقولہ ہے اور تجربہ کی بات بھی ہے کہ زبان کا لگایا ہوا زخم تلوار سے زیادہ گہرا ہوتا ہے اور  موجودہ دور میں زبان کے ساتھ قلم کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ غیر ذمہ دارانہ رویہ ہر طرح کے فساد کو جنم دیتا ہے جس کا نقصان دوسرے تو اٹھاتے ہی ہیں خود ایسی عادتوں کا عادی شخص بھی خفت و ہزیمت اٹھاتا ہے۔

«انسان بڑا جھگڑالو ہے ۔ انسان برائی بھی اسی طرح مانگتا ہے جیسے اچھائی۔ وہ طرح طرح کے نفسانی وسوسوں میں مبتلا ہے۔القرآن : ۸۱۵ ، ۷۱۱۱ ، ۰۵۶۱ ۔

٭ایک بزرگ تھے جو اپنی غیبت کرنے والوں میں مٹھائی تقسیم کیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ تم نے میرے گناہ کم کر دئے کیونکہ یہ روایت ہے کہ غیبت اور چغل خور ی کرنے والے کی نیکی اس آدمی کے حساب میں چلی جاتی ہے جس کی وہ غیبت کر رہا ہو سو جو شخص میری غیبت کر کے اپنی نیکی کی جمع پونجی مجھ پہ لٹا رہا ہو اسے میں مٹھائی بھی نہ کھلاوں یہ بڑی زیادتی ہے ! اس سے بہتر میرا دوست کون ہو سکتا ہے جو اپنے آخرت کے سرمائے کو مجھ پہ لٹائے!!

          جو لوگ اس فعلِ قبیح میں گرفتار ہیں وہ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ہمارا مقصد اصلاح ِ معاشرہ ہے لیکن اس بات کا فیصلہ وہ خود کر سکتے ہیں کہ ان کی نیت کیا ہے ۔انسان کے اندر اللہ نے ضمیر ایک ایسی چیز بنائی ہے جو ہر غلط عمل یا گناہ سے پہلے اسے ٹوکتی ضرور ہے تاوقتیکہ کسی نے کثرت اور تکرار جرم و گناہ سے قلب و ضمیر کو ہی ناکارہ بنا دیا ہو۔ فرد کی اصلاح کا طریقہ بھی اللہ کے رسول ؐ نے بتایا ہے ۔ دو چیزیں ہمیشہ مد نظر رکھنی چاہئیں ایک تو یہ کہ اللہ ستار العیوب ہے یعنی عیب یا کمزوری کو چھپانے والا ہے اور دوسرے یہ کہ اپنے آپ پہ بھی نگاہ ہو اور اپنی کمزوریوں سے بھی حیا آئے۔ کوئی شخص ایسا نہیں جس میں کوئی کمزوری نہ ہو ۔

«انسان خلقتہً ضعیف ہے ، کیا تم اپنے قول و فعل کے تضاد پہ غور نہیں کرتے۔القرآن : ۴۲۸ ، ۰۳۴۵  ، ۲۴۴۔

 ٭۔اصلاح  ِفرد ہو سکے تو خاموشی سے بغیر گناہ گار کو سر عام رسوا کئے کیا جانا چاہیے ۔ یہ طریقہ زود اثر ہے تاوقتیکہ کوئی کسی اخلاقی طریقہ اورالتزام ِاحترام  ِناموس کے باوجود بھی اپنی بد اخلاقیوں اور بد اعمالیوں سے معاشرے کو بگاڑنے پہ تلا ہوا ہو۔  اللہ کے یہاں توبہ کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں ۔ اکثر لوگوں کی اصلاح خوبصورت انداز تبلیغ  اورکسی نہ کسی اخلاقی دباؤ کی وجہ سے ہوجاتی ہے اور معاشرے میں کسی کی برائی کو عام کرنے سے اس شخص میں عمومی طور پہ رد عمل یا ضد کی صورت میں مزید خرابی پیدا ہوتی ہے۔ ہمیں پہلے اپنی نیتوں کو ٹٹول کے اصلاح فرد  اور معاشرہ کی طرف بڑی عقلمندی سے قدم اٹھانا چاہیے۔

« عقل سے کام نہ لینے والوں پہ گندگی پڑتی ہے۔  القران: ۰۱۰۰۱ ۔

٭آج ایک صاحب ِ دل  یاد آ گئے جنہوں نے قرآن کی  سورۃ الھمزہ  مکیہ کو بیسویں صدی کے حالات کی بشارت بتاتے تھے اور اس کی تفسیر و تشریح  یوں کرتے تھے ۔

٭  تباہی ہے ہر اس شخص کے لیے جو ( منہ در منہ ) لوگوں پر طعن اور (پیٹھ پیچھے ) برائیاں کرنے کا خوگر ہے۔   ( گویا غیبت ، بغض و کینہ اور چغل خوری کے عادت میں مبتلا ہے ) ۔ القران: ۴۰۱۱ ۔

٭  جو مال جمع کرنے میں مصروف رہتا ہے اور اسے گن گن ( سینت سینت ) کے رکھتا ہے ۔ القران:۴۰۱۲ ۔

٭ وہ یہ گمان رکھتا ہے کہ اس کا مال ہمیشہ اس کے پاس رہے گا ( جس سے وہ لطف اندوز ہوتا رہے گا، جیسے کہ یہ مال اسے حیات جاویداں بخشے گا اور وہ بھول جاتا ہے کہ زندگی  فانی ہے ۔گویا لالچ اور حرص اس کا خاصہ ہے ، مادیت پرستی کے رجحان کی طرف اشارہ ہے جس میں اس وقت ہر شخص کسی نا کسی درجہ میں گرفتار ہے ۔) القران:۴۰۱۳ ۔

٭ نہیں وہ شخص تو چکنا چور کر دینے والی جگہ (یا نظام فطرت ) میں پھینک دیا جائے گا ( گویا نام و نشان بھی مٹا دیا جائے گا )۔  القران:۴۰۱ ۴ ۔

٭  اور تم کیا جانو کہ وہ چور کردینے والی جگہ کیا ہے ؟  القران: ۴۰۱۵۔

٭وہ اللہ کی آگ ہے خوب بھڑکائی ہوئی جو دلوں تک پہنچے گی ( اس سے مراد نفرت و عصبیت  کے شعلے اور طرح طرح کے نفسیاتی امراض بھی ہو سکتے ہیں ) ۔وہ ان( ایسے افراد)پہ ڈھانک کر بند کر دی جائے گی ( یعنی ایسے لوگ اپنے عمل کے نتیجے میں مسلط عذاب سے نکل نہیں پائیں گے ) ۔ اور وہ اس حالت میں کہ اونچے اونچے ( آگ کے ) ستونوں میں وہ گھرے ہوئے ہوں گے( ان ستونوں کی تشریح مختلف مفسروں نے روایات اور اپنی عقل و بساط کے مطابق کی ہے ۔ اکثر نے اسے جہنم میں ہی آگ کے ستونوں سے تعبیر کیا ہے جو ایسے لوگوں پہ سزا کے طور پربھڑکائی جائے گی جو مندرجہ بالا بد اعمالیوں کے مجرم ہوں گے)۔  القران: ۴۰۱۶  تا  ۹۔

                     ایک اور فکر جو سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ جب معاشرے میں چغل خوری ، غیبت ، طعنہ زنی ، کینہ پروری ، اور مادیت پرستی ایک وباکی صورت اختیار کر لے اوراتنی عام ہوجائے کہ انسانیت اور اس کی حرمت کا احساس ہی باقی نہ رہے تو اس کے رد عمل میں ایک عذاب خود انسان کے ہی ہاتھوں اسی دنیا میں ایک عمودی آگ کی شکل میں آئے گا جیسا کہ موجودہ دور میں ایٹامک یا نیوکلر بم  کے پھٹنے پہ دیکھا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے قرآن کی یہ سورۃ اس دور یعنی بیسویں صدی کی بشارت ہے ۔ یہ بات تو بعینہ ِ حقیقت ہے کہ مندرجہ بالا ساری بیماریاںآج کے دور میںجتنی عام ہیں شاید کسی دور میں نہیں رہی ہوں گی ۔ انفرادی طور پرتو لوگ ان بد اعمالیوں کا شکار ہیں ہی ، ابلاغ عامہ اور غیر ذمہ دارانہ صحافت نے اس بیماری کو ملکی اور غیر ملکی سطح پہ بھی عام کر دیا ہے یعنی تمام عالم اس وبا کی لپیٹ میں ہے اور شاید ہمیں یہ احساس نہیں کہ باطنی یا روحانی بیماریایوں کی وبا سارز، کینسر اور ایڈز سے بھی زیادہ خطرناک و  مہلک ہوتی ہیں۔ یہ علمی بحث اور مناظرہ سے قطع نظر کہ یہ انداز فکر یا قرآنی آیات کی تشریح کی حقیقت کیا ہے ۔  انسان کو اپنے کئے کی سزا چاہے دنیا میں ملے یا آخرت میں ، سوال یہ ہے کہ آخر کیوں ملے ؟ کیا ہمارے لئے یہ  لمحہٰ فکریہ نہیں ؟ کیا ہم خود اپنا محاسبہ کر کے اپنے رویے  اور حالات میں تبدیلی پیدا نہیںکر سکتے ہیں ؟ اس کایہی علاج ہے اور ایک خوشگوار اورصحتمند معاشرے کی تعمیر کی طرف پہلا  قدم !

٭قَد اَفَلَحَ مَن زَکّٰھاٰ  ٭ وَ قَد خَابَ مِن دَسَّھَا٭

یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اچھے رجحانات کو دبا دیا ۔

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: