Hesham A Syed

January 11, 2009

Is the religion a hindrance in Progress ?

Filed under: Global,Religion,Social Issues — Hesham A Syed @ 1:33 pm
Tags:

Urdu Article : Kia Mazhab insaan ki taraqi meiN maaney hai ? Hesham Syed

حشام احمد سید

کیا مذہب انسان کی ترقی میں مانع ہے ؟

یہ بات اکثر محافل میں زیر بحث رہتی ہے ، خصو صا وہ لوگ جو بہ ظاہر روشن خیال کہلانا پسند کرتے ہیں اور ہر معاشرے کی تنزلی کا سبب مذہبی رجحان کو ہی قرار دیتے ہیں ان کے نزدیک تو اس سوالیہ موضوع کا جواب ہاں میں ہی ہے۔ لیکن یہ بات یونہی دو ٹوک کے جواب میں ختم نہیں ہوجاتی بلکہ وضاحت طلب ہے۔

          سب سے پہلے تو مذہب کی اصطلاح کو سمجھنا ضروری ہے ۔ ہم میں سے اکثر یہی سمجھتے ہیں کہ ہر مذہب کی بنیاد  ایک آسمانی کتاب یا صحیفہ ہی ہے اور دین و مذہب کو ایک ہی سکہ کا دو رُخ گردانتے ہیں۔ جبکہ صورتِ حال  خاصی مختلف ہے۔ دین الہی خمیر اصل ہے اور مذہب کے بننے یا بنانے میں انسانی تعقل کارفرما ہوتا ہے ۔ اگر عقل گمراہ ہو گئی تو مذہب کی شکل بھی دین الہٰی کے آیئنے میں وہ نظر نہیں آتی جس کا کہ وہ متقاضی ہوتاہے۔ انسانی معاشرت کی ابتدا دین الٰہی یعنی وہ علم جو خالق ِ و عالمِ کُل نے انسان کو آب و گل سے نکال کر ہی عطا کی اس سے ہوئی۔ اسی لیے دین الٰہی کا بنیادی ڈھانچہ ابتدایہ دور سے آج تک وہی ہے اور نہ کبھی اس میں تبدیلی  واقع ہونے والی ہے۔ دین الہی کا نام ہر علاقے کی زبان کے حساب سے جو کچھ بھی ہو لیکن اس کا مفہوم اسلام ہی ہے گویا سلامتی کا راستہ ، اپنے آپ کو اپنے خالق یا خالقِ کائنات کے آگے جھکا دینے کا طرزِ عمل یا رویہ۔دین الہٰی انسانی معاشرے میں اس کی روحانی اور مادی تقاضوں اور اس کی ضروریات کی رہنمائی کرتا ہے۔ یہ ایک توازن فراہم کرتا ہے اور انسان کے گرد ایک ایسا دائرہ کھینچتا ہے جس کے اندر رہ کر انسان اپنی عارضی زندگی کے اوقات کار کو بامقصد کاموں میں صرف کرتا ہے۔

          انسان بہر حال دنیا کے لیے ہی پیدا کیا گیا ، اور یہی زمین اس کی جائے قرار ٹھہری ، اسی زمین کی خلافت اسے سونپی گئی اور کائنات میں غور و تدبر کی صلاحیت بخشی گئی۔ غور کا تعلق علمیت سے ہے اور تدبر معاشرے کے نظام اور ایسی قوتوں کو اپنے فائدے میں لانے کا عمل اور اس کی منصفانہ تقسیم ہے جس سے کہ اس کی خلافت الارضی کا حق ادا ہو سکے۔

          اس دنیا میں ایسی معاشرت یا اس کا نظام جو اپنے مصور ، خالق و رازق سے یا اس کے احکام سے ہی ناواقف ہو لیکن اس کے باوجود دنیاوی یا مادی ترقی میں آگے نکلتی چلی جارہی ہو اس کا دور چند سالوں یا صدیوں پہ محیط رہ سکتا ہے کہ نظام الہٰی کے اصولوں کے تحت ہر عمل کا ایک ردِعمل اور نتیجہ کا نکلنا ضروری ہے لیکن یہ دور  سالوں کا ہو یا صدیوں پہ محیط ہو اس کا انحطاط یا ایسے معاشرے کا زوال یقینی ہے اور یہ صدیاں تو ویسے بھی  خالق اوقاتِ کائنات کے نزدیک بے معنی سے ہیں ، ان کی حیثیت پیمانۂ خداوندی  کے نزدیک بعض وقت چند گھنٹوں کی ہوتی ہے یا ایک آدھ دن کی ہوتی ہے ۔ یہ بات صرف آج کی ہی نہیں ، پوری انسانی تاریخ اس بات پہ گواہ ہے کہ مادی ترقی ایک جانب لیکن انسانی ترقی کا دارومدار اس کی روحانی یا اخلاقی سر بلندی ہی پر ہے۔

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ  اور نہیں   :  ترا  علاج نظر  کے  سوا کچھ  اور  نہیں

          ایسے  مذاہب جس میں آدمی نے کوئی جداگانہ رویہ اختیار کیا جو دین الٰہی کی ترجمانی نہیں تو اس کا نتیجہ کبھی تو مادی ترقی اور بیش بہا تعمیر دولت و ثروت کی صورت میں نمودار ہوتا ہے تو کبھی انتشار و وحشت و بربادی کی صورت میں جنم لیتا ہے ۔ یہ صورت جو بھی ہو یہ سب کچھ ایک آزمائش ہی ہوتی ہے۔ سچ پوچھیں تو مذہب کو  عرف عام میں ایک طرز فکر یا طرز عمل کہا جا سکتا ہے سو وہ لوگ جو اپنے آپ کو لامذہب کہتے ہیں ان کا بھی خود ایک اپنا مذہب ہوتا ہے جسے وہ اس نام سے موسوم تو نہیں کرتے لیکن ایک طرذ حیات پر کاربند ہوتے ہیں ۔ سو انسان فطری طور پر کبھی بھی لامذہبیت کا شکار نہیں ہوتا بلکہ تنوع کے زیر اثر رہتا ہے۔

عقل مدت سے ہے اس پیچاک میں الجھی ہوئی   :  روح کس جوہر سے ، خاک تیرہ کس جوہر سے ہے

$        ایک بات اورسمجھنے کی ہے کہ ترقی کیا ہے ؟ کیا مال و دولت یا سیاروں پہ چھلانگ لگانے کے عمل کو ترقی کہا جانا چاہیے ؟ بڑی بڑی عمارتوں کی تعمیر اور آرام و آسائش کے اسباب کو ترقی کہا جانا چاہیے ؟ انسان کے اندر  کے چھپے حیوان کی ضروریات کی فراہمی کو ترقی کہا جانا چاہیے ؟ کیا انسان ہر دور میں ان ساری باتوں کا حصول نہیں کر چکا ؟ کیا اس دنیا میں انسان مجموعی طور پر یعنی کسی دور میں چاہے وہ گذشتہ کل کا ہو یا آج کا  ترقی کی دوڑ میں یکساں شریک رہا  اور ہر انسان کو وہ سب کچھ میسر آسکا جو چند ایک ہاتھوں میں سمٹی ہوئی دولت سے حاصل ہوا؟ کیا ہر انسان کو آج لقمہ تر میسر ہے ؟ کیا ہر انسان کو گھر اور وطن میسر ہے ؟ کیا ہر انسان کی چہار دیواری  عزت و ناموس محفوظ ہے ؟ کیا اس دور کے ترقی یافتہ افراد کی ترقی کا سبب ایک تاجرانہ ، ساہوکارانہ ، دوسروں سے غیر منصفانہ سلوک کا نتیجہ نہیں ؟ کیا آج کی ترقی یافتہ قوموں کا دارومدار دوسری اقوام کے وسائل پہ قبضہ نہیں ؟ کیا آج کی ترقی یافتہ قوموں یا قبیلوں نے نسل و زبان کے  نم پر اپنے سے کم  تر پر بہیمانہ سلوک نہیں اختیار کیا ہوا ؟ کیا ایک قتل کے جواب میں پورے قبیلے اور قومیت کو مٹا دینا ترقی ہے ؟ کیا سود در سود کے نتیجے میں افراد ہی نہیں پوری قوم کا تشخص ہی بدل دیا جانا ترقی ہے ؟ کیا ماوں ،بہنوں ،بیٹیوں کو تجارت کی منڈی کے فروغ کے لیے استعمال کیا جانا ترقی ہے ؟ کیا کھلے عام جنسیات اور فحش معاملات کا فروغ ترقی ہے ؟ کیا آج کی ترقی یافتہ قوموں نے اپنی نسل وشکل و صورت کی باریابی کے لیے دوسری مملکتوں اور ان کے کروڑہا  باشندوں اور ان کی نسلوں کے ختم کر کے اپنا جھنڈا نہیں گاڑا ہوا ہے ؟

زمانہ صبحِ ازل سے رہا ہے محوِ سفر    :  مگر یہ اس کی تگ و دو سے ہو سکا نہ کہن

           اگر یہی سب کچھ ترقی ہے تو پھر حیوانیت وشیطانیت کیا ہے ؟ کیا صرف ایک مخصوص گروہ  یا قوم کی مادی ترقی انسانی ترقی پہ محمول کی جا سکتی ہے ؟ یا اسے کسی حد تک ایک مخصوس مدت کے لیے اس کی جبلت کی کارفرمائی قرار دی جانی چاہیے ؟ و خلقنالانسان فی احسن تقویم ثم رددنا ہ اسفل السافلین کی وضاحت کی ضرورت اطراف میں پھیلی ہوئی بے شمار مثالوں کے بعد بھی باقی رہ جاتی ہے ؟ ] اور ہم نے انسان کو بہترین و اعلیٰ  ساخت و صفات پر پیدا کیا تو پھر وہ ( اپنی شر سری کے بنا ) انتہائی تذلل یا نچلے درجہ میں جا گرا[۔ اب ہمیں کوئی  بتائے کہ وہ آدم و انسان کہاں ہے جس کے اندر خدا نے اپنی روح پھونکی تھی ؟

طلسمِ بود و  عدم ،  جس کا نام ہے آدم  

  خدا کا راز ہے قادر نہیں ہے جس پہ سخن

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: