Hesham A Syed

January 11, 2009

Struggle

Filed under: Global Politics,Muslim world,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 6:26 am
Tags:

Urdu Article : Kashmakash & Merey kalaam pey Hujjat hai nuktaiey Loalaak : Hesham Syed

کشمکش   

 

یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے ۔ جدھر دیکھئے تو چشم ِخوں بستہ سے لہو ٹپک رہا ہے ۔ انسانی تاریخ کے المیے نے کسے آزردہ خاطر نہیں کیا ہے ۔ ایک طرف عفریتوں کے بلند و بانگ قہقہے اور دعوئ کبر و عناد ، دوسری طرف زہریلی گیس کے فسادتابکار ی سے بھرے ہوئے بموں کے دھماکوں کے درمیان معصوم جانوں کی دل خراش چیخیں ، تہذیب انسانی روایتوں کی بیخ کنی ، انسانی عزت و تکریم سے گریز ، ناموس انسانی کی عصمت وری ، علمی و تاریخی ورثوں کی لوٹ مار تباہی و بربادی اور ہر طرف پھیلی ہوئی بے حسی اور افسردگی ۔ لیکن ایسے میں کچھ تاجرانہ ذہن  رکھنے والے یہ بھی کہتے ہوئے نظر آئے کہ یہ اچھا ہوا صاحب بہادر کی اقتصادیات بہتر ہوگی تو یہاں کے رہنے والوں کا یعنی مصاحبین خاص کا فائدہ ہوگا ۔ ان سنگ دلوں ،ضمیر فروشوں اور ڈالرا ورپاؤنڈ، دینار ودرہم کے پرستاروںسے یہی کہنا ہے کہ 

 اے موجِ حوادث ہلکے  سے  دوچار تھپیڑے  ان کو بھی 

کچھ لوگ ابھی تک ساحل سے طوفاں کا  نظارہ کرتے ہیں

          ہر طرح کے ویب سائٹ ، ای میل ، خطوط ، مضامین ، نوحے و مرثیے ،کالم لکھے جارہے ہیں ۔ انسان اپنی بے چینی اور بے کسی کا اظہار کرے بھی تو کیسے کرے ؟ ہمارے ہاتھ میں کچھ ہے ، مگر ہے کیا ؟کہیے ! ہم سب صرف تماشبین ہی تو ہیں ۔ قضا سے شکوہ ہمیں کس قدر ہے کیا کہیے ۔یہ خبر اور تفصیل بھی ملی کہ تیل کے ساتھ تاریخی نواردات و کتب خانے کے بھی لوٹنے کا پروگرام پہلے ہی بن چکا تھا ۔ فاتح قوم روشنی ِصبح کا پیام ضرور دیتی ہے لیکن مفتوح کے مقدر میں رات کی سیاہی سمو دیتی ہے ۔ روشنی کا چراغ تو وہ اپنے گھر لے جاتی ہے ۔ فاتح قوم پہلے توہر بستی اور شہر تہس نہس کرتی ہے پھر مفتوح قوم کو تعمیر و ترقی کا خواب دکھاتی ہے لیکن اس نئی عمارت اور شہر کی تعمیر کی قیمت اس شکست خوردہ قوم کو خود اپنی ہی دولت سے کتنی چکانی پڑتی ہے اس کا اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا ۔  پھر اسکی اپنی فکر ، صدیوں کی تہذیب و ثقافت سرعام نیلام کر دی جاتی ہے ۔  وہ اپنی شناخت تک کھو بیٹھتی ہے ۔  انسانی تاریخ اور قوموں کے عروج و زوال میں ایساکم ہوا جہاں مفتوح قوم کو مادی اور روحانی سطح پہ لوٹا نہ گیا ہو ۔ پوری تاریخ انسانی میں تعمیری اصلا حات کے کرنے کا فخر صرف حضورؐ  کی سپہ سالار میں ہونے والے غزوات (جنگوں) کو ہے یا خلفہ ٔ راشدین و اسلام کی فتوحات کو ہے ۔ ان جنگوں سے پہلے اور بعد میںتو صرف جنگل کا قانون ہی چلتا رہا۔ اب جو کچھ منظر عام پہ آرہا ہے وہ تو کسی اور ہی سازش کا پتہ دے رہا ہے۔ اپنے دست و بازو بیکار ہو جائیں تو کشکول گدائی اور دامن تہی کہیں تو پھیلے گا۔ہر طرح کا غم لوگوں نے پال لیا ہے ۔ کوئی نواردات اور کتب خانے کے لٹنے کو انسانیت و تہذیب کا لٹنا کہہ رہا ہے ۔کوئی معصوم بچوں کے بہمیانہ قتل کو اس سے بھی بڑا ظلم کہہ رہا ہے ۔ جو لوگ خون نہیں بہا سکتے انہیں آنسو بہانے کا تو حق ملنا ہی چاہیے ۔ اپنے ضمیر کو بہلانے اور سلانے کا اس سے اچھا علاج اور کیا ہے ؟ غاصبوں کو اگر ہم غاصب اسوقت گردانیںجب وہ تباہ و بربادی کے پرتول رہا ہو اور اس کے ارادوں کے آگے دیوار بن جائیں تو یہ زیادہ مستحسن ہے چہ جائیکہ ہم بعد میں ماتم کرتے رہیں ، سر پہ خاک ڈالتے رہیںاور مرثیہ گوئی میں پیش پیش ہوں     ؎

یا  مردہ  ہے  یا  نزع کی حالت میں گرفتار  :  وہ فلسفہ جو  لکھا  نہ  گیا  خونِ  جگر  سے

ہمارے بچے ہم سے پوچھتے ہیں کہ انسان اور انسانیت میں کیا فرق ہے ؟ کوئی بتلا ئے کہ ہم بتلائیں کیا ؟   ؎

دل ِ  بیدار پیدا کر کہ دل خوابیدہ  ہے  جب تک

نہ تیری ضرب ہے کاری ، نہ میری ضرب ہے کاری

          کیا مادی ترقی ، انسانیات کی ترقی کہی جا سکتی ہے ؟ اس کا جواب بھی واضح ہے اور اچھا ہے کہ نئی نسل کسی قوم کی مادی ترقی یا چڑھتے ہوئے سورج کو دیکھ کر اس کی اخلاقیات کے بارے میںہماری طرح صدیوں کے مغالطے کا شکار نہیں ہوگی    ؎

کب  ڈوبے  گا  سرمایہ  پر ستی  کا  سفینہ   :   دنیا  ہے  تری  منتظر ِ  روز ِ مکافات

          انسانیت کا پرچار کرنے والی قومیں اپنی بڑائی جتانے اور اپنے ہی خزانے بھرنے کے لیے وحشت و بربریت میں کس قدر آگے نکل جاتی ہیں اس کا اندازہ تو تاریخ کے مطالعہ سے اور پے در پے واقعات و تجربات سے ہی ہوتا ہے ۔ لطف تو یہ ہے کہ ان کے پرستاروں کا گروہ بھی ہمہ وقت سجدہ ریز رہتا ہے جو  غاصبین کی پھینکی ہوئی ہڈی کو حاصل کرنے کو  ا پنوں ہی  پہ غُرّا رہے ہوتے ہیں۔ باطن پاک نہ ہو تو یہی سب کچھ ہوتا  ہے !  

 بت  شکستن  سہل  باشد  لیک  سہل   :   سہل  دیدن  نَفس را ،جہل  ست جہل 

( بت توڑنا آسان ہوتا ہے لیکن نفس کے معاملہ کو آسان سمجھنا نادانی ہی نادانی ہے )۔

مر ے کلام پہ حجت ہے نکتہ لولاک

٭ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت میں تبدیلی نہیں کرتا جب تک کہ وہ اپنی اندرونی حالت نہیں بدلتے۔ القرآن : ۳۱۱۱۔

٭ملوکیت ( آمریت ) میں بستیاں برباد اور عزیز ذلیل ہو جاتے ہیں ۔ القرآن : ۷۲  ۴۳ ۔

٭ حکمرانی کا معیار نسب یا دولت نہیں ۔ القرآن : ۲  ۷۴۲ ۔

٭ اسلامی حکومت کا دفع اتنا مضبوط ہو کہ دشمن اپنی جگہ مرعوب ہو ۔ القرآن : ۸ ۰۶ ۔

٭ حکومت کا مقصد اقامت صلوٰۃ ، ایتأ زکوٰۃ ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہو ۔ القرآن : ۲۲ ۱۴ ۔

٭ اللہ کے یہاں مقبول دین ( نظام حیات ) صرف اسلام ہے+ اور نظام و دستور حکومت صرف اللہ کا ہونا چاہیے۔القرآن : ۹۳۳ ، ۳ ۹۱ ۔

٭ جو لوگ اللہ کی وحی کے مطابق حکومت ( فیصلہ ) نہیں کرتے وہ ظالم ، کافر اور فاسق ہیں۔القرآن : ۵ ۴۴ ، ۷۴ ۔

٭ منافق پر جوش مسلمانوں کو مذہبی دیوانہ قرار دیتے ہیں۔ وہ صرف فائدے کی صورت میں اسلام پر عمل کرتے ہیں ، ایثار و قربانی کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔القرآن : ۲۱۳ ، ۸ ۹۴ ، ۲ ۰۲ ۔

 ٭ اللہ متقین کا ساتھ دیتا ہے ۔القرآن : ۹۳۲۱ ۔

٭صبر و ایمان کی آزمائش اور نعمت شہادت سے نوازنے کے لئے کبھی تبدیلی ’حالات سے زخم پہنچ جاتا ہے ۔اس لئے بد دل اور غمزدہ نہ ہونا ‘۔القرآن :۳ ۰۴۱ ، ۱۴۱ ۔

٭اہل ایمان کی نصرت اللہ تعالیٰ پہ لازم ہے۔القرآن :۰۳  ۷۴ ۔

٭ تقویٰ ، صبر اور عفو سے کام  لینا عزم ا لامور میں شامل ہے۔القرآن : ۳۶۸۱ ، ۱۳  ۷۱ ، ۲۴  ۳۴ ۔

٭ ابتلا میں خدا کی طرف رجوع کیا جائے القرآن : ۴۹  ۷ ، ۸ ۔

جس میں نہ ہو انقلاب ، موت ہے وہ زندگی  :  روح  ِ امم  کی  حیات کشمکش  ِ انقلاب

صورت شمشیر ہے  دست قضا  میں  وہ  قوم  :  کرتی ہے جو ہر زماں  اپنے عمل کا  حساب

حشام احمد سید

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: