Hesham A Syed

January 11, 2009

Thanks to Allah for the Misconduct !

Filed under: Muslim world,Social Issues — Hesham A Syed @ 4:21 am
Tags:

Urdu Article : Allah ka shukr yaa Choar darwaazah – Hesham Syed

اللہ کا شکر یا چور دروازہ ؟

عاقل میاں ہمارے پرانے جاننے والے اور دلچسپ آدمی ہیں ، ان کے مشاہدات عام لوگوں سے اور تجربات عام دھڑے سے ہٹے ہوئے ہوتے ہیں ، ان سے جب بھی ملاقات ہوتی ہے وہ  چند ایک ایسی بات کر جاتے ہیں کہ آدمی سوچ میں پڑجائے۔پچھلی ملاقات میں کہنے لگے کہ کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ جتنا اللہ کا شکر آج کے دور میں ادا کیا جاتا ہے شاید کبھی نہ کیا جاتا رہا ہو  !

          سنا یہ بھی ہے کہ شاکرین اور صابرین جنت میں جائیں گے۔ یہی بات ملا نصیرالدین نے بھی سنی ہوگی تب ہی وہ ایک دن اپنی بیگم کو آنکھوںکے کونے سے مستقل دیکھے جا رہے تھے ۔ ان کی بیگم نے شرماتے ہوئے پوچھا کہ کیا بات ہے مُلّا بڑے عرصے کے بعد یہ وزدیدہ نگاہی ہے ۔ تو مُلّا نے کہا کہ بیگم میں سوچ رہا ہوں کہ ہم دونوں جنتی ہیں اور وہ اس لئے کہ شاکر اور صابر دونوں جنتی ہوتے ہیں۔ تم مجھے دیکھتی ہو تو شکر بھیجتی ہو ، میں تمہیں دیکھتا ہوں تو صبر کرتا ہوں۔ خیر صاحب اس قسم کے لطیفے تو مرد حضرات نے بہت بنا رکھے ہیں عورتوں کے بارے میں لیکن وہ اس بات سے غافل ہیں کہ عورتوں نے خود انہیں لطیفہ بنایا ہوا ہے۔ بات ہو رہی تھی اللہ کے شکر ادا کرتے رہنے کی ۔واقعہ یہ ہے کہ اللہ کا ہر لمحہ اور ہر حال میں شکر ادا کرتے ہی رہنا چاہیے کہ اس کی نعمتیں بے شمار ہیں اور کسی ایک کا بھی نعم البدل انسان کے پاس نہیں ۔ لیکن مجھے حیرت اس وقت ہوتی ہے جب میں کسی  اداکارہ  یا اداکار کا انٹرویو دیکھتا یا پڑھتا ہوں کہ اللہ کا بڑا شکر ہے کہ اللہ نے مجھ میں ایسی صلاحیت دی کہ میں نے اسٹیج یا پردہ سیمیں پہ اپنے آپ کو منوا لیا ۔ میری نظروں میںاس لمحے ان دونوں کا برہنہ رقص اور ننگے جسم پہ بوس و کنار کا منظر گھوم جاتا ہے جسے بچوں یا شرم وحیا کی وجہ سے ریموٹ کنٹرول سے آگے بڑھانا پڑتا ہے ۔ ورنہ پردہ سیمیں پہ جو کچھ ہورہا ہوتا ہے اسے دیکھ کرچشم تصور میں ہم اپنے آپ کو اس جواں سال ، فعال اور خوش قسمت  ہیرو یا ہیروئین ہی کی جگہ دیکھتے ہیں۔ کچھ ایسی ہی صورت ِحال موسیقاروں ، گلوکاروں اور بے ہنگم فن کاروں ، بے ہودہ ننگے الفاظ کے مارے شاعروں ،ادیبوں ،صحافیوں ، پینٹنگ، ماڈلنگ ، فیشن پریڈ اور مقابلہ حسن کے شریک کاروں اور ان سب کے پرستاروں کے بارے میں ہے ۔ جس کو دیکھئے ا سٹیج پر ، ٹی وی میں ، اخباروں و رسائل میں ، ویب سائٹ پہ اللہ  گاڈ کا شکر ادا کرتے نہیں تھکتے ۔ یہ بات صرف بالی ووڈ یا لالی ووڈ تک نہیں بلکہ ماشا اللہ ہالی ووڈ اور عربستان و ایران بلکہ کہہ لیجیے تمام مملکت اسلامیہ کے فن کار و اداکار مرد و عورت کے لیے یکساں صحیح ہے۔ آپ سوچیں تو یہ سب عرفِ عام میں طوائف کے پیشہ سے ہی منسلک ہیں۔ کوئی بند کمرے اور کوٹھے پہ اعضا کی شاعری کر کے اپنا جسم بیچتا ہے یا موسیقی کے آلات سے انسانی فکر و تدبر کو مسحور کیے رکھتا ہے تو کوئی اب اس پیشہ کو اسٹیج پہ یا ریڈیائی لہروں یا سلولائیڈ ، ویب سائیٹ ، اخباروں ، رسالوں کے ذریعہ بازاروں اور گھروں میں عام کرتا ہے۔ بلکہ یہ دوسری صورت تو پہلے سے زیادہ خطرناک ہے۔ کم سے کم شریف و رذیل کی پہلے تمیز ہو جایا کرتی تھی ۔ اب تو سب دھان بائیس پسیری ہے۔ ہر گھر میں کوٹھا کھلا ہوا ہے۔ ایک سے ایک چینیل، کیبل ، سیٹیلایٹ اور ویب سائیٹ کھل گئے ہیں ۔ ویڈیو اور طرح طرح کی الیکٹرانک ایجادات نے وہ ساری سہولت فراہم کر رکھی ہے کہ توبہ بھلی۔

          اب جو لوگ اس پیشہ سے منسلک ہیں یا اس کے بالواسطہ یا بلا واسطہ معاون ہیں وہ ہر ہر قدم پہ اللہ کا  سجدہ شکر بھی ادا کر رہے ہیں ۔ جب یہ دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ یہ لوگ ایسا تاثر دیتے ہیں کہ یہ سارا پروگرام ، وحشیانہ حرکات و عمل اللہ میاں اوپر بیٹھے پروڈیوس کر رہے ہیں یا ڈائریکٹ کر رہے ہیں ۔ اِنہیں توفیقِ برہنگی و فواحش بھی اللہ کی طرف سے مل رہی ہے۔ استغفر اللہ… ثم استغفراللہ ! مجھے تو یوں لگتا ہے کہ یہ بھی ایک سازش ہے، شاید انہوں نے اپنے شیطانی خدا ( ابلیس )کا نام بھی اللہ ہی کے اسمِ ذات سے موسوم کر رکھا ہے۔ یہ سونے پہ سہاگہ ہے کہ انسانی ذہن میں ہر بد کاری اور برے فعل کے لیے بھی ایک احساسِ تقدس جاگ اٹھے کہ یہ سب کچھ اللہ ہی کے نام سے ہورہا ہے اور اسی شکر کا نتیجہ ہے کہ بے حیائی اور گمراہی اپنے عروج  پہ ہے! لیکن کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ کوئی نئی بات بھی نہیں ۔ یہ رسم تو پرانی ہے ، پہلے سے ہی اس پیشہ سے منسلک مرد و زن نذر و نیاز ، فاتحہ اور چڑھاوے کا اہتمام کرتے رہے ہیں تا کہ اللہ یا اس کے ولیوں کے طفیل ان کے کاروبارِ غلاظت میں برکت ہوتی رہے۔! ما شا اللہ

          عاقل میاں نے اپنے تجربوں کی پوٹلی سے ایک اور سانپ نکالا اور کہنے لگے کہ میں دوبئی میں ایک ادارے میں ملازم تھا کہ وہاں ایک کھیپیا سے ملاقات ہوئی ، یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو چیزوں کو ایک ملک سے دوسرے ملک کسی سیٹھ کے لیے اسمگل کرواتے ہیں اور اپنا کمیشن بناتے ہیں۔ دبئی میں الیکٹرانک کاسامان کنٹینر  میں پیچھے کی طرف ٹھونسا جاتا ہے اور دروازے کے پاس پرانے کپڑوں کا بنڈل رکھا جاتا ہے ، کسٹمز میں اسے پرانے کپڑوں کا کنٹینر کہہ کے ڈیوٹی دیئے بغیر نکلوا لیا جاتا ہے اور اسی قسم کی  بے شمار کام ہوتے ہیں ۔ وہ کھیپیا مجھ سے کہنے لگا کہ ابھی وہ عمرہ کر کے لوٹا ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ وہ کنٹینر   جو کسٹمز میں پکڑا گیا تھا بالآخر چھوٹ گیا ۔ اللہ کا شکر ہے کہ عمرہ میں اللہ نے میری دعائیں سن لیں۔ میں پھر سوچ میں پڑ گیا کہ کیا اللہ میاں کوئی مافیا گاڈ یعنی گاڈ فادر ہیں کہ اسمگل ، رشوت ، دھوکہ دہی کی دعائیں قبول کر رہے ہیں اور رشوت میں صرف شکرانہ وصول کر رہے ہیں ؟ لیکن صاحب اس کھیپیا کے چہرہ پہ جو یقین کا نور چمک رہا تھا اس سے میرا کمرہ بھی روشن تھا ! اور میں اپنے ڈھلمل یقین و ایمان پہ شرمسار تھا !

          عاقل میاں کہنے لگے بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ میں نے یہ بھی دیکھا کہ وہی سیٹھ جو اس قسم سے اسمگل کراکے سامان سے بے تحاشہ منافع کماتا تھا اور اپنے معاون کسٹمز میں ساتھیوں اور کھیپیوں کو فیض یاب کرتا تھا وہ اور اس کے گھر والے اپنی فیکٹری میں آکر ہر مشین پہ جا کر وظیفہ پڑھ کے دم بھی کیا کرتے تھے اور اس میں قطعی کوئی مبالغہ نہیں۔ قرآنی آیات اور دیگر وظائف کا یہ استعمال میرے لیے انوکھا ہی تھا ۔ مجھے اس سے قبل پتہ ہی نہیں تھا کہ قرآنی آیات دنیا میں بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی اور مشین کے ساتھ اتنی ہمدرد ہیں۔ بس پھونک ماریں اور اس کی ساری   productivity  اور  maintenance کی فکر سے آزاد ہوجائیں اور مشین بھی کوئی اور کام کرے نہ کرے نوٹ ضرور چھاپے گی ۔ کون کہتا ہے کہ قرآن صرف  ۰۰۴۱ سو سال قبل کے لوگوں کے لیے آیا تھا۔ ان بد بختوں کو آج کے دور کے انسانوں میں اس کا استعمال نظر نہیں آتا ؟ مشینوں کو مسلمان کرنے کا خیال شاید اللہ کے پیغمبروں کو بھی نہیں آیا ہوگا !

          اپنی خیر منائیے صاحب ! اب توکوئی بھی سودی کاروبار ہو ، رشوت ہو ، دھوکہ دہی سے تجارت کا فروغ ہو ، فحش اداکاری ہو یا فن کاری ہو غرض ہر قسم کی حرام کاری یوں ہورہی ہے کہ سرِ عام اس کا آغاز اللہ کے نام سے کیا جاتا ہے اور پھر شکر بھی اللہ ہی کا ادا کیا جاتا ہے ! شیطان نے اپنے انسان نما چیلوں کو تقدس کا لبادہ بھی خوب اُڑھا دیا ہے یا پھر ابلیس راندۂ درگاہ ہونے پر چور دروازے سے داخل ہوگیا ہے ؟ ایسی صورت میں اللہ یا پیغمبرانِ دین کیا کریں ، کہ ان کی شریعت ویسے ہی کسی کو نہیں بھاتی اور ان کا وسیلہ بھی بدعت قرار دیا جا چکا ہے ۔ اب تو ان  مقدس ہستیوں کا نام بھی آئے تو شرک ہے ، کہ سارے حجابات اٹھ چکے ہیں اور ساری بات اللہ سے براہ راست ہے ۔ ہر شخص پہ روز ایک نئی وحی نازل ہو رہی ہے ۔کتنی آسانی ہو گئی ہے زندگی میں سب کچھ کر گزرنے کی کہ اب کوئی پابندی نہیں ! کیسا عجیب فلسفہ دین میں داخل ہوگیا ہے۔بس اپنے ہر عمل پر اللہ کا شکر ادا کرتے رہو اور تمہاری ساری  بد عملیو ںکا حساب مٹتا رہے گا۔ سب کچھ اک تماشہ ہی تو ہے    ؎

بنایا  ایک  ہی  ابلیس  آگ سے  تو  نے 

  بنائے  خاک  سے  اس  نے  ہزارہا  ابلیس

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: