Hesham A Syed

January 11, 2009

Those who reach the Stars – 1st portion

Filed under: Islam,Religion,Science &Tech — Hesham A Syed @ 9:47 am
Tags: ,

Urdu Article : SitaaroaN pey jo daaltey haiN kamand : Hesham Syed : 1st Qist

ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند !

علم کیا علم کی حقیقت کیا ؟ ـجو بھی جس کے گمان میں آئے …کیا یہ بات صحیح ہے ؟

جوتش اور ستاروں کا علم کیا ہے ؟  اسٹرولجی  اور  اسٹرونومی  میں کیا فرق ہے ؟ یہ علم دست شناسی ،  چہرہ شناسی ، جبیں شناسی ، تلوہ شناسی وغیرہ کیا ہے ؟آسمانوں یا کائنات میں پھیلے ہوئے بے شمار سیارے اور ستارے کیا انسان کی زندگی پہ اثر انداز ہو تے ہیں ؟ علمِ اعداد کیا ہے ؟ علم غیب کیا ہے ؟ یہ علمِ روحانیت کیا ہے ؟  کیا عالمِ برزخ سے ارواح زمین پہ آتی ہیں یا بلائی جا سکتی ہیں ؟ موکل کیا ہوتے ہیں ؟ چلہ کشی کی حقیقت کیا ہے ؟   دوسرے مذاہب میں ایسی باتوں کو کیا سمجھا جاتا ہے اور ان سارے علوم کو اسلامی ہدایت کی روشنی میں کیسے دیکھا جا سکتا ہے ؟ کیا ان کا علم حاصل کرنا کفر ہے یا یہ بھی تسخیر کائنات کے فریضے میں ایک فریضہ ہے ؟ کیا یہ سب توہمات پہ مبنی ہےں اور ان کی کوئی حقیقت نہیں یا ان سارے علوم کا وسیلہ بھی دوسرے علوم کا مروجہ طریقہ حصول ہے ؟ کیا ان علوم کا جاننے والا اسے اپنی آمدنی کا ذریعہ بنا سکتا ہے ؟ اس طرح کے بہت سارے سوالات ہیں جو  انسانی افکار بلکہ اسلامی دنیا کے افکار کا حصہ بنے ہوئے ہیں ۔

          کسی بھی علم یا موضوع کی اصلیت کو جاننے کے لئے بہت کھلے دل و دماغ سے سوچنا چاہیے وگرنہ نفی و اثبات کا تعصب تو آدمی کو پہلے ہی اندھا کر دیتا ہے ۔ایک بات تو واضح ہے کہ دوسرے مذاہب میں چاہے وہ جس شکل میں بھی موجود ہیں ان ساری باتوں میں اور ایسے علوم کے حاصل کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں بلکہ ان مذاہب کے علما اور مفکرین ان باتوں کی ہمت افزائی کرتے ہیں۔ یہ بات بھی اپنی جگہ ہے کہ بہت سے اسلامی گروہ اس بارے میں ایک متوازن یا غیر متشدد رویہ رکھتے ہیں اور ایسے علوم کے حصول کی ترغیب بھی دیتے ہیں لیکن چند ایک متشدد رویہ کے لوگ ہیں جو اسے قطعاً کفر اور حرام قرار دیتے ہیں۔ دونوں گروہوں کے پاس اس کی سند قرآن ، حدیث اور آثارسلف کی ہی ہے لیکن تاویلیں الگ الگ ہیں۔ اس موضوع پہ تو کئی کتابیں لکھی گئی ہیں اور مزید لکھی جاسکتی ہیں لیکن اس وقت تک بنیادی یا اصولی طور پہ دومختلف نظریات ہیں۔ یہ کالم تفصیلات کا متحمل تو نہیں ہوسکتا ، اس لئے یہ بحث یا گفتگو میںاپنی حتمی رائے اس وقت تک نہیں دے سکتاجب تک کہ اس  موضوع پہ اپنا یہ مضمون مکمل نہیں کر لےتا۔ کہیں کہیں بریکٹ میں اشارتاً میں اپنے خیال کا اظہار کرتا رہوں گا۔   دونوں نقطۂ نگاہ اور اس سے متعلق حوالہ جات جب سامنے آجائیںگے تو پھر فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی کہ حقائق کیا ہیں اور ہمارا رویہ کیا ہونا چاہیے!

پہلا نقطہ نظر:  علم نجوم بھی اللہ کی عطا کی ہوئی حکمت میں سے ایک حکمت ہے اور حکمت کو استعمال کرنے کے بارے میں قرآن میں ہمت افزائی کی گئی ہے۔ اسلام میں یا قرآن میں ممانعت ایسے علم ِ نجوم کی ہے جو مصر وغیرہ میںمستعمل تھا اور جو کالے جادو کی قبیل میں آتا ہے جس میں حنوط شدہ لاشوں اور ان کی روحوں سے کام لیا جاتا ہے ۔ علم ِجوتش انسانوں کے مسائل اور ان کے دکھ و پریشانی کے حل کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور جو عمل انسان کی دشواریوں کو ختم کرنے کے لئے کیا جائے وہ حرام نہیں ہوسکتا۔اسے ویدک جوتش کہا جاتا ہے ۔

          کسی بھی علم کو اس لئے متروک قرار دینا کہ وہ غیر مسلمین کے یہاں زیادہ مروج ہے یا غیر مسلمین بھی اس علم سے واقف ہیں ایک متعصبانہ رویہ اور اسلام کے روح کے منافی ہے۔انسان کا تعلق چاہے کسی مذہب سے ہو اللہ کی مخلوق ہے اور اللہ کا علم و رحمت کسی ایک قوم کی میراث نہیں۔ کوئی شخص اگر مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا ہے تو اسے یہ اختیار نہیں کہ وہ جو کسی اور گھرانے میں پیدا ہوا ہو اس سے نفرت کرے یا اسے کم تر یا ذلیل  جانے، اس لئے کہ مسلمان گھرانے میں پیدا ہو کر مسلمان ہونے میں کمال کسی فرد کا نہیں بلکہ قدرت کے فیصلے کا ہے۔ جب تک کوئی شعوری طور پہ مسلمان نہ ہو مسلمان یا مومن نہیں ہوسکتا ۔اللہ اور اس کے انبیا کرام کو اپنی تنگ نظری کے سبب ایک محدود دائرے میں یا زندانِ خیال میں مقید کردینا خود بہت بڑا ظلم ہے اپنے ساتھ بھی اور خالقِ کل کے ساتھ بھی۔

          علم خود برا نہیں ہوتا بلکہ اس علم کا اچھا اور برا استعمال اسے اچھا یا برا بناتا ہے۔ساری باتوں کا دارومدار انسان کی نیت پر ہے۔ظاہراً نیک عمل یہاں تک کہ اللہ کی عبادت بھی اگر کسی بری نیت سے کیا جائے تو وہ غلط  اور ممنوع ہے ۔ ویدک علمِ جوتش سے آدمی کے منفی انداز فکر اور اس پہ جو منفی ماحولیاتی اثرات مرتب ہو تے ہیں اسے بھی درست کیا جاتا ہے۔یہاں تک کہ ستاروں کے غلط اثرات کو مناسب تدبیر سے زائل کر دیا جائے تو اس آدمی کے اندر نیکی اور اللہ کی عبادت کرنے کی خواہش بھی بیدار ہو جاتی ہے۔ یہ بات متعدد تجربات اور مشاہدات پہ مبنی ہے۔ویدک جوتش کو کالا جادو نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ دو بالکل مختلف چیزیں اور ایک دوسرے کی ضدہیں۔ ہندو مذہب میں منترہ کو زیادہ تر مسلمانوں کے علاوہ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی کوئی جادوئی اشلوک سمجھتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ منتر ان کی مذہبی کتابوں کی آیات ہیں جن کی جاپ کر کے وہ لوگوں کے مسائل حل کرتے ہیں ٹھیک ایسے ہی جیسے عیسائی ، یہودی ، بدھ مت یا کسی مذہب کی کتابیں یا قرآنی آیات میں اللہ نے شفا رکھی ہے۔ نظام کائنات اللہ نے ہی بنایا ہے اور قدرے کے نظام کے خلاف کسی کو کوئی اختیار نہیں سوائے اس کے کہ اللہ خود اس نظام کو بدل دیں ۔

          چند روایات جو حضور ؐ سے منسوب کی جاتی ہےں اسلامی کتابوں میں موجود ہیں جن میں کئی ایک اعمال کرنے کی اہمیت دنوں اور وقت پہ تقسیم کی گئی ہے اور یہ ہدایت علم جوتش کو تقویت بخشتی ہے جیسے کہ : شکار سنیچر یعنی ہفتہ کو کرو۔ گھر کی تعمیر کا آغاز اتوار کو کرو۔سفر پیر یعنی سوموار کو کرو ۔بال اور داڑھی منگل کو کٹواؤ ۔ ادویات کا استعمال بدھ سے کھانا شروع کرو ۔ عبادات یا وظائف جمعرات سے شروع کرو ۔ شادی یا اولاد کے لئے مقاربت جمعہ کو کرو۔

(نوٹ : اس روایت کی سند پہ جرح اور بحث کی جا سکتی ہے ، کیونکہ کوئی غلط بات حضورؐ سے منسوب کرنا ایسا ہے کہ ر اوی نے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لیا )

          مندرجہ بالا باتوں کو یا اللہ کے احکام کو دیکھیں کہ عبادت اور شریعت میں بھی مخصوص دن اور مہینے کا خیال رکھا گیا ہے اور اسے علم جوتش کی روشنی میں دیکھیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ :

موت اور ظلم  ۔            سایٹرن  ،  زحل  کے زیر اثر ہے اور اس کا دن سنیچر یا ہفتہ کا ہے۔( یہ کھیتی باڑی کا دیوتا بھی کہلاتا ہے )

شہرت اور  استحکام  ۔            سن،  سورج کے زیر اثر ہے اور اس کا دن اتوار کا ہے۔( یہ زمینی زندگی کے بقا کا دیوتا بھی کہلاتا ہے)

سفر و ہجرت ۔           مون ،  قمر کے زیر اثر ہے اور اس کا دن پیر یا سوموار کا ہے۔( یہ زمین سے قریب تر سیارہ ہے اور قمر دیوتا بھی کہلاتا ہے)

بال اور اس سے متعلقات ۔  مارس ِ ،  مریخ  کے زیر اثر ہے اور اس کا دن منگل ہے۔( یہ جنگ کا دیوتا بھی کہلاتا ہے )

سائنس، ادویات ، کیمیا ۔          مرکری ،  مشتری کے زیر اثر ہے اور اس کا دن بدھ کا ہے۔( یہ فصاحت کا دیوتا بھی کہلاتا ہے)

مذہب اور اس کے متعلقات ۔  جوپیٹر ، عطاردکے زیر اثر ہے اور اس کا دن جمعرات کا ہے۔( یہ دیوتاؤں کا بادشاہ بھی کہلاتا ہے)

شادی اور جنسی عمل  ۔   وینس ،  زہرہ کے زیر اثر ہے اور اس کا دن جمعہ کا ہے۔ ( اس کو محبت کی دیوی بھی کہا جاتا ہے )

 الف ) :  اس نقطہ نظرکے حوالے سے ایک بات اور بھی کہی جاتی ہے کہ قمر یا چاند کی اہمیت ہندوستان کے ویدک علم ِنجوم میں بہت ہے بمقابلہ سورج کے جس کی اہمیت مغربی طرز کے علم نجوم میں ہے۔ چاند کا ہماری زندگی جسم و  دماغ سے تعلق بہت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حضورؐ  مہینہ میں چند خاص دن کے روزے رکھتے تھے جسے ایامِ بیض  کے روزے کہتے ہیں۔ایک روایت یہ بھی ملتی ہے کہ حضورؐ نے چاند کی پندرہویں تاریخ کو مقاربت سے منع کیا کہ ایسی اولاد میں امکان ہے کہ کوئی نقص پایا جائے۔ دوسری روایت میں چاند کی پہلی ، درمیان اور آخری دنوں کے مقاربت سے اسی اندیشہ کے تحت منع کیا۔ بعض روایات میں چاند یا سورج گرہن کے اوقات میں بھی مقاربت سے منع کیا ۔ ان باتوں سے بھی علمِ نجوم کو تقویت ملتی ہے( واللہ عالم۔ اس روایت کی صداقت کی تحقیق ضروری ہے )۔ یہ بھی عام بات ہے کہ حضورؐ نے عقیق کا نگینہ چاندی میں منڈواکے انگلی میں پہنا اور یہی سنت حضرت علی ؓ اور دیگر اہل بیت اطہارنے بھی اختیار کی۔ اب اس کا استعمال سنت نبویؐ کے حوالے سے ہی کیا جاتا ہے۔ ایک خیال یہ ہے کہ اس پتھر کے پہننے سے دعا قبول ہوتی ہے اور انسان گناہوں سے دور رہتا ہے ( واللہ عالم )۔ ویدک علمِ نجوم میں پتھروں کی خواص پہ بڑا کام ہوا ہے اور اس کے اثرات سے انسانی مسائل حل کئے جانے کا کام لیا جاتا رہا ہے۔ بچپن میں حضور ؐ  کی ایک سفرکے دوران میں اپنے چچا کے ساتھ بحیرہ نامی راہب سے ملاقات ہوئی تو اس راہب نے قیافہ شناسی اور علم نجوم کی مددسے ہی حضورؐ کے نبی ہونے کی بشارت دی تھی اور آپؐ کے چچا کو انہیں دشمنوں سے بچا کے رکھنے کو کہا تھا۔ ہم میں سے اکثر مسلمانوں کو قرآن کا علم ناظرہ  قرات تک ہی ہے ۔ شاید پوری مسلم آبادی میں پانچ سے دس فیصد ہوں گے جو قرآن کی زبان سے واقف ہوں ورنہ قرآن سمجھنے والوں میں بھی وہی ہیں جو قرآن کو کسی کے ترجمہ کی مدد سے سمجھتے ہیں ،خدانخواستہ مترجم یا مفسر نے غلط ترجمہ یا تفسیر کر دی ہے تو اسے پڑھنے والوں  کے متعلق آپ سوچ سکتے ہیں کہ وہ کیا ہونگے۔ اللہ کے دین یا اس کی کتاب کا علم اب صرف سنی سنائی باتوں پہ ہی رہ گیا ہے یا ایک مخصوص گروہ کے لوگوں نے جو کچھ ان کے دماغ میں بٹھا دیا۔ قرآن کی زبان نہ جاننے کا نقصان یہ ہے کہ اگر کسی نے عربی زبان میں کوئی بات کہہ دی یا لکھادکھا دیا تو وہ غیر عرب مسلمان کے لئے انتہائی معتبر اور قرآن جیسا ہی مقدس بن جاتا ہے کم سے کم ہندوستان و پاکستان میں تو یہی ہوتا ہے۔

قرآن میں نجوم سے متعلق آیات جو موجود ہیں جو ان کی اہمیت کی تصدیق کرتی ہیں :

 ٭ بروج سے مراد کہکشاں یعنی ستاروں کا جمگھٹا ہے یا ان کی ترتیب ہے یا  زوڈیاک   ہیں۔( ۵۸ ویںسورہ بروج  ۱ ) ۔اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے بروج کی قسم کھائی ہے۔ اس کے علاوہ دوسری سورتوں میں بھی  اس کا ذکر ہے۔

٭ ہم نے بیشک بروج یعنی کہکشاں کو پیدا کیا اور آسمان میں سجا دیا اور اس کی حفاظت کی تاکہ وہ راندہ شیطان سے محفوظ رہ سکیں ۔(۵۱ ویں سورہ حجر ۶۱)۔ اللہ کے نظام تکوینی کا ، اس کے ارتباط اور ایسی قوتوں کا یہاں اشارہ ہے جو کسی قسم کی تخریب یا فساد سے ان برجو ں کو محفوظ رکھ سکے۔

٭بڑی خیر و برکت والا ہے جس نے بنائے ہیں آسمان میں بُرج اور اس میںچمکتا ہواچراغ ( آفتاب ) اور چمکتا ہوا چاند بنایا ہے( غور کرنے کی ضرورت ہے اللہ نے اپنی صفت خیر و برکت کو یہاں کیوں استعمال کیا ہے ۔ قرآن میں کوئی لفظ ایسا نہیں جو بے ربط ہو یا بے محل ہو جس کے رموز نہ ہوں ۔( ۵۲ ویں سورہ فرقان ۱۶ ) 

٭قرآن کی کئی سورتوں کے نام ستاروں یا سیاروں یا ان کی گردش لیل و نہار سے منسوب ہے یا آسمان کی منازل سے متعلق ہیں اور اس میں ان کے حوالے سے بھی بیان ہوا ہے ۔دیکھئے سورہ النجم ، الطارق ، الشمس ، الیل ، القمر ، المعارج ، القیامہ ، الدھر ، الفجر ، والضحیٰ ، العصر وغیرہ ۔

          عربی زبان میں جو علم نجوم کی ذخائر موجود ہیں ان میں بروج کا لفظ ہی استعمال ہوا ہے۔ جیسے کہ برج اسد  لیو سائین کا عربی نام ہے۔ اسی طرح  لیبرا سائین کا عربی نام برج میزان ہے۔( یونانیوں نے بروج کو بارہ ۲۱ حصوں میں بانٹا ہے جن کی عربی اصطلاحات میں حمل ، ثور ، جوزا ، سرطان ، اسد ، سنبلہ ، میزان ، عقرب ، قوس ، جدی ، ولو اور حوت کہا جاتا ہے)۔

          علم نجوم کی اہمیت کا اندازہ قرآن میں حضرت موسیٰ کے قصے سے بھی ہوتا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ کی پیدائش کی اطلاع فرعون کو اس کے درباری ستارہ شناس اور علم نجوم کے ماہر جس کا نام بلعام تھانے دی تھی اس نے فرعون کی سلطنت کی تباہی کے بارے میں بھی بتا یا تھا۔ فرعون نے اپنے وزیر ہامان کی مدد سے سارے بچوں کا قتل شروع کر دیا تھا لیکن جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے با لآخر وہی ہو کر رہا جو نجومی نے کہا تھا۔

بقیہ صفحہ  ۶ سے ۰۱ تک دیکھیں ۔۔ دوسری قسط

hesham syed         

please read 2nd portion also – from page 6 to 10.

Advertisements

4 Comments »

  1. […] اصل مضمون یہاں ہے Tags: علم نجومزمرہ علمِ نجوم کے تحت شائع ہوا | initUrduEditor();  […]

    Pingback by روحانی علاج و عملیات » Blog Archive » ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند ! حصہ اول — April 23, 2009 @ 7:04 am | Reply

    • This article of Hesham Ahmed Syed has been copied without permission to other Blogg http://amliyat.6te.net/ and the author is named as Abul Hasan which is an intellectual piracy and unethical – The Blogg owner is requested to correct the author name at his Blogg other wise legal action will be taken.

      Comment by heshamsyed — April 24, 2009 @ 2:29 am | Reply

  2. بسم اللہ الرحمن الرحیم

    السلام علیکم

    ہمیں دلی افسوس ہے اگر آپ کو اس بات سے کوئی تکلیف پہنچی ہو
    مگر مضمون کے آخر میں آپ یہ صاف طور پر لکھا ہوا ہے کہ اصل مضمون یہاں ہے تو پھر چوری کیسی
    بلکہ اب تو تحریر کے اوپری جانب اس لنک کو لگا دیا گیا ہے
    کہ
    یہ مضمون یہاں سے لیا گیا ہے

    کیوں کہ ورڈپریس خود کار نظام ہے کوئی بھی رکن کسی کی بھی تحریر کاپی کرے گا تو اس کے نام سے ہی پوسٹ ہو گی تو وہ شروع میں یا آخر میں ہی ماخذ یا اصل مضمون وغیرہ کا لنک دے سکے گا
    امید ہے آپ سمجھ گئے ہونگے

    اس کے علاوہ اگر ہمارے نزدیک کوئی خدمت ہو تو بلاتکلف ہمیں کہیے

    والسلام

    Comment by ابو الحسن — April 24, 2009 @ 4:22 am | Reply

    • I have already replied to you directly on your email – Please do publish he article , both Qist but use the correct author name – God bless
      Thanx to your response.

      Comment by hesham syed — April 24, 2009 @ 12:17 pm | Reply


RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: