Hesham A Syed

January 11, 2009

Those who reach the Stars – 2nd portion

Filed under: Islam,Religion,Science &Tech — Hesham A Syed @ 9:43 am
Tags: ,

Urdu Article ; SitaaroaN pey jo daaltey haiN kamand : Hesham Syed — doosry qist – 2

           گذشتہ  سے پیوستہ ۔  صفحہ ۶  سے ۰۱ تک

ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

          یہی ایک تاریخی واقعہ نہیںبلکہ بے شمار واقعات ہیں جن کی سچائی اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ علم نجوم بھی دوسرے علوم کی طرح کی ایک حقیقت ہے اور اس علم سے اگر اللہ چاہے تو بہت سے مسائل حل بھی کئے جا سکتے ہیں۔

          مسلمانوں میں چند ایک نام علم ِ نجوم اور علم ِ فلکیات کے حوالے سے مستند مانے جاتے ہیں : البطانی اور ا  لفزاری (۸۵۸۔ ۹۲۹ ) ، ابن سینا ( ۰۸۹ ۔ ۷۳۰۱ ) جنہوں نے الکیمیا اور علم الابدان پہ پہلی بار مستند کتابیں بھی لکھیں  ، موسیٰ الخوارزمی جنہوں نے الجبرا بھی ایجاد کیا اور پہلی بار دنیا کا نقشہ سات بر اعظم پہ مشتمل بنایا ۔ علم ریاضی اور جغرافیہ پہ بھی کتابیں لکھیں ، انہوں نے علم فلکیات و نجوم میں بھی خاصا اضافہ کیا۔ہندوستانی مصنف  مہا ویر کی ’کلاسیک سیدھانت‘ کا ترجمہ سنسکرت سے عربی میں کیا ۔خراساں کے عمر خیام ( ۹۱۰۱ ۔ ۵۳۱۱ ) شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ مشہور عالم نجوم بھی تھے ۔  انہوں نے اپنی موت تک کا وقت بتا دیا تھا۔ موت سے ایک دن قبل وہ روزے سے تھے اور عبادت میں مصروف رہے اور اپنی جان اپنے مالک کے سپرد کر دی۔ البیرونی (۳۷۹ ۔ ۶۱۰۱ ) بادشاہ المحمود کے درباری نجومی تھے۔انہوں نے ہندوستان میں بارہ سال رہ کر یہ علم حاصل کیا ، ان کی کتاب ، کتاب التفہیم للاوائل سینات التنجیم کا ترجمہ رامسے رائٹ نے بعد میں کیا ۔اس کتاب میں البیرونی نے جیومیٹری ، علوم فلکیات و نجوم ، علم ریاضی اور علم جغرافیہ پہ مستند اضافہ کیا ہے۔ مغل بادشاہ ہمایوںجو ایک نہایت شریف النفس بادشاہ مانا جاتا ہے اور اسے علم نجوم پہ خاصی مہارت حاصل تھی وہ اس کا استعمال بھی کیا کرتا تھا۔

          تاریخی اعتبارسے مسلمان بادشاہوں نے بھی علوم ِ فلکیات و نجوم کی سرپرستی کی ۔مسلمان سائنسدانوں نے  ہی سب سے پہلے فلکیات کی ایسی آبزرویٹر  بنائی جس میں ستاروں اور سیاروں کے محل و و قوع متعین کئے گئے۔ علم فلکیات و نجوم کے علمی ذخائرمیں ایک تہائی سے زیادہ اصطلاحات عربی زبان کی استعمال ہوتی ہیں!

          علم نجوم کے منکرین یامخالفین کے مقابلے میں اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ :   ؎

ستارہ  کیا  مری تقدیر  کی خبر  دے  گا    :   وہ خود فراخئ افلاک میں ہے خوار و زبوں

          یہ تو محض ایک شاعرانہ تعَلّی ہے اورحقیقت یہ ہے کہ یہ علم و حکمت کی ہی ایک قسم ہے اور بے شمار مشاہدات و واقعات ہیں جو مذہبی کتابوں میں بھی درج ہیں جو اس علم کی حقانیت کوثابت کرتے ہیں ۔ دوسرے مذاہب میں اس علم کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے بلکہ اسلام کے بہت سے فرقے آج بھی اس علم کا استعمال کر رہے ہیں اور اس کے حوالے سے اپنے اور دنیا میں ہونے والے واقعات کا صحیح پتہ دے رہے ہیں ( و اللہ عالم) ۔ اسلام میں علومِ فلکیات  اسٹرانومی  کے حصول میں تو کوئی بحث نہیں اور اس کی حقیقت کو سبھی تسلیم کرتے ہیں اور ستاروں کی گردش سے دن و رات ، ماہ و سال کی تقسیم ہی نہیں بلکہ عبادات وغیرہ کے اوقات بھی متعین کئے جاتے ہیں۔ اختلاف ہے تو صرف اس بات پہ کہ کیا ان ہی ستاروں کی گردش اسٹرالوجی سے زندگی کے معاملات طے کئے جا سکتے ہیں یا نہیں یعنی کیا یہ سارے علوم غیبی یا ظاہری طور پہ انسان کی زندگی پہ اثر انداز ہوتے ہیں یا نہیں۔ اگر یہ عبادات پہ اثر انداز ہو سکتے ہیں تو معاملات پہ کیوں نہیں کہ معاملات بھی تو عبادات کا  ہی حصہ ہیں ۔ اسلام تو ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ آپس کے معاملات بھی اگر اللہ کی بتائی ہوئی باتوں کے زیر اثر ہوں اور نیت درست ہو تو یہ عبادات میں شمار ہوتے ہیں ۔    ؎

 اپنے رازق کو نہ پہچانے تو محتاجِ ملوک   :   اور پہچانے تو تیرے گدا  دارا  و  جم

دوسرا نقطہء نظر:  آیئے اب ہم دوسرے نکتہ فکر کی طرف چلتے ہیں جو اس علم کے رَد میں اپنی دلیلیں پیش کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ قرآن و احادیث سے ہمیں کیا رہنمائی ملتی ہے :    ؎

 احکام ترے حق ہیں ، مگر اپنے مفسرّ  :  تاویل سے قرآں کو بنا سکتے ہیں پازند

          غیب کی خبر یا کل کی کنجی صرف اللہ کے پاس ہے ( سورہ الانعام ۔ ۶ ۹۵ ) ۔کہ دیں کہ غیب کا علم زمین و آسمان میں سوائے اللہ کے کسی کو نہیں ( سورہ النمل ۔ ۷۲ ۵۶ ) ۔ وہی اللہ ہے جو عالم الغیب ہے اور جس نے کسی  کو اپنا راز نہیں بتایا سوائے ان پیغمبروں کے جن کا انتخاب اس نے کر لیا اور ان کے آگے پیچھے ایسے پہرے دار مقرر کر دئے تاکہ وہ اللہ کے علم کو صحیح طور پہ لوگوں تک پہنچا دیں ۔ وہ ہر چیز پہ نگہبان ہے اور ہر عمل کا حساب لینے والا ہے ( سورۃ جن ۶۲  ۸۲ ) ۔کوئی شے یا روح اپنے کل کے بارے میں نہیں جانتی ( سورۃ لقمان ۴۳ ) ۔ 

,

          صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ جو لوگ اپنے آئندہ کا جاننے کے لئے مستقبل بیں یا مستقبل کا حال بتانے والے کے پاس جاتے ہیںان کی چالیس دن و رات کی نماز اللہ قبول نہیں کرے گا ۔ سنن ابی داود کی حدیث ہے کہ جس شخص نے کسی جوتشی یا قسمت کا حال بتانے والے کی باتوں پہ یقین کیا اس نے اصل میں اس بات سے انکار کیا جو اللہ نے محمد ؐ پہ نازل کی ہے۔حضور ؐ کے صاحبزادے جس دن وفات پاگئے اس دن سورج گرہن ہوا تو لوگوں میں یہ بات پھیلی کہ شاید سورج اس واقعہ پہ غمگین ہے ، یہ سن کر حضورؐ نے فوراً ایک خطبہ دیا کہ سورج اور چاند گرہن ستاروں کی نظام سے متعلق اللہ کا ایک نظام ہے اور اس کا کوئی واسطہ کسی کے مرنے یا جینے سے نہیں۔ مسنداحمد ، ابی داود اور ابن ماجہ میں مروی احادیث کا مفہوم ہے کہ جس نے علم جوتش  اسٹرالوجی ستارہ شناسی مستقبل کا حال بتانے کے لئے سیکھا وہ ایسا ہے جیسے اس نے جادو سیکھا اور جادو گری گناہ ہے۔ مشکوۃٰ المصابیح میں ہے کہ جس نے علم ِ  فلکیات علاوہ اس مقصد کے جو اللہ نے حلال قرار دیا ہے اس غرض سے سیکھا کے وہ لوگوں کو آئندہ ہونے والے واقعات بتائے گا تو اس نے جادو گری سیکھی اور جادو گر کافر ہوتا ہے۔ ابن کثیر اور ابن عبدا لبر نے روایت کی ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا کہ مجھے اپنی امت سے تین باتوںکے فتنہ کا ڈر ہے ایک یہ کہ ان کے امام یا لیڈر انہیں دبا کر رکھیں گے یا ان پہ ظلم ڈھائیں گے دوسرے یہ کہ قیافہ شناسی ، علم ِجوتش پہ یقین رکھیں گے ، اور تیسرے یہ کہ یہ لوگ تقدیر کا انکار کریں گے ۔ پیغام تو یہی ہے کہ :    ؎

نگاہ  وہ  نہیں جو  سرخ و زرد  پہچانے   :  نگاہ  وہ  ہے کہ  محتاجِ  مہرو ماہ  نہیں 

علوم تازہ کی سرمستیاں گناہ تو نہیںہیں لیکن یہ بھی کہا کہ :    ؎

اسی سرور میں پوشیدہ  موت بھی ہے تری   :  ترے بدن میں اگر سوزِ لا الہٰ  نہیں

          مندرجہ بالا مفہوم ہی کی آیات قرآنی اور بھی ہیں اور ایسے ہی مفہوم کی احادیث کی اسناد اور بھی موجود ہیں۔ خود حضورؐ سے اللہ نے کہلوایا کہ اگر میں عالم الغیب ہوتا تو تم سبھوں کے لئے صرف خیر اکٹھا کر لیتا لیکن میں تو تمہیں اللہ کے عذاب سے ڈرانے والا اور اللہ کے انعامات کی بشارت دینے والا بنا کر بھیجا گیا ہوں ( سورۃ  الاعراف  ۷  ۸۸۱ )۔ یہاں یہ غلط فہمی نہ پیدا ہوجائے کہ اللہ نے حضورؐ  کو غیب کا کوئی علم ہی نہیں عطا کیا اور آدمی اپنی کور بینی کا حضور ؐ سے مقابلہ کرنے لگے ، بلکہ اللہ نے جتنا علم اپنے محبوب ؐ  کو عطا کیا اتنا عالمِ مخلوقات میں کسی اور کو عطا نہیں کیا ۔ بہت سے مقامات ہیں قرآن میں اور روایات ہیں احادیث کی جو اس پہ دلالت کرتی ہیں کہ علم غیب کا بہت بڑا حصہ حضور  ؐکو عطا کیا گیا ۔ یہاں تک کہ یہ روایت بھی موجود ہے کہ مجھے قیامت تک کے واقعات ایسے دکھائے گئے جیسے میں اپنی ہتھیلی کو دیکھتا ہوں ۔ یہ بات ایسی ہی ہے کہ وہ بشر ہیں لیکن جہانِ بشریت میں ہیں یکتا بھی وہی ہیں ۔    ؎

جہاںِ تمام ہے میراث  مردِ مومن کی   :  میرے کلام پہ حجت ہے نکتہ لولاک !

          جہاں تک روحانی عاملوں کا تعلق ہے ان لوگوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جن میں اخلاص ہے اور وہ فی سبیل اللہ لوگوں کو فائدہ پہنچا رہے ہیں ۔ اس میں کوئی برائی نہیں تاوقتیکہ ان کے اندر کا نفس موٹا نہ ہو رہا ہو ، کیونکہ کسی کام میں اگر اخلاص نیت اور جزبۂ فی سبیل اﷲ پوشیدہ نہیں تو وہ کام اللہ کے دربار میں مقبول نہیں ہوتا۔

          روایتوں میں یہ روایت ملتی ہے کہ ایک بار کسی صحابی نے کسی مریض کی بیماری میں سورہ الحمدشریف کا دم کیا تو اسے شفا نصیب ہوئی اور اس کی اطلاع حضورؐ  کو دی تو حضورؐ نے بیماروں کے علاج کے لئے قرآنی آیات کے پڑھنے اور دم کرنے کی ہمت افزائی کی ۔ قرآن کی آیات میں شفا ہے روحانی بھی اور جسمانی بھی ۔یہ تو ایک واضح سی بات ہے کہ خود حضورؐ سے ایسے کئی واقعا ت کا پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے لوگوں پہ بھی اور اپنے آپؐ پہ بھی قرآنی آیات کا دم کیا لیکن اسے تجارت بنا لینے کی تو روایت کہیں نہیں ملتی بلکہ خود قرآن میں قرآنی آیات کے عوض کوئی معاوضہ لینے پہ ممانعت آئی ہے۔ اب اگرکوئی کسی خاص آیت کے ورد کو یا کسی وظیفے کو اپنی دنیا کمانے کا سبب بنا لے تو اس سے کسی ضرورتمند کو تو مادی فائدہ حا صل ہوجاتا لیکن عامل خود اس کے اجر سے محروم رہ جاتا ہے(بر سبیلہ تذکرہ  اس سلسلے میں یہ بحث بھی سامنے آتی ہے کہ حرم شریف کے اطراف میں جو گھر ہیں ان کو حج  کے زمانے میں یا عمرہ کے لئے جس طریقے سے تجارت  کے لئے استعمال کیا جاتا ہے وہ بھی تو قرآنی احکام کے خلاف ہے۔ پچھلے مفسروں نے تو اس پہ بڑی بحث کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ حجاج سے حرم کے اطراف میں گھروں میں ٹھہرنے کے لیے رقم لینا حرام ہے ، واللہ عالم ۔اس معاشرے میں بہت سارے ایسے مسائل ہیں جو قرآنی احکام کی بظاہر ضد نظر آتے ہیں جیسے کہ سود ہی کا مسئلہ ہے لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کی اکثریت اس پہ عمل کرنے کا کوئی نہ کوئی جواز نکال لیتی ہے)۔ روحانیات بہر حال ایک ایسا موضوع ہے جس کے بارے میں چند کتابیں لکھ دینا کافی نہیں ، یہ معاملہ ایسا ہی ہے کہ کوئی آم کے اقسام اور اس کے ذائقہ پر پوری ایک انسائیکلوپیڈیا مرتب کر دے لیکن اگرکسی نے کبھی آم کھایا نہ ہو تو آم کا نام سن کر یا اس کے بارے میں پڑھ کراس کے ذائقہ کا لطف نہیں اٹھا سکتا۔ یہ بات ساری کیفیت ، مشاہدات اور تجربات پہ مبنی ہے۔اور ایک کیفیت ِ ادراک یہ بھی ہے کہ :   ؎

اگر نہ ہو تجھے اُلجھن تو کھول کے کہہ دوں  :   وجودِ حضرتِ انساں  نہ روح ہے نہ بدن

 دنیا کے بارے میں کسی نے کہا ہے کہ :    ؎

یہ تَوَہم کا کارخانہ ہے   :  یاں وہی ہے جو اعتبار کیا  

اور ایک خیال یہ بھی ہے کہ :    ؎

حیات کیا ہے خیال و نظر کی مجذوبی   :  خودی کی موت ہے اندیشہ ہائے گونا گوں

          تَوَہمات سے انسان کو چھٹکارا اسی وقت مل سکتا ہے جب اس کا اللہ کی ذات پہ یقین پختہ ہوجائے اور اسی کی ذات کو اپنا کفیل مانے۔ اپنی زندگی کا خوف اور بے یقینی کی کیفیت ہی انسان کوتوہمات میں مبتلا رکھتی ہے اور یہی وہ چیزہے جو اسے مشرکانہ عقائد میں مبتلا کر دیتی ہے۔ اللہ کے رسولؐ کی تمام جدوجہد انسان کو توہمات سے آزاد کرکے اسے اللہ کی ذات سے جوڑنے کے لئے ہی تو ہے۔یہ تَوہمات کا ہی تو کارخانہ ہے جس نے آدمی کو اپنے نفس اور خودی کی پہچان سے دور رکھا ہے اور اسے سوائے خدا پرستی کے ،ستارہ پرستی ، قبر پرستی ، خود پرستی ،  قبیلہ پرستی ، وطن پرستی ، شخصیت پرستی ، اور نہ جانے کتنی ہی پرستیوں کے عارضے میں مبتلا کر دیا ہے ۔ انسان اپنے ارادوں میں خود مختار تو ہے لیکن بہت سارے معاملات میں وہ بے چارہ بھی ہے۔ماحول ، فطرت ، قدرتی اسباب و وسائل وغیرہ اس پہ اثر انداز ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن جو پیغامِ ابدی ہے وہ تو یہ ہے کہ :   ؎

تو اپنی سر نوشت اب اپنے قلم سے لکھ   :  خالی رکھی ہے خامۂ حق نے تری جبیں

یہ نیلگوں  فضا  جسے کہتے ہیں آسماں   :  ہمت ہو پر کُشا تو حقیقت میں کچھ نہیں

حشام احمد سی

 

Advertisements

1 Comment »

  1. […] ماخذ Tags: نجوم، ستارہ شناسیزمرہ علمِ نجوم کے تحت شائع ہوا | initUrduEditor();  […]

    Pingback by روحانی علاج و عملیات » Blog Archive » علم نجوم و ستارہ شناسی — April 23, 2009 @ 6:35 am | Reply


RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: