Hesham A Syed

January 11, 2009

Treatment of Heart

Filed under: Religion,Social Issues,Spiritual — Hesham A Syed @ 8:32 am
Tags:

Urdu Article : Kuch Kijiey elaaj e Dil bhi : Hesham Syed

حشام احمد سید

 کچھ کیجئے علاج  ِ دل بھی

 

اے ساکنان ِ کنج  قفِس صبح کو صبا    :  سنتی ہی جائے گی سوئے گلزار کچھ  کو

 آزردگی برقرار ہے ۔اخلاقی قدریں روز بروز مٹتی جا رہی ہیں۔ نفرتیں ، عداوتیں ، خیانتیں ، شکایتیں ہماری ذات کا حصہ بن گئی ہیں۔منافقانہ طرز ِعمل نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا ۔ فکر دامن گیر ہے کہ ہم اب بھی نہ سنبھلے تو ہم اپنی نسلوں کے لیے کیا چھوڑ جائےں گے۔اپنی ذات کی تشہیر اور اس کے تحفظ میں ہر فرد سرگرداں ہے۔ملت کا درد، آفاقی خیال ، پیارو محبت کی چاشنی ، جذبہ ایثار یہ سب باتیں قصہ پارینہ ہوگئی ہیں ۔    ؎

 کہوں کس سے قصۂ دردو غم کوئی ہم نشیں ہے نہ یار ہے

  جو انیس ہے  تیری یاد ہے  جو شفیق ہے  دل زار ہے

          مادیت پرستی کی آتش ناکی نے ساری امت مسلمہ کو مدہوش کر رکھا ہے ۔حکمران طبقہ ، لیڈران سب کے سب مغربی ا قوام کی فکر سے مغلوب ہو چکے ہیں اور ان کی قوت میں جذب ہو چکے ہیں۔عوام ایک کشمکش ، تذبذب اور دو عملی میں مبتلا ہیں۔ عمومی بے راہ روی ہے ، راہنماؤں کا قحط ، سیاسی بے شعوری ، مغرب کی کورانہ تقلید ، بے جا جدت پسندی اور بے محل رجعت پسندی نے زندگی کو ایک غیر آئینی شعور دیاہے۔ مذہب کا کچھ نہ پوچھئے :     ؎

 کعبے سے بت نکال دئے تھے رسولؐ نے   :   اللہ کو نکال رہے ہیں  دلوں سے آپ 

جو  محتاط رویہ رکھتے ہیں ان کا حال یہ ہے کہ :     ؎

مذہبی بحث ہم نے کی ہی نہیں  :  فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں

لیکن کہیں کہیں اور کبھی کبھی یہ احساس ہوتا ہے کہ :    ؎

آج بنگلے میں  مرے آئی  تھی آواز اذاں  :  جی رہے ہیں ابھی کچھ  اگلے زمانے والے

          علم و عقل کا پرچار ، فلسفہ اور تقریر وں کے طومار ، اخباروں رسالوں اور کتابوں کی بھرماربھی ایک وبا کی طرح بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ماشااللہ قابلیت تو بہت بڑھ گئی ہے مگر افسوس یہی ہے کہ مسلماں نہ رہے۔ ایک اصطلاح عام ہے کہ جنریشن گیپ کا زمانہ ہے۔    ؎

ہم ایسی سب کتابیں  قابل ضبطی سمجھتے ہیں  :  کہ جن کو پڑھ کے بچے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں

نہ کرو صاحب نسب  نامے وہ وقت آیا ہے  :  بے اثر ہوگی شرافت  مال دیکھا  جائے گا

           فکر کی عیاری ہے۔دل کی آزاری ہے ۔مصلحت اندیشی ہے لیکن چلو خیر ہے کہ اظہار کی آزادی ہے ۔ اتنی آزادی بھی غنیمت ہے کہ سانس لیتا ہوں اوربات کرتا ہوں۔ اہل فہم ، اہل قلم حضرات کے خیالات کی فراوانی ہے۔ اساتذہ کی ہنرمندیوں کے معرکے ہیں ۔ مجلسی زندگی ہے۔نغموں کی جھنکار ہے ۔رسوم و قیود ہیں۔ تشبیہات واستعارے ہیں۔تلمیحات واشارات اور علامات ہیں ۔تراکیب لفظی ہے ، ملمع سازی ٔ نظر ہے ۔ قافیہ پیمائی ہے ۔ حسن پرستی ، نزاکت ، لطافت ہے۔جو چیز نہیں پائی جاتی ہے وہ وسعت قلبی اور اخلاص و فلاح و بہبود کا جذبہ ہے۔ حیاتِ انسانی کا ثبات و ارتقأ علم و معرفت ، معاشرت اور معشیت پہ منحصر ہے۔ زمین کی طنابیںجیسے جیسے کھنچتی جا رہی ہیں اور دنیا بظاہر ایک برادری بنتی جا رہی ہے ویسے ویسے اتحاد و یگانگت کی جگہ افتراق و مخالفت بڑھ رہی ہے۔ اس کی وجہ پر غور کریں تو اپنے اصل اور اپنے خالق سے دوری ہے۔ موجودہ دور کے ارتقا میں اولیت استحصال اور استیصال کو حاصل ہے۔ جوع ا لا رض ، جلبِ زر ، تسلط، تصرف ، فوقیت و برتری اور حصول اقتدار کی گوناگوں خواہشات اور جذبات نے اقوام عالم کو زیرو زبر و تہ و بالا کر کے رکھ دیا ہے۔ علم ِمعرفت جس سے انسانی زندگی کو استحکام حقیقی بخشا جا سکتا تھا اس سے صرف ہلاکت کے سامان مہیا کئے گئے ۔ زندگی میں کرب، اضطراب اور انتشار کی دولت کو فروغ حاصل ہوا ۔ مذہب کو مادیاتی ،تحقیقاتی نتائج کے بل بوتے پر رد کرنے کی کوششیں کی جانے لگیں ہیں۔ فطرت کے رموز کی دریافت اور نئی تحقیقات کی تشہیر نے قدیم نظریات کورد کردیا ہے۔ مادی نظریات نے پورے کرۂ ارض کو ذہنی مریض میں تبدیل کردیا۔جنس اس ذہنی بیماری کی مرکز اول قرار پائی ہے۔ اس کو تقویت تفریحی مشاغل کے سامان اورجلب زر کے ذریعہ مل رہی ہے۔ دولت میں عظمت کے تصور نے اپنی ذات میں استغراق کے نظریہ کو جلا بخشی ۔جدید سیاست میں فرد کی اہمیت نے اسے تقویت بخشی ۔ انفرادیت کے بڑھتے ہوئے رجحان نے فرد کو معاشرے سے لاتعلق کردیاہے۔آج کا فرد رفتہ رفتہ روحانی رشتوں کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے صرف اپنی ذات کے احترام میں کھو چکا ہے۔ دولت میں اضافے کے نئے نئے طریقے ایجاد ہوئے ہیں ۔وہ فرد جو دن بھر کی محنت سے قوت لا یموت حاصل کرتا تھا اس کو مشینوں کے ذریعے مفلوج کردیا ہے۔ صنعتی فروغ کے لئے بے بس و مجبور انسانوں سے،جن میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں ، بہیمانہ سلوک اختیار کیا گیا۔ شیطان نے ترکیب ِتنزل یہ نکالی ہے کہ لوگوں کو تم ترقی کاشوق دلا دو۔    ؎

آدم چھٹے بہشت سے گیہوں کے واسطے  : مسجد سے ہم نکل گئے  بسکٹ کی چاٹ میں

عقائدپر قیامت آئے گی ترمیم ملت سے  :  نیا کعبہ بنے گا  مغربی پتلے صنم ہوں گے

یہ ساری باتیں کرنے کا مقصد صرف اپنے آپ کا محاسبہ ہے اور اصلاح کے طریقہ کی دریافت ہے۔   ؎

دل مردہ دل نہیں ہے اسے زندہ کر دوبارہ   :  کہ یہی ہے امتوں  کے مرضِ کہن  کا چارہ

 مصر کے شاعر احمد شوقی کا شعر ہے :    ؎

 الناس صنفانِ موتیٰ فی حیاتہم   :  و آخرون ببطن ا لارضِ احیا

          (لوگ دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو جیتے ہیں لیکن مردہ ہیں اور دوسرے وہ جو قبرمیں ہیں اور زندہ ہیں) ایسے افراد اگر کسی معاشرے میں کثرت سے ہوں جو سانس تو لے رہے ہوں لیکن چلتی پھرتی لاشیں ہوں تو وہ معاشرہ بھی مردہ و بے ذوق کہلا ئے گا۔ قرآن بھی اس بات کو صراحت سے بیان کرتا ہے ، ’’ان ھُو الل ذکر و قرآن مبین لینزر من کان حیاو یحق القول علی الکافرین‘‘۔ قرآن تو پڑھی جانے والی واضح کتاب ہے تاکہ اس کو باشعور بنائے جو زندہ ہے اور ان کے حق میں اتمام حجت ہے جو حقیقتوں کا انکار کرتے ہیں۔ خدائے زندہ ہے زندوں کا خدا ۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں مر جائیں یا مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہنا بلکہ وہ زندہ ہیں اور اللہ کی طرف سے رزق پا رہے ہیں۔ ( ۲۴۵۱ ، ۳ ۹۶۱  تا  ۱۷۱ ) ، دیکھا آپ نے زندہ اور مردہ کا تصور خود موت و حیات کے پیدا کرنے والے کے نزدیک کیا ہے؟۔ حضرت علی ؓ  کا شعر ہے کہ :   ؎ لیس من مات فاسراح بمیت  :   انما  ا  لمیت  میت  الاحیا  ٔ

 (یعنی جو شخص مر گیا وہ آرام سے ہے مردہ نہیں حقیقت میں مردہ وہ شخص ہے جو زندہ ہے لیکن مردہ دل ہے)

                    خود آگاہی وہ پہلی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر ہی کوئی شخص آسمانَ معرفت کو پہنچ سکتا ہے۔ اولاد ِ آدم کی اکثریت نقال اور بے بصیرت ہے ۔ ان کی رہنمائی کی ذمہ داری صاحب شعور افراد پہ ہوتی ہے۔ نام نہادروشن خیال دانشوروں سے البتہ پرہیز کی ضرورت ہے۔ یہ لوگ غلط اقدار ، مہمل افکار کو خوبصورت اورپر فریب الفاظ میں لپیٹ کر وسعت مطالعہ کے دھونس کے ساتھ معاشرے میں رواں کردیتے ہیں۔ یہ انسان کی فطرت ہے کہ اگر وہ تربیت سے محروم رہے تو اس میںانکسار کا جوہر نشونما نہیں پاتا ، انکسار کا نہ ہونا روح کے مردہ ہونے کی علامت ہے اور روح جتنی مردہ ہوگی جسم اتنا ہی موٹا ہوتا جائے گا۔محض لبرل  یا روشن خیال کہلوانے کی خواہش رکھنے والے نور بصیرت سے محروم ہوجاتے ہیں ۔ یہ حقیقت بھی قدیم ہے ، کسی نے کہا ہے کہ :آل ٹروتھ اِز اولڈ اونلی ایرر اِز  اوریجینل  یعنی سچائی تو سب پرانی ہے صرف غلطی نئی ہوتی ہے۔ خود فراموشی کے تاریک جنگل سے نکل کر خود آگہی کے روشن اور پر فضا باغ میں کوئی آنا چاہے تو اس کا راستہ صرف  حُبِِّ رسولؐ کے ذریعہ ہی ہے۔اسی جذبہ کے توسط سے ایمان کاملہ حاصل ہوتا ہے۔مسلمان مسلمان کی حیثیت سے زندہ ہے یا مردہ اس کی نشانی یہی ہے کہ وہ خدا اور رسولؐ کی محبت میں دنیا و مافیہا سے منھ موڑتا ہے یا نہیں۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ جس کے دل میں حُبّ ِرسولؐ  نہیں وہ ایمان سے محروم ہے۔ محبت کی سرشاری دل کی بیماری کی دوا ہے۔دل مردہ کا علاج محبت کی تپش اور سوز ایمان ہے۔    ؎

تڑپنے پھڑکنے کی  توفیق  دے  :  دلِ  مرتضیٰ  سوزِ صدیق  دے

 جگر سے  و ہی تیر  پھر پار  کر  :  تمنا کو  سینوں  میں  بیدار  کر

 عشق و محبت نے جس کے دل کو گداز کیا ہے وہ بخوبی جانتا ہے کہ محبوب وہی ہے جسے ہر شے پرترجیح حاصل ہے۔   ؎

عقل و دل و نگاہ کا  مرشد ِ اولیں ہے عشق   :  عشق نہ ہو تو شرعِ  و  دیں بتکدہ تصورات

مشہور شعر ہے کہ :    ؎

صحبت صالح تورا صالح کند  :  صحبت طالع تعرا طالع کند

          نیکون کی صحبت تجھے نیک بناتی ہے اور بروں کی صحبت تجھے برا بناتی ہے

          یہ حقیقت ہے کہ اچھی صحبت سے قلب صیقل ہوتا ہے۔ صالحین و مقربین کو تلاش کرنا چاہیے ۔

 طبیب ِ باطن کی چند علامات بزرگانِ دین نے بتائی ہیں وہ بھی گوش دل سے سن لیجئے:

۱)  علمِ شریعت سے بقدر ضرورت واقف ہوتا ہے خواہ تحصیل سے یا  علما کی صحبت سے۔

 ۲)  عقائدِ اخلاق و اعمال میں شرع کا پابند ہو۔

۳)  تارک ِدنیا ، راغب ِآخرت ہو ، ظاہری و باطنی اطاعت پہ مداومت رکھتا ہو۔

۴)  کمال کا دعویٰ نہ کرتا ہو کیونکہ یہ بھی شعبۂ دنیا ہے۔

۵)  بزرگوں کی صحبت اٹھائی ہو اور فیض و برکات حاصل ہوں ۔

۶)  تعلیم و تلقین میں مریدوں کے حال پہ شفقت کرتا ہو اور بری بات پہ ٹوکتا ہو۔

۷)  جو لوگ اس سے بیعت ہوں ان میں اکثر کی حالت پہ اعتبارِ شرع و قلتِ حرص دنیا اچھی ہو۔

۸)  زمانے کے منصف اور علما اسے اچھا سمجھتے ہوں۔

 ۹)  عوام کے نسبت خواص یعنی فہیم و دیندار لوگ اس کی طرف مائل ہوتے ہوں۔

 ۰۱)  اس کی صحبت دنیا کی محبت میں کمی کرے اور اللہ اور اس کے رسولؐ  کی محبت میں اضافہ کی موجب ہو۔ 

۱۱)  خود بھی ذاکر و شاغل ہو۔

 ۲۱)  مصلح ہو ، نرا صالح ہونا کافی نہیں۔

یہ خصوصیات کوئی شخص کسی میں پائے تو یہ نہ دیکھے کہ اس سے کوئی کرامت صادر ہوتی ہے یا نہیں یا یہ شخص صاحب تصرف ہے یا نہیں یا کشف ہوتا ہے یا نہیں کیونکہ یہ امور لوازم شیخیت یا ولایت میں نہیں۔

آج کی بات مولانا روم   ؒکے  دو اشعار پہ ختم کرتا ہوں :    ؎

فہم گر دارید جاں را رہ دہید   :   بعد ازاں از شوقِ پا در رہ نہید

 ( اگر سمجھ رکھتے ہو تو روح کو راستہ دو ۔ اس کے بعد شوق سے راستہ پہ چلو)

نورِ حق  ظاہر بود  اندر ولی   :  نیک بیں  شی اگر  اہلِ  دلی 

( ولی میں اللہ کا نور ظاہر ہوتا ہے ، تو اگر صاحب دل ہے تو اسے دیکھ لے گا )

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: