Hesham A Syed

January 11, 2009

Vision and Views

Filed under: Canada,Media,Social Issues — Hesham A Syed @ 4:38 am
Tags:

Urdu Article : Fikr  wa  Zikr : Hesham Syed

فکر و ذکر
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا ۔ سنڈے ٹائمز کے مدیر کا پچھلی جمعرات کو فون آیا کہ ۳۱ مارچ ہفتہ کو دوپہرڈھائی بجے ایرن مل میڈوول سینٹر میں چند صحافیوں ، شعرا اور دانشوروں کی تقریب ہے، ہم مل بیٹھ کر کچھ گفتگو کریں گے، آپ تشریف لائیں، میں نے تاکید کی کہ کوشش کریں کہ لوگ وقت کی پابندی کریں اور انہوں نے اس بات کا یقین دلایا کہ تقریب کا آغاز زیادہ سے زیادہ ۳ بجے تک ہو جائے گا۔میں ۲بجکر ۵۳منٹ پہ پہنچا تو یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ چند لوگ موجود تھے لیکن اور چند کا انتظار تھا۔تقریب کا آغاز ۳ بجکر ۵۴ منٹ پہ ہوا ۔ حسبِ روایت ہوئی  تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا۔تقریب کے آغاز اور ایڈیٹر صاحب کے ابتدائیہ خطاب سے قبل تک اکثر شرکائے تقریب کا چہرہ موضوعاتِ تقریب سے متعلق ایک سوالیہ نشان بنا ہوا تھا۔ خیر عدنان ہاشمی صاحب نے  اور طارق خان صاحب نے مقصدِ تقریب کی وضاحت کی اورسنڈے ٹائمز میں ہم سب افراد کو دامِ درمِ سخنے شمولیت کی دعوت دی ۔ گویا یہ ایک مشاورتی جلسہ تھا جوکنیڈا میں ایک اچھے اخبار کے اجراکی ضرورت اور سنڈے ٹائمز کو چلانے اور بہتر بنانے سے متعلق تھا ۔گویا صلائے عام تھی یارانِ نکتہ داں کے لئے۔
 تقریب میں تقریباََ۰۳افراد تھے جن میں دو خواتین بھی تھیں گویا چھ فی صد۔’وجودِ زن سے ہے کائنات میں رنگ‘کی طرح تاہم اگر وہ ذہین و ہنر مند اور فعال بھی ہوں تو کیا کہنے!!میں ہمیشہ اس بات کا قائل رہا کہ انسانی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ مردوں کی بہیمانہ اور غاصبانہ رویہ کی نظر ہوگیا اور ہوتا رہا ہے۔ یہ بات صرف مشرق ہی میں نہیں بلکہ آج بھی مغرب میں جوں کی توں ہے ، صرف انداز کا فرق ہے۔
 اس جلسے میں ہر شریک کو کچھ نہ کچھ کہنے کا موقع ملا۔ اپنے متعلق بھی اور اپنے مشاہدات سے متعلق بھی اور پھر مختلف تجاویزات بھی پیش کی گئیں۔ ہر ایک نے ہی اپنی بساط کے مطابق تعاون کا یقین دلایا اور کنیڈا میں ایک اچھے صحافتی دور کے آغاز سے متعلق اس تقریب کو خوش آئند قرار دیا اور اس کے لیے دعا گو ہوئے۔ مجھے اندازہ ہے کہ عدنان ہاشمی آئے تو اس تقریب میں گاڑی سے ہونگے لیکن سب شرکائے تقریب کو سننے کے بعد واپسی ہوا میں تیرتے ہوئے ہوئی ہوگی۔ بس دعا کریں کہ ان کا حشر اس شاعر جیسا نہ ہو کہ کسی بادشاہ کی قصیدہ خوانی اور مدح سرائی پہ حکم دیا وزیر کو کہ شاعر کو انعام عطاکیا جائے ، دوسرے دن شاعرصاحب جب انعام لینے حاضر ہوئے  تو وہ یہ کہہ کے لوٹا دئے گئے کہ تم نے مجھے باتوں سے خوش کیا تو میں نے بھی تمہیں باتوں سے خوش کیا ، حساب برابر۔ یہ بات انسانی معاشرے کے حوالے سے ذہن میں آ گئی ورنہ ہم سب کی نیت اور معاونت کے بارے میں کوئی  شبہ نہیں۔ الحمد للہ۔
 میرے لیے اس تقریب کی اہم بات یہ بھی تھی کہ تقریب کچھ تو بہرِ ملاقات چاہئے کے مصداق بہت سے  افراد (خواتین و حضرات )سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا اور ان افراد کے گزشتہ سے پیوستہ صلاحیتوں اور ان کے عملی پہلوؤں سے متعلق جانکاری حا صل ہوئی ۔ میں سوچتا رہا کہ اس زمانے کی خام ہوا میں پختہ افکار کہاں ڈھونڈنے جائے کوئی ، بہت کچھ تو ہمارے اطراف میں ہی ہے۔ صرف عقل کو بے ربطئ افکار سے بچانے کی ضرورت ہے۔   ؎
دیکھئے اس بحر کی تہ سے اچھلتا ہے کیا   :  گنبد  ِ نیلوفری  رنگ  بدلتا  ہے  کیا
  ذکر اس بات کا بھی آیا کہ ہمیں اپنے بچوں کو اردو پڑھوانے یا سمجھانے کے لیے کچھ کرنا چاہئے ۔ زبان اپنی تہذیب و ثقافت کا ایک بہت بڑا جزو ہے سو اگر بچوں کی زبان ہی ٹیڑھی ہو گئی تو پھر حسبِ معمول ہم اپنی شناخت کھو چکیں گے یا پھر اسلام خطرے میں پڑجائے گا۔ اردو کی کسی ادبی تقریب میں یا مشاعرے میں تو ویسے بھی وہی لوگ صرف بیٹھے ہوئے نظر آتے ہیں جو عمر کے اس پیٹھے میں ہیں کہ آخری بلاوا کسی وقت بھی آسکتا ہے۔ سو ہم کنیڈا میں کس حد تک اردو کے مستقبل سے پُر امید رہیں ؟ یہاں کے رہن سہن کو اپنانے کے ساتھ ساتھ ہم اپنی زبان میں اپنے بچوں سے باتیں نہیں کرتے ۔کوئی ایسی شعوری کوشش نہیں کرتے کہ ہماری زبان کم سے کم ہمارے گھروں میں اپنی اصل شکل میں محفوظ رہے ۔ عمومی طور پہ ہم اپنی زبان اردو کو بھی انگریزی سے خلط ملط کر کے بولتے ہیں یا پھر کچھ اس انداز میں بولتے ہیں کہ لوگوں میں یہ بات باور کرا دی جائے کہ ہم پڑھے لکھے لوگ ہیں اور اردو بحالت مجبوری بولنی پڑتی ہے۔میں نے تو اکثر لوگوں کو کسی شعر پہ داد دیتے ہوئے بھی اس طرح سنا ہے   او مائی گاڈ ، بیو ٹی فل ، یو آر ا ے پویٹ ، واؤ ، نائیس نائیس وغیرہ ۔ اب دور یہ نہیں کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے۔ بلکہ اسے بلوانے کی ضرورت ہے۔ بات ساری شعوری کوشش کی ہے سو یہ کی جانی چاہیے تاکہ ہمیں خود اپنے بچوں کو پہچاننے میں دشواری پیش نہ آئے۔ اس کے علاوہ ہمارے اردو اخبار ات و رسائل کے نام انگریزی کے کیوں ہوتے ہیں ؟ مثلاّ سنڈے ٹائمز ، اردو ٹائمز، ایسٹرن نیوز، پاکستان ا سٹار ، اردو ڈائجسٹ اور بیشتر ڈائجسٹ وغیرہ بالکل ویسے ہی جیسے کہ ہماری سڑکوں اور گلیوں کے نام فلاں اسٹریٹ یا روڈ کہلاتے ہیں ۔ اس بات کی نشاندہی کچھ ہمارے عربی دوستوں نے بھی کی ۔ ع
 کیا کیا جائے پختہ تر ہو گئے خوئے غلامی میں عوام
 کچھ ایسے بھی ہیں جو اخبار کا صرف فلمی صفحہ پڑھا کرتے ہیں کہ وہ سوائے فلمی اشتہارات کے بقیہ ہر حرف اخبار کا جھوٹ سمجھتے ہیں۔ شاید کوئی یہ نہیں سمجھ پایا کہ اگرمضامین صرف تحریری نہیں تصویری بھی ہوتے تو موصوف اسے بھی شوق سے پڑھتے۔ اب دیکھئے کہ آج کل رسالے یا اخبار وہی زیادہ بکتے ہیں جس کے باہر و اندر ہیجانی تصویریں ہوں۔پتہ نہیںاس بات کا ذمہ دارکس حد تک صحافت کو قرار دیا جاسکتا ہے ؟
« چند تجاویزات جس پہ فوری طور پہ عمل پیرا ہونا چاہیے وہ درجہ ذیل ہیں :
٭ ایک مشاورتی کونسل کا قیام  ٭ اخبار کے نام کی ممکنہ تبدیلی ٭طارق خان صاحب کی ادارت میں شمولیت ٭ مالی خاکہ اور انتظام ٭ایک کمپنی کا قیام  ٭ایک انتظامی خاکے کی تشکیل ٭ انتظامی امور سے متعلق ذمہ داریوں کی تقسیم ( قانونی ، ادارتی ، اقتصادی ، تجارتی ، علمی ، تکنیکی ، فنّی ، صحافتی ، سماجی وغیرہ ) ٭مقصدِ فکر و ذکر  ٭قلمکاروں کا  محتاط چناؤ اور اندازِ تحریر سے متعلق ہدایات وغیرہ۔
  تقریر و تحریر میں یہ اہم بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ ہم اس اخبار کو ذاتی تناؤ ، ذاتی پسند نا پسند ، مذہبی منافرت ، لادینیت ، منافقت کا اکھاڑہ یا خود پسندی کا اشتہا ر نہ بنائیں ۔ ہر تحریر حدِ ادب سے تجاوز نہ کرے ۔  مصالحانہ اور ہمدردانہ رویہ ہی معاشرے کی برائیوں کو دور کر سکتا ہے ۔ متشدد اندازِ فکر اور اخلاق کی سطح سے گری ہوئی باتیں و جملے سوائے انتشار پھیلانے کے کسی اور کام میں نہ آئیںگے۔ منفی جذبات اور ہیجانی فکر و گفتگو اور طرزِ تحریر سے پرہیز رکھتے ہوئے آئینہ ضرور دکھائیں لیکن چہرہ کو خود بگاڑ کے نہیں ۔سچائی کا زہر بھی کارِ تریاقی کرتا ہے لیکن اس کی مقدار اتنی نہ ہو کہ مرض کے بجائے مریض چل بسے۔
 اسوقت جتنے بھی اخبارات  و رسائل ہیں وہ کسی نہ کسی مخصوص فرد یا گروہ کی نمائندہ ہیں اور ذاتی و تجارتی یا سیاسی مقاصد کے استعمال میں ہیں۔ ہمیں ان سب سے ہٹ کر ایک ایسا اسلوب اور لائحہ عمل اپنانا ہے جس سے ہماری برد باری اور بالغ النظری کا ثبوت مل سکے۔ ہم اس نئے وطن میں اپنی پرانی روش اور منفی جذبات سے ہٹ کر ایک صحتمندانہ رویہ کے ساتھ اپنے آپ کو منوائیں اور اس ملک کے معاشی ، معاشرتی ، اقتصادی ، تہذیبی ، علمی ،  قانونی ، تربیتی ، سیاسی معاملات میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیں ۔ صرف یہی نہیں کہ ہم ان کے ثقافتی خانے میں مستقل ضم ہو جائیں بلکہ اس قوم کی بھی ہر معاملے میں رہنمائی کریں ۔ ہماری ہجرت صرف دنیا اور دولت کے لیے نہ ہو بلکہ جو ذمہ داری شہادۃ الی الناس کی اللہ نے ہمارے ذمہ سپرد کی ہے اس کا حق بھی ہم جہاں رہتے ہیں وہاں ادا کریں۔ اور یہ سب کچھ سب سے پہلے اپنے آپ کی اصلاح اور صحیح اندازِ فکر اختیار کرنے کے سبب ہی ہو سکے گا۔ یہی ہماری نئی نسل کے روشن مستقبل کا ضامن ہوگا اور ہم اپنی مدت پوری کر کے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملیں گے ا ور  آخرت میں شرمندگی سے محفوظ رہ سکیں گے۔ وما توفیقی الا باللہ !
 اہل دانش عام ہیں ، کم  یاب ہیں اہلِ نظر 
 کیا تعجب  ہے کہ خالی  رہ گیا  تیرا  ایاغ
حشام احمد سی

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: