Hesham A Syed

January 11, 2009

Worries for the Nation

Filed under: Muslim world,Pakistan,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 1:28 pm
Tags:

Urdu Article : Qaum kaa Dard ; Hesham Syed

  قوم کا د رد   

ابھی پچھلے دنوں انٹرنیٹ اور ای میل پہ کراچی کے مخدوش حالات پہ بحث چل نکلی ۔ حیرت یہ ہے کہ ہم سب خواب و خیال کی دنیا میں جینا چاہتے ہیں ۔ میرا جو مختصر تجزیہ ہے اس کے مفہوم و ترجمہ میں آپ کی حصہ داری چاہتا ہوں تاکہ آپ سب بھی اپنی رائے سے نوازیں :

          لوگوں میں کراچی میں پھیلی ہوئی عسرت اور وحشت اور دیگر مسائل سے متعلق جو درد سمویا ہوا ہے وہ قابل تعریف ہے لیکن بدقسمتی  یہ ہے کہ ہم سب اصل مسئلے سے گریز کرتے ہیں اور اپنی دنیا میں گم ہیں۔ ایک طرف تو ہم زندگی کو ساری آسائشوں و آرام اور اس کی دکھاوے کے ساتھ گزارنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف شاید اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کے لئے ہم لوگوں کی بد قسمتی ،غربت و افلاس کا رونا روتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ بظاہر یہ بد قسمت لوگوں کے قسمت پہ مہر اس لئے لگ گئی ہے کہ ہم نے اپنی ذمہ داریوں کوفراموش کیا ہوا ہے۔ہم پہ بحیثیت انسان اور قوم کے فرد کے جو دینی و اخلاقی فریضہ عائد ہے اس سے نظر کرتے ہیں۔ہم ایک منزل عشرت میں رہتے ہیں جہاں عالم کی نیرنگیاں جلوہ گر ہیں لیکن ہمیں یہ پتہ نہیں چلتا کہ آسمان فطرت پہ سورج کس سمت سے طلوع ہوا اور کس سمت غروب ہوگیا۔

          پاکستان میں یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ وہاں عوام کا اپناکوئی لیڈر نہیں۔حکمراں عوام پہ صرف حکومت کرتے ہیں عوام کی خدمت نہیں۔ ان میں سے اکثر قوم و ملک کی دولت لوٹ کے باہر جا بیٹھے ہیں۔ان بھگوڑوں کا پاکستان سے رشتہ صرف اس طرح رہتا ہے کہ وہاں سے ان کی بین الاقوامی شہریت کے حصول کا خرچہ اور عیاشیوں کی رقم بھی آتی رہے۔ یہ رقم لوٹ کرکے ، چوری کر کے ، مالیاتی اداروں میں خرد بر د کر کے ، رشوت لے کر ، قوم کو بیچ کر ، پستول دکھا کر زبردستی چندہ اکھٹا کر کے سادہ دل عوام کو جھوٹے خواب دکھا کر ، حسین وعدے کر کے حاصل کی جاتی ہے۔ یہ لٹیرے پاکستان سے بھاگ کرزیادہ ترانگلستان میں اور امریکہ یا کسی دوسرے مغربی ممالک میں جا بستے ہیں جہاںان کی رگوں میں تازہ خون داخل کیا جاتا ہے تاکہ ان کے بدبودار پسینے سے ملک و وطن کی باس نہ آئے۔ ان کی کھوپڑی کو کھول کر نیا مغز داخل کیا جاتا ہے ۔تاکہ اس آپریشن کے بعد جب ان کی آنکھیں کھلیں تو وہ صرف وہی رنگ دیکھیں اور وہی بات کہیں جو ان کے نئے مالکان دکھلانا یا کہلوانا چاہتے ہیں۔

                    یہی حال پاکستان میں اکثر دانشوروں ، شاعر و ں،ادیبو ں اورصحافیوں کا ہے ۔ ہرایک کی اپنی بولی ہے اور ہر شخص اپنی ذات کی تشہیر چاہتا ہے۔ہر کی اپنی ساکھ اور قیمت ہے ، جس کا جو دل چاہے لکھوالے یا تقریر کر والے۔ ان کے پاس سارے فارمولے ہیں ۔ مختلف سالن الگ الگ بنا کے رکھے ہوئے ہیں ۔ فرمائش کرنے والوں کے ذائقے کے مطابق ایک کو دوسرے سے ملا کر ایک نئی ڈش فوراً تیار کرلیتے ہیں اور اس پہ تڑکا لگا کر اپنی عقل کی خوراک پہ داد تحسین لوٹتے ہیں اور بڑی ٹپ لے کر کورنش بجا لاتے ہیں۔ کراچی کی صورتحال پاکستان کے کسی اور صوبہ یا علاقہ سے مختلف نہیں جس پہ حکومت وقت کی نظر اس کی ترقی پہ نہیںبلکہ لوٹنے کے مواقع پہ ہے۔ یہ سب کچھ جان بوجھ کے اس طرح رکھا گیا ہے کہ یونہی ڈاکوؤں اور لٹیروں کی جیبیں بھرتی رہی ہیں اور بھرتی رہیں گی۔ پاکستان ابتدا سے ہی یرغمال بنا لیا گیا ہے ۔ اسے ہر ادارے کے مافیا گروہ نے یرغمال بنایا ہوا ہے ۔چاہے وہ فوج ہو ، سیاستدان ہوں ، جاگیردار و زمیندار ہوں ، بیوروکریٹس ہوں ، وزر ا یاقومی اسمبلی اور سینٹ کے ممبر ہوں ، مذہبی ادارے ہوں ، پیر ِ کرامات ہوں یا مزارات کے مجاور ہوں ، صنعتکار ہوں ، سوداگران ہوںیا کوئی اور۔ ان سب مافیا گروہوں کے اپنے اپنے ایجنڈے ہیں اور اپنی اپنی ترجیحات ہیں۔ انھیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ ملک کو کیا چاہیے اور عوام کے مسائل کیا ہیں۔ اگر ذاتی منافع کسی کام میں نظر نہیں آتا تو وہ اٹھا کررکھ دیا جاتا ہے۔ پہلے آم پھر پرنام۔

          بیچارے عوام کو تو یہ اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ کون کس نام سے کیا خواب دکھا کر کیسے ان کی عزت نفس اور گھر کو لوٹ رہا ہے ۔عوام کا نام بھی ان سب کی زبان پہ اس لئے ہے کہ یہی طریقہ ہے بے وقوف بنانے کا یا لوٹ کھسوٹ کرنے کا۔ مجھے ان حالات کو دیکھ کر ایک شعر یاد آتا ہے کہ     ؎

ہم ہی سے رنگ ِگلستاں ہم ہی سے رنگِ بہار   :  ہم ہی  کو نظم ِ  گلستاں  پہ اختیار  نہیں

اور یہ اس لئے ہے کہ ع

منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے

          مسئلہ صرف مہاجروں کا نہیں ، صرف کراچی کا نہیں بلکہ پاکستان کے ہر زبوں حال طبقہ کا ہے ۔ ہر فرد کی آنکھ کا ہے جس کی بینائی بجھ گئی ہے یا بجھتی جا رہی ہے۔ہر پس ماندہ اور تاریک علاقہ کا ہے جہاں مستقبل کے سورج کو ظلم و تکبر وجہالت کے سیاہ بادل نے ڈھانک رکھا ہے۔ پھر ذرا زاویہ نگاہ کو بڑھائیں تو یہ بات بھی مترشح ہوتی ہے کہ معاشرتی اور اقتصادی بے اعتدالی یا ناہمواری صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ تقریباََہر اسلامی ملک برسوں سے اس کا شکار ہے ( شاید ملائشیا کو اس بات سے کسی حد تک مستثنیٰ قرار دیا جا سکے ) ۔ اب تو خیر صاحب بہادر امریکہ اور ان کے چیلے بھی صف اول میں ہیں آگے آگے ۔صاحبان ثروت اور عسرت زدہ لوگوں کے درمیان فاصلہ روز بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ ہم اس اتھاہ تاریکی میں نہ جانے کب سے آسمان کی جانب تک رہے ہیں ؟  زمین کی ذمہ داری تو انسان ہی کو سونپی گئی ہے۔ اللہ نے خلیفۃا لارض بنایا ہے۔ اب اگر ہم خود اپنے مسائل کو حل نہیں کریں گے تو کون کرے گا ۔ کیا پھر ابابیلیں اتریں گیں ، یہ تو دور جاہلیہ کا واقعہ ہے ۔ بعثت رسولؐ کے بعد تو زمین کے ہنگامے صرف یقینِ محکم اور عمل پیہم سے ہی سہل ہوئے ہیں اور یہی سنت رب الارض و سما اوررسولؐ تا قیامت رہے گی ۔

           معاشرے میں عدل وانصاف کا قیام ہی در اصل انسان کی سب سے اہم ذمہ داری ہے۔ اور یہی اس دور کی سب سے بڑی کمزوری و الجھن بھی ہے ، یہی المیہ ہے یا فکر فردا ہے ۔ ایک بار یہ نظام قائم ہو گیا تو ساری چیزیں اپنی منطقی مناسبت سے اپنی جا اختیار کرلیں گی اور تاریکی چھٹنے لگے گی۔ سچ پوچھیں تو ہم بھی یہاں کون سا کارنامہ انجام دے رہے ہیں سوائے ای میل اور انٹرنیٹ پہ پیغام رسانی ، فضول کالم نویسی، سفلی اور سطحی  جذبات سے بھری شاعری اور مشاعرے ، بے مقصد ، ذاتی تشہیر کے لئے کانفرنس اور سیمینار ، ثقافت کے نام پہ بے ہنگم رقص و موسیقی ، قوالی اور دھمال ، ایک دوسرے کی تضحیک وغیبت وغیرہ۔ یہ ساری خرافات ہم چھوڑ کر ایک نئی دنیا کا خواب لے کر آئے تھے لیکن یوں لگتا ہے کہ جہالت کا کارواں بھی بنتا گیا۔ ’وہی روز و شب کی ہیں الجھنیں میری زندگی کے عذاب میں‘ ۔ہم اپنی ساری کمزوریوں کے ساتھ یہاں بستے نہیں بلکہ دھنستے جا رہے ہیں۔ ہاںہم میں سے ایسے بھی ہیں ہر چند کہ کم ہیں جو اپنی نیت میں مخلص ہیں اور جنہوں نے زیادہ نہیں تو اپنی زندگی میں کچھ جدوجہد کی ہے وہ سب حضرات قابل تعریف ہیں۔ لیکن یہ ہم سب کو سمجھنا چاہیے اور ہمیشہ یادرکھنا چاہیے کہ :    ؎

’’  امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ایک مستقل عمل ہے اور انتھک محنت و جدوجہد کا متقاضی ہے ‘‘   ؎

 اب فکر کی تنویر سے ہو ہر ذرہ جہاں تاب  : اب خواب سے اٹھیں تو سہی مردان ِگراں خواب 

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: