Hesham A Syed

January 12, 2009

Concept of Trust and Ownership

Filed under: Economics & Finance,Islam,Religion,Social Issues,Spiritual — Hesham A Syed @ 6:56 am
Tags: ,

Urdu Article : Tasawurrey Amant o Malokiat : Hesham Syed

امانت یا ملوکیت 

 جب سے انسان عالم سماں سے اس زمیں پہ آیا ہے اس کے عقل و شعورپہ اک حجاب طاری ہے ۔ وہ اپنی تلاش میں سرگرداں ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے ماحول و قدرت کے لامتناہی نشانات و اشارات و محسوسات و انعامات سے ایک تعلق جوڑنے کی فکر میں رہتا ہے۔ خود اپنے آپ کی تلاش اسے بارہا اپنے خالق ِحقیقی کے وجود کا پتہ  دیتی ہے۔وہی وجود جو واحد ہے ، یکتاہے ، خالق کل ہے ، بے نیاز ہے ، لافانی ہے ، نہ اس کا کوئی ہمسر ہے ، نہ اس کو کسی نے جنا ، نہ اس کی کوئی اولاد ہے ۔ وہ اپنی ذات و کمالات و صفات میں صمدہے ۔سب اسی کے محتاج ہیں وہ کسی کا  محتاج نہیں ۔وہ سارے سماوات ا لارض کا رکھوالا اور پالن ہار ہے ۔ نظام کائنات کا بنانے والا ہے اور ہر ذرۂ کائنات پہ اسی کی حکومت ہے ۔سب سے ہر لمحہ باخبر ہے اور تمام ارادوں ، دل کی خواہشوں وسوسوں کا بھی جاننے والا ہے اور ضروریات زندگی اور موت کا پورا کرنے والا ہے ۔ یہ ساری کائنات اس کے دست قدرت میں ایک ذرہ کے مانند ہے اور اسی کے ارادوں سے عالم وجود میں آئی ہے اور آتی رہتی ہے ۔وہی سماوات الارض کا نور ہے ، وہ نور کبھی انسان اپنی ساری عجز و انکساری کے باوجود خود اپنے اندر دیکھتا ہے تو کبھی خدا کی ہی دی ہوئی قوت  ِبینائی سے اسے اپنے ماحول میں نظر آتی ہے( القرآن ۔ ۴۲۵۳ )۔

          فکر آفاقی اور تعقل انسانی ہی خدا کا وہ عطیہ ہے جو اصل میں آدمی کوکسی اور جاندار سے ممیز کرتاہے۔اپنی اور کائنات کی جستجو ، اپنے وجود کا احساس اور مقصد تخلیق آدم و کا ئنات یہ سب انسانی شعور و لا شعور کا جزو لازم ہیں۔جب تعقل انسانی حق ایقین ، عین الیقین اور یقین کی روشنی کھو بیٹھتی ہے اور آسمانِ شعور پہ بے پناتوہمات اور وحشت کے گہرے بادل میں چھا جاتے ہیں اس وقت انسان اس تاریکی میں اپنے تشکیک کے صحراؤں میں بھٹکتا ہوا خدا کے محض تصوراتی وجود کو خود جنم دیتا ہے یا پھر خدا کے وجو د کا یکسر منکر ہو جاتا ہے۔               لوگ خدایعنی اللہ کے بارے میں بغیر سند کے بھی جھگڑتے ہیں ، بحث و مباحثے کرتے ہیں ، ان کی حجت خدا کے نزدیک بڑی بودی اور کمزور ہے اور وہ گمراہ ہیں مغضوب ہیں۔ جو لوگ اللہ کے بارے میں بغیر کسی علم و ہدایت اور روشن دلیل و کتاب کے بحث کرتے ہیں وہ شیطان کی پیروی کرتے ہیں اور خود عذاب کے مستحق بنتے ہیں ۔(القرآن : ۱۳۰۲ ، ۲۴۶۱ ، ۲۲  ۳ ، ۸ ،۹ )۔

          یہ بات تو بنیادی ہے اور کوئی بھی صاحب شعور سمجھ سکتا ہے کہ اللہ اسرار الحقائق نے یہ کائنات محض کھیل تماشہ  یا بلا مقصد نہیں بنایا اور خصوصاّ انسان کی مقصد تخلیق کو تو بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے ۔ ’’اللہ نے زمین و آسمان کو بے مقصد و باطل ، کھیل کے لئے نہیں بنایا بلکہ حق سے ساتھ اور بامقصد بنایا ہے ‘‘۔ ( القرآن : ۳۱۹۱ ،  ۸۳۷۲ ،  ۶۳۷ ،  ۰۱۵ ،  ۴۱۹۱ ،  ۵۱ ۵۸ ،  ۶۱ ۳ ،  ۰۳۸ ،  ۹۳۵ ، ۴۴۸۳ و۹۳ ،  ۵۴۲۲ ،  ۶۴۳ ،  ۴۶۳ ،  ۱۲  ۶۱  و  ۱۷ ،  ۸۳۷۲ )۔

        عظمت ِ ابن آدم کی دلیل اور کیا ہو سکتی ہے کہ اﷲ نے خود فرمایاہے۔ ’’اللہ نے انسان کو بہترین ساخت پہ پیدا کیا ۔اسے اکرم و افضل بنایا ، اسے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا اور اس میں اپنی روح پھونکی ، علم و عرفان کی خصوصی صلاحیتوں سے نوازا ،  زمین پر اپنا نائب اور خلیفہ بنایا ، انسان کو زمیں پر اقتدار دیا اور اُس کے لئے ضروریات زندگی اس میںپیدا کر دیں ( القرآن :  ۵۱۹۲ ،  ۸۳۵۷ ،  ۷۱۰۷ ، ۵۹۴  ، ۲۰۳ و ۱۳  و ۲۳  و۳۳ و ۹۳۲ ،  ۵۴ ،  ۶۲۹ ، ۵۵ ۲ و ۴ ، ۶۹۵ ،  ۷۹۶ و ۴۷ و ۶۶۱ ،  ۰۱ ۳۷ ،  ۵۲۹۳ ،  ۷۲۲۶ ، ۳۳ ۲۷ ، ۸۳۶۲  ، ۵۹۴ )۔گویا انسانی وجود صفات الہیٰہ کا پر تو ہے۔تخلیق انسانی کا مقصد اللہ کی نیابت کا ظہور ہے ۔ مقام و درجہ خلافت ِ ارضی دراصل امانت ِالہٰی کی ذمہ داریوں کو اٹھانا ہے ۔ مقام عبدیت کا حصول ہے ۔ نظام ِ تکوین ِالہٰیہ کا ایک رکن بننا ہے ۔ کمال آدمیت کا ادراک ہے ۔ تکمیل انسانیت کی جدوجہد ہے ۔ رزم ِحق و باطل ہے ۔  ابتلاو آزمائش کی بے شمار گھاٹیوں سے گزر کر بالآخر بحر ِسکوت ِ الہٰی میں ضم ہو جانا ہے۔ ہر درجے میں انسان پہ امانت کا بار دیا اور اسے بے قید نہیں چھوڑ دیا ۔ عبادت یعنی نظام الٰہی کا قیام مقصدِ حیات بنا۔’’ اللہ نے زندگی اور موت کا سلسلہ پیدا کیا کہ دیکھے تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے ۔اللہ نے زمین پہ انسان کو نائب بنایا اور ہم میں ایک دوسرے کو درجہ دیا تاکہ آزمائے ہر کسی کو۔ برے اور اچھے حالات سے آزمائش ہوتی ہے اور ہر متنفس کو اللہ ہی کی طرف لوٹ جانا ہے‘‘۔(القرآن :  ۱۱۷ ،  ۵۴ ۲۲ ،  ۸۱۷ ،  ۱۵ ۶۵ و ۷۵ ،  ۷۶۳ ،  ۵۷۶۳ ،  ۳۲۵۱ ۱ ،  ۲۰۳ ،  ۶۵۶۱ ،  ۰۱۴۱ ،  ۵۳۹۳ ،  ۳۳ ۲۷  و ۳۷ ، ۱۲  ۵۳) ۔

                    یہ بات بھی سوچنے کی ہے کہ کوئی آدمی اس دنیا میں ایسا نہیں جس نے اپنے وجود کو خود تخلیق کیا ہو ۔ والدین ہوں ، جسم ہو ، عقل و شعور ہو ، ماحول ہو ، ملک ہو ، زبان ہو، رشتہ دار ہوں ، دوست و احباب ہوں ، شکل و صورت ہو، رنگ و نسل ہو ، جسمانی قویٰ ہو یا ذہنی صلاحیت ، پیدائش کا وقت ہو یا موت کا لمحہ ، رزق ہو یا اس کے مواقع سب کو اگر دیکھا جائے تو اسی ذات واحد کی عطا ہیں۔ اس میں کسی انسان کو کتنا اختیار ہے ؟ جب انسان کو خود اپنی ذات پہ بھی اختیار نہیں کہ وہ خود پیدا ہوجائے یا اپنی جان بغیرمعصیت کے خود ہی ختم کر لے تو پھر کیا رہ جاتا ہے ۔ علم و عقل و عرفان ہے ، مال و متاع کی فراوانی ہے ، شریک حیات ہے ، اہل و عیال ہیں ، توفیق ہے ، ہدایت ہے ، جو کچھ ہے وہ فراہم کیا جارہا ہے اور یہ سب بطور بار امانت ہے ۔ انسان صرف مکلف ہے اس بات کا کہ جو کچھ بھی اسے حاصل ہے اسے اللہ کی امانت سمجھ کر اسے اللہ کی ہی دی ہوئی توانائی و صلاحیت سے اور اسی کے بتائے ہوئے راستے میں صرف کرے اور اس دنیا سے جب بلایا جائے تو دامن جھاڑ کے اپنے خالق و مالک ِ حقیقی کے پاس واپس چلا جائے ۔’’ ہر متنفس کی مدت حیات کا وقت مقرر ہے اور ایک کتاب میں لکھاہے ، کوئی شخص مقررہ مدت سے پہلے اذن الہٰی کے بغیرنہیں مر سکتا ، انسانوں کو ایک مقررہ مدت تک زمین میں رہنے اور استفادہ کا موقع ہے ‘‘۔(القرآن: ۲ ۶۳  ،۶۲  و۰۶ ، ۹۳۲۴ ، ۵۳۱۱ ، ۰۴۷۶ ،  ۳۶۱۱ ،  ۳۵۴۱)۔

r                  اسی تصور امانت کو عام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انسان کو اپنے وجود کی مقصدیت کا احساس ہو ۔ اگر یہ بات ہرشخص پہ عیاں ہو جائے تو بہت سارے نفسانی اور نفسیاتی مسائل جو معاشرے میں بگاڑ، فتنہ و فساد کا سبب بنتے ہیں ختم ہو جائیں ۔ انسان اکثر اس غلط فہمی کا شکار رہتا ہے کہ جو کچھ اسے حاصل ہے وہ اس کی اپنی محنت و عقل و فراست کا نتیجہ ہے ۔ یقینا کسی کوشش و توانائی کے بغیر کسی کامیابی کا حصول ممکن نہیں کیوں کہ یہی نظام الٰہی ہے لیکن بات یہ بھی غور کرنے کی ہے کہ یہ توانائی ، بینائی ، عقل و شعور ، مواقع ، سہولتیں ، رہنمائی، توفیق و ہدایات کہاں سے میسر آئیں ؟ کیا یہ سب اسی ذات ِ اکمل الصفات کا کمال اور عطا نہیں ؟ اگر ایسا ہی ہے تو کسی کے لئے بھی اپنی ذات پہ فخر و غرور کی گنجائش ہی کہاں ہے ؟ سوائے جذبہ شکر الٰہی کے اور کیا رہ جاتا ہے ؟’’ انسان تکلیف میں اللہ کے سامنے گڑگڑاتا ہے اور کبھی اسے توہین سمجھتا ہے لیکن تکلیف کے رفع ہوجانے پہ آسودگی کی حالت میں اللہ کو بھول جاتا ہے اور شرک کا ارتکاب کرتا ہے ۔ آسودگی کو اپنا کمال سمجھتا ہے اور اسے اپنا حق و اکرام خیال کرتا ہے اور پھر اللہ کی آیات یا ہدایات کے خلاف تدبیریں کرتا ہے مگر اس کے ایسے اعمال اس کے کام نہیں آسکتے ۔ انسان طرح طرح کے نفسانی وسوسوں میں مبتلا رہتا ہے‘‘۔( القرآن : ۰۱۲۱ و ۱۲ ، ۱۱۹ و ۰۱ ، ۹۳۸ تا ۱۵ ، ۱۴ ۰۵ ، ۲۴۸۴ ، ۹۸ ۵۱  و ۶۱ ، ۲۸  ۶ )۔

.         یہ تصور کہ مالک ِکل صرف اللہ کی ذات ہے اور انسان کی حیثیت اس دنیا میں صرف اورصرف ایک امین کی ہے ۔ کوئی چیز بھی اس کی ملکیت نہیں تو کیا یہ خیال زندگی کے رویے میں ایک خوشگوار تبدیلی نہیں پیدا کردے گا ؟ سود و زیاں کا مفہوم ہی بدل جائے گا ۔ منفی رویہ مثبت عمل میں بدل جائے گا۔ باطل خیالات اور نفسانی و نفسیاتی  بیماریاں جیسے حسد ، جھوٹ ، کذب و افترا ، غیبت ، لالچ ،غرور ِمال و اہل وعیال ، تکبر ، لوٹ کھسوٹ ،  جذبۂ انتقام، بد عہدی وغیرہ اپنی ضد میںبدل جائیں گے۔ہر پل اپنے محاسبہ کے ذریعے سے ، جذبہ ٔ ایثار ، ہمدردی اور محبت ، عفو و در گزر ، عدل و انصاف ، احساس ذمہ داری ، اپنی عزت نفس اور دوسروں کی تکریم ، سچائی اور حق پرستی کی صفات پروان چڑھیں گی ۔معاشرہ کا ہر فرد اگر دوسروں کے بجائے پہلے اپنا محاسبہ شروع کردے تو پھر طلوع سحر کو کون روک سکتا ہے ؟ انسان نے امانت کی ذمہ داری اٹھانے کا عہد کیا۔ ( القران : ۳۳۲۷ و ۳۷ )۔امانتیں ان کے مالکوں کے پاس جوں کی توں لوٹاؤ۔(القرآن:۲۳۸۲ ، ۴۸۵)۔ اللہ خیانت کی تدبیروں کو بالآخر ناکام بنا دیتا ہے ، اللہ خائین اور کفران ِنعمت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ، اللہ آنکھوں کی خیانت سے بھی واقف ہے اور جو باتیں چھپائی جاتی ہیں ان سے بھی۔(القرآن: ۳۱۲۵ ، ۴۷۰۱ ، ۸۸۵، ۰۴۰۲ ، ۴۵۰۱ تا ۷۰۱ ، ۲۲۸۳ )۔اللہ حق و انصاف سے فیصلہ کرتا ہے۔(القرآن: ۰۴۰۲ و ۹۷)۔ اللہ جسے چاہتا ہے اپنا ملک دیتا ہے۔(القرآن: ۲۷۴۲)۔ معیار فضیلت صرف تقویٰ ہے اور کچھ نہیں، تمام انسان ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ، شعوب و قبائل محض تعارف کے لئے ہیں ، ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے اور ایک انسان کی زندگی بچانا گویا پوری انسانیت کا احیا ہے۔(القرآن:۹۴۳۱ ، ۴۱ ،  ۶۹۹ ،  ۷۹۸۱ ،  ۹۳۶ ،  ۵۲۳ )۔اللہ کی ہی بات بلندہے۔(القرآن: ۹۰۴)۔

احادیث ِرسولؐ  میں بھی امانت اور امانت داروں کا بار بار تزکرہ ہے:

٭حذیفہ بن یمان ؓ کی روایت کا مفہوم ہے کہ امانت انسانی قلوب میں نازل ہوا پھر قرآن نازل ہوا ۔ایک وقت آئے گا کہ امانت دار چند رہ جائیں گے اور خائین و بے ایمان لوگوں کے بارے میں تعریفی کلمات کہے جائیں گے کہ یہ کیسا چالاک و ہوشیار شخص ہے ، کیسا دانا و عقلمند ہے ، کیسا خوش تقریر و ظریف ہے۔(بحوالہ ترمذی)

٭  ابو ہریرہؓ کی روایت کا مفہوم ہے کہ:

 جب امانت ضائع  ہونے لگے تو قیامت کے منتظر رہو ، سوال کیا گیا کہ امانت کا ضائع ہونا کب ہوگا ؟ آپؐ نے فرمایا جب کسی نالائق اور نا اہل کو حکومت کا کام ملے۔(بخاری)

٭ ابو ہریرہ ؓ کی روایت کا مفہوم ہے کہ تم امانت کو ادا کرو اور جو تمہارے ساتھ خیانت کرے اس کے ساتھ خیانت مت کرو۔(ابوداودؓوترمذیؒ)

٭ امانت کا بہ حسن و خوبی ادا کرنے کے بارے میں بھی روایات ساری کتب حدیث میں موجود ہیں :    ؎

اس سے بڑھ کر اور کیا فکر و عمل کا انقلاب   :  پادشاہوں کی نہیں ،  اللہ کی ہے یہ زمیں

          اس زمین کو بھی تو جنت بنانے کا فریضہ ہمارا ہی ہے ۔ ہم اس فریضۂ نیابت و خلافت سے غافل کیوں ہیں؟

 جو کچھ انسان سے کہا گیاتھا اس نے پورا کر کے نہیں دکھایا ۔(القرآن : ۰۸۳۲ )۔ دین صرف آرزؤں کا نام نہیں ۔(القرآن : ۳۵۴۲)۔ اللہ اس قوم کی حالت بدلتا ہے جو عمل کرتے ہیں اور اپنی اندرونی حالت بدلتے ہیں۔ (القرآن : ۳۱۱۱ )۔

 انبیأ کے واقعات میں اہل عقل کے لئے بڑی عبرت ہے ۔ (القرآن : ۲۱۱۱۱)۔ اے ہمارے مالک ہم ایمان لے آئے  ہیں ، ہمارا نام دوسرے گواہوں کے ساتھ لکھ لے ۔(القرآن : ۵۳۸ )۔ اے ہمارے مالک ہمارے نور کو مکمل فرما دے اور ہمیں معاف فرما ، بے شک تو ہر چیز پہ قادر ہے۔(القرآن : ۶۶۸)۔

 یٰا ایُھاَالّزینَ آمنوُ لاتَخُونُوااللہَ وَالرّسوُلَ وَتَخوُنُو آمٰنٰتِکم وَ اَنتم تعَلَموُن 

 ٭اے ایمان والو نہ تو خدا اور رسولؐ سے خیانت کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو اور تم یہ بات جانتے ہو۔(القرآن :۸۷۲)۔

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: