Hesham A Syed

January 12, 2009

Indian attack on Pakistan – Dec 2008

Filed under: Pakistan — Hesham A Syed @ 7:08 am
Tags: ,

Urdu Article : Hindustan ka Pakistan pey hamla : Hesham Syed

ہندوستان کا پاکستان پہ حملہ  !

( آغازِ  غزوۃ  الھند  ؟)

ہندوستانی حکمرانوں کی بد نیتی سے کون واقف نہیں۔ ان لوگوں نے پاکستان کو کبھی بھی تسلیم کیا ہی نہیں اور یہ ہمیشہ بد ہضمی کا شکار رہے۔ تقسیم ہوئی تو برطانیہ نے نہرو  یا کانگریسی لیڈروں کے ساتھ مل کر کشمیر کا مسٔلہ جان بوجھ کے کھڑا کر دیا۔اور گاہ بگاہ  ہر طرح کے فتنے کا ساتھ دیتے رہے اور نئے فتنے کھڑے کرتے رہے۔ اس ملک کو ایک غیر مستحکم  اورعسرت زدہ قبیلہ بنا دینے کا  پلان روزِ اول سے ہی بننا شروع ہوگیا ۔ آخر کئی  سو سال کی مسلمانوں اور مغلوں کی حکومت کا بخار اتنی آسانی سے تو نہیں جانے کا۔کشمیر میں حکومتی دہشت گردی روا  رکھی جائے یا مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا دیا جائے ، یا موجودہ پاکستان میں دہشت گردوں کی کھیپ سے انتشار پھیلایا جائے یہ سب بھی تو  اسی پلان کا حصہ رہا ہے اور انہیں خود پاکستان میں ایسی کالی بھیڑیں دستیاب ہوگئیں جو  چند سکوں کے عوض اِن کے مندروں پہ پاکستان کی افادیت اور خود  اُسے  بھینٹ چڑھانے کو تیار تھیں اور اب بھی ہیں۔ لیکن بات اب صرف لمحوں کی رہ گئی ہے !  وقت ان لوگوں کا بھی پورا ہو چکا ہے۔

 ادھر پاکستان کو محمد علی جناح اور ان کے چند معتمدین کے علاوہ کوئی ایسا لیڈر آج تک میسر ہی نہیں آیا جو قومی سطح پر اس ملک کی باگ ڈور سنبھال سکے۔ جو آیا  وہ علاقائی یا عصبی بنیادوں پہ ہی آیا، اس کے نذدیک پاکستان ایک تجارت کی منڈی ہی تھی کسی نہ کسی شکل میں اور ایسے ہی بد کردار لوگوں کا دستِ راس بن گیا جو اس کی کرسی کو مضبوط کر سکتے تھے۔ خارجہ پالیسی  ہو یا اندرونِ خانہ، حکومتِ برطانیہ کی  غلامی سے نکلے تو امریکہ  کے زنداں میں مقید ہوگئے۔ سچ پوچھیں تو آزادی تو ہمیں نصیب ہی نہیں ہوئی۔ کوئی وردی میں ہو یا شیروانی  یا کوٹی میں ہو طبلہ اور سارنگی کی کھیپ ان کے مالکان سے ہی آتی رہی۔ جس کو دیکھو وہ اپنے بچاؤ کے لیے  ہز ماسٹر وائیس  ہی بنا رہا۔عوام کی اُمنگیں ،  خواہشات اور جذبات سے دلچسپی اسوقت ہوتی ہے جب  حکومت عوام پہ حکومت کرنے نہ آئیں بلکہ اس کی خدمت کرنے آئیں۔ جہاںہر سیٹ پہ سودے بازی ہو رہی ہو تو وہ لوگ تو عوام کولوٹ کے ہی اپنے گھر کو بھریں گے۔ اور پھر جب ان کا انتخاب بھی واشنگٹن یا لندن وغیرہ میں ہورہا ہو تو دُم کس کے لیے ہلے گی  ؟ ظاہر ہے جہاں سے ہڈی ملے گی ۔

کشمیر وگجرات میں  یا کہیں اورمسلمانوں کا بہیمانہ قتل و غارت ہو  یا  اسلام آباد ، لاہور ، کراچی  یا ممبئی کے بم دھماکے کسی نہ کسی طور پہ اس کا سرا ہندوستان کی  نفرت انگیز  اور دوغلی پالیسی سے ضرور مل جاتا ہے۔لیکن ہر واقعہ کا ذمہ دار بھی پاکستان ہی کو بنایا جاتا رہا ہے۔  جو چاہیں سو آپ کریں ، ہم کو ابس بدنام کیا ۔ سارا کچھ کر کرا کے  دنیا کے سامنے اپنا دکھڑا رونا تاکہ کسی کو ان کی معصومیت پہ شک ہی نہ ہو یہ تو کوئی ان سے سیکھے۔

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ  :  تُم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

          اب دیکھیے کہ ایک بار پھر ہندوستان بچے ہوئے ملک پاکستان پہ حملہ کو تیار ہوچکا ہے ، یہ پلان بہت پرانا ہے  اور جن لوگوں کی شہ پہ یہ کام ہونے جارہا ہے ان سے بھی سبھی واقف ہیں۔کیا کچھ سوچا  گیا ہے  اور پاکستان کی شکل کیا ہوگی یہ سب کچھ آج سے نہیں برسوں سے ہر گھر کے کمپیوٹر پہ دستیاب ہے۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہندوستان کو اس سے کیا حاصل ہو گا ؟  اک ذرا ہوا چلنے کی دیر ہے کہ پڑوس کے گھر کی آگ کی لپک اپنے گھر میں بھی لگ سکتی ہے۔پڑوس کے گھر کو آگ لگا کر ہاتھ نہیں تاپا جاتا۔ ہندوستان کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کہیں وہ لوگ جو اسے شہ دے رہے ہیں وہ ایک ہی تیر سے دو شکار تو نہیں کرنا چاہ رہے۔؟ حماقت  بے وقوفی  بے حسی  اور کوتاہ نظری جو اس خطہ کا  طرّہ امتیاز رہا ہے اس کا علاج جانے کب ہوگا۔؟  کیا ہندوستان یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کو  پھر سے  توڑ دینا  اتنا ہی آسان ہے  ؟   میڈیا نے تو تقریباً جنگ چھیڑ ہی ڈالا ہے ،  یہ بلا  یونہی ٹل جائے تو اچھا ہے ورنہ دونوں ہی طرف عام آدمی ہی زیادہ مارہ جائے گا اور  دونوں ہی  قوم پھر صدیوں پیچھے کی طرف لوٹ جائے گی۔۔لیکن کوئی قوم اگر خود کشی پہ تلی  ہوئی ہو تو اسے کون سمجھائے۔ !  کیا ہم اپنی صدیوں کی  تہذیب  وتمدن بھائی چارگی کی تاریخ کے اِتمام  اُخروی کے قریب ہیں  ؟ کیا یہ جنگ صرف ہندوستان و پاکستان تک محدود رہے گی  ؟ 

 کیا  تاریکئ شب ختم ہونے کو ہے  !  اُفق سے  ایک سنگِ آفتاب آنے کو ہے !

تو کیا غزوۂ ہند کا آغاز  ہونے کو ہے۔۔ اور اگر ایسا ہی ہے  تو  بسم اللہ ۔۔ ہم  تو یہ جانتے ہیں کہ :

ایسی  کوئی دنیا  نہیں  افلاک کے نیچے

بے معرکہ ہاتھ آئے جہاں تخت ِ جم و کےَ

حشام احمد سید

          ۔۔۔۔

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: