Hesham A Syed

January 12, 2009

Observations :

Filed under: Social Issues,Spiritual,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 1:58 pm
Tags: ,

Urdu Article : Mushahdaat : Hesham syed :

مشاہدات

جی ہاں! زندگی کے مشاہدات ہوتے ہی ایسے ہیں ۔ شکوۂ ارباب وفا کس سے کیجئے؟    ؎

روحِ مسلماں میں ہے آج وہی ا ضطراب    :  راز خدائی ہے یہ  کہہ نہیں  سکتی  زباں

«  موضوع ِ افغا نستان و عراق پہ ، امت مسلمہ کے حکمرانوں اور ناخداؤں کی بے حسی ، بے راہ روی اور بے عملی پہ ، سارے عالم کے منافقانہ اور تاجرانہ رویہ پہ ، غاصبوں کے جابرحانہ اور عیارانہ حکمت عملی پہ کیا کچھ کہا یا لکھا جا  نہیںچکا ۔کہالکھا جا رہا ہے لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات ۔ معصوم جانوں اور بجھے ہوئے چراغوں کی آدمی  کب تک نوحہ گری کرے ؟  عمقدور ہو توساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں۔  اور سچ پوچھیں تو اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔۔یہ کوئی نئی بات نہیں ، ہمیشہ سے یہی ہوتا آرہا ہے۔

٭ انسان کو بھلائی اللہ کی عنایت سے حاصل ہوتی ہے اور مصیبت اس کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے۔ القرآن :۴۹۷ ۔

٭ہر متنفس مرنے والا ہے اور ہم اچھے برے حالات سے تمہیں آزماتے رہتے ہیں ، آخر کو تمہیں لوٹ کے ہمارے پاس ہی آنا ہے۔ القرآن : ۱۲  ۵۳ :

٭آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں لیکن سینے کے اندر دل اندھے ہو جاتے ہیں ۔ القرآن : ۲۲ ۶۴ :

٭ لوگوں پہ جو مصیبت آتی ہے وہ اپنی کمائی ہوتی ہے۔اللہ بہت سارے قصور سے در گزر کرتا رہتا ہے۔اللہ عاجز نہیں ہو سکتا ۔ اور اللہ کے مقابلے میں کوئی حامی و ناصر نہیں ہو سکتا۔القرآن :۲۴۰۳  ، ۱۳ ۔

٭لوگوں کے اپنے ہی ہاتھوں خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا ۔اللہ بعض اعمال کا مزہ چکھاتا ہے تاکہ وہ باز آئیں (سدھر جائیں)۔القرآن :۰۳۱۴ :

٭ہم نے انسان کو احسن تقویم(موزوں ترین حالت) میں پیدا کیا اور پھر( اس کی بد اعمالیوں نے) اسے اسفل َسافلین ( بد ترین حالت ) میں لوٹا دیا ، سوائے مومنین و صالحین کے۔القرآن : ۵۹  ۴ ، ۵ :

٭ ہر امت( قوم ) کے لئے ایک مدت مقرر ہے ۔ جس سے پل بھر بھی وہ آگے پیچھے نہیں ہو سکتی۔القرآن : ۷۴۳ ، ۰۱۹۴ ، ۵۱  ۵ ، ۳۲۳۴ :

٭کیا لوگوں نے سمجھ لیا ہے کہ محض اظہار ایمان پر ، آزمائے  بغیر انھیں چھوڑ دیا جائے گا ؟القرآن : ۹۲۲ :

٭تمھیں تمھارے جان و مال سے بھی آزمایا جائے گا اور تمھیں اہل کتاب اور مشرکین سے تکلیف دہ باتیں بھی سننی پڑیں گی۔القرآن :۳ ۶۸۱ :

          ایسے میں بے شمار وسوسے سر اٹھا رہے ہیں ۔کیا حرم کے پاسبانوں کی نئی کھیپ تیار ہورہی ہے ؟ کیا ہمارے اعمال نے خدا کو ہم سے مایوس کردیا ہے ؟کیا ہماری ناموس کے لٹیرے پھر سے ہمارے محافظ بنیں گے ؟ لطف یہ ہے کہ وہی قوم صدام کے ظلم کی داستان بیان کررہی ہے جس نے اسے ہر قسم کے ظلم پہ اکسایا اور تعاون کیا اور پھر اس قوم کا اپنا دامن کونسا پاک ہے ۔ نسل انسانی کے قتل و غارت میں کون ان کا مقابلہ کر سکتا ہے ۔ ’چاہتے ہیں سوآپ کرے ہیں ہم کو عبث بدنام کیا ‘۔ ابلاغ کے بیشتر ادارے ان کی دسترس میں ہیں ۔ جھوٹ اتنا بولا جا رہا ہے کہ سچ لگنے لگا ہے ۔ ا سرائیل کو مستحکم کرنے کی اس کارروائی میں ہم معاون ہی رہے ۔ ٹیلیویژن پہ عیسائت کے مبلغین بڑے جوش سے یہ کہتے ہؤے بھی نظر آ ئے کہ عراق میں اب عیسائی مذہب کی تبلیغ کا بہت بڑا موقع  ہاتھ آگیا ہے ۔ ہو لا لویا ۔ تھینک یو جے سس!! دنیاوی دولت تولوٹی ہی جارہی  ہے کیا دین کا سرمایہ بھی گیا ؟

٭ اے محمد ؐ ہم نے تم کو تمام لوگوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اس پر اللہ کی گواہی کافی ہے۔ جس نے رسول  ؐکی اطاعت کی اس نے اصل میں اللہ کی اطاعت کی ۔القرآن :۴۰۸ :

٭ مجرم قوم سے  اللہ کا عذاب ٹل نہیں سکتا۔القرآن : ۲۱  ۰۱۱ :

 عالم  نو ہے  ابھی  پردہ  تقدیر  میں  :  میری نگاہوں میں  ہے  اسکی  سحر بے  حجاب 

 پردہ اٹھا  دوں اگر چہرۂ  افکار  سے  :  لا نہ سکے  گا  فرنگ  میری  نواؤں  کی  تاب

          مدتوں پہلے کا ایک واقعہ یاد آگیا ۔  میںایک ایسی تقریب میں شریک تھا جس میں فوج کے بڑے جرنیل اور بیوروکریٹ موجود تھے اور حسب معمول پاکستان کے مستقبل اور سرحد پہ ہنگاموں کا ذکر تھا ۔ ہر آدمی وہاں بڑھ چڑھ کے تشخیصِ مسائل کا ذکر کر رہا تھا کہ مجھے بھی اظہار رائے کو کہا گیا ۔ میں نے کہا کہ ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ ملک ایکسپیٹریٹ   کے ہتھے چڑھ گیا ہے ۔ میری بات سے سب چونکے اور وضاحت طلب کی ۔ میں نے کہا کہ آپ میں سے ہر شخص اپنے سینے میں ہی جھانک کے نہ  دیکھے بلکہ اپنا ہاتھ جیب میں ڈال کے بھی دیکھے وہاں اسے ایک گرین کارڈ مل جائے گا ۔ ہم میں سے کون ہے جو اپنی آخرت اوراپنی نسل کی ترقی و بقا کے لئے امریکہ کا شہری نہیں بننا چاہتا ۔ ہمارے ملک میں کتنے ہیں جو راہ نما ہیں اور اپنی اور اپنی نسل کو اسی ملک کا شہری بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ہم رہتے اپنے وطن میں ہیں اور خواب انگلستان و امریکہ اور کنیڈا کے دیکھتے ہیں ۔ ہم ہوں کہ آپ ،کسے باشد !! ہمارے اکثر سیاسی لیڈرز کی تربیت انگلستان وغیرہ میں ہی ہوتی ہے اور اسے پناہ بھی وہیں ملتی ہے۔ کبھی تو آئینہ سے دھول ہٹا کر جھانک لیا جائے کہ ہماری اپنے ملک سے جسے ہم سبھی اپنا کہتے ہیں کمٹمنٹ یعنی اس کے ساتھ ہمارا پیمان وفا کس معیار کا ہے !!

ترا   وجود  سراپا  تجلئ  افرنگ   :  کہ تو وہاں کی عمارت گروں کی ہے تعمیر

 مثال ماہ چمکتا تھا جس کا داغ ِ سجود   :  خرید لی ہے  فرنگی  نے  وہ  مسلمانی 

لیکن  ہم اپنے  ضمیر کو یوں مطمٔن کر لیتے ہیں کہ :    ؎

گفتار سیاست  میں  وطن  اور  ہی  کچھ  ہے  :  ارشاد  نبوت  ؐ میں  وطن  ا ور  ہی  کچھ  ہے

اقوام  میں  مخلوق  خدا  بٹتی  ہے  اس  سے  :  قومیتّ ِ  اسلام  کی  جڑ  کٹتی  ہے  اس  سے

          بات جاری ہے تو ایک اور واقعہ کا ذکر کرتا چلوں ۔ یہ بات ۵۶۹۱ کی جنگ کی ہے ۔ تاشقند میں ایوب خان اور لال بہادر شاستری جنگ بندی کے سلسلے میں موجود تھے ۔ اخباروں میں دونوں کی ساتھ ساتھ تصویریں چھپ رہی تھیں ۔ سطحی طرز ِفکر کے افراد کی یوں بھی کثرت ہے ۔ کچھ لوگ لال بہادر شاستری کے چھوٹے قد کا مذاق اڑا رہے تھے اور ایوب خان کی قدآوری کو پاکستان کی وقار کی علامت کہہ رہے تھے ۔ خبر پھر چھپی کہ شاستری انتقال کر گئے اسکے بعد خبر یہ بھی آئی کہ لال بہادر شاستری کے گھر والے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں ذاتی پیسے نہ ہونے کی وجہ سے منتقل ہوگئے ۔ اس خبر کو پڑھ کے مجھے انجہانی وزیر اعظم ہندوستان لال بہادر شاستری کا قد کہیں بلند اورپر وقار نظر آیا۔ کم سے کم اس شخص نے اپنی قوم کی دولت کو نہیں لوٹا ۔ یہ مثال تو بر سبیل تذکرہ ہی آگئی ۔نیرنگئ سیاست دوراں نے وہ منظر دکھایا کہ توبہ ہی بھلی ۔پچھلے دور کے ہنماؤں کے بعد کے آنے والوں نے تو لوٹنے اور قوم کو کنگال کرنے میں بے شرمی کے سارے حدود ہی ختم کردیئے۔

0لیکن ایمانداری کی چندمثالیں ہمیں کسی اور جگہ مل جاتی ہیں کبھی کبھی ۔ یہ زمین اللہ کے ایسے بندوں سے خالی نہیں جو راہ راست پہ چل رہے ہیں۔ آج بھی اس سرزمین  پہ قائم اس کائنات کے سب سے بڑے راہ نما  ؐکے گھر( جو درختوں کے چھالوں اور تنوںسے بنا ہوا تھا) کی  تقریباً ۰۴ x۰۲ فٹ کی چہاردیواری موجود ہے جس کے فرش پہ بیٹھ کر سارے عالم کو عملی درس ِمساوات و انسانیت، امانت اور دیانت سے سرفراز کیا ۔ اس ذات اقدس ؐ نے اپنے اہل بیت اطہار ص  اورقریب ترین صحابہ کرام ص کو دنیاوی حشم و آلائش سے پاک رکھا ۔ اور آج بھی محبوبان الہٰی کا وطیرہ یہی ہے۔    ؎

دل زندہ  و  بیدار  اگر ہو  تو  بتدریج    :  بندے  کو  عطا کرتے ہیں  چشم نگراں  اور  !

          بے نظیر کی حکومت تھی ، میںپاکستان میں ملازمت کے دوران اپنے دفتر میں بیٹھا تھا کہ مجھے یہ خبر ملی کہ نواز شریف کے زمانے کے کچھ وزیر اور سینیٹ کے ممبر مجھ سے ملنا چاہتے ہیں ۔ ان کامقصد اصل میں بڑی رقم کا حصول تھا۔کسی جلسے کے لئے چندہ اکھٹا کرنا تھا ۔ خیر کوئی چار پانچ افراد میرے کمرے میںتشریف لے آئے  اورحسب معمول مختلف مسائل پہ بات چل نکلی ۔ موجودہ حکومت کی برائی اور اپنی حکومت کی پزیرائی کا موضوع خاص تھا۔جب بہت کچھ کہا جا چکا تو مجھے بھی اپنی رائے کے اظہار کے لیے کہا گیا (چندہ دینے والے کو اتنا موقع تو دیا ہی جانا چاہیے ) ۔ میں نے انھیں یہ بات باور کرانے کی کوشش کی پاکستان میں جب تک آپ سب  حکومت کرتے رہیں گے معاملہ جوں کا توں رہے گا ۔چاہے آپ شیروانی پہن لیں ، شلوار قمیض یا کوٹی پہن لیں ،  فوجی وردی پہن لیں ، سوٹ اور ٹائی پہن لیں ، قراقلی پہن لیں ، عمامہ یا دستار باندھ لیں یا کوئی سر پہ دوپٹہ اوڑھ کے آجائے ۔ ہمیںحکومت کرنے کے تصور اور اصطلاح کو بدلنا ہوگا ۔آپ حکومت کرنے کے لیے انتخاب نہ لڑیں بلکہ لوگوں کی خدمت کرنے کے لیے انتخاب لڑیں ۔ حکومت توویسے بھی اقوام غیرکرتی ہیں ، اپنے لوگ تو عوام کی خدمت اور مسائل حل کرتے ہیں ۔ جب تک حکومت کا نشہ ہوگا آپ یا ہم اس قوم کے افراد کو یوں ہی دھوکہ دیتے رہیں گے ، قوم کے سرمائے کو ہم یوں ہی لوٹتے رہیں گے لیکن جس دن ہم اپنی اس بنیادی فکر میں تبدیلی لے آئیں گے وہ دن چین کا ہوگا۔دیانت و امانت کا بول بالا ہوگا۔ حرص و بخل و تکبر نہیں بلکہ عدل و انصاف و ایثار و انکساری ہی انسانیت کی فضا سازگار رکھتی ہے۔    ؎

 تری  حریف ہے  یارب  سیاست  ِ افرنگ  :  مگر  ہیں اس کے  پجاری  فقط  امیر و رئیس

بنایا ا یک  ہی  ابلیس  آگ سے  تو  نے  :   بنأے خاک سے اس نے  دو  صد ہزار  ابلیس

          جس دن اس حقیقت کا ادراک ہوگا کہ یہاں کسی کاکچھ بھی نہیں اور ہر کچھ صرف اور صرف اللہ کا ہے ۔ انسان کی حیثیت صرف اپنے خالق و مالک کی بیش بہا دولت کے ایک امین کی ہے اس دن آسمان ِشعور پہ ایک نیا سورج طلوع ہوگا جسے کوئی بادل ڈھانپ نہ سکے گا۔

٭مرغوبات دنیا پہ انسان ریجھا ہوا ہے جب کہ اللہ کے پاس بہترین  ٹھکانہ ہے ۔القرآن : ۳۴۱ :

٭رزق طیب اور زینت کو کس نے حرام کیا ہے ، یہ دنیا میں بھی اہل ایمان کے لئے اور آخرت میں بھی ہے۔ القرآن : ۷  ۲۳ :

٭ زمین پہ جو کچھ ہے زینت کے لئے ہے او ر انسان کی آزمائش کے لئے ہے ۔القرآن : ۸۱۷ :

٭نیک لوگوں کو دنیوی زندگی کی آرائش کا لالچ نہیں ہونا چاہیے۔القرآن :۸۱ ۸۲ :    ؎

من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں  :  تن کی دولت چھاؤں ہے آتا ہے دھن جاتا ہے دھن

 ان حالات میں اور ہر لمحہ ہمیں کیا کرنا چاہیئے ؟

٭اللہ نے ہمیں بے مقصد نہیں بنایا۔ القرآن :۳۲۵۱۱ : 

] اپنے مقصد کو پہچانیں اور علم و شعور کے راستے سے مستقل اور انتھک محنت و جدو جہد کریں [۔

افلاک سے ہے اس کی حریفانہ کشاکش  :  خاکی ہے مگر خاک سے آزاد ہے مومن

٭ اے محمد ؐ ہم نے تم کو تمام لوگوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اس پر اللہ کی گواہی کافی ہے۔ جس نے رسول  ؐکی اطاعت کی اس نے اصل میں اللہ کی اطاعت کی ۔القرآن :۴۰۸ :

٭اللہ کی آیات سنائی جارہی ہیں ، تمھارے درمیان اس کا رسولؐ موجود ہے ۔ جو اللہ کا دامن تھامے گا وہ راہ راست پا لے گا۔القرآن :۳۱۰۱ :

٭اللہ کے معاملہ میںزیادتی نہ کی جائے ، اس کے سوا کسی اور کو کارساز نہ بنایا جائے ، اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں اس لئے اس کی عبادت کی جائے اور اس کی یاد اس کی طرف رجوع کے لئے نماز کے قیام کا اہتمام کیا جائے۔ القرآن : ۲۴۷۱ ، ۰۲۴۱ ، ۴۴ ۹۱ :

٭ تمھیں دین کو قائم کرنے ، اور دوسرے انبیا ؑ کی طرح تفرقہ سے علیحدہ رہنے کی تاکید کی جاتی ہے۔

القرآن : ۲۴ ۳۱ :

٭ایسے فتنوں سے احتراز کیا جائے جو صرف ظالموں تک محدود نہیں رہتا اور اللہ بڑا سخت عذاب دینے والا ہے۔القرآن : ۸۵۲ :

٭جو لوگ اللہ کو رب ماننے کے بعد استقامت دکھاتے ہیں ان پر فرشتے بے خوفی ، امن و سکون اور جنت کی خوشخبری لے کر آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں ان کا دوست ہوتا ہے۔القرآن :۱۴  ۰۳ ، ۶۴۳۱ ، ۱۴ : ٭ اللہ تنگی کے بعد آسانی کر دے گا۔غیب کی باتوں کو وہی جانتا ہے۔القرآن : ۵۶۷ ، ۴۹  ۵ ،۶ ، ۶ ۵۹ :

پھر ہم کو اسی سینہ ٔ  روشن  میں  چھپا لے   :   اے  مہر  ِ جہاں  تاب  نہ کر ہم کو فراموش

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: