Hesham A Syed

January 13, 2009

Inside the Mirror :

Filed under: Social Issues,Spiritual,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 8:29 am
Tags:

Urdu Article : Aaieney  key andar : Hesham Syed

آئینہ کے اندر

رات وہ بستر پہ گرا تو سر پیر کا ہوش نہ رہا ۔۔  وہ صبح گئے تک سوتا رہا….

اگر ٹیلیفون کی گھنٹی نہ بج اٹھتی توآج پھر دفتر میں غیر حاضری لگ چکی ہوتی۔ ایک ہاتھ سے ٹیلیفون کا رسیور تھامے وہ غوں غاں کرتا رہا۔ ادھر سے کیا کہا جا رہا تھا اور وہ کیا سن رہا تھا ۔ اللہ ہی جانے ۔ شاید لائن جو غلط مل گئی تھی۔

گھڑی پہ نظر پڑتے ہی جیسے اسے کرنٹ لگ گیا ۔پھر وہ اتنی ہی تیزی سے لپک جھپک ضروریات سے فارغ ہوتے ہوئے ، ایک ہاتھ سے بال سنوارتے ہوئے اور دوسرے سے قمیض کو پینٹ میں ٹھونستے ہوئے وہ سڑک پہ دفتر کی طرف جانے والی بس کے پیچھے دوڑ رہا تھا۔آرشمیدس نے تو زندگی میں ایک بار ہی یوریکا یوریکا کا نعرہ لگایا تھا اور نہاتے ہوئے پانی کے ٹب سے باہر پانی کے اچھال کی خاصیت کا پتہ چل جانے پر برہنہ لوگوں کے سامنے ہی دوڑ لگا دی تھی ۔لیکن شہاب کے ساتھ تو یہ بدحواسی آئے دن کا معاملہ تھا۔ ایک کو تن کا ہوش نہ تھا تو دوسرے کو من کا۔ایک کی جانکاری نے دنیا میں سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کی نئی راہیں کھول دی تھیں تو دوسرے کی اپنے آپ کو جاننے کی خواہش و جستجو اس کے لیے وبال جان بن گئی تھی۔

          بدقسمتی سے شہاب کا شمار تعلیم یافتہ طبقہ میں ہوتا ہے۔ کتابوں کی بھر مار ، لیکچر کی طومار ، اور کئی سال کی یکسوئی و محنت کا نتیجہ چند کاغذی اسناد اور کلرکی کی صورت میں اس کی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔کتنے در پہ جبیں سائی کے بعد اسے اپنی شناخت کلرکی کی صورت میں ملی۔ کالج اور یونیورسٹی کی ڈگریاں بھی اب تجارت بن چکی ہیں۔ شہاب پہ کبھی فکر کے گہرے بادل چھا جاتے تو اسے اپنی یونیورسٹی کے پروفیسر آفتاب کی کہی ہوئی بات یاد آتی کہ تعلیم جو کبھی مقصد تھی اب حصولِ مقصد کا ذریعہ بن گئی ہے یا بنا لی گئی ہے۔پہلے علم علم کی خاطر سیکھا اور سکھایا جاتا تھا اب پیٹ اور پناہ کے خاطر اس کی پناہ لی جانے لگی ہے۔ چھوڑئیے پروفیسر صاحب ! پہلا زمانہ اور تھا موجودہ دور کچھ اور ہے ، زمانہ بدلا زمانے کے مطالبات بدلے اور ان سب نے مل کر ہم سب کو بدل ڈالا۔تعلیم انسان کے لئے جتنی ضروری ہے اتنی ہی خطرناک بھی۔ اس کے مفید اور مضر ہونے کا انحصار محض اس بات پہ نہیں کہ تعلیم دی کیسے جاتی ہے بلکہ اس پر بھی ہے کہ نصاب کیا اور کیسا ہے؟معلمین کس پائے اور رتبے کے ہیں ؟ اساتذہ کی اخلاقی حالت کیسی اور کس قسم کی ہے، ان کا مطمع نظراور طریق فکر وکار کیا ہے ، وہ مضامین جنھیں وہ پڑھاتے ہیں اس سے انھیں دلچسپی بھی ہے یا نہیں ۔ اور ہے تو کس حد تک ؟

          شہاب بھی زندگی کے ابتدایہ میں ایک مڈل کلاس کا نیم حکیم یا سوڈو انٹلکچول طبقہ کا فرد بنتا جا رہا ہے۔ اپنے اطراف میں پھیلے ہوئے قول و فعل کے تضادات ، ماضی و حال کے تغیرات ، حقائق اور فسانے کے مضمرات سے جب وہ اعصابی تناؤ کا شکار ہوتا تو بہت ساری ایسی محفلیں اور ایسے احباب اسے سکون بخشتے ہیں جہاں کوئی دل کی کہہ رہا ہو ۔

          وہ اکثر گنگناتا ۔’’ میرے درد دل کی کا مداوا تو کرتے  :  میرے درد سے آشنا ہونے والے‘‘۔ دفتر سے واپسی پر وہ اپنا سارا وقت کافی ہاؤس میں کسی بزم فکر و نظر کے نذر کردیتا، رات کے پچھلے پہر ٹوٹے بدن اور بے حد وزنی باتوں سے بوجھل ذہن کے ساتھ گھر لوٹتا تو جھلنگا چارپائی پہ اپنی ماں کی آغوش کا مزہ پاتا۔ ایسی ہی کسی محفل میں کل کوئی صاحب فرمودات حالیؔ سنا رہے تھے :

           اگرچہ ہماری قوم میں بڑے بڑے اولولعزم بادشاہ ، بڑے بڑے دانشمند وزیر اور بڑے بڑے بہادر سپہ سالار گذرے ہیں، مگر ان کے حالات اس کٹھن منزل میں جو ہم کو اور ہماری نسلوں کو درپیش ہے براہ راست کچھ رہبری نہیں کر سکتے۔ ہم کو دنیا میں محکوم بن کے رہنا ہے اوراس لئے وہ لیاقتیں جو سلطنت اور کشور کشائی کے لئے درکار ہیں ہمارے لیے بے سود ہونگی ۔ ہمارے اسلاف میں علما، حکما اور مصنفین کی بھی کمی نہیںمگر وہ بھی ہمارے لئے قابل تقلید نمونے نہیں بن سکتے ۔ ان کو خدا نے اس وقت پیدا کیا تھاکہ علم اور لوگوں کا کام تھا اور باورچی گری اور لوگوں کا کام تھا ۔مگر ہمارے زمانے میں یہ دونوں کام ایک ہی شخص کو کرنے پڑتے ہیں۔ہمارے عرفاو مشائخ کی پاکیزہ زندگی بھی ہم دنیا داروں کی موجودہ حالت سے مناسبت نہیں رکھتی۔ وہ ہم کو اپنے اپنے قدح کی خیر منانی سکھاتی ہے …مگر ہماری خیر اب اس میں ہے کہ سب مل کر ایک دوسرے کی خیر منائیں ۔

          وہ مادی دنیا سے الجھتا تو روحانیت میں سکون تلاش کرتا ۔۔ کتنی ہی خانقاہوں کے پھیرے ڈالے ، کتنے جلالی وظائف اوراوراد اس کی زبان پہ تھے لیکن درد بڑھتاگیا جوں جوں دوا کی ۔ بات صرف دل کی ہوتی تو رام ہوجاتا لیکن یہ کمبخت عقل جو آڑے آتی ہے بار بار۔ اہل تصوف سے رابطہ ہوا تو قلب و روح سے الجھا ، نفس و لطائف ، منازل و سلوک و مراقبات ، رویت ، توجہ و  تصرف ِشیخ ، کشف و کرامات کے مفہوم سے سر پٹختا رہا۔ ہر طرح کی رنگینیوں سے گزر تا رہا ۔ وہ کسی نتیجہ پہ نہیں پہنچ پارہا تھا کہ اسے’ فرمودات ِصوفی حضرت اللہ یار خان‘ ؒ ملے ۔ تصوف وہ علم ہے جس سے نفوس اور تزکیہ اخلاق اور ظاہر و باطن کی تعمیر کے احوال پہچانے جاتے ہیں تاکہ سعادت ابدی حاصل ہو ۔ نفس کی اصلاح ہو اور رب العالمین کی رضا اور اس کی معرفت حاصل ہو ۔تصوف کا موضوع تزکیہ اور تعمیر باطن ہے اور اس کا مقصد ابدی سعادت کا حصول ہے ۔لیکن وہ یہ بھی جاننا چاہتا تھا کہ تصوف کیا نہیں ہے ؟ اس کے عقیدہ بھی حل یوں ہوا کہ :

تصوف کے لئے نہ کشف و کرامات شرط ہے نہ دنیا کے کاروبار میں ترقی دلانے کا نام تصوف ہے ۔نہ تعویذ گنڈوں کا نام تصوف ہے ۔ نہ جھاڑ پھونک سے بیماری دور کرنے کا نام تصوف ہے ۔نہ مقدمات جیتنے کانام نہ قبروں پہ سجدا کرنے اور ان پہ چادر چڑھانے یا چراغ جلانے کا نام۔نہ آنے والے کل کی خبر دینے کا نام ۔نہ اولیا  اللہ کو غیبی ندا کرنا، مشکل کشا اور حاجت روا سمجھنا تصوف ہے ۔ نہ اس میں ٹھیکیداری ہے کہ پیر کی توجہ سے مرید کی اصلاح ہو جائے گی اور سلوک کی دولت بغیر مجاہدہ کے اور بدون اتباعِ سنت رسولؐ حاصل ہو جائے گی ۔ نہ اس میں کشف و الہام کا صحیح اترنا لازمی ہے۔ نہ وجد و تواجد و رقص و سرود کا نام تصوف ہے ۔ بلکہ یہ سب خرافات اور تصوف کی عین ضد ہیں۔

          کبھی کبھی شہاب پہ سوچنے کا دورہ پڑتا تو کسی جھیل کنارے درخت سے پیٹھ لگائے گھنٹوں بیٹھا سامنے خالی نظروں سے تکتا رہتا۔ وہ سوچنے پہ مجبور تھا ۔یہ اس کی عادت بن چکی تھی۔ کتنے تنوع کا شاہکار ہے وہ، کتنے کیمیائی مادوں سے اس کی تشکیل ہوئی ہے ، اس پہ کیسے کیسے انوارمرتب ہوئے ہیں ۔کیسی کیسی کیفیات کا حامل ہے یہ شخص ۔آنکھ نیند سے عاری ،قلب تسکین سے عاری ،تو رت جگہ کیوں نہ شب ہجر منایا جائے ؟ کچھ تغیر، کچھ تصادم ،کچھ تلاطم ،کچھ سکوں : کچھ نہ کچھ اے گردشِ ایام ہونا چاہیے۔

          یہ بے قرار سا شخص شہاب کون ہے ؟ اس کا قد و کاٹھ کیا ہے ؟ اس کا رنگ و روپ کیا ہے ؟ اس شہر بے پناہ میں وہ کہاں رہتا ہے ؟

عجیب بات کی آپ  نے ! وہ آئینہ کے اندر ہے ۔ آپ جھانک کے دیکھیں تو سہی..  وہ نظر آ جا ئے گا !

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: