Hesham A Syed

January 13, 2009

Oh , my passing Age !

Filed under: Social Issues,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 8:56 am
Tags: ,

Urdu Article : Aey Meiry Umrey rawaaN : Hesham Syed

اے مری عمرِ رواں اور ذرا آہستہ …!

یہ کتنی عجیب بات ہے کہ جب ہم بچے ہوتے ہیں تو یہ چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد بڑے ہوجائیں کیونکہ اپنے سے زیادہ عمر کے لوگوں کی زندگی ہمیں اس وقت قابل رشک نظر آتی ہے۔ بچپنے سے نوجوانی پھر  ٹین ایج کا خمار اور پھر جلد سے جلد ۱۲ ویں سال میں قدم رکھنے کی خواہش تاکہ ہر قسم کی پابندی سے آزاد ہو جائیں۔۔۔ لیکن پھر یہ ہوتا ہے کہ اچانک خیال آتا ہے کہ ہم ۰۳ سال کے ہوگئے اور اب چالیسویں کی طرف قدم بڑھانے لگے لیکن اب عمر کی بڑھوتی پہ کچھ زیادہ خوشی نہیں ہوتی بلکہ ہر سالگرہ پہ عمر ایک سال کم نظر آنے لگتی ہے، اور خیال یہ رہتا ہے کہ عمر اب بڑھ کہاں رہی یہ تو روز گھٹ رہی ہے۔ ہزار بریک لگائیں لیکن یہ وقت کب رُکتا ہے کسی سے؟یہ تو ایسی سواری ہے کہ چلی تو چلی صرف ایک بار ہی جاکے رکتی ہے۔ چالیس گزرتے بھی کتنی دیر لگتی ہے کہ پچاسویں کا کنارا آلگتا ہے اور پھر عمر کی یہ گاڑی کچھ زیادہ ہی برق رفتار ہو جاتی ہے ، ساٹھویں تک آتے آتے یوں لگتا ہے کہ وقت کو پر لگ گیا ہے ، نہ جانے کب سے یہ شعر جذبات میں ہل چل مچائے رکھتا ہے  ؎

 باندھ کر  عہد وفا  کو ئی  گیا  ہے  مجھ  سے  :  اے  مری  عمر  رواں  اور  ذرا  آہستہ

          اگر کوئی ۰۷ ، ۰۸ ، ۰۹ یا ۰۰۱ سال تک پہنچ گیا اور صحتمند بھی ہو تو لوگ اسے مبارکباد دیتے ہیں ۔ ۰۶ سے اوپر کیا ہوئے کہ اکثر لوگ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ بھائی ہم تو اب بونس پہ چل رہے ہیں ۔جو قنوطیت پسند ہیں وہ تو چالیسویں سے ہی مصلیٰ بچھا کے بیٹھ جاتے ہیں۔کہتے ہیں کہ عقل بھی چالیس کے بعد آتی ہے ، نماز بھی چالیس کے بعد ہی فرض سمجھتے ہیں۔کہتے ہیں یہ مولوی حضرات بہت جلدی کرتے ہیں اور اتنی مشقت کراکے وقت سے پہلے ہی مار دیتے ہیں ، بہر حال نماز کی پابندی اپنی جگہ یہ تو اہل قبور سے بھی لو لگا لیتے ہیں ۔ آتے جاتے کوئی قبرستان راستے میں پڑے تو آبدیدہ ہوجاتے ہیں ، ان کے بدن میں اپنے کردہ اور ناکردہ گناہوں کا خیال کر کے جھر جھری سی اٹھتی ہے۔ انہیں دیکھ کر ان کے ساتھ والے پہ بھی رقت طاری ہوجاتی ہے۔ اہل قبور کے لئے یہ سوچ کے کہ آج وہ ہےں تو کل ہماری باری ہے خصوصی دعا پڑھتے ہیں ۔ شاید ہماری بخشش کے لئے بھی کوئی ہم جیسا ادھر سے گزرے تو دعا کرے ۔ آپس کے میل جول اور تعلقات سے ہی تو دنیا میں اور آخرت میں بھی کام نکلا کرتا ہے۔ بے جا سفارش صرف دنیا میں ہی بری سمجھی جاتی ہے آخرت میں تو اسے صلہ ہمدردی سمجھا جاتا ہے۔ واللہ عالم۔ اب تک کوئی ایسا نہیں ملا جو وہاں جا کے واپس آیا ہوکہ ہم ایسی باتوں کی تصدیق کر سکیں۔ اسی لئے تو پیرانِ باتدبیر کی لائین لگی ہوئی ہے ، دکانیں سجی ہوئی ہیں ، بیٹا اتنا نذرانہ دے اپنے بابا کو اللہ کلیان کریگا ، سائیں بابا کی قدم بوسی کر کے جنت میں تو انہیں کی سفارش سے جائے گا۔ اب وہ زمانہ کہاں جب پیر فقیر گلیوں اور چوراہوں پہ نعرہ لگاتے پھرتے تھے ’جو دے اس کا بھی بھلا اور جو نہ دے اس کا بھی بھلا ‘ ۔ اب تو پیسہ پھینک تماشہ دیکھ والی صورت حال ہے ۔ ان میں سے بعض تو خوفِ آخرت میں قبور پہ چادر بھی چڑھا آتے ہیں ، لوبان ، اگر بتی ،موم بتی اور چراغ بھی جلا آتے ہیں کہ بھائی ذرا میرا بھی خیال رکھئے گا ۔ میری فائل ذرا اللہ میاں کے پاس دوسری فائلوں سے اوپر رکھوا دیجئے گا اور اگر وہ جہنم کے خانے میں ہے تو وہاں سے غائب کر کے اس میں سے فرشتوں کے لکھے کو اڑا کر جنت والے خانے میں لگا دیجئے گا۔ ان فرشتوں سے تو انسانوں کی شروع سے ہی نہیں بنی ، یہ تو اس کی تخلیق پہ ہی معترض تھے!!بتائیے یہ بھی کوئی بات ہوئی کہ جو ہمارا عدو ہے اسی کے لکھے پہ ہمارا فیصلہ ہو ؟

          لیکن ہمارے دوستوں میں کچھ کا کہنا یہ ہے کہ یہ چادر وغیر ہ چڑھانے کا عمل خوف آخرت کی وجہ سے نہیں بلکہ دنیا مزید سوُتنے کے خیال سے کیا جاتا ہے۔نیتوں سے تو اللہ ہی واقف ہے ہمیں کسی کے اعتقادی معاملات سے الجھنے کی کیا ضرورت ہے۔ہمیں اپنی صحت سے مطلب ہے عمر کی بڑھوتی کا خیال ہے سو اس کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ہمیں اس سے کیا کہ کون کیا ہے ؟اس جگ میں تو یونہی تماشہ ہوا کرے !

          کثیر الاولاد و عیال ہونے کی ایک حکمت اور توجیح یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ اولاد بعد مرنے کے دعا کرے گی لیکن ماجانِ عقل کا کہنا ہے کہ یہ اس صورت میں ممکن ہے کہ اولاد اکل حلال پہ پلی ہو ،صالح ہو اور صالح ہونے کے ساتھ اولاد کو ورثے میں بہت کچھ ملا ہو سوائے قرض و غربت کے۔ ورنہ ساری دعائیں رسماََ ہی ہوتی ہیں اگر بتی جلا کے۔ یہ ایک ایسا موقع ہے جہاں دل خوش ہو تو دعا نکلتی ہے اور آہ فلک پہ رحم لانے کے لئے نہیں جاتی اور نہ کدورت و عسرت کا بادل اسے راہ دیتا ہے جانے کے لئے ۔مقروض اولاد کی دعا میں تاثیر نہیں ہوتی ۔ وہ تومرحوم کی پہلی یا زیادہ سے زیادہ دوسری برسی تک پاس پڑوس ، دوست ، رشتہ داروں کو جمع کر لیتے ہیں کہ ساتھ مل کے آہ و زاریاں کریںاور سبھوں سے قرآن پڑھوائیں اور اتنا پڑھوائیں کہ احباب بھی درد سے چیخ اٹھیں کہ مرحوم نے خود کوئی کام نیکی کا کیا ہوتا تو آج یہ تردد ہمیں تو نہ ہوتا کہ انہیں بخشوایا بھی جائے ۔ چلئے صاحب تقریب کچھ تو بحر ملاقات چاہیے لیکن ایسی ملاقات بھی کس کام کی کہ ملیں توبجائے تاش، برج، شطرنج ، لوڈو ، کیرم بورڈ یا پوول کھیلنے یا گپ شپ لگانے یا کسی کھیل یا فلم یا ڈرامے یا سیاست یا سیاسی لیڈروں پہ تبصرہ یا کسی کے بارے میں غیبت کرنے قرآن پڑھنے بٹھا دیئے جائیں۔ اللہ اللہ کیا زمانہ آگیا ہے لوگ جانے کے بعد بھی اپنے ہی جاننے والوں کے لئے کیسے کیسے مسائل پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔ جب تک اس تقریب میں  قرآن نہ پڑھئے کھانا نہیں ملے گا ۔ حد ہوگئی صاحب.. اور پھر یہ بھی کیا ضروری ہے کہ کھانا مزیدار ہی ہو ، ہاں یہ ضرور ہے کہ کھانا کتنا ہی بد مزہ کیوں نہ ہو مرغن ضرور ہوتا ہے تاکہ گھی اور تیل آپ کے اندر جاکے آپ کی رگوں میں بھی بیٹھ جائے اور آپ بھی عارضۂ قلب    یعنی شریان  بندی کا یا میٹھا کھا کر ذیابیطس ، شوگر کے مرض کا شکار ہوں اور یہ دعوت کا سلسلہ یونہی جاری رہے جو صدیوں سے جاری ہے ، آخر تعلقات کس دن کام آئیں گے ؟ خیالِ خاطر احباب بھی تو کوئی چیز ہے۔

خیالِ خاطر احباب چاہیے ہر دم  :  انیسؔ  ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو

          دیکھا آپ نے حضرت انیسؔ نے کتنی خوبصورتی سے حقائق سے پردہ اٹھایا ہے اور یہ بات ناصحانہ طور پہ اپنے اس شعر میں کہی کہ احباب کی خاطر ایسی کی جائے کہ وہ آبگینہ کی طرح ہوجائیںیعنی اتنے کمزور کہ ذرا سی ٹھیس سے ہی یہ بلبلہ پھوٹ جائے ۔ یہ نقاہت و کمزوری اور بلبلہ کی کیفیت کے لیے عارضۂ قلب و ذیابیطس سے زیادہ محرک کوئی اور چیز نہیں ۔ کیسے کیسے لوگ تھے اورکیسی انوکھی بات ایک پیغمبرانہ شان سے کہہ کے خود بھی گزر گئے۔

          سنا یہی ہے کہ اس شعر کا کہنا کیا تھا کہ ان کے احباب نے کوئی لمحہ ایسا نہیں چھوڑا کہ ان سے گلوخلاصی کے لئے ہر روز مرغن کھانوں اور شیرینیوں سے ان کی دعوت نہ کی ہو بلکہ یہاں تک پتہ چلا کہ ایک ایک دن میں کئی دعوت نامے مرتے دم تک موصول ہوتے رہے اور مرحوم خیال ِخاطرِ ِ احباب میں اسے وصول بھی کرتے رہے نتیجہ کیا نکلا ؟ جان سے جاتے رہے۔ اپنے ہی نسخہ نے ان کی اپنی جان لے لی  ! انا لاللہ و انا الیہ راجعون !

          کسی طبیب یا ڈاکٹر یا ناصح نے زیادہ سے زیادہ جینے اور جوان رہنے کے بہت سارے نسخے تجویز کئے ہیں ۔ چلیے دیکھتے ہیں کہ اس کا اطلاق ہم سب پہ کیسے ہو سکتا ہے :

تجویز ۱:  ہر قسم کی گنتی کو بھول جائیں ۔ نہ عمر کی گنتی یاد رکھیں اور نہ وزن کے پیمانہ پہ نظر ڈالیں ۔ یہ ساری باتیں آپ کے طبیب ، حکیم  یا ڈاکٹر کے یاد رکھنے کی ہیں ۔اسے اپنا کام کرنے دیں ۔ آپ اگر اس کا کام کریں گے بھی تو وہ آپ کو اپنی فیس میں کوئی حصہ نہیں دے گا۔ ہو سکے تو اپنے کمرے سے کلینڈر اور گھر سے وزن کرنے والی مشین کو باہر پھینک دیں یا اسی طبیب کو تحفتاّ دے دیں وہ جانے اس کا کام جانے۔ اب آپ آرام سے بلا   امتیازعمراور سفید بالوں کے عیشِ دوام میں مبتلا ہو جائیے۔ جو دل میں آئے کھائیے جو دل میں آئے پیجئے۔ جو دل میں آئے کیجئے ، کیوں کہ جو کچھ بھی آپ کو اب کرنا ہے وہ ان ہی چند سالوں میں کرنا ہے۔یہ احتیاط ضرور کریں کہ کوئی ایسا عارضہ لاحق نہ ہو جائے جس کا سن کر آپ کے احباب ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر اپنی اپنی آنکھیں گھمائیں ۔اور دل میں یہ کہیں کہ کمبخت سب کچھ اکیلے ہی کر گیا ہمیں بتایا ہی نہیں ۔یہ تو اچھا ہوا کہ اس بیماری سے اس کے گُل کھلے۔ یہ حسرت زدہ رہ جانے والے لوگ یعنی آپ کی دلچسپ حرکتوں کا سوچ سوچ کر آہیں سرد بھرتے ر ہیں گے۔

 تجویز ۲:  اپنے اطراف میں صرف ایسے دوستوں کو رکھیں جو خوشگوار موڈ رکھتے ہوں ۔ فکر مند اور غم سے بھرے ہوئے لوگ اور قنوطیت پسند آپ کی صحت کے لیے مضر ہیں۔ شاعروں وغیرہ سے فوراََقطع تعلق کر لیں ۔ہزلیات اور مزاح وخصوصاََمرثیہ گو ، پھکڑ پن کے استادوں اور خرافات نگاروںسے تعلقات استوار رکھیں کہ یہی لوگ آپ کی صحت کے ضامن ہیں۔ وہ اپنے خمار میں آپ کو بھی سرشار رکھیں گے اور آپ پہ بھی یک گونہ بے خودی کی دن رات طاری رہے گی۔

 تجویز ۳:  اپنے آپ کو مصروف کر لیں۔ عشق کی عمر ٹل گئی ہے تو کوئی مشغلہ اور اپنا لیں ۔ لیکن ٹھہریئے کوئی دوسرا مشغلہ اپنانے سے پہلے ہو سکے تو اپنی شہوان العمری پرایک کتاب یادوں کی سوغات یا خرافات لکھ ڈالیں۔ اسے پڑھ کے آپ کو اپنی بیتی ہوئی باتیں تو خیر یاد آئیں گی ہی دوسروں کے ساتھ بھی بھلا ہوگا اور انہیں بھی اس میں اپنا عکس نظر آئے گا یا پھر انہیں نئی نئی ترکیبوں کا پتہ چلے گا۔ اپنے آپ کو سستانے نہ دیں کیونکہ کاہلی اور دماغ کو استعمال نہ کرنے سے انسان کو عارضۂ الزائیمر  یعنی بھول جانے کی بیماری ہو جاتی ہے۔ یہ بات حالانکہ کچھ الجھی ہوئی ہے اگر دماغ کو استعمال نہ کرنے سے بھول جانے کی بیماری ہو جاتی تو اس وقت تمام  سربراہانِ مملکت اور دانشور و شاعر و ادیب ، سیاستدان و حکومتی کارندے وغیرہ سب کے سب اس موزی مرض کا شکار ہو چکے ہوتے۔ سو اس بات میں سچائی نظر نہیں آتی۔ خیر اس مرض کے ہونے نہ ہونے کے وجوہات سے قطع نظر کچھ نہ کچھ سیکھتے رہئے، کمپیوٹر سیکھئے ، باغبانی سیکھئے ، فن کاری سیکھئے ، گلہ بانی سیکھئے ، احترامِ انسانی سیکھئے ، علمِ روحانی سیکھئے ، علم و حکمت کی قدر دانی سیکھئے گویا وہ ہر کچھ سیکھئے جو اب تک نہیں سیکھ سکے تھے اور یہ نہ سوچئے کہ آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے !

 تجویز ۴:   معمولی باتوں پہ بھی خوش رہناسیکھئے ، اگر ہم اتنے ہی سادہ دل ہوتے تو نسخہ ٔ  طبیب کی ضرورت کیا تھی ۔ یہ فیصلہ کیسے ہو کہ کہ کونسی بات معمولی ہے اور کونسی اہم ہے ۔ اجی قبلہ! ہم نے تو  ساری اہم باتوں کو ہی معمولی سمجھ کے خوش رہنا سیکھ لیا ہے جس کا نتیجہ کچھ الٹا نکل رہا ہے جانے کیوں ؟

 تجویز ۵:   خوب قہقہے لگائیے ، زور زور سے یہاں تک کہ سانس لینا دوبھر ہوجائے ۔ یہ بھی کوئی تجویز ہوئی ہمارے واعظین اور مولوی حضرات تو قہقہہ کو بھی شیطانی عمل کہتے ہیں اور اس قدرخوف طاری کرتے ہیں کہ ہم نے قہقہہ لگایا اور ایمان سے خارج ہوئے ، شیطان کے مرید ہوئے ۔ ڈر اس بات کا رہتا ہے کہ اگر اتنے ہم نے قہقہے لگائے کہ سانس لینا دوبھر ہوجائے ، ذرا مونہہ کھولا حلق نظر آیا اور شیطان داخل ہو گیا تو ایسے میں کہیں سانس ہی اکھڑ گئی تو موت بھی بے ایمانی کی حالت میں ہو گی ۔ یہ ایسے ہی ہے کہ کوئی کلب میں ڈانس فلور پہ ناچتا ہوا کسی کی بانہوں میں مر جائے یا سنیما گھر میں کسی بے ہودہ فلم کو دیکھتے ہوئے مر جائے یا گھر پہ ہی ٹی وی یا ویڈیو کا کوئی ایکس ریٹیڈ پروگرام دیکھتا ہوا لڑھک جائے ۔یہ اور بات ہے کہ ایسی حالت میں مرنے والوں کے بارے میں بھی ان کے گھر والے یہی کہتے پائے گئے کہ مرحوم حالت نماز میں ہی مردہ پائے گئے ، وضو کے بغیر تو وہ ایک لمحہ بھی نہیں رہ سکتے تھے ، ہاں یاد آیا کہ ہمارے مفتیان دین کے فتاویٰ میں یہ بھی درج ہے کہ قہقہے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، سو یہ قہقہہ لگانے کا مشورہ ظاہر ہے کسی مسلمان طبیب کا تو نہیں ہو سکتا ، مسلمان ہوتا تو پچھنے لگانے کی تجویز دیتا  نہ کہ قہقہے لگانے کو کہتا۔! اکثر کا یہی خیال ہے کہ وضو ٹوٹنے کا تعلق قہقہہ سے نہیں بلکہ آدمی کے نظام ہاضمہ سے منسلک ہے یا پھر عورتوں کے مس کر لینے سے ہے ۔ اب ان ملکوں میں جہاں ہم جنسیت کو بھی جائز قرار دیا جا چکا ہے وہاں کیاکسی ہم جنس کے چھونے سے بھی وضو جاتا رہے گا ؟ بن گیا نہ یہ بھی ایک اجتہادی مسئلہ؟ 

 تجویز ۶:   آنسووں کو چھپائیں انہیںباہر نہ آنے دیں ۔ غم کو برداشت کریں اور زندگی کو زندوں کی طرح گزاریں : یہ طبیب یا ڈاکٹر کم اور کوئی پھسڈی شاعر زیادہ لگتا ہے ، بھلا یہ بھی کوئی ہمدردانہ یا صحتمندانہ تجویز ہے ؟ موجودہ ریسرچ یا تحقیق تو یہ بتاتی ہے کہ رونا آئے تو خوب رؤکہ اس سے آدمی اندر سے ہلکا ہو جاتا ہے اور غبار نکل جاتا ہے ۔غم کو چھپانا بھی کارِ دارد یہ تو اہلِ ظرف کا کام ہے۔ہم جو انفرادی طور پہ صدیوں سے غم و غصے کا اظہار کرتے چلے آئے ہیں تو کیا غلط کرتے رہے ہیں ، ہماری شاعری و ادب میں احساس غم نہ ہو تووہ بیکار ِ محض ہے۔ ہمارے معروف شعرا جو مرقعہ غم کا خطاب پاتے رہے توان کا سب کا سب کلام غلط ؟ پھر میرؔ کا کیا ہوگا ؟ ان کے بغیر تو اردو شاعری اور غزل گوئی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ ہمیں ٹُک روتے روتے سو رہنے کی عادت سی پڑ گئی ہے ! ہم جاگتے ہی رونے لگتے ہیں اور جب نیند آجاتی ہے چُپ ہوتے ہیں۔ پھر خواب میں محبوبہ نظر آجائے تو چیخ مار کے اٹھ بیٹھتے ہیں اور پھر رونے لگتے ہیں۔ زندگی کو زندہ رہ کے کیسے گزاراجاتا ہے یہ پوچھنا پڑیگا ، ہم توبھئی ایسے ہی گزارتے ہیں ، کسی نے کہا ہے کہ زندہ رہتے ہیں کمال کرتے ہیں ، گویا زندگی کو گزار لینا بھی کمال ہی ہے۔

 تجویز ۵:    اپنے آپ کو ایسی چیزوں کے گھیرے میں رکھیں جن سے آپ کو محبت ہے یا جنھیں آپ سے ہے جیسے کہ خاندان کے افراد ، پالتو جانور ، پودے ، موسیقی وغیرہ ، اور یہ سونچیں کہ آپ کا گھر ہی آپ کی جائے پناہ ہے : اب ذرا غور کیجئے ساری عمر جن کے ساتھ گزارنا پڑی انہیں کے ساتھ آدمی ایام آخر بھی گزارے ، اے طبیب و ناصح! ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو ‘ ۔ پودوں اور موسیقی سے کبھی شغل ہی نہ رہا ہو تو آدمی کیا کرے ۔ اور اس دور میں موسیقی کہاں سے لائے۔ موسیقی کی جو شکل سامنے ہے ،ہے اسے تو ریپ    اورپوپ  کہا جاتا ہے۔آپ خود ہی غور کریں کہ ان اصطلاحات میں بھی حقیقت کیسے چھپائی گئی ہے یعنی کوئی موسیقی کے ساتھ فلاں چیز انگریزی میں کرے صرف ایک  ای  کے اضافے کے ساتھ تو ظاہر ہے بہت بڑا پاپ ( گناہ ) کرے گا ۔ عمر کے آخری دور میں ہم خود کو گناہ گارکیوں کریں ؟

q تجویز ۸:    اپنی صحت کے بارے میں متفکر نہ رہیں بلکہ یہ سوچتے رہیں کہ سب ٹھیک ہے : گویا کوئی درد ، بیماری لاحق بھی ہو تو اسے بھول جائیں ، اس سے عمر طویل ہو جائے گی اور ڈاکٹروں کی فیس کا غم بھی نہیں ہوگا۔ نہ ان کی دوائیاں کھانا پڑیں گی۔ فیس اور دواؤں کے اخراجات کا سوچ کے ہی آپ کے اہل و عیال جان کنی کی حالت میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ ڈاکٹروں پر ہی پیسہ خرچ کرنا ہے تو اپنی زندگی کا بیمہ  انشورنس کروالیں ، کم سے کم یہ تو ہوگا کہ بعد مرنے کے ورثا کے حصے میں کچھ آئے گا ۔ ایسے ممنون ورثا کی دعاوں سے قبر کی سزاؤں میں کچھ تخفیف ہو جائے گی ۔ ہان بھلا کر ترا بھلا ہو گا۔

 تجویز ۹:   اپنے آپ کو ہر احساس ندامت سے عاری کر لیں اور ضمیر کے اندر نہ جھانکیں اور خوب سیاحت کریں : اگر تاک جھانک کرنا ہی ہے تو آپ کو علم ہے کہ کہاں جھانکنا چاہیے کسی کے بتانے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ احساس ندامت یا ضمیر کی خلش  پہلے کب تھی جو اب ہم اس سے چھٹکارا پائیں ؟سیاحت کے تو ہم پہلے سے ہی ماہر تھے ، یہ کام قصداّ ہم نے کبھی نہ کیا لیکن گھر والوں ، محلے والوں ، شہر والوں نے ہمیں چین سے نہیں بیٹھنے دیا ۔ ہر جگہ سے ہم اس لئے نکالے گئے اور عازم سفر ہوئے کہ انہیں ہم مشکوک ہی نظر آئے ۔ پتہ نہیں سارے زمانے کو زندگی بھر ہم سے کیا بیر رہا۔اس کا علم تو صرف اللہ کو ہے اور اس کے علم تک ہماری رسائی کہاں؟ہم اکثر سرکاری مہمان بھی رہے لیکن وہاں بھی ہم کسی کو ایک آنکھ نہ بھائے اور دیس باہر ہوئے۔

 تجویز ۰۱:   اپنے ہر ملنے والوں سے کہیے کہ آپ کو ان سے محبت ہے : اگر ملنے والوں میں خواتین زیادہ ہیں تو آپ کے ایسا کہنے پہ نتیجہ فوری نکلے گا اور آپ کی صحت میں ایک خوشگوار تبدیلی آئے گی  اور آپ کے پاس جوتوں کا اچھا خاصہ ا سٹاک بھی جمع ہو جائے گااور آپ انھیں یاد گار کے زور پر رکھ سکیں گے! بعض ملکوں میں اب اس کارِ خیر کے لئے خواتین کی بھی شرط نہیں رہی ۔مانگے ہے پھر کسی کو لبِ بام پر ہوس!!

]٭ مندرجہ بالا تجاویز مرد و عورت دونوں کے لئے ہیں،  قارئین عورتیں اس مضمون میں مرد کی جگہ اپنے آپ کو سمجھیں اور عورت کی جگہ مرد کو ورنہ کسی کو یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ جینے کا حق کیا صرف مردوں کو ہے ؟ یہ اور بات ہے کہ عام طور پر عورتوں کی عمر طویل ہوتی ہے اسی لئے زیادہ جینے کی تمنا مردوں کے دل میں زیادہ مچلتی ہے۔ یہ مرد حضرات تو جب دیکھئے مرنے پہ تلے رہتے ہیں ۔ کوئی عورت نظر آئی اور یہ دھڑسے مر جاتے ہیں ، ان میں جمالیاتی ذوق اتنا بڑھا ہوا ہوتا ہے کہ بڑھاپے میں بھی کسی شوخ نوجوان حسینہ کی آنکھوں کے تیر اَنی بن کر ان کے سینے میں چبھتے رہتے ہیںگویا   ؎ 

 ہوئے جوان تو مرنے لگے حسینوں پہ  :  مجھے تو موت ہی آئی حیات سے پہلے

٭ ایک آخری بات جو فلسفہ زدہ طبیب نے کہی ہے کہ زندگی صرف سانس کی گنتی کا نام نہیں بلکہ وہ لمحہ ہے جس میں ہماری سانس اوپر کی اوپر اور نیچے کی نیچے رہ جاتی ہے۔ہمارے خیال میں تو یہ صورت عالم نزع میں ہوتی ہے ، یہ زندگی کی علامت تو نہیں ۔ بہر حال یہ سب کچھ اپنے انداز فکر پر منحصر ہے!

نقش کو اس کے مصور پر بھی کیا کیا ناز ہیں  :  کھینچتا ہے جس قدر ، اتنا ہی کھنچتا جائے ہے

          لیکن آخری بات ہمیں جو کہنی ہے وہ یہ ہے کہ ہم ایسے ناصح اور طبیب بلکہ اعزاداروں کے بے حد شکر گزار ہیں جو اول تو ہماری صحت کے بارے میں فکرمند رہتے ہیں اور اس انتظار میں بھی ہیں کہ بعد مرنے کے میری مغفرت کی دعائیں بھی مانگیں گے بشرطیکہ کھانا اچھا ہوا اور ساتھ میں میٹھا بھی۔ آپ نے سنا ہوگا کہ جتنا گڑ ڈالو گے اتنا میٹھا ہوگا۔ اس زمانے میں یہ بھی غنیمت ہے ورنہ عمومی صورت حال تو یہ ہے کہ   ؎

پڑے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیماردار  :  اور اگر مر جایئے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: