Hesham A Syed

January 13, 2009

Signs of Progression and Regression of Nation and our attitude

Filed under: Islam,Social Issues,Spiritual,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 8:45 am
Tags:

Urdu Article : Ilaamaat e Urooj o ziwaal aur hamaara rawaiya : Hesham Syed

علامات ِ عروج و زوال او ر ہمارا رویہ

انسانی تہذیب کے عروج و زوال کی داستان اتنی عجیب بھی نہیں ۔ تاریخ نسل انسانی کے مطالعہ سے اس بات کا تو صاف پتہ چلتا ہے کہ کسی بھی قوم کے عروج اور زوال میں اس قوم کی اخلاقی اور روحانی قدروں کا بڑا ہاتھ رہا ہے۔ رعنائیِ افکار اور عدل و انصاف کے کردار کے حامل افراد سے ہی وہ قومیتیں وجود میں آئیں جنہوں نے خلافتِ ارضی کا حق ادا کیا ہے۔پھر یہ ہوا کہ وہی قوم اپنے دور عروج میں تکبر کے مرض کا شکار ہوئی ، دنیا وی وسائل کی فراوانی نے اسے عیش دوام کے سنہرے خواب دکھائے ۔ لذات نفسانی نے اسے ذلت کی ایسی پستیوں میں لا پھینکا کہ وہاں سے نکلنا نا ممکن ہو گیا    ؎

 فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی   :   یا  بندہ  صحرائی  یا  مرد  کہستانی

           اگر دیدۂ عبرت نگاہ ہو تو آج کی دنیا پہلے سے زیادہ دگرگوں نظر آتی ہے جیسے۔

 ؔ ہر سینے میں اک صبح  قیامت ہے نمودار

          قیامت کے وقت کا تعین تو نہیں کیا جا سکتا کہ اس کا علم اللہ گنے انسان کو اپنی مصلحت کی وجہ سے عطا نہیں کیا۔ البتہ ایسی علامات کا علم ضرور دیا ہے جن سے انسان کچھ اندازہ لگا سکتا ہے کہ ابتک کیا ہو چکا ، اب کیا ہو رہا ہے اور کل کیا ہونے والا ہے۔قران میںکئی مقامات پہ قیامت کے وقت کے متعلق یہ تاکیدکی گئی ہے کہ اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے ( دیکھئے قران کی سورۃ النازعات اور الاعراف )۔ جس طرح دوسرے انبیاء کرام ںنے قیامت سے متعلق باتیں بتائیں ہیں اس سے کہیں زیادہ وضاحت و تفصیل سے صاحب قران اور اللہ کے آخری نبی و رسول انے قرب قیامت کے آثار اور علامات سے متعلق باتیں بتائیں ہیں ۔ امت کے مخلصین نے حضوراکے ارشادات کو محفوظ کر لیا ہے اور آئندہ نسلوں تک پہنچا نے کا اہتمام کیا ہے۔تاہم قیامت کے وقت کاتعین کرنے یا اس سے متعلق بحث کرنے کی حوصلہ افزائی نہیں فرمائی ۔ ایک حدیث ہے کہ  فمن مات فقد قامت قیامۃپس جو مر گیا اس کی قیامت تو آ ہی گئی(روایت حضرت انس ؓ ، الاحیاؑ ص ۴۲۱ ج ۴ )۔ قران میں علامات قیامت کے متعلق بھی بیشتر آیات ہیں۔زیادہ ترایسی علامات ہیں جو بالکل قرب قیامت میں ظاہر ہونگی۔ آنحضرت  ؐنے بہ حکم الہٰی ہر دور کے آثار کی بھی وضاحت فرمائی ہے۔ وہ  ؐاپنی خواہش نفس سے نہیںبولتے بلکہ وحی ہوتی ہے جو ان پہ نازل کی جاتی ہے اور انہیں زبردست قوت والے  (اللہ)نے تعلیم دی ۔(القران:۳۵  ۳ ، ۴ )۔رسول (محمد ؐ ) کو جھٹلانا یا انکار در اصل اللہ کو جھٹلانا یا انکار ہے ۔ (القران:۶۳ ۳)۔علامات قیامت سے متعلق جتنی روایات ہیں اس کی زمانے کے اعتبار سے تین قسمیں ہیں :

۱ :  قسم اول علامات بعیدہ :   ان واقعات کا فاصلہ قیامت سے سب سے زیادہ ہے اسی لیے بعیدہ کہا گیا۔ ان واقعات ، جن کا ظہور ہو چکا ہے۔ میں شق القمر ، رسول ؐ کی وفات ، جنگ صفین ، فتنہ تاتار ، نار الحجاز ، جھوٹے مدعیان نبوت و رسالت کا ظہور وغیرہ ہیں ۔(تفصیل آئندہ۔ انشااللہ)۔

 ۲ :  قسم دوم علامات قریبہ :   انہیں علامات کبریٰ بھی کہا جاتا ہے ۔ اس میں جھوٹے مدعیان نبوت و رسالت کا ظہور ، ظہور مہدی ؑ ، خروج دجال ، نزول عیسیٰ ؑ ، یا جوج ماجوج ، آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا ، دابتہ الارض اور یمن سے نکلنے والی آگ وغیرہ ہیں ۔( ان کی تفصیل ۔انشااللہ آئندہ)

۳ :  قسم سوم علامات متوسطہ :   بہت ساری ظاہر ہو گئی ہیں اور ان میں اضافہ ہو رہا ہے یہاں تک کہ علامات قریبہ کا اظہار بھی ہونے لگا ہے ۔ آج ہم ان ہی کی نشاندہی کریں گے کیونکہ حالات اور وقت کے مناسبت کا بھی یہی تقاضہ ہے ۔(یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ متن قرآن اور حدیث کا اپنی بساط کے مطابق ترجمہ تو ہو سکتا ہے۔ علم وعقل کے حساب سے مفاہیم و معنی تو نکالے جاسکتے ہیں لیکن کسی عالم و مفسر کا یہ دعویٰ کہ اس نے مطالب کا مکمل احاطہ کر لیا ہے یااس کی حکمت و بینائی کا حق ادا کر دیا گیا ایک دعویٰ باطل ہے ۔سو اس بارے میں اللہ سے پورے  اخلاص کے ساتھ معافی اور کوتاہیوں سے در گزر فرمانے کی التجا کی جانی چاہیے )۔

  ش د کے آخری نبی  و رسول انے فرمایا کہ ایک زمانہ آنے والا ہے کہ :

دین پہ قائم رہنے والے کی حالت ایسی ہوگی جیسے کہ اس نے انگارے کو مٹھی میں پکڑ رکھا ہو۔دنیاوی اعتبار سے وہی شخص نصیب ور ہوگا جو خود بھی کمینہ ہو اور اس کاباپ بھی کمینہ ہو ۔لیڈر بہت اور امانت دار کم ہونگے۔ قبیلوں اور قوموں کے لیڈر منافق ذیل ترین اور فاسق ہونگے ۔بازاروں کے رئیس یعنی بڑے سوداگران فاجر ہونگے ۔ شرط یعنی پولیس کی کثرت ہوگی جو ظالموں کی پشت پناہی کرے گی ۔ بڑے عہدے نا اہلوں کو ملیں گے ۔ لڑکے حکومت کرنے لگیں گے ۔تجارت او ر معاش بہت پھیل جا ئے گا یہاں تک کہ عورت معاش و تجارت میں ہاتھ بٹائے گی مگر کساد بازاری ایسی ہوگی کہ فائدہ زیادہ نہیں ہوگا ۔ ناپ تول میں کمی کی جائے گی ۔ جھوٹے مدعیان نبوت و رسالت کا ظہور ہو گا ۔قرآن کو گانے بجانے کا آلہ بنا لیا جائے گا۔ ریاشہرت اور مالی منفعت کے لئے گا گا کر قرآن پڑھنے والوں کی کثرت ہوگی ۔فقہا کی قلت ہوگی ۔علما ء کو قتل کیا جائے گا اور ان پہ ایسا وقت آئے گا کہ وہ سرخ سونے سے زیادہ اپنی موت کو پسند کریں گے ۔امت کے آخری یعنی بعد کے آنے والے لوگ امت کے پہلے لوگوں پہ لعنت کریں گے ۔امانت دار کو خائن اور خا ئن کو اما نت دار کہا جائے گا ۔اچھائی کو برائی اوربرائی کو اچھائی سمجھا جا ئے گا ۔اجنبی لوگوں سے حسن سلوک کیا جا ئے گا اور رشتہ داروں کے حقوق پامال کئے جائیں گے۔بیوی کی اطاعت اور والدین کی نافرمانیاں ہونگی ۔مسجدوں میں شور و شغب ہو گا اور دنیا بھر کی باتیں ہوں گی ۔عدل و انصاف سے پردہ پوشی کی جائے گی ۔سلام صرف جاننے والوں کو کیا جائے گا ۔ طلاقوں کی کثرت ہو گی ۔ نیک لوگ چھپتے پھریں گے اور کمینے لوگوں کا دور دورہ ہوگا ۔ لوگ فخر اور ریا کے لئے اونچی عمارتیں تعمیر کریں گے۔  شراب کا نام نبیذ ، سود کا نام بیع اور رشوت کا نام ہدیہ رکھ کر انہیں حلال کر لیا جائے گا ۔سود ، جوا ، گانے بجانے کے آلات ( یا اسکے ابلاغ کے آلات ) ، شراب خوری ، زنا ( بالنظر و بالفعل )کی کثرت ہو گی ۔ بے حیائی اور حرام کی اولاد کی کثرت ہو گی ۔ دعوت میں کھانے پینے کے علاوہ عورتیں بھی پیش کی جائیں گی ( مخلوط محفلوں کی شکل میں ، تجارتی یا کسی اور مقصد کے لئے ) ۔ناگہانی اور اچانک ا موات کی کثرت ہو گی ۔ لوگ موٹی موٹی گدیوں پہ سوار ہوکر مسجدوں کے دروازے تک آئیں گے ( گاڑی یا ایسی ہی سواری )۔ عورتیں کپڑے پہنی ہوں گی لیکن      ( باریک ، چست اور مختصر ہونے کے باعث) وہ برہنہ ہوں گی ۔ان کے سر بختی اونٹ کے کوہان کی طرح ہوں گے اور وہ لچک لچک کے چلیں گی اور لوگوں کو اپنی طرف مائل کریں گی۔ یہ لوگ نہ جنت میں داخل ہوں گے نہ اس کی خوشبو پائیں گے۔مومن آدمی ان کے نزدیک باندی و غلام سے بھی زیادہ بد تر ہوگا ۔مومن ان برائیوں کو دیکھے گا مگر روک نہ سکے گا جس کے باعث اس کا دل اندر ہی اندر گھلتا رہے گا ۔    ؎

 سخت باریک ہیں امراض امم کے اسباب   :  کھول کر کہیے  تو کرتا  ہے  بیاں کوتاہی

حضور ؐکی بشارتوں میں یہ بھی ہے کہ : مجھے اپنی امت میں کسی اور چیز سے اتنا خوف نہیں جتنا کہ اس پہ دنیا وسیع کر دی جائے ، سو ایک وقت آئے گا جب دولت پانی کی طرح بہے گی اور تم لوگ حسد و تعصب میں ایک دوسرے کا قتل بھی کروگے ، مارنے والے کو یہ نہیں پتہ ہوگا کہ کیوں مار رہا ہے اور مرنے والے کو یہ پتہ نہیں ہوگا کہ کیوں مارا جارہا ہے۔

          اور بشارتوں میں یہ بھی ہے کہ : دوسری اقوام عالم تمہاری کثرت کے باوجود تمہیں آپس میں ایسے تقسیم کریں گی جیسے کہ تم دستر خوان پہ کھانا تقسیم کرتے ہو ، یہ سب تمہارے ضعف ایمانی ، دنیا سے محبت اور موت سے خوف کے سبب ہوگا ۔

اب ذرا آئینہ ایام میں ہمیں اپنی ادا دیکھنا چاہیے ۔    ؎

پختہ افکار کہاں ڈھونڈنے جائے کوئی   :  اس زمانے کی ہوا رکھتی ہے ہر چیز کو خام

          یہ چند آئینے ہیں جس کے اندر ہم سب کو اپنی اپنی تصویر نظر آنی چاہیے اور اگر ان شکستہ ٹکڑوں کی کرچیوں کی چبھن اب بھی دل میں نہ محسوس ہو تو کیا کہا جا ئے    ؎

یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصۂ محشر  میں ہے  :  پیش کر  غا فل  عمل  کوئی  اگر دفتر میں ہے

          سوچنے کی بات یہ ہے کہ چودہ سو سال قبل سے یہ ساری بشارتیں اور علامات ہمارے علم میں ہیں لیکن ہم میں سے اکثر نے سوائے فروعی مباحثے کے ان منفی حالات کے پیدا نہ ہونے کے لیے کیا کیا اور آج بھی ہم عمومی اور مجموعی طور پہ کیا کر رہے ہیں ۔ کیا ہمارے سرمائے میں صرف اور صرف کئی صدیوں قبل کے ہمارے اسلاف کے کارنامے ہی رہ گئے ہیں ۔کم سے کم پچھلی پانچ یا چھ صدیوں سے امت مسلمہ کے مد میں کوئی ایسا کارنامہ نہیں جسے آفاقی کہا جا سکے ۔ اگر کچھ ہے تو تعیش کی داستانیں ہیں ، محلاتی سازشیں ہیں ، قبیلہ یا فرقہ پرستی ہے ، کشکول گدائی ہے ، غلامانہ ذہنیت ہے ، بے ضمیری ہے ، اور وہ سب کچھ ہے جو علامات کی شکل میں اوپر بیان کئے گئے ہیں ۔

          سچ پوچھیں تو ہمیں دوسری اقوام تقسیم نہیں کر رہیں بلکہ ہم خود اپنے ساتھ ایسا کر رہے ہیں ۔ موجودہ یا اس سے قبل کے حالات کیا ہماری بے حسی ، بے شعوری ، بے عملی کی دلیل نہیں ؟ اسلامی مملکتوں کی کٹھ پتلی حکومتوں سے تو یہ توقع ہی فضول ہے کہ وہ اسلامی وقار و تشخص کے لئے کچھ کر پائیںگی اس لئے کہ غاصبوں کی در پردہ مریدی ہی میں ان کی بقا ہے ۔اپنی ذات اور خاندان سے پرے ہٹ کر کسی بلند مقصد کو بھلاکون سوچ سکتا ہے جب اللہ کی زمین اور اس کی بیش بہا دولت کو اپنی جائداد بنانا مقصود ہو اوریہ موروثیت تواسی طرح مستحکم ہو سکتی ہے جب باطل قوتوں سے پیمانہ عہد وفا باندھا جائے۔ شاید کہ عوام ہی میں ایسی کوئی تحریک اٹھے جو اقوام ِغیر کے شہروں میں بم پھوڑنے کے بجائے اپنے ہی علاقے کے بکے ہوئے چودھریوں ، ناخداؤں اور شعبدہ بازوں و  وطن فروشوںکی خبر لیں۔ اس بے کسی کے عالم میں ہر ذی حس انسان سوچتا ہے کہ وہ صفات کیا  ہوئیں جس کی تعلیم و تربیت حضور ؐنے دی تھی ؟ تم ہمیشہ نیکی کی ترغیب دیتے رہو اور برائیوںسے اپنے آپ کو روکتے رہو ورنہ تم پہ ایسے لوگ حکمراں مسلط کر دئے جا ئیں گے جن سے تمہیں بہت دکھ اور تکلیف پہنچے گی ۔ وہ پیغام کہاں گیا، وہ حکمت و دانائی و توانائی کیا ہوئی جس نے ہمیں خلیفۃالا رض بنایا تھا ؟

          اے کاش کہ اقوام عرب کو بھی یہ احساس ہو کہ    ؎

 نہیں وجود حدود و ثغور سے اس کا   :   محمدؐ  عر بی سے ہے عالم  عربی !

          دنیا کی دوسری بڑی آبادی ہونے کے باوجود مسلمانوں کی اس سے زیادہ ذلت و رسوائی اور کیا ہو سکتی ہے جو ہو رہی ہے ؟ ہم کب تک اپنے حالات کا ماتم کرتے رہیں گے ؟ ہم آخر کب جاگیں گے ؟   ؎

قہاری  و  غفاری  و  قدوسی  و  جبروت   :   یہ  چار  عناصر  ہوں  تو  بنتا  ہے مسلمان

قدرت کے مقاصد کا عیار اس کے ارادے  :  دنیا میں بھی میزان قیامت میں بھی  میزان

          حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پہ ظلم نہیں کرتا ، لوگ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں  ( القرآن ۰۱ ۴۴ )۔

حقیقت ِ ازلی ہے رقابت اقوام : نگاہ ِ پیر فلک میں نہ عزیز میں نہ تو

 خودی میں ڈوب زمانے سے نا امید نہ ہو : کہ اس کا زخم ہے در پردہ اہتمام رفو

رہے گا  تو ہی جہاں میں یگانہ  و یکتا    :   اتر گیا جو  ترے دل میں  لا شریک َ  لہ ُ

حشام احمد سید

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: