Hesham A Syed

January 14, 2009

A complete destruction

Filed under: Cults,Islam,Religion — Hesham A Syed @ 3:28 am
Tags: ,

Urdu Article : Takhreebey Tamaam ; Hesham Syed

تخریبِ تمام

 

جی ہاں ! صورتحال یہ ہے کہ : 

ہر اک کی اپنی رائے ہے ہر اک کا ہے اسلام یہاں

ہر کوئی  فقیہہ و مفتی ہے کج بحثی  صبح و شام  یہاں

اللہ کے دین کو لوگوں نے بندروں کے ہاتھ میں ناریل بنا دیا ہے۔ جس طرف دیکھئے تو ایک انتشار ہے دین و مذہب کے حوالے سے یا پھر یلغار ہے دینِ بر حق کے خلاف۔ قلب و اذہان تاریکیوں میں ڈوب چکے ہیں۔ پہلے تقلید کا ہنگامہ تھا  اور اب سنئے تو ہر طرف اجتہاد کی باتیں ہیں۔ اور لطف یہ ہے کہ اللہ کے دین اور شریعت محمدی ؐ کو فرسودہ مان کر ( نعوذ باللہ ) ایسے ایسے روشن خیال پیدا ہو رہے ہیں جو ہر روز دین میں ایک نئی راہ نکال رہے ہیں اور اس کوشش میں ہیں کہ ہر قسم کی دور جاہلیہ کی خرافات اس میں داخل کر دی جائیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ رسالت و نبوت کی منتہا یا تکمیل کو مشکوک بنایا جائے ۔ قرآن کے لفظ خاتم النبین کا ایک رومانوی مفہوم نکالا جائے، کوئی کہتا ہے کہ نبوت ختم ہوگئی رسالت جاری ہے تو کوئی نبوت کو جاری سمجھتا ہے رسالت کو ختم ، بھان متی کے ٹولوں کی بہتات ہے ۔ ایسا کرنے سے احادیث اگر آڑے آتی ہیں تو ان کا تو انکار کر کے اس سے جان چھڑائی جا سکتی ہے۔ احادیث ہی تو سب سے بڑی رکاوٹ ہیں ہر عیارِ عقل کے لئے کہ وہ قرآنی آیات کو  بلا سیاق و سباق کے جہاں چاہے چست کر دے اور اپنا مافی الضمیر بیان کر دے جیسے کہ اللہ کا کلام نہ ہوا کسی شاعر کا شعر یا کسی سیاسی لیڈر وفلسفی کا بیان ہوا ۔ اس سے آگے چل کرصحابہ و صحابیات و اہل بیت اطہار کے تقدس کو پامال کیا جائے ۔اولیا اللہ ، علما ، محدثین و آئمہ کی نیت اور ان کی مخلصانہ کاوشوں کو ہی نہیں ان کے عقائد و ایمانیات میں بھی شبہات پیدا کر کے انہیں پسِ پشت ڈال دیا جائے ۔ ابلیسیت کا مشن ایسے ہی تو تکمیل پائے گا! اسلام اور انسانیت کے حوالے سے روز نئی تنظیمیں بن رہی ہیں جو جتنا چھچھورا ہے ، سطحی علم رکھتا ہے یا بے بصیرت ہے وہ ہی اسلام اور انسانیت کا  چیمپئن بن کر اخباروں میں ، ٹیلیویژن پہ یا اپنے حلقوں میںبزم آرائی کر کے اچھلتا کودتا رہتا ہے ۔ویب سائٹ پہ مضامین ، اور کتابیں لکھنے اور اسے چھپوانے میں بھی انہیں خاصی دلچسپی ہے ، کوئی بھی کتاب اسلام دشمنی سے متعلق ہو وہ فوراً بیسٹ سیلر    بن جائے گی ۔ اس بات کا فائدہ منافقین خوب اٹھا رہے ہیں ۔ضمیر فروشوں کواﷲ کے دین کا استہزا کرنے کی خطیر رقم مل جاتی ہے۔ سوائے اپنے نام و نمود کے ان سب کے پیچھے کوئی اورمقصد نہیں ہے۔ جب کتاب مقبول عام ہو ہی گئی تو اب کیا ہے اس مصنف کا ہر حرف آخر ہے بلکہ کلام الہیٰ یا قولِ رسول پہ بھی اسے فوقیت حاصل ہوگئی ۔ اب انہیں کون بتائے کہ بعض عمل ثواب جاریہ بن جاتے ہیں تو بعض عذاب جاریہ ہو جاتے ہیں ۔ جانوروں سے انسان بننے کی اختراع پہ کلام الہٰی اور قولِ رسول سے زیادہ اعتبار ہو رہا ہے۔ کیوں نہ انسان کو ایک بار پھر حیوان بنا دیا جائے۔ ع

 دوڑ  پیچھے  کی  طرف  اے گردشِ  ایام  تو

7                  برساتی مینڈک کی طرح کوئی بڑا دانشور بن کر یوم الآخرت ، یومِ حشر ، جنت و جہنم ، قیامت کو جھٹلا رہا ہے یا اسے ایک نیا مفہوم پہنا رہا ہے ، ٹر ٹرا رہا ہے۔ تو کوئی نبی ، رسول ، بلکہ خدا بہ شکل انسان بن کر پھدک رہا ہے ۔ نت نیا مذہب نکال رہا ہے ، نت نیا فرقہ پیدا کر رہا ہے ، صرف یہی نہیں بلکہ  محمد انکارنیٹیڈ،  جیسز انکارنیٹیڈ   اور  گاڈ انکارنیٹیڈ  بھی بن کر ایک سے ایک شعبدہ باز ظاہر ہو رہا ہے ۔ مجھے تو بڑی حیرت ہوتی ہے کہ لوگوں کے لئے کیا  خدائے واحد اور اس کے نبی و رسولِ آخر ؐ کافی نہیں کہ وہ چور دروازے سے اللہ کے دین میں نقب لگانے داخل ہونے والوں کو برداشت کر لیتے ہیں ۔ بعثت نبی آخر ؐ کے بعد شیطانوں اور اجنا کا داخلہ آسمانوں میں بند ہوگیا تو اب وہ زمین کو ہی آسمان بنانے اور اس میں ہی فساد برپا کرنے لگ گئے ۔چور چوری سے جاتا ہے ہیرا پھیری سے نہیں جاتا ۔ فلسفہ حلولیت ، وحدت الوجود یا وحد ت الشہود کی رومانویت ہو یا کشف و کرامات کا تقدس یہ کوشش جاری ہے کہ شرک کسی نہ کسی شکل میں دین میں داخل ہو جائے۔ جمادات و سیارات و دیگر حشرات الارض کو خدا بنانے میں بعض وقت عقل آڑے آتی ہے تو انسان کو ہی خدا بنا دیا جائے یا خدا کو انسان ثابت کر دہا جائے۔ خدا ہو دیوی ، دیوتا ، اوتار ہو یا اللہ سب ایک ہیں۔ آدمی عالمِ مجاز میں بستا ہے اس لئے خدا کو بھی بغیر تجسیم کے کیسے مان لے ؟

نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا

ڈبویامجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

یا یوں کہئے : کیوں خرد مند بنایا نہ بنایا ہوتا ۔ خالق نے تو انسان کو اشرف المخلوقات بنایا لیکن جمود کیوں طاری ہو مقاماتِ آہ و فغاں اور بھی ہیں ، اس سے آگے کی منزل تو خود خالق ہی ہوجانا ہے سو ایک نعرۂ مستانہ ہی کی تو دیر ہے کہ آدمی خدا بزرگ و برتر بن کر بیٹھ جائے ۔ چلئے سارا مسئلہ ہی حل ہو گیا ۔ دیکھئے محدود ِ ناطق اپنے توہمات کے دائرے میں ہی گھر کر اپنے آپ کو اکبر سمجھنے لگا گویا بے ظرف ہو گیا  اسفل سافلین میں اتر گیا ۔کیا کبھی کوئی انسان لا محدود ہو سکا ؟ پھر لا محدودکسی محدود کا پہناوا کیسے پہن سکتا ہے ؟ وہ ساری محنت جو اللہ کے انبیا اور رسولوں نے کی اس سے انہوں نے اپنے دور کے معاشرتی مسائل حل کئے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے اپنے دور میں اور اپنے علاقے کے عقل مند و ہوشیار لوگ تھے ۔انہیں اپنے رب کی ہدایت حاصل تھی۔ ان ہدایت یافتہ اصحاب کی عقل موجودہ دور کے انسانوں سے کیسے مقابلہ کرسکتی ہے ۔ گوہم ایک ایسے دور میں ہیں جہاں کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی نے ہمیں زمین سے ستاروں اور سیاروں تک پہنچا دیا ہے ، ایک فرقہ کمپیوٹر کو دجال بنا کر اس سے مرعوب ہے تو دوسروں کے لئے اب سارا علم کا خزینہ صرف کمپیوٹر اور ویب سائٹ ہے ۔گزشتہ دور کی عربی لغت یا ڈکشنری ، حکمت ، تربیت اور تزکیہ کا کیا بنا ؟ وہ سب تو معدوم ہوتا جا رہا ہے ۔ اور پھرایسے میںنعوذ باﷲ خدا کی بھی ضرورت کیا ہے ؟ملحدانہ اور مادیت پرستانہ رویے ہی دنیا میں ترقی ہو سکتی ہے !!ناشکری اور بے حیائی کی بھی حد ہے ، جو خالق و مصورکائنات، رازق و رب ہے۔ جس کی نعمت سے یہ ہمہ وقت لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں اسی کی ذات سے رو گردانی اور اسے ہی اسکی بنائی ہوئی دنیا سے نکالنے کے درپے ہیں اور وہ یہ خود خدا ہیں اور سب سے جدا ہیں۔ اللہ کو اور اللہ کے دین کو جتنا تخیلاتی ، افسانوی اس دور میں کیا جارہا ہے شاید ہی کبھی کیا گیا ہو۔اگرچہ ہر دور میں ایک نیا فتنہ جنم لیتا ہے ہر سیکڑوں یا ہزار سال تک ایک نئی وبا پلتی رہتی ہے پھر ایک نیا مجتہد کھڑا ہوتا ہے ، ا یک نئی قوم  اُٹھائی جاتی ہے جو اللہ کے زمینی نظام کے شیطانی بگاڑ کو ختم کر کے اسے درست کرتی ہے اور آئین ِ خداوندی کی پابندی کرتی ہے ۔ تاریخی مشاہدات تو یہی بتاتے ہیں۔    ؎

ہر نئی  تعمیر کو  لازم  ہے  تخریب ِ تمام

ہے اسی میں مشکلاتِ  زندگانی کی کشود

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: