Hesham A Syed

January 14, 2009

Business Cards – a comic revelation

Filed under: Social Issues,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 8:42 am
Tags: ,

Urdu Article : Business Cards : Hesham Syed :

بزنس کارڈ

O       آپ اور ہم جس زمانے میں زندہ ہیں یا زندہ رہنے کی کوشش کر رہے ہیں اس میں بزنس کارڈ کی اہمیت ہم اور آپ سے زیادہ ہے۔ اپنے اطراف میں دیکھیے کامیاب انسان وہی نظر آتا ہے جو آپ کو ہر ملاقات پہ اپنا بزنس کارڈ آپ کے ہاتھ میں تھما دیتا ہے ، اور کچھ لوگ تو اس کے اتنے عادی ہوتے ہیں کہ صبح آنکھ کھلتے ہی اپنی بیگم کو بھی اپنا بزنس کارڈ تھما دیتے ہیں اور سنا ہے کہ ایسے لوگوں کی بیگم اسے تھینک یو کہہ کے قبول بھی کر لیتی ہیں !!  بیشتر محفلوں میں اب یہ ہونے لگاہے کہ کسی صاحب سے ملاقات ہوئی چاہے پہلی بار ہو یا کئی بار پہلے ہوچکی ہو ان کے خلوص میں کیا مجال جو کوئی کمی آتی ہو ، دائیں ہاتھ سے مصافحہ کرتے ہیں تو اسی وقت ذرا کج ہو کر بائیں ہاتھ سے بزنس کارڈ تھما دیتے ہیں ، بلکہ یوں بھی ہوتا ہے کہ دائیں ہاتھ کی ہتھیلی میں ہی بزنس کارڈ چھپا ہوتا ہے  تا کہ وہ ہاتھ ملاتے ہی آپ کے ہاتھ میں منتقل ہو جائے۔ بایاں ہاتھ ویسے بھی پینٹ کی جیب میں رانوں کو کھجانے میں مصروف رہتا ہے ۔کبھی بایاں ہاتھ خوبصورت سا با رعب چرمی بیگ ،جو غیر ضروری کاغذات سے بھرا رہتا ہے،پکڑنے کے کام آتا ہے۔ بعض حضرات و خواتین بائیں ہاتھ سے کسی چیزکو دینے کا برا مناتے یا مناتی ہیں اور صرف دائیں ہاتھ کو ہی مسلمان گردانتے ہیں۔ متشدد مسلمانوں کے یہاںبائیں ہاتھ کوجسم میں وہی  حیثیت حاصل ہے جو کسی گھر میں مہتر یا مہترانی کو حا صل ہے۔

          بزنس کارڈ کے بنوانے میں آج کل جتنی تگ و دو کی جاتی ہے اتنا تو شاید اپنے اخلاق کے سنوارنے میں بھی نہیں کی جاتی ہوگی۔ ہزاروں روپے اچھے سے اچھا بزنس کارڈ کے ڈیزائننگ اور پرنٹنگ میں لوگ خرچ کرتے ہیں۔ سنتے یہی ہیں کہ بزنس کارڈ ہی آپ کے تعارف کا واحد ذریعہ ہے ، آپ نے کوئی خوبصورت بزنس کارڈ دیا  اور لوگ آپ سے فوراً متاثر ہو گئے گویا  یہ لَو اَیٹ فرسٹ سائیٹ  کے کام آتا ہے۔

          پہلے انسان تعارف کے اس ہتھیار سے لیس ہونا ضروری نہیں سمجھتا تھا اس لیے کہ وہ اس کی اہمیت سے ہی واقف نہیں تھا  ، اور تبھی اگر کسی نے طوعاً کرہاً یہ بزنس کارڈ چھپوا بھی لیا تو اپنے ہی جیسا بھدا چھپوایا ، اب اسے دیکھ کر کوئی کیسے کسی پہ ایمان لائے ! ذرا آپ کی نظر چوکی اور آپ کا بزنس کارڈ کسی میز کے نیچے ردی کی ٹوکری میں ، سڑک کے کنارے و فٹ پاتھ پہ گرا ہوا یا کسی نالے میں تیرتا ہوا پایا گیا ۔لیکن اب دیکھیے کہ بزنس کارڈ چھاپنے کی صنعت کس طرح دن و رات فروغ پارہی ہے ، جدید ٹیکنالوجی نے بزنس کارڈمیں طرح طرح کے چاند ستارے ٹانک دئے ہیں۔ ہر طرح کی رنگ آمیزی کی جاتی ہے ۔ اس کے بنانے کے ماہرین کے بھی باضابطہ ادارے تشکیل پا چکے ہیں۔ اس سلسلے میں طرح طرح کی تخلیقی تجاویز پیش کی جاتی ہیں۔آئیے چند ایک تجاویزپہ ہم غور کرتے ہیں :

۔ بزنس کارڈ کے لیے رنگ سرخ استعمال کریں ، اس سے آپ نمایاں ہو جائیں گے ( اور آپ کی خون چوسنے کی صلاحیت کا بھی اظہار ہوگا ) اور اگر رنگ کالا استعمال کریں گے تو آپ کی فطرت کی سیاہی کی عکاسی ہوگی تا ہم آپ پھر بھی نمایاں ہونگے۔ بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا ۔

۔کچھ لوگ چاکلیٹ رنگ کا بزنس کارڈ بھی چھپواتے ہیں اور کچھ پیلا و نیلا و ہرا و گلابی رنگ اور کچھ مُشکَل یعنی ملا جلا یا کوئی اور چمکیلا رنگ بھی استعمال کرتے ہیں ، تاکہ لوگ رنگوں کا انتخاب اپنے مزاج کے مطابق کر لیں اور آپ کے بارے میں اپنی اپنی الگ رائے قائم کریں ۔بظاہر یہ تجویز زیادہ سود مند لگتی ہے۔

۔بزنس کارڈ پہ اپنی تصویر ضرور چھپوائیں ، اس سے  wanted کا پوسٹر چھپوانے سے بچے رہیں گے اور ہر آدمی جس کے پاس آپ کا بزنس کارڈ ہوگا وہ روزانہ آپ کی شکل دیکھ کر ایک برا دن گزار رہا ہوگا ۔ لیکن آپ فکر نہ کریں کہ دوسروں کے مسائل پہ ہی تجارت کی بڑھوتی کا امکان ہے ۔ یہ بات البتہ مشاہدے میں آئی ہے کہ بزنس کارڈ پہ جو تصویر چھپوائی جاتی ہے وہ موجودہ عمر سے کم سے کم دس پندرہ سال چھوٹی ہوتی ہے ، ان تصویروں میں آپ کے سر پہ بال زیادہ نظر آتے ہیں جبکہ آپ کا موجودہ سر آپ کے روشن و تابناک مستقبل کا پتہ دیتا ہے ، داڑھی چھوٹی ہوتی ہے یا نہیں ہوتی ، چہرہ ترو تازہ نظر آتا ہے، جھریاں نظر نہیں آتیں ، اوروں کی بات کیا کی جائے کبھی تو یوں بھی ہوتا ہے کہ خود گھر والے ، بیوی ، بچے آپ کی تصویر دیکھ کرآپ ہی کوماننے سے منحرف ہو جاتے ہیں ۔ لوگ یہ نہیں سمجھ پاتے کہ بزنس کارڈ پہ تصویر جو لگائی جاتی ہے وہ ایسی ہوتی ہے جیسا کہ آپ نظر آنا چاہتے ہیں نہ کہ آپ جیسے نظر آتے ہیں لیکن نیک نیتی کو بھی لوگ کہاں سراہتے ہیں؟ آپ کو خوبصورت دکھانے کے لیے ایسے فوٹو گرافر دستیاب ہیں جو تصویر تو آپ کی کھینچتے ہیں لیکن دیکھنے میں وہ آپ کا بچہ لگتا ہے ، تو کیا ہوا آپ وہی کریں جو آپ چاہیں لوگوں کا کیا ہے اعتراض سے کوئی بھی بچا ہے اس زمانے میں ؟

۔کارڈ کے بیک گراونڈ میں کوئی ایسی دلکش تصویر چھپوائیں جو آدمی کو اسے بار بار دیکھنے پہ مجبور کر دے ۔اس سلسلے میں بہت سے رسالے جو ایکس ریٹیڈ کہلاتے ہیں سے استفادہ کر سکتے ہیں ۔آدمی ابھی تک اپنے سے زیادہ دوسروں کے اندر جھانک کے دیکھنا چاہتا ہے آ پ اس نفسیات کا خوب فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔کچھ لوگ کارٹون بھی چھپواتے ہیں لیکن جب آپ کی تصویر لگی ہو تو کوئی دوسرا  کارٹون کیوں چھپوائیں ؟یہ پیسہ ضائع ہی کرنے والی بات ہے ۔

۔بزنس کارڈ کے پیچھے بہت ساری معلومات بھی فراہم کر سکتے ہیں ، چاہے وہ اپنے پیشے کے متعلق ہو یا کوئی دوسرا چارٹ ، کلینڈر ، مارٹ گیج اور سود در سود کی معلومات و اشارہ ، خاص ڈش پکانے کی ترکیب ، اگر ڈسکو و سنیما ہال و  نائٹ کلب و شادی اور محبوباؤں کے بنانے کے ادارے کا فون نمبر ہو تو آپ کا کارڈ زیادہ مقبول عام ہوگا ، ایسا کارڈ ہر آدمی کے پرس میں محفوظ ہوگا۔

۔بزنس کارڈ کے سائز وغیرہ پہ بھی بیشتر تجاویز سامنے آئی ہیں ، کوئی اسے ڈبل فولڈ بناتا ہے ، کوئی ڈیڑھ نما بناتا ہے ، یہ اس بات پہ منحصر ہے کہ کون کتنی معلومات فراہم کرنا چاہتا ہے یا یہ کہ کون کتنا صفحہ زیادہ دینا چاہتا ہے تاکہ کارڈ وصول کرنے والا کسی اور کا نمبر وغیرہ آپ کے ہی کارڈ پہ لکھ سکے ، ایسی صورت میں ظاہر ہے کہ وہ آپ کے کارڈ کو پھینکنا پسند نہیں کرے گا اور اسے نوٹ بک کے طور پہ استعمال کرے گا۔

۔کچھ لوگ کارڈ ، مربع ، مستطیل ، تین کونیا ،  سرکولر ورٹیکل ہاریزنٹل،  بھی چھپواتے ہیں ، یہ اس بات پہ منحصر ہے کہ کون کس زاویے سے آپ کے بزنس کارڈ کو دیکھنا چاہتا ہے۔ یا آپ کا اپنے بارے میں زاویہ نگاہ کیا ہے ؟

۔ایک بہت اچھا کارڈ چھپوائیں تو تقریباً ایک ڈالر فی کارڈ کا خرچ ہوتا ہے ، اگر قیمت اس حد تک ہو تو بہتر ہے کہ آپ بجائے لوگوں کو اپنا کارڈ بانٹیں ایک ڈالر کے بل پہ اپنا آٹو گراف دے دیا کریں ، ایسا کرنا آپ کے لیے دو طرح سے مفید ہوگا ، ایک تو لوگ آپ کو نہیں بھولیں گے دوسرے ان کی دعاؤں کے طفیل آپ کی آخرت بھی بنی رہے گی ۔

بہت اقسام کے اب کارڈ سرِ بازار ملتے ہیں   :  مگر اچھے بھلے جو ہیں وہ بس دو چار ملتے ہیں

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: