Hesham A Syed

January 14, 2009

Dajjal – a perception or a reality

Filed under: Cults,Islam,Religion — Hesham A Syed @ 3:51 am
Tags: ,

Urdu Article : Tasawwurey Dajjal ; Hesham Syed

حشام احمد سید

 تصور ِ  دجال

« دجال کے بارے میں وضاحت فرمائیں ۔ ایک سوال

٭ دجال کو کانا دجال بھی کہا جاتا ہے ۔ اندھوں کی نگری میں ایک آنکھ کا ہونا بھی بادشاہت خداوندی سے تعبیر کیا جاتا ہے یا پھر فکر و عمل کی یکسوئی کی تمثیل ایک آنکھ کی ہو ۔دجال کے بارے میں جتنی روایات اور تفصیلات نظر سے گزریں ہیں اس سے دجال کی تین قسمیں سامنے آتی ہیں ۔

 ( ۱ )  دجال بحیثیت ایک انسانی شکل کے

( ۲)  دجال بحیثیت ایک عالمی معاشرتی اور ثقافتی نظریئے کے

 (۳ ) دجال بحیثیت ایک اندیکھی  قوت کے ۔

           اللہ کی آخری کتاب قرآن میں تو دجال کا لفظ نہیں ملتا لیکن چند احادیث میں اس کا تزکرہ ضرور ہے۔ اس کا ذکر دنیا کے آخری ایام اور اختتامِ دنیا سے متعلق میں آتا ہے۔ دجال کو دوسری معروف کتابوں میں خصوصاً بائبل میں اینٹی کراےئسٹ کہا جاتا ہے اور اس کی تفصیلات میں عیسائیوں کے عقیدہ کے مطابق ہی رنگ آمیزی کی گئی ہے۔

          یہودیوں کے یہاں بھی یہ تصور موجود ہے اور کسی نہ کسی شکل میں دوسرے مذاہب میں بھی اس کی تمثیلات پائی جاتی ہیں۔ دجال کا ظہور قرب قیامت کے ہونے سے متعلق ہے۔ اس سے قبل کی چند نشانیاں جو اللہ کے آخری نبیؐ  اور رسول ؐ  کی بشارت کے طور پہ موجود ہیں ان میں چند ایک کا مفہوم یہ  ہے کہ :

(۱)  چرواہے اور دستِ راس لوگوں کو دولت اتنی میسر آئے گی کہ وہ اونچی عمارتیں بنائیں گے یعنی عمارتوں کی  تعمیر یا دولت کی شان و نمائش کی دوڑ لگی ہوگی

(۲) مائیں ایسی اولاد جنیں گی جو انہیں ہی اپنی مملوک سمجھے گی یعنی والدین کی عزت کا جنازہ نکل جائے گا اور خاندان میں انتشار پیدا ہوگا ۔

 (۳ ) عورتوں کی آبادی مردوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوجائے گی ( جس سے فحاشی میں اضافہ ہو گا )

 ( ۴ ) دنیا کمانے کے لئے عورتیں گھروں سے باہر نکل جائیں گی۔

 ( ۵ ) عورتیں ایسا لباس پہنیں گی جسے پہن کر بھی وہ برہنہ نظر آئیں گی۔

 ( ۶ ) آلات موسیقی اور بے حیائی میں اضافہ ہوگا۔

 ( ۷) لوگوں میں حسد اور ارتکاز دولت کی خواہش کا اضافہ ہوگا ۔

 ( ۸ ) سود کا دھواں گھر گھر پہنچے گا ۔

 ( ۹ ) صحرا کو سبزہ میں بدلا جائے گا ۔

( ۰۱ ) ایسی ایجادات ہونگیں اور ایسے عمل کئے جائیں گے جس سے قدرت کے بنائے ہوئے نظام میں ردو بدل ہوگا اور اس کے توازن میں بگاڑ پیدا ہوگا ۔

 ( ۱۱ ) بہت سے فتنے جنم لیں گے ۔

( ۲۱) لوگوں میں حسد و نفرت پھیلے گی اور قتل عام ہوگا یہاں تک کہ مارنے والے کو پتہ نہ ہوگا کہ وہ کیوں مار رہا ہے اور مرنے والے کو پتہ نہیں ہوگا کہ وہ کیوں مارا جا رہا ہے۔

 ( ۳۱) سورج مغرب سے طلوع ہوگا ( اس بارے میں بعض سائینسی اطلاعات زمین اور سیاروں کی گردش کے متعلق ایسی ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتی ہیں اور اس کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ زندگی کے وسائل اقوام مغرب کے ہاتھوں میں ہونگے ) ۔

( ۴۱ )  وقت کی رفتار بڑھ جائے گی یعنی وقت ہاتھوں سے نکلتا نظر آئے گا۔

          قرب قیامت سے متعلق ہی روایات میں دجال کا ظہور ہے ، حضرت امام مہدی ؑ کا ظہور ہے ، نزول حضرت عیسیٰ ؑ ہے ۔ حضرت امام مہدی ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ مل کر بالاخر دجال کا خاتمہ کریں گے چاہے وہ شخصی صورت میں ہو یا دوسری دو صورتوں میں جن کا ذکر اوپر آیا ہے۔نظام معاشر ت میں جو بگاڑ پیدا ہوگیا ہے یا ہورہا ہے اور ہوتا رہے گا  اس کو تو ختم کرنا اور اللہ کے سچے دین کا نفاذ تو ایک لازمی عمل ہوگا جو ان دونوں بزرگوں کے ہاتھوں انجام پائے گا صرف کسی ایک شخص کو قتل کردینے سے پورا نظام نہیں بدلا جا سکتا بلکہ ہر باطل کا سر قلم کرنا ہوگا چاہے وہ شخص ہو یا ادارہ اور یہ قتل صرف تلوار ہی کے ذریعہ نہیں ہوگا بلکہ متبادل اللہ کا سچے نظام کے نفاذ کی کوشش ہوگی اور اسے دوسرے باطل نظام پہ فوقیت حاصل ہو جائے گی۔

          بات صرف ان روایات کے دہرانے اور بشارتوں کی تفسیر پہ ختم نہیں ہوتی ۔ سوچنا تو یہ چاہیے کہ ہم خود کس قبیل میں ہیں ، کیا باطل قوتوں کے آلۂ کار ہیں یا اللہ کے بنائے ہوئے اصولوں پہ کاربند ہیں ؟ کیا ہم صرف انتظار ِ مہدی و عیسیٰ کر رہے ہیں یا اللہ کی عطا کی ہوئی زندگی کو امانت سمجھ کر اس کی راہ میں جدوجہد کر رہے ہیں ؟ کیا ماحول اور معاشرتی بگاڑ کی جو صورت اوپر بیان کی گئی ہے وہ من و عن پوری نہیں ہورہی ؟ لیکن ہم سوائے ایک تماشائی کے یا ان ہی لوگوں میں سے ایک ہونے کے کیا اس کے خلاف کوئی قدم اٹھا رہے ہیں ؟

          ہم اگر قبل از بعثت محمدؐ  کے دور کو چھوڑ بھی دیں تو خود حضور ؐ کے زمانے سے لے کر اب تک کتنے ہی فتنے سر اٹھا چکے ہیں جس میں  چند معروف فتنے ہیں :

(۱) حضرت محمد ؐ  کے نبی و رسولِ آخر ہونے کا انکار اور مدعیانِ نبوت و رسالت کا ظہور ، یہ کام خود حضور ؐ  کی ظاہری زندگی میں بھی ہوا جس کے خلاف حضور ؐ اور صحابہ کرام اجمعین نے جہاد کیا اورکاذبوں کا یہ گروہ سلسلہ وار جنم لیتا رہتا ہے۔

 (۲) بائبل اور احادیثِ رسول ؐ  کی روایات کی غلط تعبیر کر کے بیشتر مدعیان ِ امام مہدی اور مسیح موعود و عیسیٰ کا ظہور، اس میں بنام عیسائی اور مسلم دونوں مذاہب کے لوگ شامل ہیں ۔

(۳) تحریفِ قرآن کا فتنہ یعنی اسے مکمل نہ سمجھنا اور اپنی طرف سے آیات الہیٰ کا اس میں اضافہ کرنا  یا قرآن ہی کی آیات کو بدل دینا یا اس کی تفسیر حضورؐ  کی بتائی ہوئی باتوں سے الگ ہٹ کر کرنا تاکہ ایک خاص گروہ کو تقویت پہنچے ۔

( ۴) احادیثِ رسول ؐ  میں اپنی طرف سے باتوں کو شامل کرنا یا اپنی طرف سے روایات گڑھ کے حضور ؐ سے منسوب کر دینا حالانکہ اس بارے میں سخت وعید ہے کہ کوئی غلط بات حضورؐ سے منسوب کرنا جہنمی ہونے کی علامت ہے۔

 ( ۵) انکار حدیث رسول  ؐ کا فتنہ یعنی حضور ؐ  کی حیثیت کو کم کرنا انکے قول و عمل کے بارے میں شک و شبہات پیدا کرنا اور اسے دین کا حصہ نہ جاننا بلکہ اسے ایک عام انسان کا عمل اور محض ایک تہذیبی و ثقافتی یا وقتی بات سمجھنا ۔ یہ بھی اللہ کے دین کی بنیاد ہلا دینے کے مترادف ہے۔

( ۶) حضور ؐ  کے صحابہ کرام ؑ میں کسی کو اور بعد میں آنے والے امام و اکابرین کو کسی طور پہ بھی حضور ؐ  کے برابر یا ان سے افضل سمجھنا ۔

( ۷) کسی انسان کو محض جماعتی اور گروہی بنیاد پر مظہر خدا سمجھنا اور خدا ہی جیسی عزت دینا اور شرعی احکام و طریقہ عبادت سے ہٹ کر اپنا طور و طریقہ بنا لینا۔

( ۸) دین الٰہی اسلام کو مکمل نہ سمجھنا اور سارے خود ساختہ مذاہب عالم کی آمیزش کر کے اس کا ایک ملغوبہ بنانا تاکہ ہر بری یا بھلی بات یا حلال و حرام کی تمیز ختم ہو جائے اور ابلیسیت کی حکومت قائم ہو جائے ۔

( ۹) منافع خوری کی ترغیب دینا معاشرت و تجارت میں جھوٹ اور سود کا جواز فراہم کرنا  قطع نظر اس کے کہ یہ اللہ اور اس کے رسولؐ  کی دشمنی کے مترادف ہے ۔

( ۰۱ ) لہو و لعب ، کلام و شعر و سخن ، تصویر کشی ،موسیقی و رقص کے ذریعہ اخلاقی اور روحانی پاکیزگی کو ختم کر دینا۔

( ۱۱ )  انفراق و نفاق کے راستوں پہ چل کر  اپنی مسجد الگ بنا لینا ، نت نئے رسوم عبادت ایجاد کرنا اور اللہ کے رسول ؐ  کی بنیادی باتوں سے منحرف ہو جانا، مختلف شکل میں مشرکانہ عقائد اور عمل کو یا توہمات کو اسلام میں داخل کرلینا جیسے انا پرستی یا قبر پرستی وغیرہ ۔

( ۲۱ )  عدل و انصاف کا راستہ چھوڑ کر اعزا پرستی یا قبیلہ پرستی کو فروغ دینا۔

                    مندرجہ بالا باتیں در اصل چند آئینے ہیں جن میں اگر ہماری بینائی مصلوب نہ ہوگئی ہو تو ہمیں اپنی تصویر نظر آنی چاہیے ، سوال ہمارے ذہنوں میں تازہ رہنا چاہیے کہ ہم کیا کر رہے ہیں ؟ موجودہ دور کیا اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم میں جو اللہ کے دین کا شعور رکھتے ہیں وہ اس کے فروغ اور استحکام کی جدوجہد کریں یا  اصحاب کہف کی طرح کسی غار میں پناہ لے لیں ؟ اگر اس جد و جہد میں جان جائے گی تو اسی کے پاس جائے گی جس کی امانت ہے اور اس کا اجر بھی بہت ہے۔ مجاہد کی اک اذاں عابد کے ہزار سالوں سے بہتر ہے ۔ یہی تو تعلیم ہے سرور کائناتؐ  کی ۔ ہم سب صرف اپنی زندگی اور اپنے عمل کے مکلف ہیں۔ایک حدیث ہے کہ شیطان انسان کی رگوں میں خون بن کر دوڑتا ہے ، یہی تو بے بصری ہے ، یہی تو وہ ان دیکھی باطل کی قوت ہے جو ہر لمحہ ہمارے ساتھ ہے ہمارے ہی اپنے اندر موجود ہے ، کیا یہی وہ شر کی قوت یعنی دجال نہیں جس کا ہمیں انتظار ہے ۔ سچ پوچھیں تو ہم میں ہر اک دجال ہے اس وقت تک کے لئے کہ اگر اپنے شر کو اپنے ہی اندر چھپی ہوئی خیر کی قوت یعنی مہدیت سے مغلوب نہ کر لیں۔ ہمیں کس کی تلاش ہے کس کا انتظار ہے ۔ سب کچھ تو ہمارے اندر ہی موجود ہے۔ حضور ؐ سے کسی نے پوچھا کہ قیامت کب قائم ہو گی ؟ حضور ؐ نے فرمایا جس دن تو مر گیا اس دن تجھ پر قیامت قائم ہو گئی ۔ کیا یہ بات سمجھنے اور سمجھانے کے لیے کافی نہیں ؟

روشن اس  ضؤ  سے اگر ظلمتِ کردار نہ  ہو   :  خود مسلماں سے ہے پوشیدہ مسلماں کا مقا

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: