Hesham A Syed

January 14, 2009

Deploration of Deen :

Filed under: Cults,Islam,Religion — Hesham A Syed @ 3:37 am
Tags: ,

Urdu Article : Deen ka Satiya-naas : Hesham Syed

دین کا ستیاناس

یہ کئی صدیوں پہ کیا ہزاروں سالوں پہ مشتمل تاریخ ہے جس میں اللہ کے دین کا ستیاناس دوسرے مذاہب کے لوگوں نے تو کیا ہی ہوا ہے اسلام کے سر خیلوں اور اجارہ داروں نے بھی اپنے جوہر کچھ کم نہیں دکھائے ہیں ۔  مجھے یاد آیا کہ میں نے مملکتِ عرب میں قیام کے دوران ایک کتابچہ کسی غیر مسلم کو اسلام سے متعلق دیا تو وہ شخص کئی دنوں کے بعد میرے پاس آیا ، میرا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مجھے اب اسلام اور مسلم کا فرق پتہ چلا ۔ ایک لمحہ کو تو میں سٹپٹا گیا لیکن فوراً ہی میں نے کہا کہ بس میرا مقصد پورا ہو گیا ۔ تمہیں بتانا یہی تھا کہ جو کچھ تم آج کے مسلمانوں میں دیکھتے ہو کوئی ضروری نہیں کہ وہ اسلام ہو۔اپنے آپ کو سدھارنے کے لیے اسلام کی تعلیمات کے طرف توجہ دو نہ کہ کسی بے عمل مسلم کو دیکھ کر اسلام کے بارے میں غلط تاثر قائم کر لو ۔ کہنے کو تو یہ بات کہہ دی، تاہم ہوتا یہی ہے کہ پھل دیکھ کر ہی لوگ درخت کے اچھے یا زہریلے ہونے کا ثبوت لیتے ہیں۔ بحر حال اس شخص کی خوش قسمتی تھی کہ اسلام اس کے دل میں گھر کر گیا اور وہ مسلمان ہوگیا ۔

l

          کبھی یہ زمانہ بھی تھا کہ اگر کوئی مسلمان کسی عدالت میں گواہی دیتا تھا تو اسے غیر مسلم بھی شک کی نظروں سے نہیں دیکھتے تھے ۔ ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھی ہوئی تھی کہ مسلمان کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا ہے لیکن اب صورت حال ایک جیسی ہی ہے ۔کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ مجھے مسلمانوں کی کمزوریوں سے متعلق ناقدانہ مضامین نہیں لکھنے چاہئیںکیونکہ اس سے غیر مسلم کو ان کا مذاق اڑانے کا موقع مزید ملتا ہے۔ اس انداز فکر کے اندر چھپے ہوئے درد کو میں بھی محسوس کرتا ہوں لیکن اگر خاموش رہا جائے تو حق اور نا حق کی تمیز کیسے ہوگی ؟ پھر ایسے خیال میں وہ لوگ گرفتار زیادہ ہیں جو اسلام کی ابتدا کو چودہ سال قبل سے دیکھتے ہیں اور ایک خاص ثقافت اور قبیلہ پرستی کی ترغیب دیتے ہیں لیکن وہ افراد جو اسلام کو ابتدائے تخلیق انسان سے لے کر انتہائے تکمیلِ انسان کے پسِ منظر میں ایک آفاقی دین اور ہرکسی کا دین سمجھتے ہیں وہ مسلم اور غیر مسلم کی تفریق محض عربی نام و کلام کے بنیاد پہ نہیں کرتے بلکہ عقیدہ و عمل کے بنیاد پہ کرتے ہیں ۔ یہ بات میںبہت بار لکھ چکا ہوں کہ محمد  ؐ  انسان ِکامل ہیں ، رسول الی لناس ہیں رحمۃللعالمین ہیں فقط رسول عربی نہیں اور نہ کسی مخصوس علاقے تک محیط ہیں اور نہ ان کے پیغامات پہ مخصوس علاقے کی اجارہ داری ہے ۔ ان کی امت میں دنیا کے سارے انسان ہیں چاہے کسی میں اس کی تمیز ہو یا نہ ہو ۔ ان سے قبل کے سارے پیغمبران یقینااپنے علاقے ، قبیلے اور ملک یا گروہ کے لیے مبعوث ہوئے لیکن تکمیل انسانیت ا ور انسان ِ کامل کا دائرہ ظاہر ہے کہ تمام عالم ہے ۔

          کچھ اچھائیاں اور کچھ برائیاں تو ہر انسان میں موجود ہوتی ہیں چاہے وہ کسی مذہب کا پیرو کار ہو یا لامذہب اور دہریہ ہی کیوں نہ ہو تو پھر مسلمانوں میں وہ خصوصیت کیا ہے جو اسے دوسروں سے ممتاز کرتی ہے اور جسے دیکھ کر کوئی اسلام کی طرف راغب ہو ؟ یہ وہ سوال ہے جسے ہر مسلمان کو ہر وقت ذہن میں رکھنا چاہیے تا کہ اپنا محاسبہ کرتا رہے اور دوسروں سے تعلقات کی بنیاد میں عدل و انصاف اور بھائی چارہ کا رویہ رکھے بھائی چارہ اور اخوت ہی اسلام کا خاصہّ ہے۔ خدمت خلق یا حقوق العباد اور حقوق اللہ میں لوگ تفریق کرتے ہیں حالانکہ حقوق ا لعباد بھی حقوق اللہ ہی ہے۔ جو کام اللہ کے بندوں کی اچھائی کے لیے کیا جائے وہ کام اللہ ہی کے لیے کیا جاتا ہے کیونکہ سب مخلوق تو اللہ ہی کی ہے ۔ اس لئے ہر بندہ سے محبت کا تعلق اللہ سے محبت کی علامت ہے ۔ یہ بات ضرور ہے کہ اچھی فطرت کے لوگوں اور بری عادت کے لوگوں کے درمیان اپنا ایک خاص ربط ہوتا ہے اور  کبوتر با کبوتر ، باز با باز والی کیفیت رہتی ہے۔ اسی لیے نیکی اور برائی کی تمیز کی گئی ہے ۔انسانوں کے درمیان بھی تفریق ان ہی بنیادوں پہ ہے نسل و رنگ و ثقافت کی بنیاد پر نہیں۔ گویا نسلِ انسانی اللہ کے نزدیک حق اور باطل کی  بنیاد پر منقسم ہے۔ بنو امیہ اور بنو عباس کی خون آشامیوں نے اور اس کے بعد کے بادشاہوں اور ان کے درباریوں نے اسلام کا کیا حال کیا وہ ایک الگ موضوع ہے جسکا یہ کالم متحمل نہیں ہوسکتا لیکن تاریخ اور گزشتہ صدی کے بھی مشاہدات تو یہی بتاتے ہیں کہ ہماری بد بختی یہ ہے کہ ہم نے اللہ کے دین کے روشن تصور کو ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں سونپ دیا جن کے مزاج میں جاہلانہ تشدد پلتا رہا ہے۔ یہ وہی لوگ تھے یا ہیں جنہیں بجلی کا جنریٹر، ٹیلیفون ، لاوڈ سپیکر ، ریڈیو اور ٹی وی یا سیٹیلایٹ یہ سب کچھ شیطان نظر آتا  تھا۔ ان کی تعمیر اور اصلاحات سے متعلق بھی جو کتابیں خود ان کی سخت گیر حکومت کے زیر اثر لکھی گئی ہیں اس میں بھی ان سب باتوں کا ذکر ہے  اور یہ وہی لوگ تھے جن کے دینی فتووں پہ عالمِ اسلام عش عش کر رہا تھا۔ تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو کا محاورہ ہم نے سنا تھا لیکن اس تیل کی دولت کا اثر پچھلی صدی اور اس صدی میں دیکھنے میں آیا۔ اس تیل کی دولت نے ان  کے ہر فیصلے اور فتوے کو سارے عالم ِاسلام میں نافذ کر دیا سوائے ایران کے۔پیسے کا جادو سرچڑھ کے بولتا ہے ، لوگ آمنا صدقنا یا شیخ یا ارباب کہہ کے اپنے عقیدے کو عربی چوغہ پہنانے لگے ۔ ہر شے بدعت دکھائی دینے لگی ، یہاں تک کہ ان کی رائے سے مختلف کوئی بات کرنا تو کفر کے دائرے میں شامل تھا ہی ، کچھ سوچنا بھی بدعت اور خارج الا ایمان ہونا ہو گیا۔ اسلام صرف چند رسوم کی جبراً تقلید میں جکڑ کر رہ گیا ۔ یہ گروہ دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو کے فارمولے پہ ہی عمل کرنا چاہتا ہے ۔اسے اسلام کے فطرت میں جستجو و تسخیرِ کائنات کا پہلو نظر ہی نہیں آتا ۔ یہ تو ایک منظر سامنے آیا تو دوسری طرف تہذیبِ غیر کے ہاتھوں ہر قسم کی مشرکانہ رسوم قبول کر لی گئیں اور انہیں دین و مذہب کا نام دے دیا گیا ۔ توہّمات کے جالے سر پہ ڈالے ہر کوئی اپنے اپنے کھوہ میں گھس گیا ۔ تقدس و پرستش کے ایسے ایسے القابات و استعارے ایجاد کیے گئے کہ عام آدمی اس سے ذرا سا بھی اختلاف کرتے ہوئے خوف کھانے لگا کہ نہ جانے ان میں سے کس کاخدا کب اور کس بات پہ ناراض ہوجائے اور ہمارے سر پہ آسمان قہر بن کے ٹوٹ پڑے۔ اللہ کا دین پہلے فرقوں میں بٹا اور پھر لا مذہب ہو گیا ۔ ان دو متضاد گروہوں کے درمیان ایک روشن خیال گروہ بھی وقتاً فوقتاً نمودار ہوتا رہا اور اس نے سب کچھ ٹھیک ہے اور سب جائز ہے کا نعرہ لگانا شروع کر دیا ۔ اس گروہ کی آنکھیں تہذیب ِمغرب کی ڈسکو روشنی سے چندھیائی ہوئی ہیں۔ ہر حرام کوحلال قرار دے دیا گیا ۔سفلی جذبات و خیالات نے کھلے عام برہنہ رقص شروع کر دیا ۔ 

ہو فکر اگر خام  تو آزادیء افکار  :  انسان کو حیوان بنانے کا طریقہ !

W      لطف تو یہ ہے کہ یہ روشن خیال طبقہ بھی اتنی ہمت اپنے آپ میں نہیں پاتا کہ ملحدانہ اور مادیت پرستانہ رویہ رکھنے کے باوجود یہ کہے کہ اسے اسلام سے کوئی غرض نہیں ۔ جاہلوں کا یہ طبقہ بھی اسلام ہی کا بہی خواہ اور سرخیل بن کے اپنی دھاک جمانے کی کوشش کر تا رہا ہے ۔ اسلام کی فرنچائز میں ہی دنیا وی فائدے ہیں ، ریسیپی بھی اپنی الگ بنا لو لیکن  گڈ ول  اسلام کا ہی ہو ۔ کیش ہے اور عیش ہے صاحب !  چاہے جس رنگ میں ہو ابلیس کے ہی سارے انسانی چیلے روز ِازل سے اس زمین پہ اپنے مشن ( موقف ) پہ ڈٹے ہوئے ہیں یعنی جہل و تکبر و نفس پرستی سے اللہ کے دین کا ستیاناس کیا ہوا ہے۔!

کہتا  تھا  عزازیل  خداو ندِ جہاں  سے  :  پرکا  لۂ  آتش  ہوئی  آدم  کی  کفِ خاک

ناپاک جسے کہتی  تھی مشرق کی شریعت  :  مغرب کے فقیہوں کا یہ فتویٰ ہے کہ ہے پاک

جمہور  کے  ابلیس ہیں  اربابِ  سیاست   :  باقی  نہیں  ا ب  میری  ضرورت  تہِ  افلاک

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: