Hesham A Syed

January 14, 2009

Mosquitoes of Canada

Filed under: Canada,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 12:07 pm
Tags:

Urdu Article : Canada key Macchar : Hesham Syed

کنیڈ ا کے مچھر

 اخبار میں اس سال بھی ویسٹ نائل وائرس کے بارے میں تشویشناک خبر پڑھی اور اس کے خطرے کو کم کرنے کی بے شمار ترکیبوں سے بھی بذریعہ حکومت کے اشتہار کے ذریعہ آگاہی حاصل ہوئی۔ لکھا ہے کہ سٹی آف ٹورنٹو نے ان مچھروں کی افزائش روکنے اور پرندوں اور مچھروں کی مانیٹرنگ کے لیے ایک پروگرام تیار کیا ہے ۔ دیکھئے صاحب ایک یہ ملک ہے جو افزائشِ نسل کے روکنے کا عزم کئے بیٹھی ہے جبکہ ہمارے اپنے پُرانے وطن میں افزائشِ نسل انسان کی ہو یا جانور وں کی ہو یا کیڑے مکوڑوںکی سبھوں کو بڑھنے بڑھانے کی خاصی سہولت ہے۔ اس سلسلہ میں حکومت کو کچھ کرنے کی ضرورت بھی نہیں صرف ایک بے اعتنائی کی فضاقائم رکھناکافی ہے۔ یہ ضرور ہے کہ اپنے اپنے ملک کے اپنے اپنے اصول و طور طریقے ہیں ۔نسلِ انسانی کے کنٹرول کے لئے ہم کلاشنکوف کلچرپہ زیادہ بھروسہ کرتے ہیں ۔ دیکھئے نا ہمارے پاس ا فواج یا دفاع کے بعد کچھ بچتا بھی تو نہیں!اتنا بجٹ بھی تو نہیں کہ ہم مختلف ریسرچ اور دوائیوں پہ خرچ کریں ۔ پھر نسلِ انسانی کی بہتات کوکسی جائز یا طبی طریقے سے روکناتو ایسے بھی ہمارے دینی ساہوکار کی گرفت میں آتا ہے۔پھرکون یہ مصیبت اپنے سر لے۔  حکومت کاجو وقت حلوے مانڈے اور سکون سے گزر جائے وہ غنیمت ہے۔ حکومت تو پھر حکومت ہے اس کا مقصد لوگوں سے خدمت کروانا ہے نہ کہ خدمت کرنا؟

 ۔ہاں البتہ انسداد جانور کے انتظام کا طریقہ صرف ہماری اپنی بھوک ہے۔ اپنے ملک میں جو جانور یا پرندے  کھانے کی حلال فہرست میں آتے ہیں ان کی آبادی تو قدرتی طور پہ کم ہو جاتی ہے۔جو جانور اس فہرست سے باہر ہیں یا قبیل ِ وحشی میں آ تے ہیں ان کی نسل کو بہت زیادہ ویسے بھی فروغ پاتے نہیں دیکھا گیا سوائے آدمیوں کی شکل میں۔ سُور ، کتے، گدھے  یا گِدھ ، چیل ، کوے ہیں بھی تو وہ انسانی شکل میں زیادہ نظر آتے ہیں۔ گھوڑے کے بارے میںایک فتویٰ ہے کہ وہ بھی کھایا جا سکتا ہے۔ لیکن ہم اس کے عادی نہیں تو اس کی صفات بھی ہمیںحاصل نہیں ہوئیں ۔ سُور اپنی اصلی شکل میں نہ جانے ہمارے ملک میں کیوں زیادہ دکھائی نہیں دیتا حالانکہ اس کی نسل کے خیر خواہ صرف دو ہی قوم ہے ایک مسلمان اور دوسرے یہودی کہ دونوں ہی سور کھانے سے پرہیز کرتے ہیں ۔ سنتے ہیں کہ یہ سارے جانور سیلاب کے یا دیگر آفاتِ سماوی و بیماری کے نظر ہو جاتے ہیں۔ البتہ جاتے جاتے ان کے کچھ اثرات آدمیوں پہ مرتب ہو جاتے ہیں مثلاً ایک دوسرے پر بھونکنا ۔ لیکن اس سے مراد کیا لیا جائے ؟ اور اگر بھونکنے کی صفت طاری بھی ہو گئی تو وفاداری کی صفت کہاں گئی ؟ اور جو یہ محاورہ ہے  کہ اس کی آنکھوں میں سور کا بال ہے ، تو سمجھے کہ اس جانور سے کوئی نہ کوئی تعلق تو ضرور ہے۔کہتے تو یہ بھی ہیں کہ سور کی انا ٹومی  انسانوں سے بہت ملتی ہے ، اسی لیے ڈاکٹری کی پڑھائی میں باہر کے ملکوں میں سور کے بچے کی ڈائسکشن کی جاتی ہے ۔یہ بات سن کر ہمارے بزرگ کہتے ہیں کہ مغربی ممالک کے لوگوں کی اناٹو می اور اصلیت وہی ہے لیکن کوئی اسلام لے آئے تو اناٹومی بدل جاتی ہے واللہ عالم … چلئے صاحب اپنے بزرگوں کی بات ہم بھی  مان لیتے اگر ہمارے لوگوں میں سور کی خصلت نہ پائی جاتی ہوتی۔

J        خچر و گدھے کا گوشت یا مری ہوئی مرغی و کوے کا گوشت ہوٹلوں میں شاز و نادر دستیاب ہو جاتا ہے ۔ اس کا پتہ یوں چلتا ہے کہ اس کے کھانے کے بعد آدمی کو چینی کھانا کھانے اور چینی باتیں کرنے کا شوق پیدا ہوتا ہے۔اس کیفیت میں کچھ لوگوں کو تو جوتا گانٹھتے بھی دیکھا گیا یا سخت گرمی میں بھی بند گلے کا کوٹ اور سر پہ چینی ٹوپی پہن کر سڑک پر پریڈ کرتے ہوئے دیکھا گیا ۔ جہاں تک کوے کی طرح ٹھونگے مارنے کی صفت ہے یہ چونکہ آبادی کی اکثریت میں پائی جاتی ہے تو یہ فیصلہ کرنا دشوار ہے کہ اس کی وجہ کَوے کا گوشت ہی رہا ہوگا۔ ان سر بستہ رازوں سے خالقِ کائنات ہی واقف ہے۔

۔کھٹمل کے بارے میں کچھ عجیب وغریب رائے پائی جاتی ہے۔ سنتے ہیں کہ قدرت نے کھٹمل کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ یہ رات کو رشوت خوروں کے بدن سے خون پی کر ان کو خون کے دباؤکے مرض سے نجات دلائیں ۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ خون اگر حرام کے لقمے سے بنے تو اس میں فشار بھی زیادہ ہوتا ہے واللہ عالم ۔ اور یہ کھٹمل غریبوں کے کھٹیا اور پلنگ یا تختے میں گھُس کر ان کا خون بہت خاموشی سے اس لئے چوستے ہیں کہ مفلوک الحال انسانوں کو خون کی زیادہ ضرورت نہیں ۔ اگر بدن میں زیادہ خون ہو گیا تو صبح کو سیٹھ یا ساہوکار چوس لے گا  اوران لوگوں کے خون چوسنے کا عمل بے حد تکلیف دہ ہے جیسے کہ کوئی زچہ بغیر انیستھیسیا  کے یعنی سُن کئے بغیر بچہ پیدا کرے۔

 ۔اب آئیے مچھر کی طرف ۔ بلکہ آپ نہیں ، مچھر آپ کی طرف آتے ہیں ، بھن بھن کرتے ہوئے گروہ کے گروہ ، غول در غول بہ شکل لشکر مچھر سوتے جاگتے ، اٹھتے بیٹھتے آپ کا محاصرہ کئے رکھتے ہیں۔ ہم میں سے کچھ کو یہ بھی اعتراض ہے کہ اس وائرس کا نام نائل رکھ کے اس کا تعلق مصر سے جوڑ دیا گیا ۔  وجہ تسمیہ کوئی بھی ہو لیکن ایک بات تو ہے کہ اس مچھر کے کاٹنے کے بعد آدمی مصر کے پیرامڈ میں مدفون حنوط شدہ لاش ہی کی طرح ہو جاتا ہے اور پھر ان باتوں پہ اعتراض کب تک کیا جائے ۔ کم سے کم یہ نہیں کہا گیا کہ مچھروں کا یہ وائرس اصل میں عراق ، ایران اور افغانستان میں بننے والا بایو لاجیکل ویپن ہے ۔ بہر حال ، سب سے پہلے دیکھنا یہ ہے کہ ان سے اور ان کی بیماری سے بچاؤ کے لئے محکمہ صحت ٹورونٹو کی تجاویز کیا ہیں؟

تجویز نمبر ۱ :          اگر آپ کسی جگہ مردہ پرندہ یا کھڑا ہوا پانی دیکھیں تو حکومت کے محکمے کو فون کریں : حیرت ہے صاحب ہم مردہ انسان کو دیکھنے کے اس قدر عادی ہوچکے ہیں اور اسے دیکھتے ہوئے گزر جاتے ہیں تو پرندے کو خاطر میں کیوں لائیں ؟ رہ گیا معاملہ پانی کا تو یہ تو اکثرہمارے سر پر سے گزرتا رہتا ہے ۔ جو لوگ گندے پانی کے نالے میں بچوں کو ڈوبتے اور مرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں ، نکاس کے پانی کی ملاوٹ صاف پانی میں پینے کے عادی ہوں ، گلیوں اور بازاروں میں ، گھروں اور دفتر کے آگے پانی کے جوہڑ میں سے ہر روز گزرتے ہوں ان سے یہ توقع کیسے کی جائے کہ وہ محکمہ صحت کو صرف کھڑا پانی دیکھ کر فون کریں گے۔ اجی صاحب یہ سب چونچلے حکومت ِکنیڈا ہی کے ہیں جو ہماری عادت بگاڑنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ہم  تو ان باتوں سے آنکھ بچا کے صاف نکل جاتے ہیں۔

تجویز نمبر ۲ :          اپنے گھروں کے اطراف سے کھڑے ہوئے پانی کو فوری طور پر ختم کر دیں :  سنیئے صاحب اگر ہم اس پانی کو ختم کردیں تو ہمارے بچے کاغذ کی ناؤ کس میں چلائیں گے اور چھپا کا کس طرح لگائیں گے ؟ قدرت کی طرف سے یہ سہولت اگر گھر کے سامنے میسر ہو تو ہم کیا اپنے رب کی نعمتوں کے جھٹلانے والے بن جائیں؟ کفرانِ نعمت کی بھی حد ہوتی ہے۔ اللہ کا خوف ہی اٹھتا جا رہا ہے اس زمانے سے۔

تجویز نمبر ۳ :          ہلکے رنگ والے کپڑے پہنیں اور جہاں تک ممکن ہو خود کو ڈھانپ کر رکھیں :  کیا محکمہ صحت میں کوئی طالبان کا نمائندہ بھرتی ہوگیا ہے جو اس قسم کے مشورے دے رہا ہے۔ ہلکا کپڑا پہننا بلکہ کچھ نہ پہننے کی بات تو اس ملک میں سمجھ میں آتی ہے لیکن ہلکے رنگ کے کپڑے پہننے کی سمجھ نہیں آئی ۔ اگر کپڑاہی مختصر ہو تو رنگ گہراہونا چاہئے تاکہ دور سے کچھ تو پتہ چلے کہ کپڑابھی پہن رکھا ہے۔ اب رہ گیا معاملہ خود کو ڈھانپ کے رکھنے کا تو بیچارے افغانی شٹل کارک برقعہ میں کیا  برائی تھی کہ اس کے خلاف امریکہ اور امریکہ نواز حکومتیں اور افراد نے طعن و تشنیع کا بازار گرم کر دیا اور اسے انتہائی ظالمانہ و جابرانہ پہناوا قرار دیا ۔ بات جہاں سے چلی وہیں آگئی نا ؟  اب خود یہ لوگ اپنے بدن کو ڈھانکنے پہ مصرہیں بلکہ اس کا اشتہار بھی کر رہے ہیں ۔ کیا شہوت کی نظریں کسی مچھر سے کم  زہریلی ہوتی ہیں ؟

تجویز نمبر ۴ :          گھروں سے باہر بالخصوص صبح سویرے اور سورج غروب ہونے سے قبل جب مچھر زیادہ متحرک ہوتے ہیں احتیاطی تدابیر اختیار کریں :  یہ مشورہ اب ہمارے لیے نہیں رہا ۔ نہ ہم اب صبح سویرے اٹھنے کے عادی رہے اور نہ سورج ڈوبنے سے قبل ہم گھر یا دفتر سے نکلتے ہیں ۔ نہ صبح کی سَحرخیزی رہی نہ شام کی چہل قدمی ۔ وہ  زمانے اور تھے جب ہم علی الصبح حی علی لصلٰوۃ کی آواز سن کر یا اس سے قبل اٹھ جایا کرتے تھے ۔ اب تو بابر بہ عیش کوش ایں عالم دوبارہ نیست کا فلسفہ ہے۔ اور شام کا وقت جب ٹی وی ، بیوی ، بزم آرائی  اور نائٹ کلب میں گزر رہا  ہو تو ہمیں باہر نکل کے مچھروں کے ساتھ کیا کرنا ہے۔ ایک آدھ نے باہر کاٹ بھی لیا تو اس کے اپنے ہوش و حواس کب سلامت ہونگے ۔ نیٹ یعنی خالص الکحل میں ملا ہوا خون کچھ تو رنگ دکھائے گا۔ بیچارہ مچھر تو خود ہی کسی کوٹھے پر پارو پارو کی صدا لگا رہا ہوگا۔ہم جیسے چُنی بھائی سے سابقہ پڑے تو صحیح ، وہ مچھر خود ہی خون اگلتا ہوا پارو کے در پر واصل جہنم نہ ہو جائے تو نام بدل دیں۔ ارے یہ مچھر کیا جانیں کہ خون چوسنا کسے کہتے ہیں !

Tتجویز نمبر ۵ :        ۰۱ فیصد یا کم ڈی ڈی ٹی والی جراثیم کش استعمال کریں : ۰۱ فیصد کی بھی خوب ہی کہی ۔ اجی صاحب مسٹر ۰۱ پرسنٹ جب سے حراست میں آئے ہیں فیصد کا معیار بھی بڑھ گیا ہے۔ اب تو بات ۰۲ فیصد سے بھی زیادہ کی ہوتی ہے ۔ جب شَغلِ مہ نوشی ہی ٹھہرا تو اس قدر طہارت کی ضرورت کیا ہے ؟ پتہ نہیں یہ کس قسم کے مچھر ہیں جو صرف ۰۱  فیصد کو برداشت نہیں کر پاتے ۔ ہمارے یہاں تو ۰۰۱  فیصد بلکہ پوری قوم کو صفر یا نفی میں مبتلا کر کے بھی ڈکار نہیں لیتے بلکہ ہل مِن مَن مزید ہل مِن مَن مزید کا وظیفہ جاری رہتا ہے۔ ان کی زہریلی کاٹ کا مقابلہ نیل وائرس کا مچھر کیا کریگا ؟

9

 ۔ حکومت ِکنیڈا نے انسدادِ مچھر کی مانیٹرنگ کا جو بھی پروگرام مرتب کیا ہے ہم اس سے سہمے نہیں ہیں اور نہ ہی مرعوب ہوئے ہیں۔ ہمیں تو یوں لگتا ہے کہ مند رجہ بالاساری تجاویزات یونہی دھری کی دھری رہ جائیں گی حاصل کچھ نہیں ہوگا۔ اگر حکومتِ کنیڈا ہم سے رجوع کرے تو ہم انہیں مچھر کے ختم کرنے بلکہ نیست و نابود کرنے کابہترین مشورہ دیںکہ پاکستان اور ہندوستان کے مزاروں اور فلمی اداروں کے سارے قوالوں کو اور ہیجڑوں کو امیگریشن دے دیں۔اگرچہ ان لوگوں کی آبادی پہلے سے یہاں موجود ہے ۔یہ امیگریشن صرف اس شرط پہ دے کہ وہ روز صبح سویرے اور سورج غروب ہونے سے پہلے باہر نکل کے ہر محلے میں چوبارے پر قوالی کی محفل منعقد کریں۔ ان کے چمکیلے بھڑکیلے لباس پہ مچھر ایسے بھی سارے لٹو ہو جائیں گے اور پھر وہ تالیاں پِٹیں گی کہ اللہ توبہ۔ جراثیم کش دواؤں کے بجائے کچھ ٹھرّے کا انتظام ہوجائے مچھروں کے لیے نہیں بلکہ قوالوں کے لیے ۔ پھر تو آہا آہا آہا آہا  ۔ دھنا دھن دھن ۔ پٹا پٹ پٹ پٹ۔ چٹا چٹ چٹ چٹ ۔ آپ خود سوچیں کیا منٹوں اور گھنٹوں میں  دونوں ہتھیلیوں کے درمیان اور طبلے کی بساط پر پسے ہوئے مچھروں کے ڈھیر نہ لگ جائیں گے ؟ اور پھر تالی اور طبلے پہ ہی کیا موقوف ہے تان لگاتے ہوئے حلق کے راستے مچھروں کے کئی غول تو ان لوگوں کے نظامِ ہاضمہ کا ایسے ہی شکار ہو جائیں گے۔ تین دھانا تین دھانا تین دھانا تین  ، مچھروں سے مل کر جو ہے حال کیاکہیں :  ہوگیا  ہے  جینا  اب   وبال  کیا  کہیں  ۔۔۔۔۔ !    تین دھانا تین دھانا تین دھانا تین  !

          کنیڈا کی امیگریشن کے لیے یہ ایک تیر سے کئی شکار ہوں گے۔ اپنی امیگریشن پالیسی کا تخمینہ بھی پورا ہوجائے گا ،انسانی برادری کی ایک مخصوص صنف کے لیے یہ ملک جنتِ نظیر بن جائے گا اور ساتھ ہی ساتھ کنیڈا سے نائل وائرس کے مچھروں کا خاتمہ بھی ۔ کنیڈا پھر سے عالمی برادری میں سب سے زیادہ صحتمند ملک قرار پائے گا۔آخر ہمارے ان مخصوص فنکاروں کی سالہا سال کی ریاضت کس دن کام آئے گی ۔ کچھ تو یہ بھی انسانیت کا کام کر گزریں !  اب یہاں مچھر ہوں کہ کھٹمل کہنا یہ ہے کہ :   ؎

تم ملو  یا  نہ ملو  مجھ سے  مَنو یا  نہ  مَنو    : ساتھ رہنا ہے اسی ملک میں اے ہم وطنو

حشام احمد سید

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: