Hesham A Syed

January 14, 2009

Poor Moon

Filed under: Social Issues,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 8:32 am
Tags: ,

Urdu Article : Bey Chaarah Chaand : Hesham Syed ;

حشام احمد سید

 بےچارہ  چاند

          چلئے صاحب حضرتِ رمضان بھی تشریف لے آئے —-اسلامی تہوار رمضان ہو یا عید—بات چاند سے شروع ہو کر چاند پہ ختم ہو جاتی ہے۔ ٹھیک ایسے ہی جیسے پاکستان میں ہر بات ، ہر تقریر و تحریر فرمودات ِ قائد ا عظمؒ سے شروع ہو کر علامہ اقبالؒ کے شعر پر ختم ہو جاتی ہے۔ کیونکہ اس ملک کے لیے جو کچھ سوچنا تھا وہ ان دونوں افراد نے سوچ لیا ، ایک نے خواب دیکھا دوسرے نے اس کی تعبیر دی ، بقیہ لوگ اب عیش کریں، اور خود تقسیم ہو کر ملک کو بھی تقسیم کرتے رہے ہیں ۔لیجیے پھر ساری نگاہیں آسمان پر چاند کو تلاش کرتی رہی ہیں۔ کان اور آنکھ ریڈیو اور ٹی وی کی نشریات کی طرف متوجہ ہیں۔ یہ کشمکش کہ رمضان کب سے شروع ہو یا کب سے شروع کیا جانا چاہیے حسبِ روایت پھر تنازع کا سبب بن گیا۔ کچھ نے تو سعودی عرب کے چاند کو بھی کنیڈا کا چاند سمجھ کر روزے کا آغاز کر لیاہے، اس لیے کہ ان کے نزدیک اسلام اسی خطہ سے شروع ہوا سو کوئی رسم عبادت ہو ، یا عقیدہ کا کوئی پہلو ہو  صرف وہی صحیح ہے جو اس وقت تیل کی دولت سے مالا ما ل مملکتوں کے مفتیانِ دین کہہ رہے ہیں۔ پیسے میں بڑی قوت ہے۔ اس کا سِحر آسمان پہ چاند بن کے چمکتا ہے ۔  اور کچھ وہ ہیں جو بادلوں سے بھرے ہوئے آسمان میں چاند کی باریک لکیر کو ڈھونڈتے رہے اور پھر اختلاف کرنابھی تو ضروری ہے اورنہ اپنی مذہبی اجارہ داری کیسے قائم ہو گی؟ لیکن بے چارہ چاند ان جھگڑوں سے لا علم ہزارہا سال سے افق پہ ابھرتا رہتا ہے اور ڈوبتا رہتا ہے ۔

          یہ بات سوچنے والی ہے کہ ہماری سوچ و عمل پہ چاند کا اتنا قبضہ کیوں ہے ؟  زمین پہ رہ کر ہم چاند کو کیوں تکتے ہیں؟ زمین کو بھی چاند سے تشبیہ کیوں دیتے ہیں ؟ ( چاند میری زمیں پھول میرا وطن )۔ محبوباؤں کی خوبصورتی اور دل آویزی و جمال کا چاند سے ہی تعلق کیوں ہے ؟ ہماری شاعری میں خصوصاً غزلوں میں چاند کے استعارے معروف ہیں ۔ چاند کا تعلق اسلام یا دوسرے مذہب سے کیسے ہوگیا ؟ کہتے ہیں دور جاہلیہ میں کعبہ اللہ میں ایک بت تھا ہبل نامی جسے چاند دیوتا کہا جاتا تھا جس کے آگے حضرتِ انسان سجدہ ریز رہا کرتے تھے۔  ہمارے جھنڈے پر ، میناروں پر ، اور بہت ساری تخلیقات پر چاند کو اسلامی علامت کیوں سمجھا جاتا ہے ؟ چاند اور چاندنی انسانی نفسیات پر کبھی خوشگوار تو کبھی سوگوار تاثر کیوں قائم کرتی ہے۔انسانوں نے سیاروں اور ستاروں کی تسخیر کے لیے سب سے پہلے چاند ہی کو کیوں منتخب کیا ؟ صرف زمین سے قربت کے سبب یا اس میں بھی کوئی رومانوی پہلو ہے۔ چاند پہ کمندڈالنے کا محاورہ تو پرانا ہے لیکن فکر ِانسانی کا اپنا اپنا انداز ہے۔ کچھ لوگ یا قومیں تو واقعی چاند پر کمند ڈال چکیں لیکن کچھ وہ بھی ہیں جو اس بات پہ یقین کرنے والوں کے خلاف فتویٰ دے رہے ہیں اور ایسا ماننے والوں کے بارے میں یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کا نکاح فسق ہوگیا ۔ چلیے صاحب مولویوں کے لیے کچھ کام اور نکل آیا ، حلالہ کے مشتاق اور مشاق بھی تیار ہوگئے لیکن کچھ اس بات سے خوش ہیں کہ کسی بہانے صحیح نکاح فسق تو ہوا با لآخر اور وہ بھی ایسے کہ خود کچھ نہیں کرنا پڑا ، نہ چیخنا پڑا ،نہ قانونی جواز تلاش کرنا پڑا ، بیٹھے بیٹھے  چھٹکارا مل گیا ۔ منہ کا ذائقہ بدلنے کا ایک اور بہانہ ہاتھ آیا۔ نہ یہ مسئلہ زیر بحث آیا کہ طلاق ایک بار ہی تین بار والی دے دی جائے یا تین بار کا ایک وقت میں کہنا بھی ایک بار ہی گردانا جائے گا۔ پھر یہ کہ حدیث و قرآن میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ اس قسم کے طلاق سے اللہ ناخوش ہو گا کہ نہیں۔کیا پتہ کہ مولویوں کا یہ فتویٰ اللہ کے لیے بھی باعثِ تعجب ہو ( استغفر اللہ )۔ پھر یہ کہ ایسی صورت میں نکاح اگر فسق ہو گیا تو اسے خلع سمجھا جائے گا یا طلاق ؟ دَین مہر کی اگر ادائیگی باقی ہے تو اس کا کیا ہوگا ؟ بچے کیسے تقسیم ہونگے ؟ جائیداد اور پوشیدہ ، غیر پوشیدہ رقوم کی تقسیم کیسے ہونگی وغیرہ ۔ دیکھیے کہ ایک اعتقادی بگاڑ سے کتنے فقہی مسائل  پیدا ہوگئے ۔ ظاہر ہے کہ یہ صورت  ئمہ اربعہ کے زمانے میں تو نہیں پیدا ہوئی ہوگی کہ حنفی و شافعی و حنبلی و مالکی  یا جعفری فقہ میں اس کی کوئی شق دستیاب ہو اور جھگڑے کی ایک نئی صورت پیدا ہو جائے۔ اسے کہتے ہیں دونوں ہاتھ گھی میں اور سر کڑاھی میں۔صرف اسی پہ موقوف نہیں ایک مولوی نے تو اپنے زور خطابت میں یہ تک کہا کہ یہ  جو کفار چاند پہ جاتے ہیں تو انہیں جانے دو اور چاند پر اترنے دو ، وہ اس وقت کیا کریں گے جب چاند پہلی کا ہو گا؟ دیکھا آپ نے ہمارے مولویوں کی دور اندیشی !!

          چاند کو تو اصل میں اللہ نے ہمارے لیے اس لیے بنایا کہ شق القمر کا معجزہ رونما ہو ، چاند پہ پہنچنے والے خلا بازوں کو چاند پہ آدھوں آدھ لکیر نظرآ سکے  جس سے معجزہ شق القمر کی  تصدیق ہو سکے  ،  مذہبی رسالوں میں  خلا بازوں کے ایمان لانے اور اسلام قبول کرنے کا جھوٹا پروپگنڈہ ہو سکے ۔ (گوروں کو اسلام قبول کرتا دیکھ کر بھی تو اپنے ایمان کو تقویت ملتی ہے اور اسلام کی حقانیت کا یقین ہوتا ہے ۔ تکبیر ،  اللہ اکبر )    ؎

زمیں پہ آئے گا لیکن حواس گم کر کے  :  یہ آدمی جو ابھی چاند پر اترتا ہے  

          رویت ہلال کمیٹی قائم ہو ، اسلامی کلینڈر بن سکے ، شاعری کا موضوع بن سکے ، محبوباؤں کے چہروں کا موازنہ ہو سکے ، چاند کے چہرے پہ داغ دیکھ کر دیوداس اپنی پارو کے چہرہ پہ بھی زخم لگا سکے ، زمین کو ہم چاند کہہ سکیں ( غور کیجیے کہ زمین چاند ہو جائے تو زرخیزی کا کیا ہو ، نہ پانی ،نہ ہوا ، گزارا کیسے ہو ؟) ایک دوسرے کو چندا کہہ کر مخاطب کر سکیں ، بچوں کا رشتہ چندا ما موں سے جوڑ سکیں جو گوڑ کے پوئے پکاتے رہتے ہیں ۔ بڑھیا کو چاند پہ سوت کاتتا ہوا دیکھ سکیں ، روپے کی ریل پیل کو ہم دولت کی چاندنی کہہ سکیں ، چندا کی چاندنی میں  دل جھوم سکے اور چندا توری چاندنی میں جیا جلا جائے رے ،  چاند کوٹھے پہ یعنی  سرِ بام آسکے ، محبوباؤںکے رخسار کو دیکھ کر شرما سکے ، محبوباؤں کا سلام ایک دوسرے تک پہنچا سکے’’ اے چاند ان سے جا کے میرا سلام کہنا ‘‘چودھویں کی رات میں شب بھر رومانوی چرچا رہے ، آفتاب سے اس کا مقابلہ ہو سکے ، چندا اور چکور کی محبت کی داستانیں بیان کی جا سکیں ، بلکہ بعض وقت تو خود چاند محبوب بن جائے

 دم بھر جو ادھر مونہہ پھیرے او چندا  میں تجھ سے پیار کر لونگا

 دیکھ تجھے دیکھنے ، چاند ہے نکلا ہوا   :  سر تو اٹھا ، اے مرے سرو خرامانِ شب

           صرف یہی نہیں بلکہ چودھویں رات میں ڈریکولا نکلے اور بھوت و پریت کے قصے بنائے جائیں، بد روحوں کی زندگی چاند کے طلوع ہونے پر شروع کرائی جائے ،چاند کی سِحر طرازی صرف انسانوں کی حد تک ہی نہ محدود رہے بلکہ شیطانوں کا بھی دل پسند سیارہ قرار  پائے۔

اور کبھی انسان اپنا کبھی زمانے کا  موازنہ چاند سے کرتا رہے : بقول حضرتِ ا قبال ؔ  کے

آہ میں جلتا ہوں سوزِ ا شتیاقِ دید سے  :  تو سراپا  سوز  داغِ  منَتِ خورشید سے

ایک حلقے پر اگر قائم  تری  رفتار ہے  :  میری گردش بھی مثالِ گردشِ  پرکار ہے

پھر بھی اے ماہ مبیں ! میں اور ہوں تو اور ہے  :  درد جس پہلو سے اٹھتا ہو وہ پہلو اور ہے

گرچہ میں ظلمت سراپا  ہوں ،  سراپا نور تو  :  سینکڑوں منزل ہے ذوقِ آگہی سے دور تو

جو مری ہستی کا مقصد ہے مجھے معلوم ہے  : یہ چمک وہ ہے جبیں جس سے تری محروم ہے

اور انسانی فکر و جذبات سے بے خبر چاند اپنا سفر طے کرتا رہتا ہے۔ گردش ِ لیل و نہار کا تقاضہ بھی تو یہی ہے۔  بیچارہ چاند

 

Advertisements

1 Comment »

  1. It is a great article. I like the way write has expressed ciritical concerns in a very light way into this article. Great going…

    Comment by Adnan R. Ahmed — January 18, 2009 @ 10:30 am | Reply


RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: