Hesham A Syed

January 14, 2009

Sulaimani Cap or Islami Cap

Filed under: Cults,Islam,Religion,Social Issues — Hesham A Syed @ 3:42 am
Tags: ,

Urdu Article ; Sulaimani Topee ya Islami Topee ; Hesham Syed

سلیمانی یا اسلامی ٹوپی

لیجئے عاقل میاں پھر آ دھمکے ـ میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ عاقل سے ہماری دوستی دیرینہ ہے ۔ اب وہ کسی حد تک اپنے آپ کو ہم ذوق بھی ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔سو ایسی صورت میں ان سے کیسے کترا کے نکل جایا جائے ؟ اب کے آئے تو حسب معمول اپنی پوٹلی سے خبروں اور واقعات و حادثات کی پڑیا نکالنے لگے۔ باتوں میں وہ تڑکا لگا نے لگے کہ… توبہ ہی بھلی!

          بھائی آج کل کیا کچھ ہو رہا ہے ، دیکھتے جائیے ۔ اماں یہ روشن خیالی کیا ہوتی ہے ؟ یہ کس بلا کا نام ہے ؟ سنا ہے کہ کوئی مرد مودب ہو کرکسی عورت کے پیچھے نماز اس طرح پڑھے کہ سر پہ ٹوپی بھی اوڑھ لے جبکہ مرد امام کے پیچھے پڑھنے میں اسے غیر ضروری قرار دےـ تو سمجھئے ایسا شخص روشن خیال ہو گیا ہے ارے بھائی میں تو یہ کہتا ہوں کیاگھر میں مردوں کا مقتدی بننا کافی نہیں تھا کہ مسجدیں بھی ان عورتوں کی امامت کے زیر اثر آگئیں۔  استغفر اللہ !گھر اور شعر و شاعری میں تو صنف نازک ہی کی خدائی چلتی ہے۔ کم سے کم مساجد کو تو اس شرک سے پاک رکھنا چاہیے تھا۔ لیکن سوچئے کہ جو لوگ عورتوں کے پیچھے ہی ہر جمعہ کو نماز پڑھ رہے ہیں اور انہیں اس کا چسکا لگ گیا ہے وہ اب مردوں کے پیچھے نماز کیسے پڑھیں گے ؟ کیا ظاہر و باطن میں تضاد نماز میں ممکن ہے اور یہ اس کی قبولیت میں آڑے نہ آئے گی۔ پہلے ہی نماز میں شیطانی وسوسے کیاکم آتے ہیں جو کسی حسینہ کی اقتدا میں نہ آئیںبلکہ یہ معاملہ تو دو آتشہ ہے ۔ نماز کی نماز ادا کی اپنے ساتھ یا آگے پیچھے کھڑی ہوئی خاتون ( بیوی کے علاوہ )  سے ڈیٹنگ کا بھی موقع نکل آیا ۔

           ایک خاتون جوماشا اللہ عیسائیت سے اسلام میں داخل ہوگئیںہیں ، ان کا ای میل آیا اورا نہیں اس نئی تحریک پہ اعتراض یوں ہوا کہ انہوں نے گرجا گھروں میں عبادت کے دوران اکثر مردوں اور عورتوں کو بوس و کنار کرتے ہوئے دیکھا ۔ کہیںیہی صورت حال مسجدوں میں نہ شروع ہو جائے ۔ ہم نے ان سے یہ نہیں پوچھا کہ مردوں سے مردوں کے بوس و کنار پہ انہیں کوئی اعتراض تو نہیں ؟مجبوری ہے کہ ایسا پوچھنا ابھی تک ہمارے لیے حدِ ادب سے تجاوز کرناہے ۔کنیڈا میں معیار ادب و اخلاق کیا ہے اس کا ہمیں پتہ نہیں ۔ آجکل تواخلاقیات بھی اقتصادیات و سیاسیات کے زیر اثر ہے۔ ہائے ! نہ ہوئے حضرتِ فرایئڈ زندہ …ورنہ وہ جانے کیا کیا نفسیات اور جنسیات کے فلسفے اکھیڑ کے لاتے ایسی مِکس نماز اور ایسے نمازیوں کے بارے میں۔( یہ بات بھی لوگوں کو چونکا دے گی کہ کعبتہ اللہ یعنی حرم شریف میں سعودی مرد و زن نے بھی غیر محرم سے ملنے کی رسم شروع کرر کھی تھی جس کے خلاف وہاں کے مذہبی ادارے نے قدم اٹھایا تھا ، صورت حال اب کیا ہے اللہ جانتا ہے اور اس حقیقت سے کون واقف نہیں کہ مزاروں پہ عورتوں اور مردوں کے اکٹھا ہونے پہ کیا کچھ نہیں ہوتا ؟ ایسے مقامات پہ بھی تو مذہبی عقیدت کا ہی سہارا لیا جاتا ہے ۔ کیا یہ مثالیں آنکھیں کھولنے کے لیے کافی نہیں ؟)۔

           اجی چھوڑئیے صاحب! میری بلا سے کوئی عورت کے آگے سر جھکائے یا پیچھے یا اسے اپنے ساتھ کسی غیر محرم کو کھڑا دیکھ کر نماز میں لطف زیادہ آئے۔ وہ جانے اس کا فعل جانے ۔ہمیں اس سے کیا  لینا دینا۔مفہوم  قرآنی بھی تو ہے کہ ’ عورتیں تمہاری کھیتی ہیں.. ‘ سو ان کو سیچنے سنوارنے کا عمل اپنا اپنا ۔ ہمیں تو اپنی تنہا نماز کی بھی فرصت نہیں ملتی جماعت تو بڑی بات ہے۔

          یہ تو اچھا ہی ہوا کہ بقول مولویوں کے حضرت موسیٰ  ؑنے بار بار حضور  ؐ کو بھیج کر پچاس سے پانچ نمازیں کروا دیں ،ورنہ آپ سوچیں کہ اس دور میں جہاں سانس لینے کی فرصت بھی نہیں اور زندہ رہنے کے لیے ہر آدمی حواس باختہ ہے اور مشکل سے دو وقت آرام کر پاتا ہے یہ پچاس وقت کی نمازیں کیا گل کھلاتیں ؟ پھر یہ خیال حضرت موسیٰ ؑ ہی کو کیوں آیا ؟ حضور  ؐ کا تو معاملہ بقول مولوی حضرات کے شرم و حیا کا تھا کہ اللہ سے اب تعداد کیسے کم کرائی جائے ؟ لیکن خود اللہ میاں نے یہ بات کیوں نہ سوچی ، وہ تو اپنی ساری مخلوق کے طرزِ عمل سے  واقف ہےں ۔ ( اس روایت پہ بڑی جرح ہو چکی ہے ، بہت سی روایات جو قوم یہود و نصاریٰ کے یہاں مروج ہیں ویسی یا اس سے ملتی جلتی روایات کو ایسے چند لوگ جو نصرانی یا یہودی مذہب سے اسلام لائے انہوں نے اسلامی فکر یا عقیدہ کا بھی حصہ بنا دیا ۔ عام آدمی کس کس روایت کی تصدیق کرتا پھرے ؟ اور پھر ـایسی کہانیاں جن میں ماورائی باتیں ہوں انہیں سننے سنانے میں مزہ بھی تو بہت آتا ہے ۔ مذہب کو رنگین بنانے کا عمل تو شروع سے جاری ہے ۔ البتہ یہ بات بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ ہر روایت پہ بلا علم کے اعتراض نہیں کرنا چاہیے ، جو لوگ نبوت و رسالت کی حقیقت سے واقف نہیں وہ بھلا کیسے ان باتوں کو سمجھ سکتے ہیں؟) نماز اگرپچاس وقتوں کی ہوتیں تو یہی ہوتا کہ صبح آنکھ کھلتے ہی مسجد میں جماعت اور عشا کے بعد ہی چھٹی ہوتی ، خود سوچئے کہ درمیان میں کسی کام کی فرصت ہی کہاں ملتی۔ یعنی حضرتِ مسلمان جاگتے تو نماز شروع ـ تھک کے سوتے تک دن تمام ہو چکا ہوتا دنیاکے بقیہ کام غیر مسلم ہی کیا کرتے ( ویسے توکہتے ہیں کہ آج کل بھی سارا کام یہی لوگ کرتے ہیں کیونکہ ہم نے کوئی پانچ سو سال قبل سے سب کچھ کر کے ان کے حوالے کر دیا تھا اور اب ہم صرف کفیل بن کے آرام سے دنیاوی کاروبار کاکمیشن کھاتے ہیں) ۔پچاس نمازیں ہوتیں تو شاید مسلمانوں پہ من و سلویٰ ہی اتارنا پڑتا یا پھر ایسے ادارے تخلیق کرنے پڑتے کہ مسلمانوں کی ایک اعشاریہ تین بلین آبادی آئی ایم ایف کے ایڈ پہ ہی گزارا کر رہی ہوتی۔ ایسی صورت میں نہ تو کوئی قومی اور اسلامی فکر کا حامل شاعر فلسفۂ خودی لے کے پیدا ہوتا اور نہ اپنی منجی پہ بیٹھ کر حقہ گڑگڑاتے ہوئے مسلمانوں کی حمیت و غیرت کو للکارتا ۔ باقی کچھ ہو تا یا نہ ہوتا یہ ضرور ہوتا کہ بنو امیہ اور بنو عباس کا جھگڑا نہ کھڑا ہوا ہوتا ، تاریخ میں خون آشامیاں نہ ہوتیں اور مسجدوں میں دھماکے اور مسلمانوں کو مسلمانوں ہی کے پرخچے اڑانے کی فرصت بھی نہیں ملتی۔اس طرح ہم بہت بڑے انتشار سے بچ جاتے۔اس پہلو سے دیکھیں توحضرت موسیٰ ؑ کی احسانمندی کے جذبات کچھ سرد ہو جاتے ہیں۔ پتہ نہیں کیوں پچاس نمازوں کو پانچ کروا دیا ؟ اچھی بھلی زندگی گزرتی سکون سے نماز پڑھتے ہوئے! ہم تو اپنے سارے مسائل کو صیہونی طاقتوں اور یہودی سازش کے سرمنڈھنا سیکھ گئے ہیں تو نماز کے اوقات میں کمی کو کیا کہیں گے؟ اسے تو یہودی سازش قرار نہیں دیا جاسکتا ؟ نہیں نہیں یقیناً نہیں ۔ !

           کان پکڑ کے توبہ کرو میاں عاقل! ورنہ کفر کا فتویٰ لگ جائے گا تم پر ! تم کیسی بیہودہ بات کرنے لگے ہو ۔ کیا مذہب کے تمسخرکے لیے ہمارے مولوی ہی رہ گئے ہیں ؟مذہب کا مذاق ہم تو نہیں کر رہے مذاق تو کیا مولوی اور روشن خیال لوگوں نے۔ سبھی اپنے اپنے انداز میںمذاق اڑا رہے ہیں۔ ہم تو صرف اشارتاََیہ ساری بات کہہ رہے ہیں تا کہ پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی ۔ لیکن ہم جو کچھ سوچتے ہیں اسے کہتے یا لکھتے نہیں ورنہ اسلام سے خارج! پھر تو تمہیں بھی ان مساجد میں ہی جگہ ملے گی جہاں لوگ عورتوں کو امام بنائے بیٹھے ہیں ، ٹوپی خود پہن رہے ہیں یا دوسروں کو پہنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سنتے ہیں سلیمانی ٹوپی بڑی کار آمد چیز ہے لیکن یہ اگر کسی  بے ظرف کو پہنا دی جائے تو واللہ عالم کیا ہو ؟ وہی ہوگا جو کچھ ہو رہا ہے ! کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ٹیلیویژن ، ویب سائٹ اور دیگر ابلاغ کا سہارا لے کر ایسی تنظیمیں بن گئی ہیں جنہوں نے اپنے ساتھ اسلام کا نام بھی لگایا ہوا ہے تاکہ گمراہی پھیلانے میں آسانی ہو۔

 گویا سلیمانی ٹوپی اب اسلامی ٹوپی کہلانے لگی ہے!!

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: