Hesham A Syed

January 19, 2009

Our national heroes and our tragedy – ref Pakistan

Filed under: Pakistan,Social Issues — Hesham A Syed @ 10:41 am
Tags:

Urdu Article : hamaarey Qaumi Heroes : Hesham Syed

ہمارے قومی ہیرو اور ہمارا المیہ     

یہ کوئی افسانہ نویسی نہیںبلکہ رودادِ حقیقی ہے ، اہل نظر اور اہل دل کے لئے کہ وہ اپنے وطن اسلامی جمہوریہ پاکستان کے معماروں کا اور اسی پاکستان میں پنپنے والی ابلیسیت کا اندازہ کر سکیں۔ میر ؔ کا ایک شعر ہے کہ :    ؎

مت سہل جانو  !  پھرتا ہے فلک برسوں  :  تب خاک کے پردے سے انسان نکلتا ہے

          ہاں ایسے ہی ایک شخص کا قصہ ہے!یہ واقعہ شہر گجرات کا ہے ۔اسی شہر میں مقیم مرزا شوکت علی کی پیدائش ۷۲۹۱ ء میں جہلم میں ہوئی اور پھر وہ اپنے والدین کے ساتھ گجرات منتقل ہوگئے۔پاکستان کے بننے کی تحریک کا آغاز ہو چکا تھا۔شوکت علی ایک منحنی سا دھان پان جیسا لڑکا اپنے دل و دماغ میں پہاڑ جیسا ارادہ کئے بیٹھا تھا، وہ تعلیم کے حصول اور اس کے فروغ کوا پنا مقصدِ حیات بنائے ہوئے تھا۔ وہ عمر کے اٹھارویں سال میں پاکستان بننے کی تحریک میں ایک فعال کارکن کی حیثیت سے شریک ہو چکا تھا۔ سارا دن وہ اسی تحریک میں مصروف رہتا اور رات کو حصولِ علم میں مشغول ہو جاتا ۔گھر میں بجلی بھی نہیں تھی۔ غربت کی تاریکی میں وہ اپنے ارادوں کی شمع اور مٹی کے تیل کا دیا جلا کر گئے رات اپنی آنکھوں میں کل کے اجالے کی چمک لئے پڑھتا رہتا۔ اپنے طالبِ علمی کے زمانے میں اس کا سارا سرمایہ یا اس کی کل کائنات ، ایک سائیکل ، دو جوڑے کپڑے ، ایک شیروانی ، ایک مٹی کے تیل کی لالٹین ،  اور کتابوں کا انبار تھیں۔

          قائد اعظم محمد علی جناح جن کی تقدیر میں پاکستان کا معمار بننا لکھا جا چکا تھا ان سے شوکت علی کو بے انتہا عقیدت تھی اور یہی وجہ تھی کہ انھیں شوکت علی نے خط لکھا اور گجرات آنے کی دعوت دی۔ قائد اعظم  ؒ کو بچوں اور نوجوانوں سے بہت پیار تھا اور وہ انھیں پاکستان کے مستقبل کا ضامن سمجھتے تھے ، خط ملا تو انھوں نے گجرات کا قصد کیا ۔ شوکت علی نے قائد اعظم ؒ  کے گجرات کی آمد کو کامیاب بنانے کے لیے اپنی سائیکل بھی بیچ ڈالی ۔ ع

کہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حنا بندی

                    قائد اعظم ؒ نے گجرات آکر اس کمزور سے چشمہ لگائے ہوئے نوجوان طالبِ علم سے ملاقات کی اور پوچھاـ اسے زندگی میں سب سے زیادہ کیا چیز یںاہم اور عزیز ہےں ؟ اس ناتواں جسم سے حکیمانہ اور قلندرانہ توانائی کی کیسی شعاع نکلی ، جواب دیاایک تو پاکستان اور دوسراعلم کا حصول اور اس کی ترسیل ، قائدِاعظم ؒ یہ سن کر بے حد خوش ہوئے اور انہوں نے اس نوجوان سے کہا کہ ایک تو میں بنا کر تمہیں دے دونگا لیکن اس کے بدلے  پاکستان کو تعلیم تمہیں دینا ہوگی۔ یہ مکالمہ کالنقش فی الحجر بن کر شاید دونوں مجاہدوں کے دلوں پہ ثبت ہوگیا۔ پھر وقت نے یہ دیکھا کہ حضرت قائد اعظمؒ نے مشیت ایزدی ،اللہ کے فضل و کرم اور بے شمار پر خلوص مجاہدوں اور اہل جنوں کی صحابیت میں مسلمانانِ ہند کا خواب اور ان کا دل پاکستان بنا کر مسلمانوں کو ان کی اسوقت کی دنیا کی سب سے بڑی سلطنت کا تحفہ عطا کیا ۔ اب باری تھی اس نوجوان طالبِ علم کی کہ وہ قائد سے کیا ہوا وعدہ پورا کرے۔ نوجوان نے اپنی عمر کے بیسویں سال میں اپنی گریجویشن پہلے درجے میںمکمل کی اور خاندان کے معاشرتی اور اقتصادی دباؤ کے تحت حکومت میں آفیسر آبادکاری کے طور پر نوکری کر لی، اس اعلیٰ درجہ کی نوکری کے دو تین ماہ اس نوجوان کے اوپر بہت ہی شاق گزرے اور اس کا ضمیر اسے ملامت کرتا رہا ، اس کی حالت ان دنوں ایسی ہی تھی جیسے کہ ماہی بے آب ہو    ؎

یہ عقل جو مہ و پرویں کا کھیلتی ہے شکار    شریکِ شورشِ پنہاں نہیں تو کچھ بھی نہیں

          بالآخر قلب کے اندر اٹھتے ہوئے جواربھاٹے نے ارادوں کو تقویت بخشی اور مرزا شوکت علی نے بابائے  پاکستان سے کئے ہوئے  وعدے کو وفا کرنے کی ٹھان لی ۔ یہ شعوری ہجرت اس  بات کے مترادف تھی کہ   ؎

 دل  مردہ نہیں ہے اسے زندہ کر دوبارہ    کہ یہی ہے امتوں کے مرضِ کہن کا چارہ

مرزا شوکت نے سہولتوںسے پرُ نوکری سے استعفیٰ دیا اور ایک اسکول میں اپنی پہلی نوکری سے صرف دس فیصد کی تنخواہ پہ استاد لگ گئے ( آہ کہ معلموں اور دانشوروں کی زندگی کو تنگ کرنے کی بنیاد بھی پاکستان میں پہلے سے ہی پڑ چکی تھی ، علم کی اہمیت جو باقی نہیں رہی تھی ) ، ایک طرف شوکت علی اپنی تنگ دامانی کے ساتھ گزارا کرتے رہے اور دوسری طرف اپنی تعلیم کو بھی جاری رکھا ۔ ایم اے کیا اور کئی ایک زبانوں پہ قدرت حاصل کی تاکہ اپنی فکر کا بخوبی اظہار کر سکیں۔علی الصبح اذان و نماز کے بعد شوکت علی اسکول کے استاد کی حیثیت سے مصروف ہوجاتے اور دن ڈھلے تک قائد سے کئے گئے عہد کی سرشاری اور وفاکیشی میں سرگرداں رہتے۔ان کی محنت رنگ لا تی رہی ۔ اسکول کا معیار روز بروز بلند ہو تا گیا۔ بچے صرف بڑے نہیں ہوتے رہے بلکہ پڑھے لکھے ہوتے رہے ، لا تعداد بچوں نے اس اسکول کے نظام تدریسی کے نتیجہ میں بڑی بڑی پوزیشن حاصل کیں اور مقابلہ کے امتحان میں سر خرو ہوئے ۔صرف حسن ابدال کالج ہی اس علاقے میں ایک ایسا ادارہ تھا جو گورنمنٹ پبلک ہائی اسکول نمبر و َن کی تعلیمی ، اور تربیتی نظام اور اس کے نتیجہ کا مقابلہ کر سکتا تھا ۔

          وقت کا دھارا بہتا رہتا ہے اور ضعیفی بھی ایک لازمی امر ہے انسانی زندگی کا سو مرزا شوکت علی اپنی طویل ملازمت سے جب ریٹائر کر دیئے گئے تو انہوں نے حکومت کے دیئے ہوئے ریٹائر منٹ کی رقم کو بھی اپنے قوم اور بچوں کی امانت سمجھ کر خود اپنے ہی گھر میں اسکول کھول لیا کہ علم کا دھارا بھی بہتا رہے ، اپنی ضروریات کو مزید مختصر کر لیا ، گھر والوں کو ایک کمرے میں سمیٹ کر تما م گھر تعلیم و تدریس کے لیے وقف کر دیا۔ ان کا نام ہی بچوں اور ان کے والدین کے لیے علم کی سند تھی سو شاگردوں میں روز بروز اضافہ ہوتا رہا۔ زیادہ سے زیادہ بچوں کی تعلیم کا دھن ان پہ ایسا سوار تھا کہ اپنے والد سے میراث میں ملی ہوئی کچھ جائداد کو بھی اپنے بچوں اور خاندان کی مشاورت کے بعد بیچ ڈالا اور شوکت ماڈل اسکول ہی کے پھیلاؤ اور اس کے کام میں لگا دیا ، اس میں لڑکے اور لڑکیوں دونوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا گیا تھا ۔اللہ نے انہیں تین صالح فرزند عطا کئے تھے جو باہر کے ملکوں میں علم کا حصول اور ملازمت کر رہے تھے سو یہ سارے بیٹے ان پہ اپنے قلندر باپ کے کئے احسانات کے طفیل ان کی ذاتی ضرورتوں کا خیال کرتے رہے اور اپنی عاقبت سنوارتے رہے ۔ اسکے علاوہ یہ فرزندِ عزیز و خاندان و احباب کے بیشتر افراد اسکول کی خدمت میں بھی کوشاں رہے۔ اپنے خاندان کے افراد کا اخلاقی اور مالی تعاون پاکر مسرور شوکت علی نے اسکول کے پھیلاو ٔکے لیے گجرات کے نوابزادہ خاندان کی ایک زمین خریدی ۔مگر زمانے کی ستم ظریفی دیکھئے کہ ایک دن نوابزادہ غضنفر گل نے جو ایم این اے تھے ان کا پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق تھا ان کی زمین پہ قبضہ کر لیا ، اس کے اطراف دیوار کھنچوا دی اور بندوقوں کے ساتھ اپنے لوگ تعینات کر دئے۔ اس ملک میں اس قسم کی دہشت گردی اور رہزنی کوئی نئی بات بھی نہیں ، حکومت کی گدی کا نشہ تو ایسے شقی القلب رہبروں کو رہزنی پہ مزید اکساتی ہے ، شوکت علی پژ مردہ اپنے خواب کو بکھرتا ہوا دیکھ رہے تھے ۔اس زمین کی کل رقم ادا کی جا چکی تھی اور یہ ایک فلاحی کام کے لیے وقف تھی ، تین نسلوں نے اس خواب کی تعبیر کا سامان کر رکھا تھا ، لوگ نوابزادہ کے ظلم پر نفرت سے تھوکتے ہیں لیکن خوف زدہ ہیں ، اس اسکول سے متعلق بچوں کے مستقبل کا پوچھنے والا کوئی نہیں ، شوکت علی کے علم کے حصول اور فروغ کی پیسٹھ ۵۶سالہ جدوجہد اور عشق کی تیغ جگردار تھی جو کند ہورہی ہے ، لوگ انہیں دلاسہ دیتے ہیں کہ اس ملک میں ایثار و قربانی اور اخلاص نام کی کوئی چیز اب باقی نہیں رہی ، نہ خشیعتہ اللہ، نہ انسانیت ، نہ وسعت نظری ، نہ علم و زھدکی حقیقت ،نہ قائد نہ قیادت باقی ۔ قدریں اب مٹ چکیں ، اگر کچھ ہے تو وحشت ہے ، جہالت ہے ، عداوت ہے ، سیاست ہے ، رزالت ہے ،  قیامت ہے ، ۵۸ سالہ الاستادشوکت علی لوگوں سے اپنی خاموش زبان میں کہتے پھرتے ہیں    ؎

سرمۂ مفت نظر ہوں میری قیمت  یہ ہے   :  کہ رہے چشمِ خریدار پہ احساں میرا

          ان کی نگاہیں بار بار آسمان کی جانب اٹھتی ہیں اور اس بات کا اظہار کرتی ہیں کہ اب ان کا بلاواشاید آنے والا ہے اور ان کی ملاقات اپنے قائد سے ہونے والی ہے لیکن دل کو اطمینان ہے کہ قائد کے سامنے وہ شرمندہ نہیں ہونگے ، اللہ اور اس کے رسولؐ  کی رضامندی انہیں حاصل رہے گی لیکن کیا وہ آج کے پاکستان کے حوالے سے قائدکے ابلتے ہوئے آنسوؤں کو روک پائیں گے ؟

           الاستادمرزا شوکت علی آپ کو ہر محبِ پاکستانی کا سلام پہنچے ، آپ جیسے لوگ ہی ہمارے قومی ہیرو ہیں جو خاموشی سے اپنے پورے خلوص کے ساتھ کام کیے جارہے ہیں ، پاکستان کو عالم اسلام کو آپ جیسے ہی مجاہدوں اور مومنوں کی ضرورت ہے ، اللہ آپ جیسے لوگوں کی حیات ِ ارضی میں اضافہ کرے ، آپ جیسے لوگ کوئی معمولی آدمی نہیں ۔ یہ سچ ہے کہ ہم آپ کے دلی جذبات کے ترجماں ہیں    ؎

نوائے  صبحگاہی نے جگر خوں کر دیا میرا   :  خدایا جس خطا کی یہ سزا ہے وہ خطا کیا ہے

          ہم سب آپ کے لیے دعاگو ہیں اور آپ کے معاون ہیں ، اپنا ، اپنے علاقے کے بچوں کا ، علم و شعور کا معاملہ حکومت کی اعلیٰ سطح تک لے جائیے ، اللہ کی مدد آئے گی اور ضرور آئے گی ۔ انصاف ضرور ہوگا ۔ ع

جوش ِکردار سے بنتی ہے خدا کی آواز

نوٹ : ڈاکٹر مرزا برجیس بیگ صاحب گلف یونیورسٹی کنیڈا سے وابسطہ ہیں جو شوکت علی صاحب کے فرزند ہیں، ان کے زبانی مجھے ان ساری باتوں اور تفصیلات کا علم ہوا ۔ آپ میں اگرکوئی بھی اس سلسلے میں معاون ہو سکتا ہے تو جزاک اللہ۔

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: