Hesham A Syed

January 20, 2009

A Journey within a Journey – Part 2 of 5

Filed under: Middle East,Muslim world,Pakistan,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 7:45 am
Tags: ,

Urdu Article : Safar dar Safar ; Hesham Syed : Qist 2  ( pls read in sequence from 1 to 5 qist )

 ۶۰۰۲

سفر  د ر  سفر

قسط ۔۔ ۲

          لندن سے میں دوبئی پہنچا اور شارجہ میں ایک عزیز کے گھر ٹھہر گیا۔قیام صبح سے گئے رات تک کا تھا ،  اتنا مختصر کہ دیرینہ تعلقات کے سائے گہرے ہی رہے اور بغیر کسی آزمائیش کے میں محبت و خلوص سے ہی لدا  پھندا دوبارہ ائرپورٹ روانہ ہوگیا۔متحدہ العرب امارات اس سے قبل بھی تفصیل سے دیکھا ہوا تھا لیکن ۶۷۹۱ء کے اوائل میں جب لندن سے میںپہلی بار بغرض ملازمت دوبئی آیا تھا ، اسوقت کے دوبئی یا امارات کے باقی شہروں اور آج کے امارات میں بہت فرق ہے۔ اس زمانے میں میرا قیام زیادہ تر ابو ظہبی ، دوبئی اور شارجہ میں رہا ، یہ تین مملکتیں متحدہ الامارات کی مملکتوں میں زیادہ قابل ذکر ہیں ، عجمان اور راس الخیمہ میں بھی خاصی تبدیلیاں آچکی ہےں لیکن نسبتاّ کم کہ یہ جغرافیائی اور مالی اعتبار سے چھوٹی مملکتیں ہےں۔ یہاں بھی آنا جانا رہتا تھا لیکن تفریحاّ زیادہ۔ فو جیرہ ، خور فاخان اور العین وغیرہ بھی اچھے مقامات ہیں ۔ اسوقت دوبئی یا دوسری امارات  میں عمارات کم اور صحرا زیادہ تھے ، قیس ( مجنوں ) کے لیے یہ بڑی آسودگی کی جگہ تھی۔ پتہ نہیں کیوں صحرا کا خیال آتے ہی مجنوں کیوں یاد آتا ہے اور صحرا اپنی تپش زدہ سنہرے رنگ کے باوجود گلابی اور دھانی رنگ میں رنگا جاتا ہے۔ اپنی ساری

 ہیبتن کیو ں کے باوجود رومانویت کے بادل اس پہ چھائے رہتے ہیں۔ یہ سب کچھ حضرت ِقیس کی ہی بدولت تو ہے یا اس کیفیت عشق کی سحر خیزی۔ لیکن اب یہ سحر خیزی وہاں سے ناپید ہوگئی ہے کہ وہی صحرا ئی  قطعات اب پتھروں کے جنگل،  کانکریٹ جنگل میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ بعض علاقوں پہ تو نیویارک کے مین ہاٹن ( نیو یارک کا ایک علاقہ ) کا گمان ہوتا ہے۔ چمکدار سڑکیں اور صاف ستھرائی کا عالم وہی ہے جیسے کہ سنگاپور میں دیکھا ہے۔ دوبئی اور ابو ظہبی میں میرا قیام اول کوئی چار سال کا رہا لیکن گاہ بگاہ آتا جاتا رہا  پھر دوبارہ ۵۹۹۱ ء میں دوبارہ ایک صنعتی ادارے  کی تشکیل اور اس کے سربراہ کی حیثیت سے آیا تو مزید دو سال سے اوپر رہا اور پھر قیام کنیڈا کے درمیان بھی وقتاََ فوقتاََکسی نہ کسی بہانے دوبئی سے گزرتا رہا اور وہاں کی ہر ماہ و سال کی ہوتی بتدریج تبدیلیوں کو دیکھتا بھی رہا اور محسوس بھی کرتا رہا۔ بڑی بڑی ہائی وے اور چمکدار پھسلتی ہوئی سڑکوں کو دیکھ کر مجھے وہ دور بھی یاد آتا ہے جب ہماری گاڑیاں کسی کے گھر جاتے ہوئے یا وہاں سے واپس آتے ہوئے سڑک سے اتر کے ریت میں پھنس جایا کرتی تھیں تو چلچلاتی گرمی میں لکڑی کے پھٹے کو کسی طرح پہیوں کے نیچے پھنسا کئی لوگ دھکا لگایا کرتے تھے تاکہ گاڑی نکل جائے اور ریت کے دلدل میں مزید نہ دھنستی چلی جائے۔ اس سارے عمل کے بعد پسینے میں شرابور اور تھکن سے چور کسی کے یہاں آنا اور جانا ایک عذاب ہی بن جاتا تھا۔ گھروں کے کرائے اسوقت بھی بہت زیادہ تھے عمارات کے قلیل ہونے کے سبب اور اب تو بہت ہی زیادہ ہیں تجارت ، ساہوکاری اور مادیت پرستی کی ہوسناکیوںکے فروغ کے سبب۔ وہاں کے اپنے باشندوں کی آبادی اسوقت بھی باہر سے آئے ہوئے محنت فروش اور تجار کے مقابلے میں خاصی کم تھی اور اب بھی یہی صورتحال ہے۔ زیادہ تر آبادی ہندوستانیوں کی ہے اور اس میں بھی زیادہ ہندو مذہب کے لوگ ہیں، یہی طبقہ زیادہ تر یہاں کے کاروبار و صنعت پہ چھایا ہوا ہے ، اور مالی اور کاروباری برتری کے سبب حکومت کے بعض غیر کاروباری ، سیاسی و ثقافتی فیصلوں میں یہ اثر انداز بھی ہوتے ہیں۔ ایسے معاملات جس میں ہندوستانیوں کی دل آزاری کا کوئی سبب ہو یا ہندوستان کی سیاسی فکر سے کوئی عمل متصادم ہو تو یہاں کی حکومت اس کا بڑا خیال رکھتی ہے مثلاََکشمیر ڈے منانے کے سلسلے میں پاکستانی اسکول میں چھٹی کی گئی تو اہل ہند کی شکایت پر وہاں کے پرنسپل اور بعض منتظمین کی بھی چھٹی کر دی گئی اور انہیں دوبئی بدر کر دیا گیا یعنی پاکستان بلیک لسٹ کر کے بھیج دیا گیا۔ عام طور پہ عرب میں کشمیر ہو کہ فلسطین یا کوئی اور مسئلہ ، اسے علاقائی جھگڑا زیادہ سمجھا جاتا ہے ، اسے اسلام یا اسلامی دنیا کا  مسئلہ یہ نہیں بناتے۔ تبھی تو دیکھئے یہ مسائل صرف مسائل بنے ہمارا منہ چڑھا رہے ہوتے ہیں۔ اسوقت اسلامی دنیا جو قبیلوںمیں بٹی ہوئی ہے اس کے مالی معاملات میں یا کاروباری معاملات میں اتحاد ہو سکتا ہے وہ بھی ایک مدت تک جب تک کہ منافع نظر آرہا ہو لیکن معاشرتی یا سیاسی  معاملات میں اتحاد و اتفاق صرف زبانی ہے۔ کسی میں کوئی سکت ہی نہیں ۔ اپنا اپنا دیکھ کا فارمولا ہے۔ اگر آپس ہی میں کسی کا کسی سے جھگڑا ہو گیا اور بات جنگ و جدل تک آ پہنچی تو عموماََامریکہ بہادر کی طرف رجوع کیا جاتا ہے جن کے ہاتھ میں جادوئی چھڑی ہے ہر چند کہ اس سلجھاوے کے لیے ایک خطیر رقم دینی پڑتی ہے۔ مادیت  پرستی کے اپنے اصول ہیں۔

           پاکستانیوں کی بھی ایک زمانے میں خاصی بڑی تعداد ہوتی تھی لیکن رفتہ رفتہ یہ ہندوستانیوں کے مقابلے میں بہت تھوڑے رہ گئے ہیں ۔ اقوام مغرب اور مشرق بعید کے لوگ بھی کثیر تعداد میں موجود ہیں اور بہت سارے بین الاقوامی مالی ادروں ، بینک ، صنعت و کاروبار کی شاخیں یہاں کھلی ہوئی ہیں۔ جو ایک بار یہاں  آتا ہے بڑی مشکلوں سے خود واپس جاتا ہے۔ہندوستان سے یہاں کے باشندوں کا بڑا پرانا رشتہ ہے ، تیل کی آمدنی سے قبل بھی ہندوستان سے یہاں کے اکثر بڑے بڑے شیوخ جو اب بہت بڑی بڑی عالمی سطح کی تجارت و صنعت کے مالک ہیں یا اعنانِ حکومت میں بہت سارے لوگ جو براجمان ہیں ، سمگلنگ کیا کرتے تھے ، یہ ان لوگوں کاخاص کاروبار تھا بلکہ یہ کام  تو لکڑی کی کشتیوں اور لانچوں کے ذریعہ ۰۷ کی آخیر تک خاصے بڑے پیمانے پہ ہوتا رہا لیکن اب اس کام کے لیے دوسرے ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں ، لکڑی کی کشتیاں اور لانچیں اتنی  مفید اور محفوظ نہیں رہیں۔ مگر یہ اب بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ ایک عرصے تک یہاں کے اپنے باشندے بھی اپنی کرنسی درہم کو روپیہ ہی کہتے تھے اور کچھ تو اب بھی یہی کہتے ہیں ، یہاںکے مقامی باشندے اردو یا عام استعمال کی ہندی بولتے ہیں،ان کی زبان سے عربی کے بجائے اردو اور ہندی سن کر اپنائیت سی لگتی ہے۔ہندوستانیوں اور پاکستانیوں کے علاوہ اقوامِ مغرب اور دوسری قوم کے لوگوں نے بھی یہاں رہ کر ٹوٹی پھوٹی کاروباری عربی بولنا سیکھ لی ہے ،  اس ہاتھ لے اس ہاتھ دے سے ہی تو بات آگے بڑھتی ہے۔ پیسوں کی تو ویسے بھی اپنی ایک عالمی زبان ہوتی ہے جو ہر آدمی بغرض ضرورت کسی طور پہ سیکھ لیتا ہے۔یہ بات بھی عربستان آ کر کھلی کہ یہاں عام طور پہ شیخ انہیں کہا جاتا ہے جن کے پاس دولت کی فراوانی ہو چاہے وہ کسی طور پہ بھی ہو ، شخصیت کا تعلق اب مذہب و دین کے حصولِ علم سے اتنا نہیں رہا ۔ اقوام مغرب کے لوگوں کو یہ خواجہ کہتے ہیں اور کسی اور عرب یا غیر عرب کو اخی کہتے ہیں ، سوائے پاکستانیوں کے جنہیںعام طور پہ یہ رفیق کہتے ہیں ۔ رفیق کی اصطلاح ویسے تو دوست کے معنوں میں ہے لیکن یہاں اس سے مراد نہایت ہی کم درجہ کے ساتھی یا معاون کی ہے ، پاکستانی یہاں  یا تو مسکین ہیں یا رفیق ہیں۔ پاکستانی اور ہندوستانی کے لیے یہ جگہ یوں بھی اچھی ہے کہ اپنے وطن سے قریب ہے اور ترقی یافتہ دور کی ہر سہولت مشرقی ماحول میں میسر ہے۔ ہونے کو تو یہ سب خلیجی مملکتیں اسلامی مملکتیں ہی کہلاتی ہیں لیکن یہاں کا ماحول خاصی حد تک سیکولر ہے۔ ہر قسم کی آزادی یہاں لوگوں کو حاصل ہے اور اس میں حکومت کی کوئی روک ٹوک نہیں تا وقتیکہ قومیت کے درمیان کوئی جھگڑا نہ کھڑا ہوجائے۔ شراب ہو کہ شباب یا لحم خنزیر یہ سب کھلے عام دستیاب ہیں بلکہ بعض ملکوں سے تو فحاشی کے طائیفوں نے  اپنا مستقل اڈہ بنا لیا ہے جس میں دن دونی اور رات چوگنی ترقی ہو رہی ہے ۔ کسی مذہب یا عقیدہ کے لوگ ہوں یا بے عقیدہ ہی صحیح سب کے لیے اپنی زندگی گزارنے کی سہولت اور گنجائیش ہے۔ سرکاری مذہب تو ویسے اسلام ہے لیکن اسے کسی کے سر تھوپنے کی سرکاری کوشش نہیں کی جاتی۔ مندر ، مسجد ، کلیسا سب ہی پل رہے ہیں اور پنپ رہے ہیں۔ بنیادی فکر سب کی صرف کاروبار ،پیسے و مال و دولت کی اور عیش و عشرت کے مواقع کی  توسیع ہے۔ شارجہ میں مقابلتاََکچھ  مذہبی یا اسلامی اقدار کا خیال رکھا جاتا ہے ، اس کی وجہ شارجہ کے سلطان کا مذہبی رجحان کا ہونا ہے ، یہاں تبلیغی جماعت بھی فعال ہے اور ان کی مساجد میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی تبلیغ ان کے اپنے مخصوص انداز میں  مختلف علاقوں کے دوروں اور شب جمع کے قیام سے کیا جاتا ہے۔ یہ وہی تبلیغی جماعت ہے جس کا  مرکز اب رائے ونڈ ہے اور جسے متشدد وہابی شیوخ ایک گمراہ جماعت سے تعبیر کرتے ہیں ۔ کسی کو اس بات میں شک ہو تو سلفی گروہ کے ویب سائیٹ پہ سعودی عرب کے شیخ بن باز مرحوم کا  فتویٰ یا رائے اس تبلیغی جماعت کے بارے میں دیکھ لے ۔ میری اپنی رائے اس جماعت کے بارے میں اچھی ہے اور میں ان لوگوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ شارجہ میں کم سے کم شراب و شباب یا لحم خنزیر کے کھلے عام استعمال اور اس کی تجارت پہ پابندی ہے۔ اسی قسم کی پابندی سننے میں آتا ہے ابوظہبی میں بھی ہے ۔ گھر کے اندر اور پوشیدہ محافل میں تو کسی جگہ بھی جانے کیا کچھ ہو رہا ہوتا ہے ، اس کا علم اللہ ہی کو ہے۔ آزاد خیالی اور آزاد روی میں دوبئی کا اپنا مقام الگ ہے اور اس کے حدود متعین نہیں ۔ بے حیائی اور شیطانیت بہت ہی مہذبانہ انداز میں ناچ رہی ہے اور لوگ مگن و مسرور ہیں۔

                   تیل کی دولت کے علاوہ ان مملکتوں نے دوسری تجارت کے علاوہ سیاحت پہ خاصہ زور دیا ہوا ہے ،  اور نفس انسانی کے سارے سفلی تقاضوں کو پورے کرنے کا نت نیا سامان اور وقت کو لہو و لعب میں گزارنے کے لیے دنیا میں کھیل و تفریح کی جتنی ایجادات ہیں اس کی فراہمی کا وسیع انتظام ہے بلکہ اس کی حوصلہ افزائی سرکاری سطح پہ خوب کی جاتی ہے۔ 

          مادیت پرستی کا رجحان جب شدت اختیار کر جائے تو سارے دینی و اخلاقی تقاضے اور روحانی اقدار معدوم ہوجاتے ہیں ، دنیا اول اور آخرت بعد میں ہے اگر واقعی آخرت کا تصور جڑ پکڑتا جاتا ہے ؟ سو یہی کچھ دوبئی اور اس جیسے خلیجی مملکتوں میں نظر آتا ہے، محنت کشوں کی کھیپ آتی جاتی رہتی ہے ، عمارتوں کی توسیع اور بلندی کسی طور پہ کم ہونے کا نام نہیں لیتی ، دکانیں ڈیپارٹمنٹلا سٹور اور ہائی پر اسٹور میں بدلتے جا رہے ہیں ، دنیا بھر کے اجناس کی فراوانی ہے ، مالی اداروں کے سود ی کاروبار میں رو زبروز اضافہ ہورہا ہے،  مذہب و دین اس حد تک ہے کہ کوئی بھگوان ، جیزس ، اللہ یا خدا ، پیر ، فقیر ، اوتار ناراض ہو کر دنیا نہ تنگ کر دے ۔ اس لئے پوجا پاٹ، اور اپنی اپنی عبادات اپنے اپنے رنگ میں کبھی کبھی کر تے رہنا چاہیے ، کاروبار میں برکت کے وظیفے ،  پنڈت و پیر و پروہت کے اشلوب اور تصویریں مکانوں میں اور دکانوں کی دیواروں پہ آویزاں نظر آتے ہیں ، یہی حال قرآنی آیات کا بھی ہے ، اسے بھی دیواروں پہ سجا کر اپنے خدا پرست ہونے کا اعلان کیا جاتا ہے یا  پھر  رزق کی برکت کے لیے لگایا جاتا ہے۔ آخر اللہ کے رسول ؐ اور ان کے رفقا رضی اللہ تعالیٰ اجمعین اور اولیائے کرام رحمۃ اللہ اجمعین نے دین پہ محنت اسی دن کے لیے تو کی تھی۔ ام الخبائث صرف ریسٹورانٹوں اور ہوٹلوں میں ہی کیا  بار ٹینڈر گھروں میں بھی کھلے ہوئے ہیں ، تاش اور جوئے کی بازی گھروں میں بھی لگ رہی ہوتی ہے، لطف یہ ہے کہ ایسے کاموں میں یہاں کوئی قوم پیچھے نہیں چاہے وہ پاکستانی ہو ، ہندوستانی ہو یا کوئی اور ہو ۔ جو مزدور طبقہ ہے وہ کہیں کا بھی ہو دن بھر چلچلاتی دھوپ میں ، فیکٹریوں میں ، طبقہ اشرافیہ کے لیے پسینہ بہاتا رہتا ہے جس کا اسے بھی اپنے ملک کی کرنسی میں مقابلتاََزیادہ معاوضہ مل جاتا ہے اور وہ رات کو اس اطمینان کے ساتھ تھکن سے چور سو جاتا ہے کہ وطن میں اس کی بیوی بچے شاید اچھا کھا رہے ہوں اور تعلیم حاصل کر رہے ہوں، بے شمار ایسے بھی ہیں جو یہاں آکر پچھتا رہے ہیں ۔ اسمگلروں کا ٹولہ اب بھی بر سر پیکار ہے ، کھیپیا اب بھی ادھر کا مال ادھر کرتا رہتا ہے ،  بڑے بڑے کاروباری لوگوں کا مال کنٹینر میں کسی اور نام سے وطن پہنچتا ہے جہاں اس پہ کسٹم کا صحیح تخمینہ نہیں لگایا جاتا ہے اور وہ مال حکومت کو بغیر کوئی تاوان دیے بازاروں میں زیادہ سے زیادہ منافع پہ بیچا جاتا ہے۔ ایک سے ایک دھوکے باز اور نوسرباز سر گرم ہیں جو فیکٹریوں اور دکانوں سے مال کریڈٹ پہ اٹھاتے ہیں اور سارے مال کو لانچ اور کسی اور ذریعہ سے اسمگل کر دیتے ہیں پھر بغیر قیمت ادا کیے ہوئے اپنے ادارے کو بینک کرپٹ ڈیکلئر کر دیتے ہیں یا راتوں رات غائب ہو جاتے ہیں ، اس کے بعد پولیس اور وکلا کی آمدنی کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ، جس کا مال لٹ گیا اس کو تو کچھ حاصل نہیں ہوتا لیکن وکلا اور قانونی ادارے مزید مال جھیٹ لیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ خود اس ادارے کے ساتھ ہو چکا ہے جس کا کہ میں مدیرا لعام تھا سو یہ صرف سنی سنائی بات نہیں۔ دوبئی بھی ایک ایسا ملک ہے جہاں بد دیانت اور خائین سیاستداں اور اوچھے  و اوباش کاروباری لوگوں کو پناہ نصیب ہے اور یہ خوب پنپتے ہیں۔!

 دیکھئے چلتی ہے مشرق کی تجارت کب تک   :   شیشۂ دین کے  عوض جام  و  سبو  لیتا ہے

حشام احمد سید

۶۰۰۲م

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: