Hesham A Syed

January 20, 2009

A Journey within a Journey – part 1 of 5 – year 2006

Urdu Article : Safar dar Safar –  Qist 1 : Hesham Syed – All these article were written early 2006.

 

۶۰۰۲

سفر در سفر

قسط ۔۔ ۱

میں کنیڈا سے نکلا تو انگلستان ، دبئی ، شارجہ ، کراچی اور سعودی عرب پہنچا ، جہاز، ریل گاڑی یا موٹر کار ہویا پیدل  مشاہدات کی دنیا میرے ساتھ رہی۔احباب ، عزیز و اقربا سے ملاقات رہی ، اپنوں اور بیگانوں سے نیا تعارف ہوا اور حیرت و استعجاب کا عالم بھی میرے ساتھ رہا۔ دنیا کتنی بدلتی جارہی ہے ، ہر روز ایک نئی تبدیلی ، کبھی عالم ظاہر و باطن کا ادراک ہوتا رہتا ہے !

بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے  :  ہوتا ہے شب و روز تماشہ میرے آگے 

کا مفہوم واضح ہوتا ہے توکبھی یہ شعر ذہن میں کلبلایا کہ:   ؎

 ہستی کے مت فریب میں آجائیو اسدؔ  :  عالم  تمام  حلقۂ  دام  خیال ہے

          لندن کے وہی بھیگے ہوئے دن اور ٹھٹھرتی ہوئی راتوں میں اس شہر کی پر اسراریت میں اضافہ کرتی ہوئی سڑکوں پہ پھیلی ہوئی پیلی روشنی ، بسوں ، ٹرینوں اور ٹیوب سٹیشنوں کی گہما گہمی لیکن ایک نظم و ضبط کا میکانکی رویہ آدمیوں کے ہجوم کو ادھر سے ادھر منتقل کرتا ہوا نظر آیا۔ تو دوسری طرف بکنگھم پیلس ، ۰۱ ڈاوننگ اسٹریٹ اور میڈام ٹوساڈ کے اندر سجے ہوئے موم کے مجسمے میں جو بات مشترک نظر آئی وہ یہ تھی کہ سب بے حس لگے پتھر ہو کہ موم سب بے جان سنگ تراشی اور موم تراشی کے شاہکار بنے بہ غرض نمائش سجا دیے گئے ہیں۔اور یہ عام لوگوں سے اپنے بے حس مجسموں کو دیکھنے کی بھی وافر قیمت وصول کرتے رہتے ہیں۔ ہم سب عام لوگوں کے ہجوم میں شاندار ماضی و مستقبل کے سِحر میں گرفتار اپنی زندگی کا سفر طے کر رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ حال کی اذیتیں یونہی برداشت کی جاتی ہیں! یہی تو وہ ملک ہے ، شہر ہے جہاں ہندو پاک یا یہ کہہ لیجیے کہ ایشیائی ملکوں کے بڑے بڑے سیاستدانوں اور جاگیرداروں ، رئیس زادوں اور نواب زادوں نے تعلیم حاصل کی سیاسی چالوں کی تربیت پائی اور اپنے ملک جا کر وہ کچھ کیا جس سے انگلستان کے ساتھ ان کی وفاداری مستحکم ہوتی چلی گئی۔ اس کے انعام میں ایسے لوگوں کو بڑی بڑی خلعتوں ، زمینوں ، سر کے خطابات اور چودھراہٹ سے نوازا گیا ۔ امت قوم و وطن میں بانٹی گئی ، قوم قبیلہ میں تقسیم ہوئی ، جہالت بہ عرف تعلیم پھیلائی گئی ، زبانیں بدلی گئیں ، رکھ رکھاؤمیں تبدیلی پیدا کی گئی ، طرز معاشرت بدلا، معاشیات و اقتصادیات کے ہوسناک شعلے بلند ہوئے ، معیار زندگی بدلا ، انداز فکر بدلا، فہم قران بدلا ، نئے انبیا اور رسول پیدا کیے گئے ، مدرسے اور خانقاہوں کے انداز بدلے ، اخلاقیات اور روحانیات کے اقدار بدلے ، شرم و حیا  کے نئے حدود متعین کیے گئے ، احترام بزرگاں و انسانیت کی نئی تعریف کی گئی ، عقل و وجدان کے پیرائے بدلے ، دنیا و دین کی سوداگری کو فروغ حاصل ہوا ،  حرمت رسول ؐ  کو پامال کیا گیا ، دین سے روحِ محمدی کو نکالنے کی کوشش کی جاتی رہی اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔    ؎

میاں نجار بھی چھیلے گئے ساتھ  :   نہایت تیز ہیں یورپ کے رندے

          اپنے ملک کے سیاسی ، عسکری اور فکری مبلغین ہی کیا اپنی قوم کے لٹیروں اور بے ضمیر قلم کاروں و دانشوروں کو آج بھی اسی ملک میں پناہ نصیب ہے۔  ہائیڈ پارک  کی تمثیل اپنی جگہ لیکن یہ ملک بہت سارے لوگوں کے لیے یہ ملک ہائیڈ کارنر   بنا ہوا ہے۔امت مسلمہ کے اتحاد و خلافت کو ختم کرنے کا کام ، ہند کی تقسیم اور خداداد اسلامی ملک میں لوٹ کھسوٹ و بے ضمیری ، کشمیر کا جھگڑا ، اسرائیل کا قیام ، فلسطین کا انتشار ، یہودی طرز فکر کا استحکام ، عرب کی قبیلہ پرستی اور عربی و عجمی کی تقسیم ، چھوٹی چھوٹی منتشر عرب حکومتوں اور خلیجی مملکتوں کا قیام ، افریقہ میں نوآبادیاتی نظام کی تشکیل یہ سب کچھ اسی ملک کے تو مرہون منت ہیں۔حیرت انگیز بات ہے کہ مشرق وسطیٰ ہو یا مشرق بعید ، ایشیائی یا افریقی مملکتوں میں جتنی محلاتی سازشیں پلتی ہیں ان کے ڈانڈے کسی نہ کسی طرح ملک انگلستان یا شہر لندن سے ضرور ملتے ہیں۔ پچھلے کئی برسوں میں بھی مسلمانوں کو بدنام کرنے یا مملکت اسلامیہ کے خلاف جو کاروایاں ہو رہی ہیں اس کی ابتدائی تحریک بھی اسی ملک سے اٹھتی نظر آتی ہے یا کم سے کم ایسی تحریک کو تقویت بخشنے میں جمہور و پارلیمانِ لندن پیش پیش ضرور نظر آتا ہے ۔ لندن کے کوہاسے نہ جانے کتنی آہوں کا سبب ہیں۔ اس کی یخ بستہ ہواؤں میں نہ جانے کتنی بے چین ارواحوں کا وجود ہے۔

          ہمارے اپنے ہی لوگ بہت بڑی تعداد میں یہاں مقیم ہیں ، کہا جاتا ہے کہ باہر بیٹھے ہوئے ہندوستانی یا پاکستانی  ساکنانِ وطن سے زیادہ محبِ وطن ہیں کیونکہ وہ فارن کرنسی میں اپنے ملک پیسے بھیجتے ہیں جس سے ملک میں ترقی ہوتی ہے اور وہاں کے لوگوں کا معیار زندگی بدلتا ہے ۔ سوائے ان سیاستدانوں ، فوجیوں، بیوروکریٹ ، صنعتکار اور تجارتکار اور بینکار ، حکومت کے دوسرے اہلکاروں کے جو اپنے ہی ملک میں ڈاکہ ڈال کر خود کفیل ہو کر باہر آبستے ہیں ۔ کچھ لوگ تو نو آبادیاتی تاریخ کے حوالے سے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہاں رہنا اب ہمارا حق ہے اس لیے کہ  وی آر ھئیر بیکاز یو وئیر دئیر  اور پھر انگلستان میں جو دولت اب نظر آتی ہے وہ ایشیائی ملکوں سے ہی لوٹی ہوئی دولت تو ہے سو ہم کون سی کشکول گدائی لے کے بیٹھے ہیں۔ ان باتوں کا جواب کسی کے پاس ہے تو دے ! چلیے صاحب یہ ملک ہمیں اپنا سمجھے یا نہ سمجھے اور ہمیں مشکوک نظروں سے دیکھے خصوصاّ  ۹۱۱  اور  ٹیوب سٹیشن میں دھماکے کے بعد ، ہم  تو اس ملک کو اپنا ہی سمجھتے ہیں نا !  لانگ لیو  دی کوئین  ۔

          جب ہمارے اپنے بغرض قیام و سیاحت لندن آکر وہاں آکسفورڈ سٹریٹ پر  ہیرالڈ ، مارکس سپنسر اور ایسے ہی بے شمار دکانوں میں خرید و فروخت کرتے نظر آتے ہیں ، کسی فاسٹ فوڈ ریسٹورانٹ میں اپنی سے زیادہ دوسرے کی میز کو تک رہے ہوتے ہیں تو میں ان سے ذرا الگ ہٹ کر باہر آکر فضامیں پھیلی رطوبت میں سانس لینے کی کوشش کرتا ہوں کہ شاید میرے رگ و پے میں کوئی ایسی ٹھنڈک اتر آئے جو مجھے تاریخ کے آتشیں حوالے اور  ہوسناکئی انساں کے شعلوں کی تپش سے تھوڑی دیر کو صحیح نجات دلا دے لیکن جانے کیوں ایسا نہیں ہوتا۔ اس کثیف رطوبت میں تو سانس کا لینا بھی دوبھر ہو جاتا ہے۔کہتے ہیں کہ تاریخ کے پَنّے الٹے جا سکتے ہیں بدلے نہیں جاسکتے۔! سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا تاریخ وہی ہوتی اگر ہمارے ہی درمیان میر جعفر ، صادق اور لارنس آف عربیہ جیسے سازشی ذہن رکھنے والوں کی بھر مار نہ ہوتی ؟   ؎

کھل گئے یاجوج اور ماجوج کے لشکر تمام 

چشمِ مسلم دیکھ لے  تفسیر حرفِ  ینسلون

حشام احمد سید

۶۰۰۲ م

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: