Hesham A Syed

January 20, 2009

A Journey within a Journey – part 3 of 5

Filed under: Middle East,Muslim world,Pakistan,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 7:33 am
Tags: ,

Urdu Article : Safar dar Safar ; Hesham Syed : Qist 3

 ۵۰۰۲۔۶۰۰۲

سفر در سفر

قسط ۳

C

 پھر میں ملک پاکستان شہر کراچی پہنچا ۔ وہی کراچی جو پاکستان کا دارالسلطنت تھا اور اب بھی اسے لوگ پاکستان کا دل کہتے ہیں ، جو قائدِ اعظم محمد علی جناح  بانی پاکستان کا شہر تھا ، اس شہر کو پہلی بار ہارٹ اٹیک اسوقت ہوا جب پاکستان میں حکمران ِ اسلام کے لیے صرف اسلام آباد بنا ، اصل میں اسلام آباد تو پورے پاکستان کو بننا تھا لیکن حکمرانوں کو ایک جنت نظیر قطع نظر آیا  پھر دیر کاہے کی ، دارلحکومت کراچی سے اسلام آباد منتقل ہو گیا ، سنتے ہیں کہ یہ بھی ایوب خان کے کسی پیر غالباََ پیر دیول شریف کی شرافت کا نتیجہ ہے۔واللہ عالم ، بڑی بڑی تعبیریں ہیں اور بہت ساری تفسیریں بھی۔ کچھ یہ کہتے ہیں کہ دفاعی لحاظ سے کراچی محفوظ نہیں تھا کہ دارالسلطنت بنے تو گویا پاکستان کی دفاع اب مظبوط اس لیے ہوگئی کہ اسلام آباد بن گیا یعنی اسلام آباد رہے گا تو پاکستان رہے گا ورنہ کسی اور شہر و صوبے کا کیا بھروسہ ، جیسے کہ مشرقی پاکستان خون کی ندیاں عبور کرتا ہوا پورا کا پورا چلا گیا تو کیا فرق پڑا پاکستان تو ہے نا ؟ ہمیں کیا کرنا پڑا  صرف مغربی پاکستان سے مغرب ہٹانا پڑا ، چلو اچھا ہی ہوا مغرب سے ہم ایسے ہی آزردہ خاطر رہتے ہیں ، سندھو دیش یا بلوچستان یا پختونستان یا گریٹر پنجاب بھی بن گیا تو کیا فرق پڑے گا اسلام آباد تو ہے نا ؟یہ بھی پاکستان میں علاقائی ، طبقاتی اور لسانی بنیادوں پہ تقسیم اور پاکستان کی نظریاتی یکجہتی کی رسہ کشی کی ایک کڑی ہے۔ اس ساری کشمکش میں لے دے کے کراچی میں اب ایک مزار قائد رہ گیا ہے یا پھر آج کل عبد اللہ شاہ غازی شہید رحمۃ کلفٹن کے مزار کا بول بالا ہے۔ دونوں بزرگ خاموش کراچی کو ڈوبتا اور ابھرتا دیکھتے رہتے ہیں۔ کم سے کم انہیں موت کے بعد بھی یہاں ایک وسیع و عریض قطع  میسر ہے ورنہ نہ جانے کتنے زندہ لوگ بے گھری کے عالم میں اس شہر میں زندہ رہنے کی کوشش کر رہے ہیں ،  ایک قومی نغمہ ذہن میں آنے لگا  یہ میرا پاکستان ہے  یہ تیرا پاکستان ہے۔۔یہ آدھا پاکستان ہے ،  دکھیارا پاکستان ہے۔

          سنتے ہیں کہ کراچی کبھی ایک نہایت صاف ستھرہ شہر تھا ، پاکستان کا واحد بندرگاہ ہونے اور تجارتی و صنعتی شہر کے سبب ہر علاقے اور صوبے سے لوگ یہاں روزگار کے سلسلے میں آتے رہے اور یہ شہر ایک عجوبہ روزگار بنتا چلا گیا ، کثرت آبادی اور شہر کی بد انتظامی نے اسے میلا کچیلا کر ڈالا۔ صرف یہی نہیں کہ شہر میلا ہوا بلکہ دل بھی میلے ہوگئے۔ پاکستان کے ہر بڑے شہر میں اس کے تخلیق کا نظریہ ایک بار ہی نہیں بلکہ بار بار جھٹلایا گیا اور کراچی میں ہر جگہ اور ہر صوبے کے لوگوں نے آکر اس کی مشق کچھ زیادہ ہی کی ۔سوائے چند مخصوص علاقوں کے جہاں اکثر ناجائز طریقے سے بنائے ہوئے مال سے تعمیر کردہ بڑے بڑے محلات اپنی شان و بان کے ساتھ ایستادہ ہیں کراچی کی بیشتر آبادی شور و ہنگامے ، گندگی و غلاظت ، بیماری و دکھی ، بے روزگاری اور چور بازاری ، تعصب و زندگی سے بے زاری کا شکار ہو گئی۔ ہر سیاسی لیڈر نے اس شہر سے صرف نظر کیا ، یہاں کے نوجوانوں کو پورے پاکستان میں جب اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگا تو ظلم و نا انصافی کے ردِ عمل میں اپنی ایک سیاسی پارٹی بنا ڈالی اور جن کے باپ دادا کا نعرہ تھا کہ لڑ کے لیں گے پاکستان بٹ کے رہے گا ہندوستان وہیں اس بٹوارے کے سالوں بعد ایک اور نعرے نے جنم لیا کہ  ۔  وَنس  اے مہاجر  آلویز  اے  مہاجر  ،  چلیے صاحب یہ قصہ بھی تمام ہوا۔ جو لوگ اپنی نسلوں کو کٹا کر اور سب کچھ لٹا کر ایک روشن مستقبل کے لیے  پاکستان آئے تھے وہی اس ملک اور اس شہر میں اچھوت بن گئے ، تیلیر ، پناہ گزیں  ، بھگوڑے اور مہاجر کہلانے والے لوگوں نے بھی  چِڑھ کر اپنے آپ کو مہاجر کہنا شروع کر دیا بلکہ وہ جن کی پیدائیش ہی پاکستان میں ہوئی تھی وہ بھی مہاجر بن گئے ۔ہوا میں ایک نیا جھنڈا لہرانے لگا ، گھروں سے نو جوان لڑکوں کو گھسیٹ کر قتل گاہوں تک پہنچا یا گیا ، ٹار چر سیل بننے لگے ، وہ لوگ جو جماعت اسلامی کے دست راس تھے وہ ان کے تربیتی کیمپوں سے بد دل ہو کر معاشرتی اور اقتصادی عدل کے خاطر اس نئے جھنڈے تلے جمع ہونے لگے ، علاقائی تعصب اتنا بڑھا کہ خون ناحق کا بازار گرم ہو گیا ، کم ہی ایسے لوگ تھے جن کے دامن پہ خون کے دھبے نہ ہوں یا جن کے گھر اس آگ سے محفوظ ر ہے ہوں ، ملک کی انتظامیہ نے بہت ساروں کو شہر بدر ہی نہیں ملک بدر ہونے پر مجبور کر دیا ۔  جو آیا اس نے چتونی ہی دیا ، ایک جنرل کے بیٹے نے بحیرہ عرب میں دھکیلنے کی دھمکی دی تو کسی نے اس شہر میں خون کی ندیاں بہا دیں ، بوریوں میں لاشوں ، زبردستی چندہ اور لوٹ مار کی سیاست نے جنم لیا ، تجارتی ، مالی ، صنعتی ادارے کراچی سے منتقل ہو کر لاہور اور اسلام آباد کے گرد و نواح میں جانے لگے ، کراچی اپنی قدرتی اور جغرافیائی اہمیت کا حامل ہونے کے باوجود تعصب و نفرت کے گردو غبار سے اٹ گیا۔

جن کے ہنگاموں سے تھے آباد ویرانے کبھی   :   شہر ان کے مٹ گئے ، آبادیاں بن ہو گئیں

?سیاسی تجزیہ نگار یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر بھٹو نے کراچی  والوں کو اپنے ہاتھ میں رکھا ہوتا تو شاید اس کی اور اس ملک کی تقدیر مختلف ہوتی ، کراچی والے اینٹ سے اینٹ بجا دیتے اپنی جان کا نذرانہ دیتے لیکن اسے پھانسی کے تختے پہ چڑھانے کے بجائے اس ملک کے تخت پہ دوبارہ بٹھا دیتے ورنہ لندن تو پہنچا ہی دیتے اور نہیں تو دوبئی یا  سعودی عرب کا دروازہ کھل جاتا ، لیکن افسوس وہ بھی اپنے وفاداروں کو کہیں اور تلاش کرتا رہا۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ تکبر انسان کی بینائی چھین لیتی ہے۔ سنتے ہیں کہ اب  اس کے مزار پہ چڑھائے ہوئے پھول کی پتیوں سے لوگوں کو شفا ہوتی ہے۔

پھول بے پروا ہیں  تو گرم نوا ہو یا نہ ہو  :  کارواں بے حس ہے آوازِ درا ہو یا نہ ہو

ذوالفقار علی بھٹو لاڑکانہ کے مزار پہ پڑی ہوئی پھول کی پتیوں سے اگر لوگوں کو شفا نصیب ہو رہی ہے تو شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اسے یہ ولایت پاکستان کو نیوکلر پاور بنانے کی وجہ سے ملی ہو ۔ حالانکہ شہیدوںمیں نام لکھانے  میں دو اور بھی ہیں جو اس کلغی کو اپنے سر لگانے کے خواہاں رہے ہیں ایک تو ضیا الحق مر حوم اور دوسرے انہی کے لگایا ہوا پودا نواز شریف۔ کسی نے ضیا الحق کے مزار سے پھول کی پتیوں کو چبایا نہ ہوگا اور نواز شریف کا وقت ابھی آیا نہیں سو کیسے پتہ چلے کہ ان کے پیرو کاروں کا دعویٰ کس حد تک حق بجانب ہے۔ چھوڑیے صاحب اس قصہ کو  ویسے بھی یہ بدعتی اور مشرکانہ عقائد رکھنے والوں کی باتیں ہیں۔ سیاسی بدعت کے حوالے سے تو کچھ لوگ پاکستان کو بھی ایک بدعت قرار دیتے ہیں۔کون نہیں جانتا کہ علمأ کرام کا ایک خاصہ بڑا طبقہ تقسیم ہند پہ معترض رہا ، ان میں کچھ تو اپنی اس روش پہ قائم رہے اور کچھ نے مصالحت کر لی ۔ صرف ایک ایسی جماعت ہے کہ جو اپنی ساری مخالفت کی تحریروں کو حذف کر کے یا چھپا کے پاکستان کے سیاسی آسمان پہ مذہب کی ہوا چلا کر بادل ناخواستہ بنی تیرتی پھر رہی ہے کہ حکومت ان کے ہاتھ لگے تو دور ِ صحابہ واپس آئے ورنہ اسلام تو اسلام آباد والوں نے دفن کر دیا ہے۔ لیکن کیا بھی تو کیا کیا جائے اگر اسلامی جماعتیں بھی اپنی ذمہ داریوںسے مبرہ ہو جایں توسوائے طوایفلملوکی کے پاکستان میں کیا رہ جائے گا ، پہلے ہی گمراہیوں نے کم بسیرا کیا ہوا ہے ۔پاکستان میں شروع سے ہی ایک روشن خیال ، مغرب زدہ طبقہ جن کی حکمرانوں میں بہتات رہی ہے چاہے وہ فوجی ہوں یا شہری  (سویلین ) اور مختلف الخیال مذہبی اداروں کے درمیان چپقلش رہی ہے ، ایک دوسرے کی ضد میں انہوں نے پاکستان کو دونوں کونوں سے پکڑ کے اتنا کھینچا ہے کہ بیچ بیچ میں سوراخ ہو گیا ہے اور برادرانہ رویہ کی چادر پھٹ پھٹا گئی ہے۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔گفتگو پاکستان کے حوالے سے چل نکلی تو تاریخی حقائق کے پنے الٹنے لگے، جو باتیں اسوقت پیش نظرہیں اسے لکھ ڈالوں کہ شاید یہ بہت سارے قارئین کے لیے حیرت انگیز ہوں :

۱۔مسلم لیگ کی بنیاد انگریزوں نے کانگریس کی سیاسی مخالفت اور اس کی اجتماعی قوت و مساعی کو کم کرنے کے لیے ڈالی تھی ، یہ اور بات ہے کہ اس کی یہ حکمت عملی اسے ہی مہنگی پڑی یا یہ کہ مسلمانان ہند کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا ؟ یہ ایک ایسی بحث ہے جو بے جا ہے۔

۲۔مسلم لیگ کبھی بھی ہندوستانی مسلمانوں کی واحدنمائندہ جماعت نہیں رہی۔ غیر منقسم ہندوستان کے آخری انتخابات میں بھی مسلمانوں کی ۰۷ِِ،۹۴ فی صد اکثریت نے مسلم لیگ کے خلاف ووٹ دیا۔ ۷۴۹۱ء میں سر حد میں جو ریفرنڈم ہوا اس کا نقشہ یوں بنتا ہے کہ :

کل ووٹوں کی تعداد  ۹۹۷،۲۷،۵ ۔۔ ووٹ جو ڈالے گئے ۔ ۸۱۱،۲۹،۲ ۔۔پاکستان کے حق میں  ۴۴۲،۹۸،۲ ۔  ہندوستان کے حق میں ۔ ۴۷۸،۲۔  ۔ بائیکاٹ کی وجہ سے جو ووٹ نہیں ڈالے گئے ۔ ۱۸۶،۰۸،۲ یہ بائیکاٹ پختونستان کے حق میں کیا گیا تھا۔

۳۔مولانا ابولکلام آزاد ؒ نے جو اسکیم تیار کی تھی اس کا لب لباب یہ تھا کہ :

۔ہندوستان آزاد ہوگا اور متحد ہوگا ، اس کا آئین وفاقی طرز کا ہوگا

۔مرکز کے پاس صرف تین محکمے ہونگے ، دفاع  ، خارجہ امور اور مواصلات کے شعبہ جات

۔ملک کو تین حصوں یا گروپ میں تقسیم کیا گیا اور اس کی شکل یوں تھی کہ  :

گروپ ۱ :  یوپی ، بہار ، سی پی ، اڑیسہ ، بمبئی اور مدراس کے صوبوں پر مشتمل تھا  جس میں ۷۶ ہندو اور ۰۲ مسلمان نمائندے رکھے گئے ، اس کے علاوہ ایک ایک نمائندہ اجمیر اور کورگ کے علاقوں سے لیا جانا تھا۔

گروپ ۲ :  اس میں پنجاب ، سرحد اور سندھ کے صوبے شامل تھے ۔ اس میں ۲۲ مسلمان ۹ ہندو اور چار سکھ  کل ۵۳ ممبروں کو شامل ہونا تھا اور اسمیں ایک نمائندہ بلوچستان سے بھی لیا جانا تھا۔

گروپ ۳ :   یہ بنگال اور آسام کے صوبوں پر مشتمل تھا۔ اسمیں ۶۳ مسلمان اور ۴۳ ہندو نمائندے شامل ہونے تھے۔

          دستور ساز اسمبلی میں متذکرہ بالا نمائندگی برطانوی ہندوستان کا حاصل ہونا تھی جبکہ ریاستوں سے بھی ۳۹ نمائندے شامل ہونا تھے۔

          اس انتظام پہ عمل در آمد ہو جاتا تو یہ صورت موجودہ پاکستان سے بہتر ہوتی جسے اسوقت محمد علی جناح ؒ اور سارے مسلم لیگیوں نے بھی تسلیم کیا اور پاکستان یا تقسیم ہند کے دعوے سے دستبردار ہوگئے تھے۔ اس شکل میں پورا پنجاب شامل ہوتا اور کشمیر کو سوائے اس گروپ میں شامل ہونے کے کوئی اوراستہ نہ تھا۔ پورا بنگال اور پورا آسام بھی اس گروپ میں شامل ہوتے۔ یہ انتظام ابتدائی دس برسوں کے لیے تھا ، اس کے بعد کوئی گروپ مرکز سے اور کوئی صوبہ گروپ سے علیحدہ ہونے کا آینی اختیار رکھتا تھا۔قائدِ اعظم ؒ نے کہا تھا کہ اقلیتوں کے مسئلہ کا جو حل اس میں پیش کیا گیا ہے اس سے زیادہ منصفانہ کوئی اور فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ اس تجویز پہ دو متحارب جماعتیں کانگریس اور مسلم لیگ متفق تھے اور تیسرا فریق حکومت برطانیہ بھی مطمن تھا۔ چودھری خلیق الزماں فرماتے تھے کہ یہ فارمولا تو مسلم لیگ نے ۴۲۹۱ ء میں ، علامہ اقبالؒ نے ۰۳۹۱ ء میں اور خود انہوں نے ۹۳۹۱ ء میں پیش کیا تھا۔ لیکن اسوقت اتفاق رائے یوں نہیں ہوسکا کہ تمام تجاویز مبہم ، سطحی اور نا مکمل تھیں۔

                   بہر حال بعد کے واقعات کچھ ایسے ہوتے چلے گئے کہ ۳۲ مارچ ۰۴۹۱ ء میں مسلم لیگ کا تاریخی اجلاس لاہور کے منٹو پارک میں ہوا جس میں وفاق سے گریز کرتے ہوئے قرارداد پاکستان منظور ہوئی اور  نفرت کی سیاست سے مغلوب رفتہ رفتہ ہندوستانی مسلمانوں نے آگ اور خون کی ہولی کھیلتے ہوئے اپنی ایک نئی شناخت بنا لی۔ بر صغیر کے نقشے پہ ایک نیا ملک مذہب و معاشیات و معاشرت کے پیرائے میں عالم وجود میں آیا ، ہندوستان جو ایک ہزار سال تک مسلمانوں کے دسترس میں رہا اس کے مختصر سے حصے پہ ماضی کے حکمراں مطمن ہوگئے۔ لیکن وہ سارے مسلمان جو اس ملک میںسما نہ سکے ان کی تقدیر میں تو پھر بھی ہندوستان ہی میں رہنا لکھا تھا۔ ایک جہاز بانئ پاکستان کے بیان کے بعد وہاں سے یہ کہتا ہوا پاکستان کے جانب اڑ گیا کہ ہندوستان کے مسلمان ہندوستان کے وفادار شہری بن کے رہیں۔ یہ بیان بھی لوگوں پہ بجلی بن کے گرا ، کیونکہ صرف چند گھنٹے ہی پہلے تک تو پاکستان کے بھی شہری ہندوستان کے ہی شہری تھے تو ان کی وفاداری کو کیا ہوا تھا ، پاکستان میں صرف وہی علاقے تو نہیں تھے جنہوں نے نظریہ پاکستان کا ساتھ دیا تھا بلکہ بعض علاقے تو وہ بھی ہیں جو ۷۴۹۱ ء جیسا پاکستان نہیں بلکہ اپنی خود مختاری چاہتے تھے ، پھر ان کی وفاداریاں کس پلے میں رکھی جانے والی تھیں ؟ وہ مسلمان جو پاکستان کے لیے اپنی جان کی بازی کھیل چکے تھے لیکن وہ جہاں مقیم تھے وہ ہندوستان کا علاقہ تھا تو ان کی محافظت کی ذمہ داری کس کی تھی اور وہ کیسے ہندوستان کے وفادار بن سکتے تھے جبکہ یہ وفاداری مشکوک تھی ۔ ان چند گھنٹوں میں دلوں کے درمیان سیاسی نفرتوں کی جغرافیائی دیواریں کیسے کھنچ گئیں ، اور پھر جب ہندوستان میں رہ جانے والے دوسری بڑی آبادی کو وفادار بن کے رہنا تھا تو اس تقسیم کی ضرورت ہی کیا تھی ، سارے مسلمان اسی ملک کے وفادار بن کے کیوں نہیں رہ سکتے تھے ؟ (  بعینہہ یہ معاملہ بعد میں پھر ایک بار دہرایا گیا جبکہ ۱۷۹۱ء میں ۸ لاکھ سے زیادہ غیر بنگالی اردو یا پنجابی بولنے والے طبقہ کو بنگلہ دیش بن جانے پہ انتہائی مخدوش و بے چارگی کے عالم میں پاکستانی فوجی اور حکومت وقت کے کارندے مکتی باہنی قاتلوں اور دشمن حکومتوں کے کارندوں کے حوالے کر کے پاکستان بھاگ گئے اور پلٹ کے بھی نہیں پوچھا کہ ان کا کیا بنا ، جبکہ ان لوگوں نے جان و مال سے پھر ایک بار تصور پاکستان اور پاکستان کا ساتھ دیا اور اسے ٹوٹنے سے بچانے کے لیے سب کچھ لٹا دیا ، ان کی نسل در نسل اب کے خود مسلمانوں اور پاکستانیوں کے ہاتھوں ہی تباہ و برباد ہوگئی ، صرف یہی نہیں بلکہ پاکستان کے لیے خون دینے والوں کو پاکستانی ہی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا گیا ۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا اپنے مخلصوں کے ساتھ دوسرا بڑا  دھوکہ تھا ۔ قافلے  چلتے رہے ، عصمتیں لٹتی رہیں ، خون بہتے رہے ، مال و متاع و جان سب کچھ  دان کر دیا گیا ۔ جب زمینی حقائق سامنے آئے تو کئی مسلم لیگیوں نے بھی پینترے بدلے اور تحریک پاکستان کے دنوں میں جو معروف نعرہ تھا کہ ’ہم پہلے مسلمان ہیں پھر ہندوستانی ہیں‘ لیکن پاکستان بننے کے بعد وہ کہتے رہے کہ اگر واقعی سچے مسلمان ہو تو سب سے پہلے ہندوستانی بنو اس لیے کہ رسول ؐ نے بھی قومیت اور وطنیت کی طرف منسوب کرتے ہوئے اپنے آپ کو ہاشمی العربی کہا ہے۔ اگر ہم نے کوئی اور طریقہ اختیار کیا تو اپنے ہی دیش میں غیر ملکی بن کے رہ جاو ٔ گے کیونکہ پاکستان ہماری حفاظت کرنے کے لیے ہندوستان پہ حملہ نہیں کرنے والا ۔ دو قومی نظریے کے بارے میں چودھری خلیق الزماں کے بھی خیالات میں تبدیلی رونما ہوگئی ، وہ تقسیم ملک کے بعد جب تک ہندوستان میں رہے وزارت کے حصول کے لیے کوشاں رہے ، جب کامیابی کی کوئی صورت نظر نہ آئی تو راہ فرار اختیار کی اور پاکستان آکر پھر دو قومی نظریہ کا پرچار کرنے لگے ، وہ لکھتے ہیں کہ یہ دو نیشن نظریہ تقسیم ہند کے بعد چار کروڑ مسلمانوں کے لیے جو ہندوستان میں رہ گئے ہیں ہولناک ثابت ہوا ۔ کیونکہ وہ ۴۱ ، ۵۱  اگست کے بعد نہ پاکستانی رہے اور نہ ہندوستانی جس کی وجہ سے ان پہ شدید مصایب نازل ہوئے۔ کیا یہ ہندو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا دھوکہ تھا ؟

           تاریخ یہیں ختم نہیں ہو جاتی ہے ، پہلے غیروں نے لوٹا اور پھر اپنے ہی ان غیروں سے زیادہ لٹیرے نکلے۔غیروں نے تو افراد اور ان کے گروہ کو لوٹا ، لیکن جو اپنے تھے انہوں نے تو مادر وطن کو ہی لوٹ لیا ، وطن کی عزت وناموس و عصمت سب اپنے ہی ہاتھوں تار تار ہوگئی۔ اس کے جسم کے دو ٹکڑے ہوگئے اور مزید کانٹ چھانٹ کا عمل جاری ہے۔ اپنے ہی بھائیوں کی سرد لاش پہ رقص جاری ہے۔ ’پاکستان پائندہ باد ! ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں ‘کی نغمہ سرائی البتہ جاری ہے۔’چاند میری زمیں پھول میرا وطن‘۔چاند بھی گھٹتا بڑھتا رہتا ہے لیکن یہاں تو جو گھٹ گیا وہ گھٹ گیا۔ اقوام متحدہ کا خیال ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی تحریک میں ۵۱  لاکھ سے زیادہ افراد قتل ہوئے جس میں غیر بنگالیوں کی بھی بہت بڑی تعداد ہے جسے بنگالی مکتی باہنیوںنے  بھارت سے ٹریننگ اور اسلحہ لے کر قتل کیا۔ اور تقسیم بھارت و ہجرت کے دوران ۷۴۹۱ء میں ۵۲  لاکھ سے کہیں زیادہ افراد قتل کیے گئے ۔ یہ قتل و ٖغارت و تباہی کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے ، کبھی سندھو دیش ، کبھی بلوچستان ، کبھی پختونستان ، کبھی مہاجرستان کے بہانے۔پاکستان سے نفرت خود پاکستانیوں نے کیا۔ ایسے میں جانے کیوں مولانا ابولکلام آزاد ؒ کے کہے ہوئے الفاظ کی باز گشت سنائی دیتی ہے :  ’’میں آج جہاں کھڑا بول رہا ہوں ، ایک ویرانہ بننے والا ہے ، مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ چاروں طرف آگ لگی ہوئی ہے ، قافلے آرہے ہیں اور قافلے جا رہے ہیں ، ہندوستان مسلمانوں کے لیے ایک زندہ قبرستان ہوگا : یاد رکھو تقسیم اگر ہوئی تو امرتسر تک کا علاقہ ہندوستان لے جائےگا اور پاکستان پہ رفتہ رفتہ وہی لوگ قابض ہو جائیں گے جو آج بھی انگریز کے غم خوار اور نمک خوار ہیں ۔ یہ  امراء کی ایک جنت ہوگی ، نناوے فیصد عوام کے لیے یہی شب وروز ہونگے اور اسلام ایک مسافر کی طرح ہوگا ‘‘۔ اس بات کا فیصلہ تو خود قارئین کر سکتے ہیں کہ ایک مفسر قران ، ایک سیاسی مدبر ، اس وقت کے امام الہند لیکن مسلم لیگیوں کے نظر میں ایک شو بوائے کے الفاظ میں کس حد تک صداقت ہے یا بشارت ہے۔ اور صرف مولانا آزاد ہی پہ کیوں موقوف ہے اسوقت کے دوسرے علمأ کرام جیسے کہ مولانا محمد حسین مدنی وغیرہ پہ بھی لعن طعن کی گئی اور ان سب کی داڑھیوں اور قبا پر دست دراز کیا گیا ۔ جبکہ مسلم لیگیوں میں تو کوئی بھی اس پایہ کا  عالم و متقی نہ تھا ۔ لطف یہ ہے کہ وہی مولانا آزاد  ؒ جن کی تضحیک میں مسلم لیگیوں نے کوئی کثر نہیں چھوڑی تھی ہندوستان کی آزادی کا ترنگا جھنڈا جب لہرایا جارہا تھا تو سلامی کے لیے وہاں موجود نہ تھے بلکہ اسوقت وہ مسلمان جو لٹے اور زخمی تھے انہیں سہارا دے رہے تھے اور اپنے ہاتھوں ان کی تیمارداری کررہے تھے جبکہ اس آزادی کے بعد کئی ایک مسلم لیگی پاکستانی لیڈر ہندوستان میں اشیأ سمگل کر رہے تھے اور اپنا تعلق مولانا آزاد ؒ اور دوسرے کانگریسی لیڈروں سے ظاہر کر کے کسٹم سے بچنا چاہ رہے تھے۔یہ تو ہونا ہی تھا قرآن کی آیت کا مفہوم ہے کہ صرف آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں دل بھی اندھے ہو جاتے ہیں۔! تاریخ میں ظلم اور مظلومیت دونوں ہی مرقوم ہیں۔ مشاہدے کے لیے آنکھ چاہیے اور درس عبرت کے لیے رقیق دل۔

          میںجب یہ سب کچھ لکھ رہا ہوں تو خیال آرہا ہے کہ اس سال کا ۳۲ مارچ اب سے صرف دس دن دور رہ گیا ہے ، پریڈ کی دعوتیں بھی آئی ہوئی ہیں ، پاکستان میں اور دوسرے ممالک کے سفارت خانوں میں ایک عجیب منظر ہوگا ، جھنڈے لگائے جائیں گے ، جوتے اور پیر پٹک پٹک کے پریڈ ہوگی ، قومی نغمے سنائے جائیں گے ، بچے جو پاکستان کی تاریخ سے ناواقف ہیں انہیں پاکستان سے متعارف کرایا جائے گا لیکن کون سے پاکستان سے ؟ آدھے یا پورے ؟ یا مزید ٹوٹتے ہوئے پاکستان سے اور پھر ان کے ذہن میں اٹھتے ہوئے سوالات کا جواب کون دے گا ؟ بڑے اور بوڑھے جو پاکستان اور اپنی حقیقت سے واقف ہیں وہ منہ چھپائیں گے۔ ان سب کے باوجود صورت حال کراچی ہی میں کیا ہر بڑے یا نسبتاََ کم چھوٹے شہر کے باسیوں کے متومل گھرانے میں وہی دنیاوی آلایشوں کی یلغار ہے ، فکری بے راہ روی ہے ، کیا نو جوان یا جوان ، کیا شاگردان و اتالیق و اساتذہ ، کیا تنومند و سفید ریش ، کیا زاہد خشک سب کے سب رند و شاہد باز بنے حرص و ہوس میں دیوانے ہوئے جارہے ہیں ، موسیقی ، ناچ رنگ ، فیشن پرستی ، ثقافت و روشن خیالی اور رسوماتِ قبیحہ کے بہانے گھر گھر میں گھس گئی ہے، نہ والدین میں شرم رہی نہ بچوں اور بچیوں میں حیا۔ بیویوں کا شوہروں کو چھوڑ دینا اور بوائے فرینڈز کے ساتھ وقت گزارنا یا شوہروں کا بیویوں کو چھوڑ دینا اور گرل فرینڈز کے ساتھ وقت گزارنا اب ایک فیشن بن گیا ہے ، مخلوط محفلوں میں غیر محرموں کے ساتھ اچھل اچھل کر ناچنے اور ایک دوسرے کے گالوں پہ بوسہ دینے سے پیار و محبت و آشتی کا اظہار ہوتا ہے۔ کنجریوں ، طوایفوں اور مغنیوں کو مدعو کرنا ، ان کی حرکتوں پہ سر دھننا ، ان کے ساتھ اور قریب ہو کر تصویر کھنچوانے کی رسم بھی اب اہل ِ شرفا میں عام ہوئی جاتی ہے ۔ اہالیان حکومت و دولت کی رنگینیوں کی داستان تو بیشتر کتابوں میں موجود ہے ان کا کیا کہنا ، ان لوگوں کے لیے تو اوائل سے ہی پاکستان اور اس کے عوام ، بہو، بیٹیاں ہمیشہ سے ان کی جاگیریں ہیں ۔ ایسی محافل میں بھی شرکت کا موقع ملا جہاں سیاسی مدبر ، فوجی جنرل ، بڑے بڑے تعلیمی اداروں کے سر براہ ،  وکلأ اور دوسرے شعبہ ہائے زندگی کے پیشہ ور موجود تھے اور پاکستان کے حوالے سے جو باتیں ہو رہی تھیں اس پہ صرف کف افسوس ملا جا سکتا تھا۔ اور یہ سب منظر اس وقت دیکھنے میں آیا جب کہ پوری قوم زلزلہ کے سبب آہ و بکا میں مصروف تھی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ درد کو بانٹنے والوں کی بھی کمی نہیں اور وہ لوگ فی سبیل اللہ زندگی اور انسانیت کا بھرم رکھ رہے ہیں لیکن جو صاحب ثروت و رعونت و حکومت ہیں ان ہی کے ہاتھ میں تو عوام کی تقدیر لکھ دی گئی ہے ، ان کے ہی رویہ کو دیکھتے ہوئے یہ شعر نوک زباں پہ نہیں دل میں گھُٹ کے رہ جاتا ہے:   ؎

 وائے  ناکامی  متاعِ  کارواں  جاتا  رہا   :   کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

V

          پاکستان میں اکثر آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ، سڑکوں اور گلیوں میں گندے اور غلیظ پانی کے تالاب نظر آتے ہیں ، تعلیم ۳۱ سے ۰۲ فی صد ہے ، بے روزگاری بڑھتی جارہی ہے ، انتظامیہ امن و امان قائم کرنے میں اور چوری ڈکیتی کوکنٹرول کرنے میں خاصی حد تک ناکامیاب ہے ، سڑکوں پہ ٹریفک کی بے اصولی حیرتناک و خوفناک ہے ، ہسپتالوں میں گندگی اور مکھیوں کی یلغار ہے ، آپریشن ٹیبل تک مکھیاں بھنبھنا رہی ہوتی ہیں ، بچوں کے سکولوں میں اور مدرسوں میں انتظام نہایت ناقص ہے ، سڑکوں پہ چھوٹے بچوں ، عورتوں ، مردوں اور بوڑھوں و کھسرے بھیک منگوں کی یلغار ، دہشت گردوں اور بے ضمیروں کی بہتات ، ایسے میں چند علاقوں میں کئی ہزار گز پہ بنے رئیسانہ ٹھاٹ کے ذاتی مکانات ، چند ایک سڑکوں کی تعمیر ، اک آدھ فوارے اور باغ اور وزرأ کے لیے مرسیڈیز اور رنگین محفلیں اور صرف قومی نغمے و اشتعال و ہیجان انگیز سیاسی بیانات ،  مجھے کس حد تک متاثر کر سکتے ہیں ؟ کیا ۷۴۹۱ ء سے اب تک ان ۰۶ سالوں میں ہم یہی کچھ حا صل کر سکے یا اس کی تاریخ ۷۵۸۱ ء سے جوڑی جائے؟ کیا صرف اس قوم کا نیوکلر پاور بن جانا ہی اس کے مستقبل کے خوش آئند ہونے کی واحد علامت ہے ؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ جس طرح ایسٹ انڈیا کمپنی نے اسوقت کے مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو بے بس و بے دخل کر کے ہندوستان پہ مسلمانوں کی ہزار سالہ حکومت کو ختم کر دیا اور خود اس پہ قابض ہوگئے اسی طرح آج پاکستان ہی پہ کیا ہر اسلامی مملکت کی سیاست اور حکومت کی باگ ڈور امریکیوں کے ہاتھ میں نہیں اور امریکی سفیروں کا رول اس ملک کے در پردہ حاکموں کا ہے ، ہماری حکومتیں صرف وہی کر رہی ہوتی ہیں جو صاحب بہادر چاہتے ہیں یہاں تک کہ وزرأ ، سینیٹر کے انتخاب میں بھی ہم آزاد نہیں ۔الیکشن بنام جمہوریت تو بڑی چیز ہے!  رگوں میں خون ظاہراََ سرخ ہے لیکن باطناََسفید ، زندگی کی سانس لینے پہ بھی ہم پابند ۔ ہماری عدلیہ آزاد نہیں ، ہماری فکری جہت آزاد نہیں ، کیا صرف تحریفاتِ دین کی آزادی ہمیں حاصل ہوگئی ہے ؟

یا خدایا یہ کیسی آزادی ہم نے حا صل کی ہے ؟  ہم پہ بے حسی طاری ہے ؟  یا درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہوجانا !

حشام احمد سید

۵۰۰۲۔۶۰۰۲

بقیہ اگلی قسط ۴  میں دیکھیے

          ۔۔۔۔

 

 

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: