Hesham A Syed

January 20, 2009

A journey within a journey – Part 4 of 5 – Year 2006

Urdu Article : Safar dar Safar – Hesham Syed : Qist 4 ( read in sequence from 1 to 5 )

۵۰۰۲۔۶۰۰۲

 

    سفر  در  سفر

قسط ۴

l                   بات پاکستان کی چل رہی ہو تو نہ جانے کیوں گاڑی یہیں اٹک کے رہ جاتی ہے اور اس سے آگے کے سفر میں تاخیر ہوجاتی ہے ۔ شاید اس کی وجہ پاکستان سے میرا اپنا جذباتی لگاؤ ہی ہے ۔ وہ ملک جو دنیا کے نقشہ پہ سب سے بڑی اسلامی سلطنت بن کے ابھرا اور جسے قلعہ اسلام بننا تھا یا سمجھا جانے لگا تھا اس کی اپنی بنیادیں کیوں ہل گئیں ؟ یہ بات تو پچھلے مضامین سے ہی مترشح ہوگئی ہوگی اس لیے اس کا دہرانا بے کار ہے۔ پاکستان اب چاہے جیسا بھی ہواس کی وقعت و عزت میں صرف ایک بات ہی رہ گئی ہے اور وہ یہ کہ اسوقت پوری اسلامی دنیا میں یہ واحد نیوکلیر پاور ہے جسکے پیچھے ساری عالمی قوتیں پڑی ہوئی ہیں ، دوسری اسلامی مملکتوں کو تومعاشی اعتبار سے نہیں تو جذباتی اعتبار سے ، ذہنی اعتبار سے اور دفاعی اعتبار سے مفلوج کر ہی دیا گیا ہے ، اور اقوام غیر انہیں کسی طور پہ نیوکلر پاور بننے دینے پہ راضی نہیں جبکہ غیر اسلامی مملکتوں کو پوری آزادی حاصل ہے بلکہ یہ سب ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ اب لے دے کے پاکستان ایک ملک رہ گیا ہے جس سے انہیں خطرہ ہے کہ یہ لوگ من حیث القوم کے ہی کہیں خود کش حملے پہ نہ اتر آئیں اور فی سبیل اللہ نیوکلر پاور کا استعمال کر کے دشمنانِ اسلام کو ہدف نہ بنالیں۔ پاکستان کی تخلیق کا مقصد اب تک کسی کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ لیکن فطرت کی اپنی ایک مخفی چال ہوتی ہے ، اور تاریخ  بدلنے میں کتنی دیر لگتی ہے ؟  واللہ عالم !

          ۷۷۹۱ء کے بعد پاکستانی افواج نے کبھی کسی وزیر اعظم کو نیوکلر پروگرام میں شریک نہیں کیا حالانکہ اس منصوبے کی بنیاد ایک سیاستداں نے ہی رکھی تھی جسے بعد میں ایک فوجی کے ہاتھوں ہی سیاسی پس منظر ہی نہیں دنیاسے ہٹا دیا گیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس سیاستدان کی بیٹی جب سیاست کی بساط پہ آئی تو پاکستان کے اس حساس ادارے کے متعلق بہت ساری معلومات اپنے آقاؤں کو کسی نہ کسی بہانے پہنچاتی رہی تاکہ اس کی کرسی مستحکم رہے ، اس کام میں صرف یہی ایک نہیں دوسرے سیاستداں ، فوجی ، سائنسداں و بیوروکریٹس بھی شامل رہے ، ذاتی مفاد اور قومی مفاد کی تجارت تو شروع سے جاری ہے ۔ ایک عجیب بات یہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد اس کے بہی خواہوں اور وفاداروں میں ہمیشہ صرف فوجیوں کو ہی سمجھا گیا یا کم سے کم فوجیوں نے یہی باور کرانے کی کوشش کی۔المیہ تو یہ بھی ہے کہ جب ملک کی باگ ڈور سیاستدانوں کے ہاتھ میں آئی بھی تو انہوں نے بھی لوٹ مار اور وطن دشمنی میں کوئی کمی نہیں دکھائی۔ہر آستیں میں خنجر نظر آیا اور ہر دامن پہ خون کے دھبے ہی نہیں بلکہ یہ لہو میںتر بہ تر دکھائی دیا۔ امریکہ نے قیام پاکستان سے قبل ہی پاکستان میں دلچسپی لینی شروع کر دی تھی ، امریکی نمائندوں نے مئی ۷۴۹۱ ء میں ہی محمد علی جناح  ؒ سے ملاقات کر کے واشنگٹن کا پیغام پہنچایا تھا کہ امریکہ پاکستان کی کس طرح مدد کر سکتا ہے اور اس کے جواب میں قائدِاعظم نے کہا تھا کہ ہم وقت آنے پر بتائیںگے کہ ہماری ضروریات کیا ہیں اور دو خود مختار حکومتیں ایک دوسرے کے ساتھ کس قسم کا تعاون کر سکتی ہیں۔ قائدِ اعظم کی نظر بندی اور وفات کے بعد امریکہ نے بیوروکریٹ ، افواج پاکستان اور سیاستدان کے چند لوگوں کی سر پرستی کی جن کے توسط سے دوسرے شعبے کے لوگوں کو متاثر کیا گیا اور یہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا ۔ اسوقت پاکستان بھی دیگر اسلامی مملکتوں کی طرح امریکہ کی گود میں کلکاریاں مار رہا ہے۔ عبدالقدیر خان پاکستانی سائنسداں جن کے ہاتھوں ہی پاکستان کو نیوکلر پاور بننا لکھا تھا اگر دیکھا جائے تو وہ اور ان کے معاونین صرف پاکستان کے ہی نہیں بلکہ اسوقت پورے عالم اسلام کے محسنوں میں ہیں ، لیکن ان کے ساتھ کیا ہورہا ہے اور کیا ہونے والا ہے اس پہ ساری اسلامی دنیا جو نیوکلر پاور بننے کے خواب میں برابر کی شریک رہی تھی امریکہ کی ایک دھمکی پہ جامے سے باہر آگئی اور اب خاموش بے حس تماشائی بنی بیٹھی ہے ، صیہونی قوتوں کے سامنے سب سجدہ ریز ہیں ، پاکستان کی موجودہ حکومت کسی طور پہ پس و پیش اور ٹال مٹول کر کے عبد القدیر خان کو امریکی یا اسلام دشمن ہاتھوں سے بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ دیکھیے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

          پاکستان کی تاریخ مرتب کرنے بیٹھیں تو وجوہاتِ تخلیق ِ پاکستان کے ساتھ اسبابِ تخریبِ پاکستان پہ بھی کتاب مرتب کرنی پڑےگی۔ 

جو سوالات سر اٹھاتے ہیں ان کے جوابات کیا سر عام دستیاب ہیں ؟

(۱ ) کیا ہمیں جمہوریت نہیں چاہیے ؟ 

( ۲ )  پاکستان کیوں ٹوٹا ، بنگلہ دیش کیوں بنا ؟ 

( ۳ )  پاکستان نے ہندوستان سے تین جنگیں کیوں ہاریں ؟ 

( ۴ )  پاکستان کو توڑنے کی سازش میں اوائل سے ہی کون لوگ اور کون ادارے شریک رہے اور ابھی بھی یہ عمل کیوں جاری ہے ؟ 

( ۵ )  پاکستان میں احتجاجی تحریکوں کے چلنے کے پیچھے کون سی سازش کارفرما ہوتی ہے ؟ 

( ۶ )  پاکستان کی دشمن مذہبی جماعتیں کون کون سی ہیں اور ان کا کردار کیا ہے ؟ 

( ۷ )  پاکستان میں پارلیمنٹ برائے فروخت کیوں ہے اور لوٹا کریسی کے اسباب کیا ہیں ؟ 

( ۸ )  عدلیہ خود قید و بند میں کیوں ہے اور انصاف برائے فروخت کیوں ہے ؟ 

( ۹ )  کیا پاکستان دہشت گردی میں ملوث ہے ؟ 

( ۰۱ )  پاکستان کے دشمن سیاستداں کون تھے اور ہیں ؟ 

( ۱۱ )  پاکستان میں جاگیرداری اور وڈیرہ شاہی کا نظام کب ختم ہوگا ؟ 

(۲۱)کیا اسرائیل کو تسلیم کرنے میں ہماری  بقأ ہے ؟ 

( ۳۱ ) کیا کشمیر کبھی بھی خود مختار ریاست یا پاکستان کا حصہ بن سکتا ہے ؟ 

( ۴۱ )  ہندوستان سے باہمی تعلقات کس حد تک روا رکھنے چاہیں ؟ 

( ۵۱ ) کیا پاکستان نے منجملہ ہندوستان کے مسلمانوں کے مسائل حل کئے ہیں ؟ 

( ۶۱ )  کیا وفاقی طرز اپنا کر دوسرے صوبوں کو بھی خود مختاری دے دینی چاہیے اور پاکستان کا نام بدل کر یونایٹڈ سٹیٹس آف پاکستان رکھ لینا چاہیے ؟ 

( ۷۱ ) کیا پاکستان ایک ناکام ریاست ہے ؟ یا یہ وہی پاکستان ہے جس کا کہ خواب دیکھا گیا تھا ؟ 

( ۸۱ ) کیا نیوکلر پاور پاکستان کی سلامتی اور مستقبل کا واحد ضامن ہے ؟

( ۹۱ ) کیا پاکستان کبھی بھی قلعہ اسلام بن سکتا ہے ؟ 

(۰ ۲ ) معاشرتی ومعاشی عدل کب قائم ہوگا ؟ 

( ۱۲)  پاکستان کو امریکہ ، یا اقوام مغرب کی مالی اور فکری غلامی سے نجات کیسے اور کب حاصل ہو سکے گی ؟

          لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان کو اللہ ہی چلا رہا ہے ؟ یقین نہیں آتا ۔ اگر ایسا ہے تو اتنی افرا تفری کیوں ؟ ہمارا ایک مزاج بن گیا ہے کہ اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کو اللہ کے سر ڈال دیں۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کو خود ہم چلانے کے قابل کب ہونگے ؟

آتی  ہے  دم صبح  صدا عرش بریں سے  :  کھویا گیا  کس  طرح  ترا  جوہر  ِادراک

کس طرح  ہوا کند  ترا  نشتر  ِتحقیق  :  ہوتے نہیں کیوں تجھ سے ستاروں کے جگر چاک

تو ظاہر و  باطن کی  خلافت  کا  سزاوار  :  کیا شعلہ بھی ہوتا ہے  غلامِ خس و  خاشاک

مہر و  مہ انجم  نہیں محکوم  ترے کیوں  :  کیوں تیری نگاہوں سے  لرزتے  نہیں افلاک

اب تک ہے رواں گرچہ لہو تیری  رگوں میں  :  نٔے  گرمی  افکار نہ  اندیشہ ٔ بے  باک

روشن تو وہ ہوتی ہے جہاں بیں نہیں ہوتی  :  جس آنکھ  کے پردوں میں نہیں ہے نگہِ پاک

حشام احمد سید

۵۰۰۲۔۶۰۰۲

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: