Hesham A Syed

January 20, 2009

A Journey within a Journey – part 5 of 5 – Year2006

Filed under: Middle East,Muslim world,Pakistan,Social Issues — Hesham A Syed @ 7:11 am
Tags: ,

Urdu Article – Safar dar Safar – Hesham Syed : based on 5 parts – Qist 5 – read all parts in sequence from 1 to 5

۵۰۰۲۔۶۰۰۲

سفر  در  سفر

قسط  ۵

                     پھر کراچی ایرپورٹ سے سعودی عرب کے لیے روانہ ہوگیا ۔ اس ملک میںگزارے ہوئے زندگی کے بیش قیمت لمحے اور واقعات تلخ و شیریں دونوں ہی  یاد آئے۔ سعودی عرب پہلی بار برائے حج ۸۷۹۱ ء میں ابوظہبی سے میں آیا تھا اور ۵۹۹۱ء سے۹۷۹۱ ء تک مستقل قیام رہا  پھر ہر سال ایک دو بار آنا جانا ہوتا رہا۔ ۸۷۹۱ء یا ۹۷۹۱ ء کے سعودی عرب اور اب کے سعودی عرب میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ مجھے  یاد ہے کہ اسوقت شہر ریاض میں قاعدے کا کوئی ہوٹل دستیاب نہ تھا ۔ اکا دکا جو تھے وہ بھرے رہتے تھے اور بڑی مشکلوں سے وہاں کمرے دستیاب ہوتے تھے۔ فلیٹ اور گھر بھی اتنے زیادہ نہ تھے اور جو تھے ان کی تعمیر میں کوئی ندرت نہیں تھی۔ سڑکیں یکطرفہ ہوا کرتی تھیں ، پل یا پلیے لوہے کے گرڈر سے بنائے ہوئے تھے ، شارع وزیر اور شارع مطأر ( پرانا ایرپورٹ ) جو بطحا و دیرا کی طرف جاتے تھے۔ دونوں مصروف ترین پتلی سی سڑکیں تھیں کیونکہ یہی راستے بازار اور قبرستان کی طرف جاتے تھے۔ ناصریہ کا علاقہ بادشاہوں اور شہزادوں کی آماجگاہ تھا۔ اور اب بھی ہے ۔ شارع علیہ اور شارع فھد جو اسوقت ریاض کا سب سے زیادہ بارونق علاقہ ہے اور جہاں بلند ترین عمارتیں بنی ہوئی ہیں وہ ریگستان تھے اور لوگ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ یہاں آکر شام کو یا چھٹی کے دنوں میں خیمہ نصب کر کے وقت گزارتے تھے۔تعمیرات البتہ جاری تھیں اور علاقے و شہر صرف چند ماہ میں ہی زمین سے ایسے ابھرتے تھے جیسے کہ موسم بہار میں سبزے اور پودے نکلتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے سارا علاقہ اپنی رنگینیوں کے ساتھ جلوہ گر نظر آنے لگتا تھا۔ شہر ریاض ہو یا جدہ و دمام و مکہ ہو یا مدینہ یا کوئی اور بستی و قصبہ تیل کی دولت کے کرشمے اور یہاں کے حکمرانوں کی دور رس نگاہی کے آثار ہر جگہ نمایاں ہیں ، گلیاں اور سڑکیں چوڑی اور طویل شاہ راہوں میں بدلتی رہیں ، عمارتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں ، گاڑیوں اور ہوائی جہاز وںنے زمین کی طنابیں کھینچ ڈا لیں۔ جو چیز بن رہی ہے وہ اگلے پچاس یا سو سال سے زیادہ کا سوچ کر بن رہی ہے ، بلکہ بعض تعمیرات تو پانچ سو سال و ہزار سال سے بھی آگے کے پلان کے ساتھ بن رہی ہیں، قدرت کی فیا ضیاں صاف نظر آتی ہیں ، دولت پانی کی طرح بہ رہی ہے ، ان حالت کی بھی بشارت موجود ہے اللہ کے آخری رسول  ؐ کی؟ حرمین شریفین کی توسیع اور ان کی نقش نگاری میں کوئی کثر چھوڑی نہیں گئی۔ ہر سال ہر جگہ ایک نئی تبدیلی ، ایک نیا منظر نظر آتا ہے۔ ہر چیز نئی اور دھلی دھلائی لگتی ہے ، شہر ریاض یا جدہ و دہران وغیرہ کے بعض علاقے امریکہ ، کنیڈا یا یورپ کے کسی بڑے شہر کے مقابلے کے ہیں ، شاہراہوں کا جال اور پُل و ٹنیل کہیں بہتر ہیں، تعمیرات کے نمونے ایک سے ایک ہیں۔ اس ریگستان میں پانی کے انتظامات بھی خوب کیے گئے ہیں ، سمندر کے پانی کو بھی پینے کے قابل بنا دیا گیا ، میکانکی زراعت ، گلہ بانی و مرغ بانی و دودھ و مکھن و پنیر اور پھلوں کے رس بنانے کے ادارے تو دنیا میں اتنے بڑے نہیں جتنے یہاں ہیں۔ بنیادیخورد و نوش کی چیزوں میں سعودی عرب خود کفیل ہو چکا ہے بلکہ اس کی بر آمدات بھی بڑھتی جارہی ہیں۔ یہ واقعہ ہے کہ اس ریگستان کو ہریالہ کرنے میں جو رقوم خرچ ہو رہے ہیں وہ زر کثیر ہے لیکن یہ سارے اخراجات صحیح مصرف میں لگ رہے ہیں، تعلیمی اعتبار سے بھی ہر شہر میں ایک سے ایک جامعات اور کلیات کھل گئے ہیں جو یہاں کے باشندوں کو دینی تعلیمات کے علاوہ اعلیٰ سے اعلیٰ تکنیکی و پیشہ وارانہ تعلیم سے روشناس کر رہے ہیں۔ ہاسپٹل اور کلینک کا بھی بہت عمدہ انتظام ہے۔ ہر ادارہ اپنا کام بہ حسن و خوبی انجام دے رہا ہے اور معاشرتی مسائل کو وقت اور حالات کے تقاضوں کے تحت حل کر رہا ہے۔ ساری دنیا شرق و غرب سے ایک سے ایک پیشہ ور اور تعلیم یافتہ لوگ اس علاقے میں آکر اس ملک کی خدمت کر رہے ہیں ۔ انسانی معاشرت و ارتقا کے حوالے سے یہ تخمینہ ہے کہ جتنی تیزی سے اس علاقے کی یعنی خلیجی ریاستوں ، ملک عرب اور سعودی عرب کی شکل و صورت اس صدی میں بدلی ہے ایسا پوری انسانی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا، یہ سارا کرشمہ تیل کی دولت کا ہے ، اللہ عام طور سے چھپر پھاڑ کے دیتا ہے انہیں زمیں پھاڑ کے دولت  ملی ہوئی ہے۔سعودی عرب میں بھی تعمیرات ایسے ہی ہو رہی ہے جیسے کہ دوسرے خلیجی مملکتوں میں ہو رہی ہے ، یہاں البتہ اسلامی قوانین کا خاصہ لحاظ رکھا جاتا ہے بلکہ اس معاملے میں عام طور پہ سختی برتی جاتی ہے ، کھلے عام کوئی فحش یا اس سے متعلقہ چیزوں کے لین دین پہ پابندی ہے، نماز کے اوقات میں تجارت یا کوئی کام کرنا ممنوع ہے ، نماز باجماعت کی پابندی ہے۔ راہ کا مسافر ہو ، گھر کا مکین ہو، دفتر یا کارخانے کا ملازم ہو ، بڑا ہو چھوٹا ہو جو بھی جہاں ہے اور جس حالت میں ہے اگر مسلمان ہے تو نماز کے وقت باجماعت کھڑا ہو جاتا ہے، نہ عرس کے ہنگامے ہیں ، نہ مزاروں کی تجارت ہے ، نہ ماتمی جلوس ہیں ، نہ فقیہان حرم کا کھلے عام جلسے جلوس کی شکل میں اختلافی نعرے ہیں ، نہ سیاسی پارٹی بازیاں ہیں ۔ یہاں کا بنا بنایا ماحول ہے اور ایک خاص ڈھب کا ہے ، جسے ناپسند ہے وہ بے شک اس ملک میں نہ رہے کا اصول ہے۔ قانون پہ عمل سختی سے کرایا جاتا ہے ، ایک خاص تہذیب اور فکر یہاں مروج ہے کھلے عام ، درونِ خانہ یہاں بھی بہت کچھ ہوتا ہے لیکن عوام الناس میں اس کا اشتہار نہیں ہوتا یا اس کی ترغیب نہیں پائی جاتی اس لیے عام آدمی ایک ڈھلے ڈھلائے ماحول میں بغیر ٹیکس کے رقم کمانے میں مصروف رہتا ہے۔ البتہ پچھلے دو تین سالوں میں یہاں ماحول میں خاصی تبدیلی نظر آتی ہے، ایک طرف تو بموں کے دھماکوں سے بچنے کے لیے بے شمار عمارتوں کے سامنے سڑک پہ بڑے بڑے کانکریٹ سلیب کی رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں اور بیشتر مقامات پہ مسلح فوجی چوکیاں بھی قائم کر دی گئی ہےں تاکہ ساکنین سعودی عرب کی حفاظت کی جائے ، چونکہ زیادہ خطرہ حکومت کی عمارتوں اور امریکیوں یا مغربی ممالک کے باشندوں کی زندگی کی طرف سے ہے سو یہ حفاظتی انتظامات ان کے اطراف میں بہت زیادہ ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ عمدہ شاہراہیں اور عمارتوں کے اطراف یہ بے ڈھب سے کانکریٹ سلیب بد نمائی کی صورت پیدا کر تی ہیں ، اس کے علاوہ ایسی صورت حال اور ہر جگہ تفتیشی مراحل دیکھ کر نئے آنے والوں پہ ایک خوف ہو ہراس کی بھی کیفیت طاری رہتی ہے ، اور وہ بھی کچھ دنوں کے بعد اس کے عادی ہوجاتے ہیں۔

          قارئین کرام ! بات سعودی عرب کی چل رہی تھی کہ اس عرصہ میں اطراف میں دھماکے اور مسلمانوں کی زبوں حالی کا خیال ذہن پہ ایسا چھایا کہ سلسلہ منقطع ہوگیا ۔ خیر یہ سفر در سفر کی آٹھویںقسط ہے اور اس کے بعد  وقتاََفوقتاََاس پہ لکھتا رہوں گا لیکن دوسرے اہم موضوعات بھی سامنے آتے رہیں گے ۔ انشا اللہ تعالیٰ۔

@      سعودی عرب ایک ایسا ملک ہے جو اسوقت کم سے کم عرب مملکتوں میں بڑے بھائی کا رول ادا کر رہا ہے بلکہ تیل کی دولت کا فائدہ اتنا ہے کہ دوسرے اسلامی اور غیر اسلامی مملکتیں بھی اثر انداز ہو تے رہتے ہیں۔ دوسرے اسلامی ممالک سے جو لوگ یہاں باروزگار ہیں ان کی زندگی میں ایک خاص تبدیلی یوں رونما ہوتی ہے کہ وہ پنجگانہ نماز کے پابند ہو جاتے ہیں اور سعودی ریال کے علاوہ حج و عمرے کا سرمایہ بھی ہر کے حصے میں وافر  ہوتا ہے ۔ یہ اور بات ہے کہ سننے میں آتا ہے کہ حرم شریف کے قرب و جوار میں رہنے والے ایسے بھی سعودی باشندے ہیں جنہیں ساری عمر عمرہ یا حج کی توفیق نصیب نہیں ہوئی ، یہ بات البتہ شاذ ہے ۔ پھر جو لوگ اس ملک سے یا کسی بھی ملک سے عمرے یا حج کے لیے تواتر سے آتے جاتے رہتے ہیں ان میں بھی کچھ ایسے ہیں جن کا کردار اور زندگی کا رویہ غیر اسلامی ہے ، اور یہ سارا سفر یا زیارت فقط ایک مذہبی پکنک ہوتا ہے ، اللہ ہی کو معلوم ہے کہ کون کیا ہے۔یہاں کی بغیر ٹیکس کی کمائی سے بہت سارے خاندان دوسرے ملکوں میں پل رہے ہوتے ہیں۔ الصاحب السمور ملک عبد العزیز ابن سعود بانی مملکت سعودی عرب کا معاہدہ جو محمد بن عبد الوہاب کے گروہ سے ہوا تھا اس کا اثر دینی اعتبار سے اس ملک پہ پوری طور پہ جاری و ساری ہے۔ حکومت کا انداز بہ ظاہر  بادشاہانہ ہے لیکن دینی اور معاشرتی فلاح کی جانب اس کا جھکاؤ بہت سارے جمہوریت کے داعی ممالک سے زیادہ ہے ۔ اکثر یہ بحث یہاں بھی اور باہر بھی ہوتی رہتی ہے کہ بادشاہت کیا اسلام میں جائز ہے ؟ مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں یہ بات حق الیقین بن گیا ہے کہ جائز حکومت صرف اور صرف جمہوری ہی ہو سکتی ہے اور جن ممالک میں جمہوری طرز حکومت کسی بھی شکل کی ہو اسے ممتاز سمجھا جاتا ہے۔ مسلمان دانشور اور موجودہ علمأ (سوائے سعودی عرب کے سر کاری علمأ کے ) سبھی یہ بات کہتے ہیں کہ اسلام میں بادشاہت کی گنجائش نہیں ۔ یہ بات اپنی جگہ صحیح مروجہ معنوں میں ہے کہ بادشاہت یا شخصی حکومت میں معاشرتی نا انصافیوں کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں لیکن حکمراں عادل بھی ہو سکتے ہیں۔ اور جس قسم کی جمہوریت اس وقت دنیا کے بیشتر ممالک میں پل رہی ہے جس کے سب سے بڑے سر خیل امریکہ بہادر ہیں تو اس میں یا کسی اور طرز حکومت میں کیا فرق رہ جاتا ہے ۔ اگر جمہوریت سے مراد یہ ہے کہ تمام عالم میں اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے دہشت گردی کو فروغ دیا جائے تو ایسی جمہوریت سے اللہ محفوظ ہی رکھے۔ منصفانہ جمہوری حکومت کی شرائط بھی سخت ہیں ، سب سے بڑی شرط تو یہ ہے کہ ہر ووٹر آزاد ہو ،خود مختار ہو اور صاحب عقل و شعور ہو ، حکومت کے معاملات اور معاشرے کے فلاحی کاموں کے بارے میں شد بد رکھتا ہو ۔ اگر ایسا نہیں ہے تو یہ ووٹ صرف جاہل انسانوں کی گنتی ہے جس کے بل بوتے پر کبھی معاشرے کا کوئی بہت عقل مند آدمی حکومت میں نہیں آسکتا۔ جو آئے گا وہ اپنا پیٹ بھر کے معاشرے میں فساد پیدا کر کے چلا جائے گا۔ کسے یہ بات معلوم نہیں کہ جمہوری حکومت میں ووٹ ڈلوانے کے لیے کیسی کیسی گروہی دہشت گردی اور شیطانی کاروائیاںکی جاتی ہیں اور یہ کام ظاہر ہے وہاں زیادہ ہوتا ہے جہاں تعلیمی اور اقتصادی لحاظ سے لوگ مفلوک الحال ہوں۔ عوام اگر صرف ۰۱ سے ۰۲  فی صد پڑھے لکھے ہوں  تو ۰۸ سے ۰۹ فیصد سے کیا توقع کی جا سکتی ہے ؟ اور کیسے لوگ حکومت میں آئیں گے ؟ پھر جو طبقہ بہ ظاہر پڑھا لکھا ہے وہ کس حد تک بکاؤ مال نہیں اس کا فیصلہ کیسے ہو ؟ اسی لیے اسلامی تاریخ میں شورائی نظام کو ترجیح دی گئی ہے۔ معاشرے کے تعلیم یافتہ اور عقل مند افراد سے مشورہ کر کے حکومت کی تشکیل دی جائے۔ اسلام کسی مخصوص طرز حکومت کی وکالت نہیں کرتا ، یہ بات اللہ اور اس کے رسول نے انسانوں کی صوابدید پہ چھوڑ دیا ہے جو اپنے اپنے حالات اور زمانے کے مطابق ایسی حکومت کی تشکیل کریں جس کا بنیادی مقصد اللہ کے بتائے ہوئے  اصول زندگی کی ترویج ہو اور معاشرے میں اصلاحی و فلاحی کام کرنے کی ترغیب ہو اور عدل و انصاف کا پرچار ہو جہاں ہر انسان باعزت زندگی گزار سکے اور اسے زندگی کی ساری بنیادی سہولیتیں میسر ہوں تاکہ وہ انفرادی طور پہ بھی اپنی فکری صلاحیتوں اور جسمانی قویٰ کو بروئے کار لائے اور ایک کامیاب زندگی بسر کرے ۔ اپنی یا کسی  کی زندگی کو بوجھ نہ سمجھے اور نہ بنائے۔ اچھی بات یہ ہے کہ موجودہ سعودی حکومت ایک شورائی یا کسی حد تک جمہوری نظام کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے چاہے اس کی رفتار بہت سست ہی سہی لیکن پیش رفت تو ہے۔ دلچسپ بات اب یہ دیکھنے میں آرہی ہے کہ یہاں کے پریس ، ابلاغ عامہ کو خاصی آزادی حاصل ہوگئی ہے ، جیسے ناقدانہ مضامین ، خطوط اور اداکار و اداکاروں کی تصویریں یہاں کے اخباروں میں چھپ رہے ہیں آج سے چند سال پہلے تک اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ بازاروں میں خصوصاََبڑے بڑے ٹاور مارکیٹ میں عورتوں کے سر سے حجاب ڈھلک جائے تو مذہبی پولیس جسے مطوا کہا جاتا ہے کا رویہ جارحانہ نہیں ہوتا بلکہ نرم روی سے آواز دیتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔ ہوٹلوں اور ریسٹورانٹ میں خاندان کے افراد عورتیں اور مرد ساتھ ساتھ بیٹھے ہو تے ہیں اب جبکہ پہلے یہ منظر دکھائی نہیںدیتا تھا۔ ڈنمارک اور دوسرے مملکتوں میں حضور  ؐ کے کارٹون کے بنانے کے رد عمل میںجو بات یہاں عوام کی سطح پر دیکھنے میں آئی وہ یہ ہے کہ اکثر گاڑیوں کے پچھلے سکرین پہ یا دکانوں میں یا ریسٹورانٹ میں لکھا ہوتا ہے جسکا ترجمہ ہے کہ میرے ماں باپ آپ پہ قربان ہوں ۔ یا رسول اللہؐ۔۔۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہاں کے دینی مسلک میں سوائے اللہ کے ندا یعنی یا کا لفظ کسی کے لیے استعمال نہیں کرتے بلکہ اس

 کے بارے میں خا صہ متشدد رویہ رکھتے ہیں بلکہ ایسا کرنے والے کو یہ کافر تک کہدیتے ہیں لیکن اس واقعہ تضحیک نے یہاں کے لوگوں کو بھی کسی حد تک بریلوی بناڈالا ہے ۔ چلئے دیر آید درست آید۔۔ !

 اب یہاں حکومت کی سطح پر اور کبھی کبھی کسی دینی عالم کی سطح پر انفرادی طور پہ ہی سہی اس بات کا اظہار کیا جاتا ہے کہ عورتوں کوگاڑی چلانے کی پابندی سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ بالکل ایک معاشرتی اور ثقافتی مسئلہ ہے ۔ یہ بھی ایک اچھی علامت ہے کہ امت مسلمہ اس بات کو سمجھ لے کہ اسلام ایک آفاقی نظام اور طرز حیات ہے ، اسے کسی مخصوص قبیلہ اور ثقافت کی زنجیر نہیں پہنانی چاہیے!

ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے  : جو پیرہن اس  کا  وہ مذہب کا کفن ہے

بازو  ترا  توحید  کی  قوت  سے قوی ہے  :  اسلام  ترا  دیس  ہے  تو  مصطفوی  ہے

حشام احمد سید

۵۰۰۲۔۶۰۰

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: