Hesham A Syed

January 22, 2009

A few Explanations – urdu article

Filed under: Canada,Media,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 11:17 am
Tags:

Urdu Article : Chand vizaahateiN ; Hesham Syed

کچھ وضاحتیں 

 صحافت و ادب کے حوالے سے

محترمی ، السلام علیکم و رحمۃ اﷲ۔

آپ کے اخبار کے چوکھٹے میں اکثر مختلف اردو اخبارات کے اجرااور اس کے بند ہوجانے پہ تنقیدی تبصرہ دیکھا ہے ۔ چند باتیں دلچسپی طبع اور معلومات کے لئے عرض کرنا چاہتا ہوں۔ وطن میں میں نے کالم بعنوان ’ آئینہ ‘ اس وقت لکھا جب اس اخبار کی ادارت مشرف حسنی صاحب کے ہاتھ میں تھی۔ ادارت کی تبدیلی کے بعد ظاہر ہے کہ میرے لئے اس میں لکھنا بعید از قیاس تھا ۔ اس کا کیا حشر ہوا اس کا علم ہر آدمی کو ہے جو کمیونٹی کے اخبار کو پڑھتارہتا ہے۔پھریہ اخبار سیاسی مقاصد اور اوچھے پن کا اکھاڑا بن گیا اور سوائے ہزل گوئی کے کچھ بھی نہ رہا۔ناظم الدین مقبول صاحب کے اصرار پر’روشنی‘ میں میں نے بعنوان ’ آئینہ ‘ لکھنا شروع کیا ۔ ناظم الدین صاحب اچھے اور دلچسپ آدمی ہیں اور میرے تعارف کے محتاج نہیںیہی سلسلہ میرے اور ناظم الدین صاحب کی جان پہچان اور تعلقات کا سبب بنا۔ ناظم صاحب سے جب اکرام خان صاحب کی ان بن ہوگئی تو انھوں نے ’ سویرا ‘کے نام سے ایک اور اخبار نکالا اور اصرار مزید رہا کہ میں سویرا کے لئے بعنوان آئینہ لکھتا رہوں۔     ’ روشنی ‘ حسب توقع بجھ گئی ۔ ایک آدھ بار وہ بجھنے سے پہلے بھڑکی بھی لیکن وہ آخری ہچکی ہی تھی ۔

B                 دوسروں کے تعلقات یا اختلافات کی وجوہات جانے کا مجھے کبھی تجسس نہیں رہا مگر ایک دن ناظم الدین صاحب میرے پاس آئے اور اپنی مصروفیات و معاشی مسائل و تنگی گزر اوقات کا ذکر کرتے رہے اور یہ تجویز پیش کی کہ سویرا کو بھی چلانے کا کام ان کے اکیلے کی بس کی بات نہیں۔ سو یہ اخبار میں اپنے نام کر لوں اور اسے چلانے کی کوشش کروں۔ معاملہ میرے ساتھ بھی کچھ مختلف نہیں تھا۔ ادب اور صحافت کی خدمت اور اس کا شوق اپنی جگہ لیکن تجھ سے بھی دلفریب ہیں غمِ روزگار کے والا معاملہ تھا ۔ پھر یہ کہ مجھے اخبار چلانے کا تجربہ نہیں تھا ۔ اپنے خیالات کو نظم و نثر میں قارئین تک پہنچانا اور بات ہے اور کسی جریدہ یا اخبار کی ادارت کی ذمہ داری سنبھالنا اور بات ہے۔یہ بات ضرور ہے کہ زندگی کے بیشتر سال مختلف تجارتی ، صنعتی اور مالیاتی اداروں کے نظم و ضبط میں ہی میںمصروف رہا۔ لیکن کیا یہ تجربہ کافی تھا ؟ ادب اور صحافت کی ذمہ داری کا احساس مجھے ہمیشہ رہا اور میں نہیں چاہتا تھا کہ میں کسی ایسے اخبار کی ادارت سنبھالوں جس کا حال بھی وہی ہو جیسا اوروں کا ہے۔ اکثرا خباروں کو ایک فلائر کہا جاسکتا ہے جس میں گوشت و سبزی کے علاوہ قلم کار ، شاعر و ادیب بھی اسٹیٹ ایجنٹ یا حادثاتی تحفظ کے کارندوں کی طرح اپنی دکان سجا کر بیٹھ گئے ہیں ۔اپنی تصویر ضرور چھپے ، اور وہ بھی عہد شباب کی ، جسے دیکھ کر آدمی خود گنگناتا ہے کہ     ؎

ہم پہ بھی حسینوں کا کرم تھا اک روز   :   یہ چہرہ  مہ جبینوں کا حرم تھا اک روز

 کیا لکھ رہے ہیں اور کیا لکھا جارہا ہے اس سے غرض نہیں ہے اور یہ معاملہ اخبار کی حد تک ہی نہیں ، کسی بھی مشاعرے یا ادبی تقریب میں جائیں وہاں بھی من تُرا حاجی بگویم تو مراملا بگو والی صورت نظر آتی ہے۔ ہر کوئی آسمانِ ادب پہ بیٹھا ہے ، ہر کوئی فقیہہ و مفتی ہے ، ہر کوئی اپنا امام آپ ہے۔ ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہیے ؟ میں نے اس صورت حال پہ بھی نثر اور نظم دونوں ہی میں لکھا ہے اور کوشش کی ہے کہ جو حضرات خیالِ خام میں مبتلا ہیں انہیں اپنی غلطیوں کا احساس ہو جائے۔کٹ  و پیسٹ کی بھی نا تجربہ کاری کا حال یہ تھا کہ اکثر دوسری خبر رساں ایجنسی کے نام تک ’جہاں سے وہ تراشے لئے جاتے تھے‘ چھپ جاتے تھے ۔

          چلئے لاپرواہی یا نا تجربہ کاری ہی صحیح لیکن صحافتی خیانت تو نہیں ہو رہی کہ دوسروں کی محنت کو اپنے نام منسوب کر لیا جائے ۔ بہر حال ناظم صاحب نے یہ مجھے یقین دلایا کہ وہ میری مدد کریں گے اور ہمت بندھائی تو یہ’ سویرا ‘میرے نام قانونی طور پہ منتقل ہوگیا اور میںنے بھی یہ کام کرنے کی ٹھانی ۔ سوچا تھا کہ اب ایک معیاری اخبار یا جریدہ منظر عام پہ آیا ہی آیا۔ ناظم صاحب اپنے جملہ تجربات کے ساتھ مجھے بہت کچھ سکھانے پہ تل گئے ۔  واقعہ یہ ہے کہ مجھے کالج کے اوائل کے دنوں میںاپنی کہی ہوئی غزل کا ایک شعر یاد آتا رہا کہ    ؎

اے زندگی میں ترا احسان مند ہوں   :   ہر تجربہ ترا مجھے کیا کچھ سکھا گیا

 فن کی تفصیلات تو مجھے پتہ چل گئیں۔ میں ہر تخلیقی کام کی ذہنی اور جسمانی کاوش کے لئے تو تیار تھا لیکن میرے لیے ہر کام سے زیادہ دشوار یہ تھا کہ میں لوگوں کے پیچھے ان کے اشتہارات کے لیے ہاتھ باندھ کے کھڑا رہوں۔ ادب کی اس بے ادبی کا مشاہدہ مجھے پہلی بار ہوا۔ ادب و صحافت کی گاڑی بھی بغیر پیسے سے نہیں چلتی۔ پچھلے زمانے میں بھی شاعروں اور ادیبوں کی سرپرستی شاہی خاندان یا نوابوں کی مرہونِ منت تھی ۔بعد میں بھی یہ کسی مالیاتی ادارے کے ہی سائے میں پلتی رہی ۔ کم سے کم اردو کے ساتھ تو یہی ہوتا رہا۔ پہلے بھی شاعروں، ادیبوں ، مورخوںکا کشکول گدائی بعوض رئیس زادوں کے قصیدوںو داستان سے بھری پڑی ہے اور اب بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔عزت نفس کی جتنی رسوائی اس طبقہ کی ہوئی ہے شاید ہی کسی اور شعبہ علم و ہنر کی ہوئی ہو۔ خیر قصہ مختصر یہ کہ ’ سویرا  ‘ کے چند شمارے میری ادارت اور ناظم الدین صاحب کی صلاحیت میں مزید نکلے۔ لیکن ہم دونوںکو وقت کی تنگی کے سبب یہ فیصلہ کرنا ہی پڑا کہ فی الوقت خدمت ادب کے اس شعبہ کو تہہ کر کے رکھ دیا جائے کیونکہ پیٹ کی اینٹھن تکلیف دہ تھی ۔ ’سویرا ‘آج بھی میرے نام سے رجسٹرڈ ہے لیکن سورج کے طلوع ہونے کا انتظار ہے۔

z                  میں کمیونٹی کے ان سارے اخبار کے مدیر و منتظمین کو تعریف کے قابل سمجھتا ہوں کہ جو پرچون اور قصائیوںکی دکانوں اور دیگر تجارتی اداروں کے بے شمار چکر لگا کر بھی یہ کام کئے جا رہے ہیں۔ ہر چند کہ بہت سے لوگ اخبارات کے مالکوں کی نیت پہ شبہ کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اس کام کے پیچھے ان کااپنا فائدہ ہے ، آمدنی ہے ، ٹیکس کی بچت ہے ، شہرت ہے ، تصویر چھپوانے کی خواہش ہے ، حکومت سے مراعات کا حصول ہے اور ہر کا اپنا اپنا ایجنڈا ہے وغیرہ لیکن ان سب باتوں کے باوجود قلم کار چُھپا نہیں بیٹھا بلکہ چھَپ رہا ہے ۔ بہت ساری خرافات کے باوجود کچھ اچھی باتیں بھی پڑھنے کو مل جاتی ہیں۔یہاں کے اخبارات کو ایک سہولت ضرور حاصل ہے کہ کچھ اچھے لکھنے والے بغیر کسی اجرت کے اپنا وقت اور اپنی صلاحیتں کالم یا مضمون لکھنے میں خرچ کر رہے ہیں جس کا مالی فائدہ تو اخبار کے مالک کو ہی جاتا ہے لیکن قلمکار کے جذبوں کی تشفی ہوتی ہے چاہے وہ جذبہ ذاتی ہو اخلاقی ہو یا اصلاحی۔ یہ سلسلہ جاری رہنا ہی چاہیے ، البتہ معیار کو بہتر بنانے کے لئے اس شعبہ میں یقیناً ایسے لوگ آگے آنے چاہئیں جو واقعی صحافت کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل ہوں اور علمی و ادبی لحاظ سے اچھے اور برے کی تمیز کر سکیں، ساتھ ہی ساتھ ان کے اندر اخلاقی قدریں ایسی ہوں کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام ہوتا رہے۔ کام کرنے کو بہت ہے صرف نیت اور ارادوں کی تطہیر کی ضرورت ہے    ؎

کیوں چمن میں بے صدا مثلِ رمِ شبنم ہے تو   :   لب کشا  ہو جا  سرودِ بر بط ِ عالم ہے   تو

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: