Hesham A Syed

January 22, 2009

Beyond Imagination : urdu article

Filed under: Islam,Spiritual,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 11:29 am
Tags: ,

Urdu Article : Safhaiey Idraak sey Aa-gey : Hesham Syed

حشام احمد سید
صفحۂ ادراک سے آگے
Iآلات ِموسیقی کے تار اگر ٹوٹیں تو ایک جھنجھاہٹ سی سنائی دیتی ہے لیکن دل کے تار یا زندگی کے تار اگر ٹوٹ جائیں تو کیا کوئی آواز سنائی دیتی ہے ؟ نہیں اوروں کو تو نہیں سنائی دیتی لیکن اپنے آپ کو یقینا سنائی دیتی ہے بلکہ اپنا وجود ہی ہل کر رہ جاتا ہے۔البتہ وہ لوگ جو مضرابِ دل و حیات سے واقف ہیں یا اس سے متعلق ہیں تو ٹوٹنے کا کچھ اثر ان پہ بھی ہوتا ہے۔ جو کچھ ہمارے اور آپ کے اطراف میں ہو رہا ہے اس کی توجیحات و توضیحات تو بہت ہو سکتی ہیں لیکن کیا کسی وضاحت اور وجہ پہ کبھی یہ دل ِمضطرب بھی مطمٔن ہوا ہے ؟ کائنات کیا ہے ، زمین و آسمان کا رشتہ کیا ہے اور ان سب سے انسان کا رشتہ کتنا اہم ہے، سوچئے تو ایک لامتناہی سمندر ہے جس کی تہہ تک پہنچنا آسان نہیں اور اگر کوئی اسی سمندر میں کسی ڈوبے ہوئے پہاڑ کے سلسلے کی چوٹی سے کوئی کنکر نکال بھی لایا تو اسے گوہر نایاب ہی سمجھا گیا۔جسم و جاں کا تعلق ، عقل و دل کی پیچیدگیاں، ظاہر و باطن کے رموز ،  سوچنے پہ مجبور ذہن اور چشم و دل کے مشاہدات ، خودی اور بے خودی کی کیفیات گویا ایک طویل سلسلہ ہے اس دھاگے کے الجھاوے کا جو انسان کو کسی نہ کسی طور پہ اس کے ماحول سے مربوط رکھتا ہے یا اس دائرے کا جس کے اندر انسان چکر لگاتا رہتا ہے۔ یہ ایسا کیوں ہے ، وہ ویسا کیوں ہے ، دن و رات ان سوالوں کا جواب آدمی  عالمِ حیرت کی وادیوں میں ڈھونڈتا رہتا ہے ۔ چاہے کوئی صحرا میں اذان دے یا کسی دشت و بیابان میں اپنے سائے کو گھٹتا بڑھتا دیکھتا رہے یا کسی گھنے جنگل کی تاریکیوں میں ڈوب جائے ، اس کی حیرت صرف اور صرف بڑھتی رہتی ہے۔ چشم وا ہو تو ماحول کی تاریکی کبھی اسے اپنے اندر سمو لیتی ہے اور کہیں روشنی ہے تو بینائی نہیں ۔
 ایک کشمکش ہے کہ جاری ہے۔ دل و دماغ ایک لیکن سوچنے اور غور کرنے کی صلاحیت مختلف ، خواہشات و جذبات و احساسات ایک لیکن ان کے پیمانے مختلف ۔ زبان ایک لیکن اس کی چاشنی الگ ، نظر ایک لیکن نگاہ مختلف ، صرف یہی نہیں بلکہ خدا ایک لیکن صفات الگ الگ اور ان کی کیفیات و اثرات الگ الگ۔ خدا روشنی ہے تو روشنی کی بھی چھ مختلف رنگوں کی تقسیم اور پھر یہ بھی کہ خدا کے رنگ کے سوا کونسا رنگ بہتر ہے ؟ پہلے خودی پھر خدا اور پھر اس کی بے خودی ، یہ سلسلہ دراز بہت ہے۔ کہتے ہیں کہ آدم کی خمیر میں ہوا ، آب و گِل ہے۔ سو ہوا جیسی چلے گی ویسا ہی اس کا ردِ عمل یا موسم ویسا ہی ہوگا ، پانی اگر آلودیت سے پاک نہ ہو تو مٹی کو گوندھنے میں تو اس کی باس آئے گی ہی، اور اگر مٹی بھی گرداب وقت سے سنگلاخ چٹان بن چکی ہو اور صرف سنگریزے ہی ہاتھ میں آئے تو کوزہ گر کیا کرے ؟ اہلِ فکر و شاعروں کے نزدیک تو آدمی بلبلہ ہے پانی کا ، کوئی اسے کیمیائی مرکب سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتا ہے ، کسی نے یہ بھی کہا کہ آدمی نہ روح ہے نہ بدن اور کوئی :    ؎
 زندگی کیا ہے عناصر میں  ظہورِ  ترتیب
موت کیا ہے ان ہی اجزا کا پریشاں ہونا
   اگر سب کچھ بس اتنا ہی ہے تو پھر لا شعور ، شعور و تحت الشعور و آگہی کیا ہے ؟ کیا صفحہ ادراک سے آگے بھی کوئی دنیا ہے ؟ کیا محسوسات و احساسات و جذبات سے ماورا بھی کوئی کائنات ہے ؟ لیجیے ایک بار پھر عالمِ حیرت میں غوطہ زن ہو جائیے!  شاید کوئی دُرۂ نایاب حاصل ہو سکے  !
حشام احمد سی

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: